• KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:05pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:11pm
  • KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:05pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:11pm

بھارتی انتخابات کے وہ حقائق جنہیں جاننا ضروری ہے

بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کے لیے پولنگ سات مختلف مراحل میں ہوگی، پہلا مرحلہ 19 اپریل جب کہ آخری مرحلہ یکم جون 2024 کو ہوگا۔
شائع April 15, 2024

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک بھارت میں رواں ماہ 19 اپریل کو ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور بھارت میں ہونے والے انتخابات دنیا کے سب سے بڑے انتخابات ہوتے ہیں۔

درج ذیل تحریر میں بھارتی انتخابات سے متعلق وہ دلچسپ حقائق بیان کیے جا رہے ہیں، جنہیں جاننا ضروری ہے۔

بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کے لیے پولنگ سات مختلف مراحل میں ہوگی، پہلا مرحلہ 19 اپریل جب کہ آخری مرحلہ یکم جون 2024 کو ہوگا۔

انتخابات کے دوران 97 کروڑ سے زائد افراد ووٹ کاسٹ کریں گے، بھارت بھر میں 10 لاکھ سے زائد پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔

بھارت بھر میں بنائے جانے والے پولنگ اسٹیشنز میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد کا عملہ خدمات سر انجام دے گا۔

بھارت کی 28 ریاستوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ سمیت 8 مرکزی علاقوں میں بھی لوک سبھا کے انتخابات ہوں گے۔

انتخابات کے دوران 2700 سے زائد سیاسی جماعتیں اور 8 ہزار سے زائد امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔

رجسٹرڈ ووٹرز میں سے نصف کے قریب ووٹرز کی تعداد خواتین پر مشتمل ہے، پاکستان کے مجموعی ووٹرز سے زائد مسلمان ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

مجموعی طور پر لوک سبھا کی 543 نشستوں پر پولنگ ہوگی اور دو نشستوں پر صدر مملکت امیدواروں کو نامزد کرتے ہیں۔

کسی بھی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے 543 میں سے 270 نشستیں درکار ہوں گی، کوئی بھی جماعت کسی دوسرے گروپ کے ساتھ اتحاد کرکے بھی حکومت بنا سکتی ہے۔

بھارتی الیکشن قوانین کے مطابق الیکشن کمیشن کو ہر اس جگہ پولنگ بوتھ لازمی بنانا ہوتا ہے، جہاں رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہوتے ہیں۔

قوانین کی مجبوری کے تحت بھارتی الیکشن کمیشن کے عملے کو پولنگ اسٹیشنز یا بوتھ تک پہنچنے کے لیے، پیدل، اونٹوں، گدھا گاڑیوں، بیل، ٹرین، بسوں، جہاز اور ہیلی کاپٹر سمیت کشتیوں پر سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔

بھارت میں سب سے بلند پولنگ بوتھ ریاست آندھرا پردیش میں چینی سرحد کے قریب بنایا جائے گا، جہاں ممکنہ طور پر ایک یا دو ووٹرز ووٹ کاسٹ کریں گے۔

لوک سبھا کے لیے پولنگ کے پہلے مرحلے کے دوران یعنی 19 اپریل کو مجموعی طور پر 21 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں پولنگ ہوگی اور مجموعی طور پر 102 نشستوں پر ارکان کا انتخاب ہوگا۔

دوسرے مرحلے یعنی 26 اپریل کو 13 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں 89 سیٹوں پر پولنگ ہوگی۔

تیسرے مرحلے یعنی 7 مئی کو بھی 12 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں 94 سیٹوں کے لیے پولنگ ہوگی۔

چوتھے مرحلے یعنی 13 مئی کو 96 نشستوں کے لیے 10 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں ووٹ کاسٹ کیے جائیں گے۔

پانچویں مرحلے یعنی 20 مئی کو سب سے کم 49 نشستوں کے لیے 8 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں پولنگ ہوگی۔

چھٹے مرحلے یعنی 25 مئی کو 57 سیٹوں کے لیے 7 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں پولنگ ہوگی۔

آخری یعنی ساتویں مرحلے کے لیے یکم جون کو 57 نشستوں پر 8 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں پولنگ ہوگی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ متعدد ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں تمام مراحل کے دوران مختلف علاقوں اور نشستوں پر پولنگ ہوتی رہے گی جب کہ بعض ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں ایک ہی مرحلے میں تمام نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔

تقریبا ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والے انتخابات کے نتائج کا اعلان 4 جون کو کیا جائے گا اور زیادہ تر مبصرین کے مطابق نریندر مودی تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم بننے میں کامیاب جائیں گے۔