پاکستان کے وہ ٹھنڈے علاقے جہاں گرمی بڑھتے ہی سؤر حملہ آور ہوگئے

مقامی لوگوں کے مطابق گرمی سے وہ پنکھےخریدنے پر مجبور ہوگئے، حالانکہ اس ٹھنڈے علاقے میں پنکھے کا کبھی تصور بھی نہیں تھا۔

اپ ڈیٹ مئ 09, 2020 01:50pm

محمد ارشد کے پاس ان کھیتوں کو چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا، جن پر ان کے کنبے نے نسل در نسل کاشت کی ہے۔ جنگلی سؤروں کی وجہ سے فصلوں کی مسلسل تباہی نے انہیں پہاڑوں سے شہر ہجرت کرنے اور ایک بنگلے میں نجی سیکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے ملازمت کرنے پر مجبور کردیا۔

اداسی ان کے چہرے سے عیاں ہے۔ ‘میں موسمی فصلوں اور سبزیوں کی کاشت کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی سے کافی خوش تھا۔ اس سے میں اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پال سکتا تھا’، ارشد نے بتایا، جو اب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہزارہ کے ضلع ایبٹ آباد میں رہتے ہیں۔

پاکستان کے پہاڑی اور معتدل ہزارہ پٹی میں زرعی زمین میں جنگلی سؤروں کے گھس جانے سے کسان اور مقامی لوگ حیران اور خوفزدہ ہیں۔ بہت سوں نے پہلے کبھی جنگلی سؤر نہیں دیکھا تھا اور وہ ابتداء میں انہیں ریچھ سمجھ بیٹھے۔ اب جبکہ خطرے کا اچھی طرح ادراک ہوچکا ہے اس لیے کسان ایسی فصلوں کی طرف منتقل ہورہے ہیں جو ان جانوروں کو کم مرغوب ہو تاکہ کم سے کم نقصان ہو۔ مقامی انتظامیہ سؤروں سے لڑنے کے لیے رہائشیوں کو اسلحہ فراہم کرنے پر بھی غور کررہی ہے، حالانکہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی بندوق استعمال نہیں کی۔

یہ خطہ دریاۓ سندھ کے مشرق میں واقع ہے اور اس میں 7 اضلاع شامل ہیں: ایبٹ آباد، بٹگرام، ہری پور، مانسہرہ، بالائی کوہستان، نشیبی کوہستان اور تورغر۔ ان میں سے بیشتر علاقوں کے مقامی لوگوں نے سؤر دیکھنے کی اطلاعات رپورٹ کی ہیں۔

ماہرینِ ماحولیات کا خیال ہے کہ جنگلی سؤر (سوس سکروفا) کی پہاڑی علاقوں میں نقل مکانی کے پیچھے بنیادی وجہ آب و ہوا میں تبدیلی ہے جس نے خطّے کو ان جانوروں کے لیے آرام دہ گھر بنادیا جو عموماً گرم مرطوب یا نیم گرم مرطوب علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔

گرم درجہءِ حرارت جنگلی سؤروں کو ورغلاتا ہے

محمد آفتاب، ایک ایم فل اسکالر ہیں جنہوں نے جنگلی سؤروں سے ہونے والے نقصانات کے واقعات پر تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سؤر 2013ء میں گلیات میں دیکھا گیا تھا۔ آفتاب بتاتے ہیں کہ ’پہلی بار انہیں ضلع ایبٹ آباد کی پہاڑی پٹری پر دیکھا گیا جہاں ایک جانور کی لاش ملی تھی۔ ان کی تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ کھیتوں اور فصلوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ جنگلی سؤر پودوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ دیتے تاکہ ان کی جڑیں کھا سکیں، اور یہ عمل گلیات کی زرخیز ماحولیات کے لیے خطرناک ہے۔ یہ جانور جڑ تک پہنچنے کے لیے مٹی کو اپنے مضبوط کھروں سے کھودتا ہے اور پورے پودے کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ زمین کے کٹاؤ کا سبب بھی رہا ہے’۔

