ای میل

نیشنل پارک: جس کے دامن میں پھلتی پھولتی حیات ہی اصل سرمایہ ہے!

شبینہ فراز

خنجراب کا برفانی چیتا ہو، دیوسائی کا بھورا ریچھ، کوہِ سلیمان کا سلیمان مارخور یا دریائے سندھ کی انڈس ڈولفن، جس تیزی سے دنیا کے ان نایاب ترین جانوروں کی تعداد کم ہورہی تھی، اگر ان کے مساکن کو نیشنل پارک بنا کر محفوظ نہ کیا جاتا تو آج شاید یہ صرف تصاویر میں ہی نظر آتے۔

انتظامی سطح پر بہت سی کمزوریاں اور مسائل ہونے کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ان نیشنل پارکس ہی نے ان انواع کو فطری ماحول میں پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا ہے اور آج یہ انواع معدومی کے خطرے سے باہر نکل آئے ہیں۔ اور یہاں ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی کارکردگی تحفظ ماحول کے حوالے سے سراہے جانے کے قابل ہے۔

نیشنل پارکس کی انہی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے 4 روز قبل 'پروٹیکٹڈ ایریا انیشیٹیو پروگرام' کا اعلان کیا جس کے تحت ملک میں مزید محفوظ علاقے قائم کیے جائیں گے۔

اس حوالے سے وزیرِاعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے تحت محفوظ علاقوں کی تعداد بڑھائی جائے گی اور 15 نئے نیشنل پارک بنائے جاائیں گے، جن میں 6 کا اعلان ہوچکا ہے اور 9 نئے یعنی ہر صوبے میں کم از کم ایک پارک قائم کیا جائے گا اور ان کا رقبہ ملکی رقبے کے 15 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پروگرام کا دوسرا بڑا مقصد نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے ذرائع پیدا کرنا ہے۔

اس سال کے ہدف کے مطابق اس پروگرام کے تحت 5 ہزار افراد کو براہِ راست روزگار دیا جائے گا۔ ملک صاحب کا کہنا ہے کہ محفوظ علاقوں کے اس پروگرام میں نیشنل پارک کے علاوہ دیگر محفوظ علاقے بھی ترجیحات میں شامل ہوں گے مثلاً آب گاہوں اور سمندری محفوظ علاقوں پر بھی کام کیا جائے گا۔ استولا آئی لینڈ پہلے ہی سمندری محفوظ علاقہ قرار دیا جاچکا ہے اور کراچی کے قریب موجود جزیرے 'چرنا آئی لینڈ' کے حوالے سے بھی کام جاری ہے۔

یہ بھی بتاتے چلیں کہ حیاتیاتی تنوع کے عالمی معاہدے (The Convention on Biological Diversity) کے توثیق کنندہ کی حیثیت سے پاکستان پر لاگو ہے کہ وہ اپنے محفوظ علاقوں کے زمینی رقبے کو بڑھا کر 2020ء تک 15 فیصد اور سمندری رقبے کو بڑھا کر 10 فیصد تک لے جائے۔ حکومت کا محفوظ علاقوں میں اضافہ اسی ہدف تک پہنچنے کی کوشش ہے۔

پاکستان میں نیشنل پارک کے حوالے سے کام کرنے والے اوّلین لوگوں میں عاشق احمد خان شامل ہیں۔ ان کی انتھک کوششوں سے ملک میں کئی نیشنل پارک قائم ہوچکے ہیں۔ وہ حکومت کے اس اقدام کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ نیشنل پارک کے قیام کے بعد ترجیحی بنیادوں پر ان تمام نیشنل پارک کا مینیجمنٹ پلان تیار کیا جائے اور اس کی بنیاد ایک جامع اور مربوط تحقیق پر ہونی چاہیے۔

کسی بھی پارک کے کامیاب ہونے کی بنیاد پائیدار ترقی، تحقیق اور پارک میں موجود مقامی آبادی کی انتظام میں شمولیت ہے۔ ہمارے تقریباً ہر نیشنل پارک میں آبادی موجود ہے اور اگر آبادی کو پارک سے فائدہ نہیں پہنچے گا تو یقین کیجیے کہ آبادی بھی پارک کے لیے کچھ نہیں کرپائے گی۔ بہت سے پارکوں میں آبادی اور انتظامیہ کے درمیان تنازعات موجود ہیں جنہیں دُور کرکے نیشنل پارک کے مینیجمنٹ پلان تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

