نبی باغ مسجد اور گرودوارہ

اپ ڈیٹ 15 مئ 2015

ای میل

خستہ حال رتن تلاؤ گرودوارہ -- فوٹو  -- اختر بلوچ
خستہ حال رتن تلاؤ گرودوارہ -- فوٹو -- اختر بلوچ
اختر بلوچ (دائیں)، سردار رمیش سنگھ (بائیں)
اختر بلوچ (دائیں)، سردار رمیش سنگھ (بائیں)
فوٹو  بشکریہ سردار رمیش سنگھ
فوٹو بشکریہ سردار رمیش سنگھ

عنوان پڑھتے ہی آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا یہ ممکن ہے؟ جی ہاں بالکل ممکن ہے۔ اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں نہ ہی ویب سائٹس پر تلاش کرنے کی۔ یہ ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ معلومات آپ کو کسی ویب سائٹ، تاریخی یا تحقیقی کتاب یا کسی مضمون سے نہیں مل سکیں گی۔

اس سے قبل ہم ایک بلاگ میں کراچی کے ایک گرودوارے رتن تلاؤ کا ذکر کرچکے ہیں۔ نامور محقق زاہد چوہدری نے اپنی کتاب "سندھ مسئلہ خود مختیاری کا آغاز" میں لکھا ہے کہ؛

"رتن تلاؤ کراچی کے سکھ گرودوارے میں بد امنی کی افسوس ناک وارداتیں ہوئیں۔ جہاں اڑھائی سو سکھ مرد ،عورتیں اور بچے بمبئی جانے کے لیے مقیم تھے۔ گرودوارے کو آگ لگادی گئی، تقریباً 70 لوگ زخمی ہوئے۔"

رتن تلاؤ کے علاقے سے ہم بہ خوبی آگاہ ہیں لیکن اس گرودوارے کا سراغ نہیں مل پارہا تھا۔ ہم یہ بھی جانتے تھے کہ گرودوارہ ٹیمپل روڈ نامی کسی سڑک پر ہے لیکن تقسیم کے بعد کراچی میں سڑکوں کے نام اس تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں کہ ٹیمپل روڈ کو تلاش کرنا بھی ایک مشکل کام تھا۔

ٹیمپل روڈ لاہور میں بھی خاصا مشہور ہے۔ اس روڈ پر بھٹو صاحب کے ذاتی دوست اور ان کی حکومت کے وزیر ڈاکٹر مبشر حسن صاحب بھی رہتے تھے۔ اسی دور کے ایک اور وزیر ملک غلام نبی کی رہائش بھی اسی روڈ پر تھی. اس پر کوئی مندر یا گرودوارہ ہے یا نہیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، یہ بات ہمیں ہمارے محسن حسین نقی نے بتائی۔ لیکن ہم جس ٹیمپل روڈ کا ذکر کر رہے ہیں وہ کراچی میں موجود ہے۔ اس روڈ پر مندر بھی ہے لیکن فی الحال یہ ہمارا موضوع نہیں، ٹیمپل روڈ اور اس پر واقع مندر کے بارے میں پھر کبھی بات کریں گے۔

بات ہورہی تھی ٹیمپل روڈ پر نبی باغ اور مسجد کے بیچ گرودوارے کی۔ اس سے پہلے کہ ہم گرودوارے کے بارے میں مزید بات کریں۔ پہلے تقسیم ہند سے قبل اور بعد میں سکھوں کی آبادی اور دیگر گرودواروں اور رہائشی علاقوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ محمودیہ رضویہ اپنی کتاب "کراچی: ملکہ مشرق" کے صفحہ نمبر 34 پر لکھتی ہیں کہ؛

"پنجابی سکھ 1930 سے کراچی آنا شروع ہوئے اور بہت جلد ترقی کر گئے. ترکھان، بڑھئ لوہار کا کام کرتے تھے اور الیکٹرک فٹ کرنا بہ خوبی جانتے تھے۔ مکانات کی تعمیر میں لکڑی کا کام بھی یہی کرتے تھے یعنی دروازے کھڑکی وغیرہ کی مرمت و ٹھیکے داری، اونٹ گاڑی کا کام بھی سنبھالنے لگے تھے۔ لیکن یوپی اور پنجاب میں سکھوں اور مسلمانوں کے تعلقات بد سے بد تر ہوگئے۔ اس وجہ سے اگست 1947 سے یہ کراچی چھوڑ کر پنجاب جانے لگے۔"

ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے وجود میں آنے سے قبل سکھ کراچی کے کن علاقوں میں آباد تھے اس بارے میں عثمان دموہی صاحب اپنی کتاب "کراچی تاریخ کے آئینے میں" کی دوسری اشاعت میں لکھتے ہیں؛

"یہ لی مارکیٹ کے علاقے میں آباد تھے، نانک واڑہ کا نام ان ہی کا رکھا ہوا ہے۔ کراچی میں انہوں نے اپنا ایک اسکول اور کئی گرودوارے تعمیر کرائے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ تمام ہندوستان چلے گئے تھے۔"

ایک اتوار کی صبح ہم جلدی بیدار ہوگئے۔ حلوہ پوری کھانے کے لیے ٹیمپل روڈ پر مندر کی دیوار کے ساتھ حلوہ پوری کی دکان سے ناشتہ کیا اور ریگل کی طرف چل نکلے اچانک ایک کالج پر نظر پڑی جس کا نام گورنمنٹ کالج نبی باغ ہے۔ گیٹ کھلا تھا، ہم نے سوچا چلو اندر ہو آئیں کیوں کہ سابقہ تجربات کی روشنی میں ہمیں یہ گمان تھا کہ ہوسکتا ہے اس کالج کا نام تبدیل ہوگیا ہو۔

اندر مکمل سناٹا تھا، کالج کی باہر والی بلڈنگ کے ساتھ ایک راستہ بھی تھا جو بلڈنگ کے پیچھے کی طرف جارہا تھا۔ ہم اس راستے پر چل دئیے، ایک قدیم عمارت کے آثار نظر آئے جو بالکل ویران تھی۔ چھت گری ہوئی، کھڑکیاں ناپید، ایک صاحب وہاں کھڑے ہوئے تھے اور اس عمارت کے اندر خودرو جھاڑیاں کاٹ کر اپنی بکریوں کو کھلارہے تھے۔ انہوں نے سوالیہ نظروں سے ہماری جانب دیکھا ہم نے کہا کہ کیا یہ اسکول کی پرانی عمارت ہے وہ نفی میں سرہلاتے ہوئے بولے نہیں، مگر گرودوارہ ہے.

فوٹو  -- اختر بلوچ
فوٹو -- اختر بلوچ

پھر انہوں نے پوچھا 'آپ کون ہیں'؟ ہم نے جواب دیا 'شوقیہ فوٹو گرافر ہیں، اگر ان کی اجازت ہوتو کچھ تصویریں بنالیں'! انھوں نے کہا شوق سے اور گرودوارے کا شکستہ اور خستہ حال دروازہ کھول دیا. ہم نے جلدی جلدی تصویریں بنائیں. جلدی اس لیے کہ تصویریں بنانے کے حوالے سے ہمارے پچھلے تجربات خاصے تلخ ہیں.

اگلا دن پیر کا تھا، ہم تقریباً 11 بجے کالج پہنچے پرنسپل صاحب کا معلوم کیا اور ان کے کمرے میں ملنے پہنچ گئے۔ بتایا کہ ہم قدیم تعلیمی اداروں پر لکھ رہے ہیں اگر ان کے کالج کی تاریخ مل جائے تو اس پر بھی لکھیں گے۔ پرنسپل صاحب کے سپاٹ چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے، کہا کہ ہم ایک ہفتے بعد ان سے ملیں تو شاید کچھ مواد مل جائے۔

ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی بیٹھے تھے، تعارف کے بعد سندھی لہجے میں بتایا کہ وہ کالج میں اردو ادب پڑھاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ انکشاف بھی کیا کہ کالج پر تو لکھیں نہ لکھیں، اس کے عقب میں موجود گرودوارہ بہت قدیم ہے اس پر ضرور لکھیں۔ پرنسپل نے ناخوش گوار نظروں سے اپنے ساتھی کی جانب دیکھا اور کھڑے ہوکر ہم سے ہاتھ ملایا اس کے معنی صاف تھے کہ ہمیں اب چلنا چاہئے۔