ماضی کے مقابلے میں اب ان علاقوں میں موسمِ گرما میں پہلے سے کہیں زیادہ درجہءِ حرارت ریکارڈ کیا جارہا ہے، کچھ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گرمی سے وہ پنکھےخریدنے پر مجبور ہوگئے ہیں، حالانکہ اس ٹھنڈے پہاڑی علاقے میں پنکھے کا کبھی تصور بھی نہیں تھا۔

ہری پور یونیورسٹی خیبر پختونخوا میں محکمہ ماحولیات کی اسسٹنٹ پروفیسر، ساجدہ نورین کہتی ہیں کہ ‘تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنگلی سؤروں کا اپنا ٹھکانہ گرم مرطوب سے پہاڑی علاقوں میں منتقل کرنے کے پیچھے ایک وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہے’۔

نتھیاگلی کے علاقے بکوٹ میں ایک کسان جنگلی سؤر کے ریوڑ سے تباہ ہونے والے اپنے کھیت میں کھڑا ہے—فوٹو: عدیل سعید
نتھیاگلی کے علاقے بکوٹ میں ایک کسان جنگلی سؤر کے ریوڑ سے تباہ ہونے والے اپنے کھیت میں کھڑا ہے—فوٹو: عدیل سعید

محکمہ زراعت کا ایک اہلکار ضلع مانسہرہ کے علاقے دربند میں جنگلی سؤر سے تباہ شدہ کھیت کا معائنہ کر رہا ہے—فوٹو: عدیل سعید
محکمہ زراعت کا ایک اہلکار ضلع مانسہرہ کے علاقے دربند میں جنگلی سؤر سے تباہ شدہ کھیت کا معائنہ کر رہا ہے—فوٹو: عدیل سعید

جیسا کہ عالمی سطح پر بڑھتی گرمی کے نتیجے میں پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں درجہءِ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اسی لیے جنگلی سؤر اس خطے کو ایک آرام دہ ٹھکانے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو ان کے قدرتی گرم مرطوب خطے سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔

نورین، جنہوں نے جنگلی سؤر کی ہجرت کو دستاویز کرنے والے طلبا کی تحقیق کی نگرانی کی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جنگلی جانور ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں کس طرح سفر کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘یہ سؤر پہلے اسلام آباد کے نواحی علاقوں اور پنجاب کے متصل علاقے پوٹھوہار سے مری پہاڑیوں کی طرف ہجرت کرتے گئے اور پھر مناسب ماحول کی وجہ سے جلد ہی ہزارہ کے پورے پہاڑی علاقے میں پھیل گئے’۔

آفتاب احمد، نورین سے اتفاق کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ بدلتے ہوئے درجہءِ حرارت کی وجہ سے گرم خطے کے گل دیودار کے درختوں سمیت کچھ پودوں کی نسلیں، گلیات میں اگنے لگی ہیں۔

یہ درخت، جو تبت اور افغانستان سے لے کر پاکستان کے راستے، پورے شمالی ہندوستان، نیپال اور بھوٹان میں اگتا ہے، عام طور پر ہمالیہ میں دیگر پائنوں سے کم اونچائی پر پایا جاتا ہے۔

نورین کا کہنا ہے کہ اربنائزیشن، پہاڑی علاقوں میں کچرے کے ڈھیر اور سڑکوں کے نیٹ ورک کی تعمیر بھی جانوروں کی ہجرت کی وجہ ہے۔ جنگلی سؤر نہ صرف گلیات، مارگلہ پہاڑیوں اور ہزارہ تک محدود ہے، بلکہ آبادی میں خطرناک حد تک اضافے کے ساتھ پورے پہاڑی خطے میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