عاشق احمد نے مزید کہا کہ ’میں دیوسائی نیشنل پارک کے مینیجمنٹ پلان کا جائزہ لے رہا ہوں اور میں نے اس پارک اور آبادی کے درمیان 11 تنازعات کی نشاندہی کی ہے جن کا حل کیا جانا ضروری ہے‘۔

نیشنل پارک کیوں ضروری ہیں؟

محفوظ علاقوں کے حوالے سے ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ لوگ عموماً 'پروٹیکٹڈ ایریاز' کا ترجمہ نہ صرف 'ممنوعہ علاقے' کرتے ہیں بلکہ ایسا سمجھتے بھی ہیں حالانکہ یہ ایسے 'محفوظ علاقے' ہوتے ہیں جہاں حیاتیات اور نباتات کو قدرتی ماحول میں پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

اکثر یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ آخر نیشنل پارک یا محفوظ علاقے کیوں ضروری ہیں خصوصاً پاکستان کے لیے؟

ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان پچھلے 10 سالوں سے اوّلین 10 نمبروں پر موجود ہے اور اس سال یہ 5ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے، ایسے میں ایک مضبوط ماحولیاتی نظام ہی موسمیاتی تبدیلیوں نامی بلا کا راستہ روک سکتا ہے اور ایک پھلتا پھولتا ماحول ہی ایک مستحکم معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اگر یہ محفوظ علاقے نہ قائم کیے جائیں تو انسان اپنی عاقبت نااندیشی میں زمین کا چپہ چپہ اپنے تصرف میں لے آئے اور دوسری کسی جاندار کے لیے کوئی جگہ نہ بچ سکے۔ مثلاً آج کراچی کا جو حال ہے اسے دیکھ کر کیا کوئی یقین کرسکتا ہے کہ کچھ دہائیاں پہلے تک یہاں جنگلی حیات کی بھرمار تھی، یہاں تک کہ یہاں تیندوے بھی موجود تھے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف سے وابستہ معظم صاحب کے مطابق آخری تیندوا 1967ء میں گزری میں مارا گیا، اس کی کھال برٹش نیچرل ہسٹری میوزیم میں اب بھی موجود ہے۔ اسی طرح کراچی کا آخری ہرن 1994ء میں مارا گیا۔

یاد رہے کہ کرہءِ ارض پر انسان سمیت ہر نوع دوسری نوع کی بقا کی ضمانت ہے۔ کسی ایک کا خاتمہ بالآخر سب کے خاتمے پر منتج ہوتا ہے۔ اس ضمن میں معظم صاحب نے امریکا کے یلو اسٹون پارک کی بہت عمدہ مثال دی۔ یہ پارک جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے 1872ء میں قائم کیا گیا تھا اور پھر شکار اور دیگر وجوہات کی بنا پر یہاں کی مرکزی نوع یعنی سرمئی بھیڑیا (Canis lupus) ناپید ہوگیا جس کے بعد دھیرے دھیرے پارک کا ماحولیاتی نظام غیر متوازن ہوتا چلا گیا۔

ماہرین کی تجاویز پر کینیڈا سے اسی نسل کے سرمئی بھیڑیوں کے 3 جوڑے اس پارک میں لائے گئے۔ ان کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ہی ماحول میں بہتری آنا شروع ہوگئی۔ بھیڑیا نہیں تھا تو پارک میں پودوں کا اگنا اور بڑھنا رُک گیا تھا، بظاہر بھیڑیے اور پودوں میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا کیونکہ بھیڑیا گوشت خور ہے اور پودے نہیں کھاتا مگر جیسے کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ زمین پر ہر نوع کا دوسری نوع سے گہرا تعلق ہے۔

