بھیا کِس کی طرف سے؟

15 فروری 2014

یہ اُن دنوں کا ذکر ہے جب ہم چھوٹے تھے پر بچے نہیں۔ سمجھ تو آپ گئے ہی ہوں گے کہ ہم عمر کے کِس حصے کی بات کر رہے ہیں۔۔۔ جی ہاں وہی عُمر جس میں آپ ہواؤں میں ایسے ہی اُڑ رہے ہوتے ہیں جیسے آج کل مُزاکراتی کمیٹیوں میں شامل حضرات جِن کی باچھیں ہیں کے کھِلکھِلا کھِلکھِلا کے کھِلی ہی چلی جا رہی ہیں۔۔

اور حضور کھِلکھِلی نکلے بھی تو کیوں نا، کیوں کہ ایک تو یہ سرکار جس کی آپ نُمائیندگی کر رہے ہیں وە شدید حد تک نہاری پائے کی شوقین اور دوسری جانب جو لوگ دوسری کمیٹی میں شامل ہیں وە کچھ ایسے مُحسِنانِ پاکستان و اِسلام کے موقف کی پیروی کرتے ہوئے ملیں گے جِنہوں نے کم و بیش بس کچھ ذیادە نہیں بس کوئی پچاس سے ساٹھ ہزار معصوم پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اُتاراہے، ہزاروں بم دھماکے کئے ہیں اور بس پاکستان کے فوجی ہیڈکوارٹر، نیول اور ائر بیسز پر کچھ تھوڑے بہت حملے کئے ہیں، سینکڑوں مسلمانوں کے گلے کاٹے ہیں، بہت سارے ایسے انسانوں کو جنہیں ہم شیعہ، سُنی، بریلوی، عیسائی، ہندُو اور احمدیوں کے طور پر جانتے ہیں کو گولیوں سے بھون ڈالا ہے، جنرل نیازی، صِفت غیور اور ایس پی چوہدری اسلم جیسےقوم کے بہادر سپوتوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنا کے ڈنکے کی چوٹ پر سینہ تان کر اِن مکروە اعمال کی زمہ داری بھی قبول کرچکے ہیں۔۔۔

ویسے تو اِن حضرات کے کریڈٹ پر ایسے ہی بہت سارے کارنامے ہیں جن کا تفصیلی زکر کرنے کےلئے ایسے بہت سے بلاگز بھی ناکافی ہوں گے۔۔۔ بس آپ اِتنا سمجھ لیجئے کہ اگر آپ کے مُلک کی ساٹھ فیصد سے زیادە سیاسی اور مزہبی قیادت اُن حضرات کی نمائیندگی کرنے میں فخر محسوس کر رہی ہے تو مجھ غریب کا ایک معصومانہ سا بلاگ اِن کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔۔

سو بس پڑھتے جائیے اور اور آگے بڑھاتے جائیے۔ آپ کا ایک کِلک شائد میری نوکری پکی کروادے، شائید آپ کا ایک شئیر میرے ایڈیٹر صاحب کے دِل کو موم کر دے یہ سب بتانے کے بعد بھی قوی اِمکان ہے کے شیطان آپ کو یہ بلاگ شئیر کرنے سے روکے گا مگر آپ رکئیے گا نہیں.

تو عُمر ہماری اور ہمارے دوستوں کی اُس وقت کوئی تیرە چودە سال ہی تھی، جوانی تک پہنچ نہیں پائے تھے جبکہ بچپن کا خاتمہ ہو چُکا تھا مگر بچپنہ گیا نہیں تھا۔

گرمیوں کی چھُٹیاں تھیں، کرنےکو کچھ خاص تھا نہیں۔ سب دوست اکٹھے ہوئے اور پلان بنایا کہ روزانہ رات آٹھ بجے سب ایک جگہ جمع ہوں گے اور قریبی شادی ہالوں میں جا کر مفت کا کھانا کھائیں گے، تفریح کریں گے اور دو ایک گھنٹوں میں گھروں کو واپس آجایا کریں گے، خیر جناب قصہ مختصر یہ کہ اگلے روز سے ہی ہم نے اپنے اِس منصوبہ پر عمل شروع کردیا۔