ایسی فصلیں اگائیں جو جنگلی سؤروں کو ناپسند ہو

ایبٹ آباد میں زراعت کے افسر ساجد صدیق نے کہا کہ ہزارہ بیلٹ، مارگلہ پہاڑیوں اور اس سے ملحقہ کشمیر کے کسان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ہجرت کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

ساجد صدیق مزید بتاتے ہیں کہ ‘اپنے علاقوں میں جنگلی سؤروں کی آمد اور اس کے نتیجے میں فصلوں کو پہنچنے والے نقصان سے ہزارہ میں کاشتکاری طبقہ پریشان ہے اور شدید مالی بحران کا شکار ہے‘۔

محکمہ زراعت کے عہدیداروں اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر مشتمل ایک ٹیم ضلع مانسہرہ کے علاقے دربند میں جنگلی سواروں کے ذریعہ تباہ شدہ کھیتوں کا جائزہ لے رہی ہے—فوٹو: عدیل سعید
محکمہ زراعت کے عہدیداروں اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر مشتمل ایک ٹیم ضلع مانسہرہ کے علاقے دربند میں جنگلی سواروں کے ذریعہ تباہ شدہ کھیتوں کا جائزہ لے رہی ہے—فوٹو: عدیل سعید

مانسہرہ کے ضلعی زراعت کے افسر اورنگزیب تنولی نے چونکا دینے والے اعداد و شمار بتائے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یونین کونسل (یوسی) لسان نواب میں، تمام کسانوں نے کاشت ترک کردی ہے، جبکہ یوسی دربان میں، 80 فیصد زمینداروں نے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے اپنی زمین کاشتکاری کے لیے استعمال کرنا چھوڑ دی ہے۔

اورنگزیب تنولی کہتے ہیں کہ ‘جب میں کاشتکاروں کو اپنے علاقے میں گندم کی کاشت بڑھانے کی ترغیب دیتا ہوں تو ان کا حیران کن ردِعمل ہوتا ہے‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری کوششیں اور سرمایہ کاری ضائع ہوچکی ہے اور آپ مزید پیداوار کا کہہ رہے ہیں؟‘

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھمبر ضلع کے دیوا بٹالہ علاقے کے ایک زمیندار سکندر احمد نے کہا کہ وہ 62 ایکڑ اراضی کا مالک ہے، لیکن خنزیر کے ریوڑوں کے حملوں کی وجہ سے وہ اپنی زمین مکئی اور آلو کی کاشت کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’‘میں نے اس کے بجائے سرسوں کی بوائی کی ہے کیونکہ جنگلی سؤر اس فصل کو اتنا پسند نہیں کرتے جتنا وہ آلو اور مکئی کرتے ہیں۔ پھر بھی مجھے اندیشہ ہے کہ اس کھیت کو نقصان پہنچے گا’۔

اپنے نقصان سے متعلق بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ‘سرسوں اور آلو کی کاشت کے منافع میں، ہر موسم میں 10 لاکھ روپے (6 ہزار 300 امریکی ڈالر) کا فرق ہے، جس کا نقصان میں اس جنگلی جانور کی وجہ سے اٹھا رہا ہوں’۔

اس کا ایک حل شکار ہے

ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی سیاستدان اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی سابق ممبر آمنہ سردار نے کہا کہ جنگلی سؤروں کی وجہ سے فصلوں کی تباہی کا معاملہ بہت سنگین ہے اور اس نے پہاڑی خطے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ‘میرے ہی حلقے میں تقریباً 50 فیصد کسانوں نے مسلسل نقصان کی وجہ سے کاشتکاری بند کردی ہے، اور ساتھ ساتھ مویشیوں اور انسانوں کو بھی خطرہ لاحق ہے‘۔