بھیڑیوں کی عدم موجودگی سے ہرن کی آبادی بڑھ گئی تھی۔ بھیڑیا ہرن کے بچوں کا شکار کرتا ہے، یہی ہرن کے بچے پودوں کے زمین سے سر نکالتے ہی انہیں چٹ کرجاتے تھے۔ بھیڑیوں کی وجہ سے ان کی آبادی کنٹرول میں تھی اور پودے بھی اگ رہے تھے۔ اب پودے اگنے لگے تو ان پر پرندے آنے لگے، پرندوں کو کھانے دوسرے جانور آنے لگے۔ پانی کے جانور بھی پہنچ گئے۔ خوراک میسر ہوئی تو پانی کے اندر بیور (اودبلاؤ جیسا ایک جانور) نے ڈیم بنانا شروع کردیا (اسی جانور کے بنائے ہوئے ڈیزائن پر آج انسان ڈیم کی تعمیر کرتے ہیں۔) چوہوں نے نہریں بنانا شروع کردیں۔ اس پانی سے پارک کی نباتات پروان چڑھنے لگیں یعنی صرف بھیڑیے کی بدولت یلو اسٹون پارک کا پورا ماحولیاتی نظام متوازن ہوگیا۔ یہ مثال نیشنل پارک یا محفوظ علاقے کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کافی ہے۔

یہاں ایک مثال سلیمان مارخور کی بھی دی جاسکتی ہے۔ جب اس جانور کی نسل بہت کم ہوگئی تو یہاں ایک دوسرے جاندار سیہہ (کانٹوں والا چوہا) کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ یہ چوہا زمین کو کھود کر بل بنا کر رہتا ہے اور بڑے بڑے درختوں کی جڑیں بھی کھوکلی کردیتا ہے۔ وہاں موجود پستے کے درخت سوکھنے اور گرنے لگے جن پر مقامی آبادی کا دار و مدار تھا۔ پورا ماحولیاتی نظام غیر متوازن ہوگیا تھا۔ سلیمان مارخور کی آبادی مستحکم ہوئی تو پھر صورتحال تبدیل ہوئی۔

عاشق احمد خان کے مطابق سلیمان مارخور کے پہاڑی مسکن میں ادویاتی پودوں کی بھرمار ہے۔ اگر مارخور وہاں نہیں ہوگا تو نہ زمین زرخیز ہوگی اور نہ یہ پودے وہاں اگ سکیں گے۔ چھوٹے سے چھوٹے جاندار میں بھی انسان کے لیے فوائد موجود ہیں۔ انہیں قائم رکھنے میں ہی انسان کی عافیت ہے۔

نیشنل پارک بطور معاشی انجن

نیشنل پارک مقامی آبادی کے لیے روزگار کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان کے اندر موجود آبادی تو ان سے استفادہ کرتی ہی ہے مگر اردگرد رہنے والے بھی ان سے مستفید ہوتے ہیں۔

اگر دیوسائی نیشنل پارک کی مثال دی جائے (ہمارا اپنا مشاہدہ ہے) تو یہ سیاحوں کی پسندیدہ جگہ ہے۔ سیاحوں کی تعداد بڑھنے کے باعث علاقے میں ہوٹلوں کی کمی واقع ہوئی اور مقامی آبادی نے اپنے گھروں یا ایک 2 کمروں کو گیسٹ ہاؤس کی شکل دے کر اپنی آمدن میں اضافہ کیا۔ ان سیاحوں کے کھانے پینے کے لیے خواتین نے مرغی پالنے اور سبزیاں اگانا شروع کردیں اور گھر کے جانور کا آرگینک دودھ، دہی، پنیر، مکھن، شہد، مرغی، انڈے اور سبزیاں ہوٹلوں تک پہنچانے کا کام سنبھال لیا۔ یہ آرگینک اشیاء سیاحوں کی پسندیدہ ہیں اور ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔

خشک میوہ جات سیاح کھاتے بھی ہیں اور خرید کر بھی لے جاتے ہیں۔ دیوسائی تک لے جانے کے لیے مقامی لوگوں نے گاڑیوں کا کام شروع کردیا۔ پیٹرول پمپ مالکان، ان کے ملازم، گاڑی کے مالکان، ڈرائیور، پورٹر، کیمپ لگانے والے، کیمپنگ کے دوران کھانا پکانے والے، بے شمار لوگوں کے لیے روزگار کے راستے کھلتے چلے گئے۔