شادی ہال کی طرف جاتے ہوئے ہم نے اپنے دوست عارف سے پوچھا (عارف جو اپنی زات میں بڑا سمجھدار انسان تھا) کہ بھائی عارف اگر کسی نے پہچان لیا کہ ہم بِن بُلائے مفت کا کھانا کھانے پہنچ گئے ہیں تو بات کیسے سنبھالی جائے گی؟؟

عارف صاحب نے بڑی سادگی سے فرمادیا کہ اگر لڑکی والے پوچھیں تو بولو لڑکے والوں کی طرف سے آئے ہیں اور اگر لڑکے والے پوچھیں تو بول دینا کہ لڑکی والوں کی طرف سے!

خیر جناب یہ سلسلہ نہایت ہی کامیابی سے جاری تھا، ایک روز ہم ایک تقریب میں تھوڑی دیر سے پہنچے تو وہاں کھانا شروع ہوچُکا تھا۔ عارف نے سب کو اِشارە کیا کہ سیدھے کھانے پہ ٹُوٹ پڑو۔ ہم سب قورمہ اور بریانی پر حملہ آور ہوگئے اور اپنی اپنی پلیٹیں بھر بھر کے ایک طرف کونے میں کھڑے ہوگئے.

ابھی کچھ ہی نوالے پیٹ میں اُتارے ہوں گے کہ ایک چچا میاں ہمارے نزدیک آئے اور پوچھا کہ بیٹا آپ کے امی ابو ساتھ نہیں آئے ہیں کیا؟ عارف بِنا کچھ سوچے فوراً بول پڑا انکل وە اِسٹیج پر گئے ہیں دولہا کو لفافہ دینے۔ بس اتنا سننا تھا کہ انکل کو پتہ لگ گیا کے ہم تو اول درجے کے کوئی مفتے ہیں۔ اب ظاہر ہمارے جیسی شکل کے لوگ مفتی تو ہو نہیں سکتے تھے تو مفتا ہونا تو جیسے اٹل ہی تھا۔

انکل نے جیسے معاملے کی باریکی کو سمجھ لیا تھا اور فوراً ہی دوسرا سوال داغ ڈالا کس کی طرف سے آئے ہو اور عارف کی دوبارە حاضر جوابی لڑکی والوں کی طرف سے انکل! بس اتنا سننا تھا کہ چچا میں ٹائیپ انکل کی آنکھوں سے جیسے انگارے برسنے لگے اور اگلے جملے نے تو بس یہ سمجھئے ہماری جان ہی لے لی انکل چِلا کے بولے "یہ میرے پوتےکا عقیقہ ہے کمبختوں" اور اُس کے بعد جو جو الفاظ ہماری سماعت سے ٹکرائے وە کم از کم یہاں بیان نہیں کئیے جاسکتے اور ہم قورمہ بریانی چھوڑ چھاڑ ایسے بھاگے کہ اُس کے بعد اپنی شادی پر ہی جا کر رُکے۔۔

یہ سب بتانے میں ہمیں زرا سی بھی شرمندگی محسوس یوں نہیں ہو رہی کیونکہ ہم ایک ایسے مُلک میں رہتے ہیں کہ جِس کے موجودە وزیرِاعظم اپنے گزشتہ ادوار میں بطورِ وزیرِاعظم پاکستان اُس وقت کے امریکی صدر جناب بِل کِلنٹن کے سامنے افغانی طالبان کے سفیر کے طور پیش ہو کر افغانستان کی طالبانی حکومت کی نہ صرف نمائیندگی فرمایا کرتے تھے بلکہ اپنے بہترین دوست کِلنٹن صاحب کے سامنے اُس وقت کی طالبانی حکومت کو تسلیم کروانے کی باقاعدە مہم چلایا کرتے تھے۔

حضور کے حکومت میں آتے ہی طالبانی طرز کے زہن رکھنے والے قریباً تمام ہی حضرات وزیرِاعظم ہاٴوس کے آس پاس کے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں کیونکہ وە سب یہ جانتے ہیں کہ اُنہیں کسی بھی وقت طالبانی طرز کی کوئی زمہ داری دینے کے لئے وزیرِاعظم ہاٴوس بلایا جا سکتا ہے جس کی تازە مثال حکومت کی جانب سے تشکیل شدە "حکومتی طالبانی مزاکراتی کمیٹی" ہے۔

مطلب یہ کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے طالبان سے مزاکرات طالبان ہی کریں گے اور اُسی دہشت گردی کی شکار عوام، فوج، قانون نافز کرنے والے اداروں اور اقلیتوں کی نمائیندگی کا کچھ سوچا ہی نہیں گیا!