دربند مانسہرہ ضلع کے ایک اسکول میں فروری 2020ء کو ایک میٹنگ ہوئی جس میں کسانوں کو جنگلی سؤر کنٹرول سے متعلق آگاہ کیا گیا—فوٹو: عدیل سعید
دربند مانسہرہ ضلع کے ایک اسکول میں فروری 2020ء کو ایک میٹنگ ہوئی جس میں کسانوں کو جنگلی سؤر کنٹرول سے متعلق آگاہ کیا گیا—فوٹو: عدیل سعید

کسانوں کے مالی نقصانات کے خاتمے کی امید میں آمنہ سردار نے یہ معاملہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اٹھایا جس کے نتیجے میں مارچ کے اوائل میں ضلعی ڈائریکٹر زراعت کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا۔

اس اجلاس کا اختتام مندرجہ ذیل سفارشات کے ساتھ ہوا:

صوبے میں محکمہ وائلڈ لائف آفیسر محمد نیاز کا کہنا ہے کہ ‘ہم شمالی علاقے میں متاثرہ کاشتکاروں کو اپنی فصلوں کے تحفظ کے لیے لائسنس کے بغیر بندوقیں استعمال کرنے کی اجازت دینے پر بھی غور کر رہے ہیں، کیونکہ لائسنس کی فیس ہزاروں میں ہے’۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ‘وائلڈ لائف اینڈ بائیوڈائیورائٹی ایکٹ 2015ء میں بھی ایک شق موجود ہے جس کے تحت ایک مجاز افسر کے ذریعہ ‘نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ ‘(NOC) حاصل کیے جانے کے بعد ‘ناپسندیدہ مخلوق’ کے خاتمے کی اجازت دی جاسکتی ہے’۔

مشاورتی عمل کے دوران، جنگلی حیات، لائیو اسٹاک اور بلدیہ کے محکموں کے حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگلی سؤر کے خاتمے کے لیے کیمیکل کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور اس جانور کو گولی مار کے ہلاک کیا جائے گا، جس کی لاش ٹھکانے لگانے کی ذمہ دار میونسپل اتھارٹیز ہوں گی۔

یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ’سور کنٹرول کمیٹیاں‘ قائم کی جائیں گی، جہاں مقامی افراد کو جانوروں کے خاتمے میں شامل جائے گا۔

زراعت کے ضلعی ڈائریکٹر نوید اقبال نے کہا کہ ‘ہم جنگلی سؤروں کو مارنے اور اس کے شواہد پیش کرنے والے مقامی لوگوں کے لیے انعامات کا سوچ رہے ہیں’۔

تاہم، آمنہ سردار نے کہا کہ مقامی لوگوں کو سؤر کے شکار میں شامل کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ‘شمالی بیلٹ کے لوگ ہتھیار رکھنے یا استعمال کرنے کے عادی نہیں ہیں’، انہوں نے کہا۔

گلیات میں جنگلی سؤروں کے شکار کے لیے ایسا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جہاں محکمہ وائلڈ لائف کے پروپوزل میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح 500 شکار اور 20 لاکھ روپے (یعنی 12 ہزار 500 امریکی ڈالر) کا بجٹ کاشتکاری طبقہ کو ریلیف فراہم کرے گا۔

چونکہ حکام اور مقامی لوگ سؤر سے لڑنے کے لیے تیار ہیں، ساجد صدیق نے کہا کہ یہ سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ جنگلی سؤر کس طرح کھیتوں میں گھس آتے ہیں۔

ساجد صدیقی کہتے ہیں کہ ‘ہزارہ بیلٹ میں فصلوں، ماحولیات اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، اب وقت کی ضرورت ہے کہ ایک ایسا تفصیلی سروے کیا جائے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ جنگلی سؤر کن اسباب کی وجہ سے ان علاقوں میں ہجرت کرکے آئے ہیں‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ کسانوں کو بہتر تحفظ اور ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے بھی ضروری ہیں’۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر دی تھرڈ پول پر شائع ہوا، جسے با اجازت یہاں شائع کیا گیا ہے۔