یہی نہیں بلکہ علاقے کی روایتی ہاتھ کی بنی شالیں، چھوٹے قالین، ٹوپیاں اور بے شمار سجاوٹ کی اشیاء سیاح سووینیئر کے طور پر بھی لے جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک پارک کی مثال ہے، ہر نیشل پارک کے اردگرد معاشی انجن گھوم رہا ہوتا ہے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سیاحوں کو قدرتی ماحول اپنی جانب کھینچ کر لاتا ہے اور اگر بدانتظامی سے ہم نے اسے ہی برباد کردیا تو دھول اڑاتے میدان دیکھنے کوئی نہیں آئے گا۔

محفوظ علاقے دنیا بھر میں سیاحت کا مرکز سمجھے جاتے ہیں اور پاکستان میں بھی لاکھوں افراد براہِ راست اور بالواسطہ اس شعبے سے وابستہ ہیں۔

بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کے مقرر کردہ محفوظ علاقوں کے قوانین کے تحت اس وقت ملک بھر میں تقریباً 240 محفوظ علاقے قائم کیے جاچکے ہیں اور اگر اس فہرست میں مقامی لوگوں کے زیرِ انتظام پروٹیکٹیڈ ایریاز کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد 380 سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔

ان علاقوں کی درجہ بندی میں نیشنل پارکس کا اپنا ایک مقام ہے۔ پاکستان کے محفوظ علاقوں کی فہرست میں 28 نیشنل پارکس بھی شامل ہیں جو ملک کے مختلف ماحولیاتی و قدرتی وسائل سے بھرپور علاقوں پر مشتمل ہیں (مزید کا اعلان ہوچکا ہے)۔ ان میں 7 پارک آزاد جموں و کشمیر میں، 5 گلگت بلتستان، 6 خیبر پختونخوا، 6 پنجاب، 2 بلوچستان اور سندھ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک، ایک واقع ہے۔

محفوظ علاقوں کے قوانین کے تحت ان نیشنل پارکس کے قدرتی ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) میں کسی بھی طرح کی رخنہ اندازی یا خلافِ قانون سرگرمیوں کی ممانعت ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں نیشنل پارک تعلیم و تحقیق کے اعلیٰ مقاصد کے لیے بھی استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ ان جگہوں پر ہر قسم کے جانوروں کا شکار کرنا اور نباتات کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا ممنوع ہوتا ہے۔

آئیے چند نیشنل پارک اور ان میں موجود رنگا رنگ حیات پر نظر ڈالتے ہیں۔

مارگلہ نیشنل پارک

پاکستان کے دارالحکومت میں موجود ہمالیہ کی جنوبی مارگلہ پہاڑیوں میں واقع مارگلہ نیشنل پارک واقع ہے۔ اس پارک میں بے حد خوبصورت سیاحتی مقامات موجود ہیں مثلاً شکر پڑیاں، دامنِ کوہ، پیر سوہاوہ اور راول جھیل۔

مارگلہ نیشنل پارک
مارگلہ نیشنل پارک

17 ہزار 386 ہیکٹر رقبے پر پھیلے اس پارک کی تشکیل 1980ء میں کی گئی تھی۔ اس پارک میں جنگلی حیات کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں ہرن، سور، چیتے، گیدڑ، لومڑی، تلور، بندر، سانپ اور پرندوں کی بے شمار اقسام موجود ہیں۔ حال ہی میں لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں نے انہی پہاڑوں سے اتر کر اسلام آباد کی سڑکوں پر بہت سے جانوروں کو اطمینان سے مٹر گشت کرتے دیکھا۔

کیرتھر نیشنل پارک

کیرتھر نیشنل پارک صوبہ سندھ میں واقع ہے، جو تقریباً 3 ہزار 87 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے۔ پارک کی مرکزی قیام گاہ کرچات سینٹر کراچی سے 160 کلومیٹر دُور شمال میں واقع ہے۔ پارک کا ایک چوتھائی حصہ کراچی کے ضلع ملیر میں جبکہ بقیہ رقبہ ضلع دادو کی تحصیل تھانہ بولاخان پر مشتمل ہے۔