ہم تو بس یہ سوچ کر خوش ہیں کہ جب دونوں کمیٹیوں کے ارکان ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہوں گے تو اُنہیں ایک دوسرے سے یہ پوچھنے کی ضرورت تو بلکُل پیش نہیں آتی ہو گی کہ "آپ لڑکے والوں کی طرف سے ہیں یا لڑکی والوں کی طرف سے؟؟؟"

تو بھیا مُفت کے اِس کھانے کو جِسے ہم اور آپ پاکستان کے نام سے جانتے ہیں اِسے کھانے والے خود بھی یہ نہیں جانتے کہ وە کِس کی طرف سے کھا رہے ہیں، بس کھائے چلے جا رہے ہیں اور شائد یوں ہی کھاتے رہیں گے جب تک آپ اِن کا ہاتھ روک کے اِن سے نہیں پوچھو گے کہ "بھیا کِس کی طرف سے؟؟؟"

تبصرے (4) بند ہیں

Azeem Feb 15, 2014 03:05pm
برادرم آپ کا مضون بہت اچھا ھے آپ کا تاریخی حوالہ بھی بہت خؤبصورت ھے اور رہی بات ایشو کی تو بھائی یہ حکومت کیا اور اس کی بساط کیا کہ کوئی عمل اپنی مرضی سے کر سکے یہ تو پاکستان کی بے وردی فوج سے یہ درخواست کر رہے ہیں کہ اگر آپ نے ہمیں حکومت کرنے کا موقعہ فراہم کر ہی دیا ہے تو بھا ئی آپ کچھ دیر ہم پر اعتماد کریں ہم کبھی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو آپ کی منشا کے منافی ہو بس صرف تھوڑا وقت دے دیں اور ابتدائی تحفہ کے طور پر آپ ایجنسیز کا کنٹرول سنبھال لیں اور دوسرے مرحلہ ہم پورا خیبر پختونخواہ آپ کے حوالے کر دیں گے اور اگر کراچی کی بھی ضرورت ہوئی تو وہ بھی آپ سنبھال لیجئیے گا ہمارا کیا ہے ہمیں تو آپ صرف پنجاب بھی دے دیں گے تو ہم گزارا کر لیں گے بس ذرا اپنی نظر کرم ہم پر رکھئیے گا
Shanzay Feb 15, 2014 04:16pm
کمال کر دیا آپ نے
کاشف نصیر Feb 15, 2014 11:16pm
یہ کام صرف نواز شریف نہیں بلکہ اپنی دوسری حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کیا تھا۔ طالبان تحریک کے غبارے میں ہوا بھرنے، انہیں اس قابل کرنے کہ وہ کابل کا تخت حاصل کرسکیں، انکی حکومت کو باقاعدہ قبول کرنے اور سعودیہ، متحدہ عرب امارات سے قبول کرانےاور امریکیوں سے انہیں متعرف کرانے کا سہرا طالبان کی امی محترمہ بے نظیر بھٹو کے سر جاتا ہے، یہ الگ بات ہےکہ جب عالمی حالات بدلےتو محترمہ نے ان بچوں کو آک کردیا
انور امجد Feb 17, 2014 12:08am
آپ کسی ایک وزیر اعظم یا شخصیت کو ملکی فیصلوں کا الزام نہیں دے سکتے۔ حکومتی فیصلے ہمیشہ اس وقت کے حالات کے مطابق کئے جاتے ہیں۔ سویت یونین کے زمانے میں صرف پاکستان ہی نہیں بالک تمام اتحادی ملکوں کا رویہ ایک جیسا تھا۔ اب حالات مختلف ہیں اور آج کل کے حالات کے مطابق فیصلے کرنے ہونگے۔ کیا جہادیوں کا رویہ بدلا نہیں ہے؟ مذاکرات جنگ سے بہتر آپشن ہے۔