اداریہ: پاکستان میں دہشت گردی ’معمول‘ بن جانے کا خطرہ!

شائع January 5, 2026

پاکستان میں تشدد اب معمول بنتا جارہا ہے۔ 2025 میں سکیورٹی صورتحال نہایت ابتر رہی۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی ’پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025‘ کے مطابق ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور ایک ہزار 366 افراد زخمی ہوئے جو ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

مجموعی طور پر تنازعات سے جڑے پرتشدد واقعات جن میں دہشت گرد حملے، انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، سرحدی جھڑپیں اور اغوا شامل ہیں، بڑھ کر 11 سو 24 تک پہنچ گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ ان واقعات کو اب محض وقتی ناکامی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک ایسے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو تیزی سے پھیل رہا ہے اور جس پر قابو پانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ دہشت گردی کا ہدف کون بن رہا ہے۔ اب شہید ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکاروں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ پولیس اسٹیشنز، سکیورٹی قافلے اور چیک پوسٹس پر بار بار حملے ہو رہے ہیں جبکہ فوجی یونٹس بھی نشانہ بنے ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی توجہ ریاست کو تھکانے، اس کی افواج کو منتشر کرنے اور حوصلے پست کرنے پر مرکوز ہے۔ کچھ برسوں کے سکون کے بعد خودکش حملوں کی واپسی اس جائزے کو تقویت دیتی ہے۔ اس طرح کے حملوں کے لیے منصوبہ بندی، وسائل اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے جو دہشت گردوں کی مایوسی کے بجائے ان کے دوبارہ منظم ہونے کی علامت ہے۔

تشدد جغرافیائی طور پر بھی مخصوص علاقوں میں مرکوز ہے۔ تقریباً تمام دہشت گردانہ حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔

بلوچستان میں شدت پسندوں نے اپنی حکمت عملی کو محض ’ہٹ اینڈ رن‘ (حملہ کرو اور بھاگ جاؤ) تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اب اس میں شاہراہوں کی ناکہ بندی، اغوا اور بنیادی ڈھانچے کی تخریب کاری بھی شامل ہو چکی ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ملک کی مغربی پٹی سیکورٹی کے لحاظ سے سب سے بڑی فالٹ لائن بنی ہوئی ہے۔

ریاست نے اس کا جواب طاقت سے دیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی، جن میں ایک ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ لیکن عسکری کارروائیوں پر یہ شدید انحصار ایک گہرے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، سیکڑوں آپریشنز کے باوجود حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

اس تشدد کا بڑا حصہ مذہبی طور پر متحرک دہشت گرد گروہوں، خاص طور پر ٹی ٹی پی کی جانب سے ہے، جس نے اپنی طاقت دوبارہ بحال کر لی ہے۔ دہشت گرد تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں؛ وہ بہتر ہتھیار، نائٹ وژن آلات اور ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اکثر مقامی شکایات، کمزور طرزِ حکمرانی اور انٹیلی جنس ہم آہنگی میں کمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسری طرف، ریاست محض ردِعمل کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔

اس صورتحال کو ’نیا معمول‘ تسلیم کر لینا خطرناک ہوگا۔ اگرچہ عام شہریوں کی اموات میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن ریاست کے خلاف تشدد بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک سبق ہونا چاہیے۔ ایسی سیکورٹی پالیسی جو محض چھاپوں اور جوابی کارروائیوں پر مبنی ہو، مستقل امن فراہم نہیں کر سکتی،خاص طور پر جب تک نظریاتی انتہا پسندی، سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں اور سیاسی بے یقینی جیسے مسائل حل نہ کیے جائیں۔

اس دائرے کو توڑنے کے لیے محض فوجی طاقت سے زیادہ کچھ درکار ہے۔ سیاسی بصیرت، متاثرہ علاقوں میں سول گورننس اور سنجیدہ علاقائی روابط اب محض اختیاری نہیں بلکہ ناگزیر ہیں۔ اسی طرح پولیس اصلاحات، انٹیلی جنس شیئرنگ اور عدالتی کارروائی کی تکمیل ضروری ہے۔ ان اقدامات کے بغیر ملک مستقل عدم تحفظ کی دلدل میں دھنسنے کے خطرے سے دوچار رہے گا۔

اداریہ

کارٹون

کارٹون : 7 جنوری 2026
کارٹون : 6 جنوری 2026