کیر تھر نیشنل پارک —کری ایٹو کامنز
کیر تھر نیشنل پارک —کری ایٹو کامنز

آئی یو سی این کی تشکیل کردہ دنیا بھر میں معدومی کے خطرے سے دوچار جانداروں کی 'سرخ فہرست' کے مطابق یہاں آئی بیکس، اڑیال، چنکارہ، گیدڑ، پینگولین، لومڑی، لکڑ بھگڑ، جنگلی بلی، جنگلی چوہا، سیاہ گوش، اور 32 رینگنے والے جانداروں میں کالا ناگ یہاں پایا جاتا ہے۔ اس فہرست میں موسمِ سرما میں آنے والا موسمی پرندہ تلور، کالا گدھ، سفید پشت گدھ اور آبی پرندہ Sociable Plover شامل ہیں۔ تیندوے البتہ یہاں سے اب معدوم ہوچکے ہیں۔

اس وسیع و عریض پارک میں متحجر جنگلات (ایسے جنگلات جو زمین میں دفن ہوکر ہزارہا سال گزر جانے کے بعد ان میں پتھر کی خصوصیات پیدا ہوگئی ہیں۔) رنی کوٹ کا تاریخی قلعہ، وادی تونگ کے منقش مقبرے اور کوہ تراش میں انسانی تہذیب کے آثار بھی محققین کے منتظر ہیں۔

ہنگول نیشنل پارک

ہنگول نیشنل پارک بلوچستان کے 6 لاکھ 19 ہزار 43 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا قیام 1988ء میں عمل میں آیا۔ یہ کراچی سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے درمیان سے ہنگول ندی گزرتی ہے اور پارک کا نام اسی ندی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ پارک مختلف ماحولیاتی نظاموں پر مشتمل ہے۔ یہاں ساحل بھی ہے اور دریا اور سمندر بھی ملتے ہیں اور ریتیلے ٹیلوں والے میدان بھی ہیں۔ اسی لیے یہاں جنگلی حیات کی بہتات ہے۔ ہندوؤں کا تاریخی نانی مندر بھی یہاں واقع ہے جہاں ہندو زائرین کی بڑی تعداد آتی ہے۔

ہنگول نیشنل پارک—عمیر محمد
ہنگول نیشنل پارک—عمیر محمد

ہنگول نیشنل پارک بے شمار ہجرتی پرندوں کا مسکن ہے۔ جانوروں میں بھیڑیا، پہاڑی بکرا، چنکارہ، اڑیال، گیدڑ، نیولا اور بے شمار چھپکلیاں، سانپ اوردلدلی مگرمچھ پائے جاتے ہیں۔ یہاں سب سے منفرد مٹی کا آتش فشاں بھی پایا جاتا ہے۔ یہاں موجود ایک پہاڑی جسے ہواؤں کی تراش خراش نے ایک خوبصورت شہزادی (امید کی شہزادی) کی شکل دی ہے سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے۔

لال سنہارا نیشنل پارک

لال سنہارا پارک کو پاکستان کے پہلے نیشنل پارک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ پارک ضلع بہاولپور میں واقع ہے اور اس کا قیام 1972ء میں عمل میں آیا۔ یہ پارک 51 ہزار 368 ہیکٹر رقبے پر واقع ہے اور اس وسیع و عریض پارک کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں صحرائی، دلدلی اور جنگلاتی ماحولیاتی نظام ملتے ہیں۔

اسی پارک میں قدیم ہاکڑو (سرسوتی دریا) دریا کی خشک گزرگاہ بھی موجود ہے۔ جنگلی حیات کے حوالے سے بھی یہ پارک بہت زرخیز ہے۔ یہاں شیر، چیتے، ہرن، بارہ سنگھا، جگلی بلی، بہت سی چھپکلیاں، سانپ اور چوہے پائے جاتے ہیں۔ پرندوں کی بے شمار اقسام یہاں ملتی ہیں۔ پارک میں موجود ایک جھیل پرندوں کا بڑا مسکن ہے جہاں ہزاروں بطخیں پائی جاتی ہیں۔ پارک میں نیپال حکومت کے دیے گئے جنگلی گینڈوں کی ایک جوڑی بھی موجود ہے۔