ہمارے ایک سکھ دوست سردار رمیش سنگھ جو اکثر پریس کلب چکر لگاتے ہیں ان کا نمبر اپنے موبائل میں تلاش کیا جو نہیں ملا۔ اس کے بعد چار بار منتخب اقلیتی عیسائی ایم پی اے مائیکل جاوید سے ان کا نمبر لیا اور یوں رمیش سنگھ جی سے رابطہ ہوپایا۔

رمیش نے بتایا کہ وہ ڈہرکی آئے ہوئے ہیں ایک ہفتے بعد کراچی لوٹیں گے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گرودوارے کی تصاویر بھی ان کے پاس ہیں۔ ہم نے انھیں بتایا کہ تصاویر ہم نے بھی بنالی ہیں۔

میرے لیے یہ ایک ہفتہ نہیں ایک سال تھا۔ خیر رمیش سنگھ کراچی واپس لوٹے، مائیکل جاوید کے ساتھ ملاقات ہوئی، طے پایا کہ اگلی اتوار کو ہم سنگھ صاحب کے ساتھ دوبارہ گرودوارے جائیں گے۔

خدا خدا کرکے اتوار کا دن آیا، شام کو ہم اور رمیش سنگھ گرودوارے پہنچے کالج کے اندر بچے کرکٹ کھیل رہے تھے ہم خاموشی سے اندر داخل ہوگئے۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے گرودوارے میں داخل ہوئے۔ رمیش سنگھ کے مطابق گرودوارے کا نام گرودوارہ رتن تلاؤ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ گرودوارہ دوبارہ بحال کروانا چاہتے ہیں۔ لیکن کمشنر آفس میں اس کا ریکارڈ نہیں مل رہا ہے۔ "آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ کیوں نہیں مل رہا".

ابھی ہم بات چیت کر ہی رہے تھے ایک نوجوان پتھر کا بنا ہوا ایک نقش لے کر آیا۔ جس کے بارے میں ہمیں رمیش نے بتایا کہ یہ سکھوں کا مقدس نشان ہے۔

اختر بلوچ (دائیں)، سردار رمیش سنگھ (بائیں)
اختر بلوچ (دائیں)، سردار رمیش سنگھ (بائیں)

رمیش نے مزید بتایا کہ یہ نشان عمارت کے چاروں جانب لگا ہوا تھا۔ لیکن بعد میں توڑ دیا گیا۔ گرودوارے کے اندر کلاس روم بھی بنا دیا گیا تھا۔ انہوں نے گرودوارے میں لگا ہوا بلیک بورڈبھی ہمیں دکھایا۔

فوٹو  -- اختر بلوچ
فوٹو -- اختر بلوچ

فرش کا ملبہ صاف کیا تو ٹائلوں سے بنا خوب صورت فرش بھی نظر آیا.

فوٹو  -- اختر بلوچ
فوٹو -- اختر بلوچ

گرودوارے کے شکستہ آثار اب بھی نبی باغ کالج میں موجود ہیں لیکن باہر سے نظر نہیں آتے کیوں کہ بیرونی حصے پر کالج کی عمارت اور عقبی حصے کے ساتھ ایک سہ منزلہ خوب صورت مسجد ہے جس پر مسجد کا پتہ رتن تلاؤ لکھا ہوا ہے۔ مسجد اور مدرسے کی دو عمارتوں کے بیچ گرودوارہ غائب ہوگیا۔

فوٹو  -- اختر بلوچ
فوٹو -- اختر بلوچ

سرداررمیش سنگھ کے مطابق سکھ آج بھی کراچی میں آباد ہیں۔ ان کے گرودوارے بھی ہیں جہاں وہ پوجا پاٹ کرتے ہیں۔ ایک گرودوارہ گرو گرنتھ صاحب سنگھ سبھا، نارائن پورہ رنچھوڑ لائن اور دوسرا گرونانک ٹیمپل منوڑہ پر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 1993 کی ووٹر لسٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں تقریباً 10 ہزار اور کراچی میں ساڑھے تین ہزار سکھ آباد تھے۔ اب یقیناً ان کی آبادی میں اضافہ ہوا ہوگا۔ اس وقت زیادہ تر سکھ کراچی کے علاقوں رنچھوڑ لائن، لائٹ ہاؤس، (سابقہ لائٹ ہاؤس سنیما اور موجودہ لنڈا بازار) کینٹ ریلوے اسٹیشن سے ملحقہ آبادی، نارائن پورہ کمپاؤنڈ اور گلشن معمار میں آباد ہیں۔