لال سنہارا نیشنل پارک
لال سنہارا نیشنل پارک

گلگت بلتستان کا علاقہ سیاحوں کے پسندیدہ مقام کی حیثیت رکھتا ہے جہاں ملکی اور غیر ملکی سیاح ہر سال لاکھوں کی تعداد میں آتے ہیں۔ کوہ پیمائی کے دلدادگان کے لیے یہاں کی پہاڑی چوٹیاں ایک خاص کشش کی حامل ہیں۔ انہی علاقوں میں دنیا کے 3 عظیم سلسلہ ہائے کوہ یعنی کوہِ قراقرم، کوہِ ہمالیہ اور کوہِ ہندوکش ملتے ہیں۔ اس منفرد ماحولیاتی نظام کے باعث یہاں حیوانات اور نباتات کا خزانہ موجود ہے۔ ان وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے یہاں ایک یا 2 نہیں 5 نیشنل پارک قائم کیے گئے ہیں۔ اگر ان نیشنل پارکس کا انتظام مزید بہتر ہوجائے تو یہ محفوظ علاقے گلگت بلتستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

خنجراب نیشنل پارک

آئی یو سی این کے جریدے میں دی گئی تفصیلات کے مطابق خنجراب نیشنل پارک کو پاک چین سرحد سے متصل درہ خنجراب اور ملحقہ علاقوں پر مشتمل صوبہ گلگت بلتستان کا پہلا قومی پارک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

شاہراہ ریشم بھی اس پارک کے درمیان سے گزرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین رابطے کا بڑا ذریعہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معروف امریکی ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر جارج شیلر کی خصوصی دلچسپی کے باعث خنجراب کا بطور نیشنل پارک انتخاب 1975ء میں عمل میں آیا۔

خنجراب نیشنل پارک — ماہا قاسم
خنجراب نیشنل پارک — ماہا قاسم

خنجراب اپنے خوبصورت فطری مناظر اور نایاب جنگلی حیات خصوصاً مارکوپولو بھیڑ اور برفانی چیتے کی موجودگی کے باعث بڑی اہمیت کا حامل نیشنل پارک گردانا جاتا ہے۔ یہاں کے دیگر اہم جنگلی جانوروں میں لداخ اڑیال، ہمالین آئی بیکس (کیل)، سنہری مارموٹ، تبتی خچر، (خر)، بھیڑیا، سرخ لومڑی، برفانی تیتر، چکور، باز اور گدھ وغیرہ کی انواع شامل ہیں۔

اس نیشنل پارک کے انتظامی امور میں اطراف کے مقامی لوگوں کی شراکت اور تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اس پارک کا پہلا انتظامی پلان 90ء کی دہائی میں تیار کیا تھا۔ تاہم آج بھی تمام تر مشکلات اور مسائل کے باوجود خنجراب نیشنل پارک کا شمار ملک کے چند اہم ترین محفوظ علاقوں میں کیا جاتا ہے۔

دیوسائی نیشنل پارک

دیوسائی نیشنل پارک جسے دیوتاؤں کا مسکن بھی کہا جاتا ہے زیادہ تر سرد میدان مرتفع پر مشتمل ہے۔ یہاں کی حیاتیاتی تنوع خصوصاً بھورے ریچھوں کے بارے میں ہمالین وائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے تواتر کے ساتھ تحقیقی کام کی بدولت دیوسائی کو 1993ء میں شمالی علاقہ جات کا دوسرا نیشنل پارک کا درجہ حاصل ہوا۔

یہ قومی پارک ضلع اسکردو میں واقع ہے۔ یہ میدان سال کے 8 مہینے برف کی دبیز چادر اوڑھ لیتا ہے البتہ موسمِ گرما کے چند مہینوں میں یہاں رنگا رنگ پھولوں کا راج ہوتا ہے۔ دیوسائی میں شیوسر جھیل اپنے پس منظر میں نانگا پربت کی مسحور کن بلندیوں کے ساتھ اپنا انتہائی خوشگوار تاثر چھوڑتی ہے۔

دیوسائی نیشنل پارک کے داخلی راستے پر موجود چیک پوسٹ—عثمان احتشام انور
دیوسائی نیشنل پارک کے داخلی راستے پر موجود چیک پوسٹ—عثمان احتشام انور

دُور دُور تک پھیلے سبرہ زاروں پر مویشی جانور چر رہے ہیں—عثمان احتشام انور
دُور دُور تک پھیلے سبرہ زاروں پر مویشی جانور چر رہے ہیں—عثمان احتشام انور

اس نیشنل پارک کی اہم جنگلی حیات کی انواع میں بھورے ریچھ کے علاوہ بھیڑیا، سرخ لومڑی، ہمالین آئی بیکس، سنہری مارموٹ، ٹراؤٹ مچھلی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ پارک نقل مکانی کرکے آنے والے کئی ایک اقسام کے پرندوں کی اہم گزرگاہ کا حصہ بھی ہے۔

یہاں پائے جانے والے متعدد ادویاتی پودے بھی ماہرین نباتات اور حکما کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ جون تا ستمبر کے مہینوں میں خانہ بدوش بکر وال بھی اپنے بھیڑ بکریوں کے ریوڑوں کے ہمراہ دیوسائی کی چراہ گاہوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہ نیشنل پارک 2016ء سے یونیسکو کے تحت عالمی قدرتی ورثے کی فہرست میں شمولیت کا امیدوار بھی ہے۔

سینٹرل قراقرم نیشنل پارک

سینٹرل قراقرم نیشنل پارک دنیا کی چند انتہائی بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں 'کے ٹو'، 'گشابروم اول اور دوم' اور 'براڈ پیک' کی آماجگاہ ہے جن کی اونچائی 8 ہزار میٹر سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ 60 سے زیادہ ایسی پہاڑی چوٹیاں بھی اس پارک کا حصہ ہیں جن کی بلندی 7 ہزار میٹر تک ہے۔

اسکردو ضلع کی حدود میں واقع یہ 10 ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا نیشنل پارک دنیا بھر کے کوہِ پیماؤں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے۔ اس قومی پارک میں جابجا گلیشیئرز بھی موجود ہیں جو ملک کی آبی ضروریات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سینٹرل قراقرم میں کے ٹو (K2) پہاڑ سے اٹلی کے کوہِ پیماؤں کی خاص دلچسپی کے باعث اٹلی کی حکومت نے بھی اس علاقے کو نیشنل پارک کا درجہ دلوانے میں اپنا خصوصی تعاون فراہم کیا۔

سینٹرل قراقرم نیشنل پارک
سینٹرل قراقرم نیشنل پارک

نہ صرف یہ بلکہ اس کے انتظامی پلان کی تیاری میں بھی اپنی غیر سرکاری تنظیم ای وی کے ٹو (Evk-2-CNR) کے ذریعے تکنیکی تعاون بھی فراہم کیا۔ جسے بعد ازاں 2015ء میں حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے باقاعدہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ اس نیشنل پارک کی نمایاں نباتات و حیوانات میں پست قامت صنوبر اور سی بک تھارن کی جھاڑیاں، مار خور، نیلی بھیڑ، کیل، مشک ہرن، برفانی چیتا اور ریچھ کی 2 اقسام شامل ہیں۔

سینٹرل قراقرم نیشنل پارک کی حدود میں 230 کے لگ بھگ چھوٹے بڑے گاؤں بھی موجود ہیں جن کی مجموعی آبادی قریب ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس پارک کی بین الاقوامی اہمیت کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے دیوسائی کے ساتھ قراقرم نیشنل پارک کو بھی عالمی قدرتی ورثے کی فہرست میں شمولیت کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو سے رجوع کیا ہے۔

ہندراب-شندور نیشنل پارک

ہندراب۔ شندور نیشنل پارک صوبہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے انتہائی مغربی علاقے میں واقع ہے جہاں بروگل پلس بھی اس پارک کا ایک اہم حصہ ہے۔

اس نیشنل پارک کی ایک بڑی وجہ شہرت شندور کا میلہ اور پولو ٹورنامنٹ کے روایتی مقابلے ہیں جو ساری دنیا کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ اس پارک سے متعلق یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ شندور کے مخصوص علاقے کی ملکیت کے حوالے سے گلگت اور چترالی عوام کے مابین شدید اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ چترال کا علاقہ صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہے۔

اس نیشنل پارک کے قیام کی دوسری بڑی وجہ ہندراب۔ شندور کے علاقے میں واقع آب گاہیں ہیں جو سائبیریا اور دیگر وسط ایشیائی ممالک سے نقل مکانی کرکے آنے والے پرندوں کی اہم گزرگاہ پر واقع ہیں۔

درہ شندور— سید مہدی بخاری
درہ شندور— سید مہدی بخاری

کرومبر نیشنل پارک

کرومبر نیشنل پارک بھی غذر کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ شمالی علاقہ جات کا 5واں نیشنل پارک ہے۔ کرومبر کی وجہ شہرت بھی اونچائی پر واقع آب گاہوں کا ایک نیٹ ورک ہے جو موسمِ سرما میں وسطی ایشیائی ممالک سے ہر سال نقل مکانی کرکے آنے والے لاکھوں پرندوں کے عارضی ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔

ان میں مختلف اقسام کے معروف اور عام آبی پرندے شامل ہیں۔ اس پارک کا ایک اور اہم پہلو کثیر النسل ثقافتی تنوع سے بھرپور رنگ بھی ہے جہاں شمالی علاقہ جات کی 3 اہم زبانوں سے وابستہ قبائل اپنی ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں جو ثقافتی تنوع کے فروغ میں بڑی اہمیت کا حامل ہیں۔

کرومبر جھیل کنارے — سید مہدی بخاری
کرومبر جھیل کنارے — سید مہدی بخاری

ان پارک کی حفاظت اس لیے بھی ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور سی پیک کے تحت بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرگرمیوں کے متوقع منفی اثرات سے بچاؤ میں ان محفوظ علاقوں خصوصاً نیشنل پارکس کا موجودہ نظام ایک مؤثر ڈھال کے طور پر اپنا اہم کردار ادا کرسکے۔

بلتستان کی ایک تنظیم بلتستان وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹیو افسر غلام محمد جو اس علاقے میں برفانی تیندوے کی بقا کے لیے کام کررہے ہیں، ان کی رائے میں مزید نیشنل پارک کا قیام خوش آئند ہے مگر حکومت کام کرنے والوں کو وسائل بھی مہیا کرے۔ یہ پہاڑی علاقے اتنے دشوار گزار ہیں کہ ہم تیندوے کی حفاظت کے لیے ہر جگہ نہیں پہنچ سکتے، ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے اور اس کورونا وائرس کی وبا نے کام کو مزید مشکل بنادیا ہے۔ بے شمار ڈونرز اور ادارے یا تو بند ہوگئے ہیں یا ان کا حجم کم ہوگیا ہے۔ ایسے میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کون سوچے گا؟

عاشق احمد خان کا کہنا ہے کہ اس تاریخی موقعے پر پاکستان میں نیشنل پارک کے لیے راہ ہموار کرنے والوں کو بھی یاد کرلیا جائے۔ پاکستان کے ہر علاقے میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے اپنے پیچھے آنے والوں کی راہیں روشن کیں۔ انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جائے، ان میں ڈبلیو اے کرمانی کا کردار نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے علاوہ شمالی علاقہ جات میں غلام رسول، سرحد کے ڈاکٹر ممتاز ملک، سندھ میں خان محمد خان، بلوچستان سے حامد خان، پنجاب کے عزیز اسلم خان اور آزاد کشمیر کے شیخ قیوم شامل ہیں۔ وہ اس نظام کی مضبوطی میں عبدالطیف راؤ، ڈاکٹر علیم چوہدری، جی ایم خٹک، وقار ذکریا اور ابرار حسین کی کوششوں کے بھی معترف ہیں۔

نیشنل پارک کے حوالے سے سیاحوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ 'یہاں کچھ بھی نہ چھوڑ کر جائیں بجز اپنے نقش پا کے اور ساتھ کچھ نہ لے جائیں سوائے تصاویر اور خوشگوار یادوں کے!'


شبینہ فراز سینئر صحافی ہیں، پچھلے 15 برسوں سے ماحولیات کے موضوع پر لکھ رہی ہیں۔ آپ کو مختلف ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔ آپ غیر ملکی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز رکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف بین الاقوامی فیلو شپ بھی حاصل کرچکی ہیں۔