وولف آف وال اسٹریٹ -- ریویو

اپ ڈیٹ مارچ 04 2014

ای میل

سکرین شاٹ
سکرین شاٹ

جورڈن بلفورٹ کے مطابق، انسان کا بہترین دوست نہ تو لالچ ہے، نہ سیکس اور نہ ہی منشیات، بلکہ وہ ہے بےلگام بے اعتدالی۔

بڑے پردے کے لئے بنائی گئی مارٹن اسکورسیس کی اس طویل دورانئے کی فلم، یعنی تقریباً تین گھنٹے تک، اس فلم میں ان لوگوں پر جن پر یہ فلم بنائی گئی ہے، بلکل اسی بے دھڑک اور بے باک انداز میں مذاق اڑایا گیا ہے جیسے بے دھڑک اور بے باک اس فلم کے کردار ہیں۔ "وولف آف وال اسٹریٹ" آپ کو ایک انوکھے اور شاید غلط انداز میں جھنجوڑے گی، لیکن یہی تو اس کا مقصد ہے اور یہ کام کیا بھی کس شاندار طریقے سے ہے۔

اسکورسیس کی یہ بے پناہ لمبی کاوش، حیرت انگیز طور پر ایک نہایت گہری فلم ہے جس میں انتہائی سطحی لوگوں کے بارے میں ہے۔ اس فلم میں جورڈن بیلفورٹ کا کردار، جو کسی انگوٹھی میں جڑے نگینے کی طرح لیونارڈو ڈی کیپریو نے نبھایا ہے، ایک سادہ، پرعزم اور تازہ شادی شدہ نوجوان ہے جس کا تعلق برانکس سے ہے لیکن وہ ایک غلط پیشے کا انتخاب کر لیتا ہے یعنی اسٹاک بروکری۔ تاہم اپنے کام کے پہلے ہی دن خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس کی ملاقات صحیح آدمی سے ہو جاتی ہے۔

اس کا باس، مارک ہنا (میتھیو مک کونہے، جس نے اپنے دونوں سینز میں شاندار اداکاری کی ہے) ایک ایسا شخص ہے جو کہ بہت دور اندیش بھی نہیں اور ساتھ ہی غیر حقیقی سوچ والا۔ منافع کمانے کے چکر میں، ہٹ سرمایہ کاری کے بعد بھی وہ کبھی پیسہ رول آؤٹ نہیں کرتا بلکہ اسے دوبارہ سرمایہ کاری میں لگا دیتا ہے- ایسا کرنے سے وہ سرمایہ کار کو پیسہ نہیں لوٹاتا بلکہ بروکروں کی چاندی ہوتی رہتی ہے۔

سکرین شاٹ
سکرین شاٹ

اسٹاک بروکنگ کے خشک کام کے اہم وقت میں لوگوں کا ذہن سن ہو جاتا ہے لیکن مارک کے پاس اس کے لئے بھی ایک طریقہ ہے اور وہ ہے سیکس اور کوکین کا بے دریغ استعمال۔

بیلفورٹ کو یہ طریقہ سمجھ آ جاتا ہے لیکن اس وجہ سے نہیں کہ یہ قبل عمل ہے بلکہ اس لئے کہ اس کا دل بھی چاہتا ہے اور اس طرح پیسوں کی ہوس بھی پوری کرنے کا موقع ملتا ہے- اس طرح وہ بھی اس قابل ہو جاتا ہے کہ بغیر پریشانی کے نیم پاگل انسانوں کی طرح اسے بھی دنیا دیکھنے میں مشکل نہیں ہوتی اور وہ آسانی سے ان کے ساتھ کام کر سکتا ہے اور کچھ عرصے تک ایسا ہی ہوتا ہے۔

سکرین شاٹ
سکرین شاٹ

بیلفورٹ 1987 کے سیاہ سوموار کو بھی جھیل جاتا ہے جو کہ اتفاق سے اس کی پروموشن یعنی ایک اسسٹنٹ سے بروکر بننے کا پہلا دن بھی تھا اور پھر وہ چھوٹے چھوٹے اسٹاکس کی تجارت کرتے کرتے اسٹاک بروکنگ کی دنیا کے ہارے ہوئے نیم پاگلوں کی مدد سے ایک چھوٹی سی کارپوریٹ امپائر کھڑی کر لیتا ہے- (ویسے اس فلم کی سپورٹ کاسٹ کا بھی جواب نہیں جس میں شامل ہیں روب رینر جو کہ بیلفورٹ کے باپ بنے ہیں اور اپنے چند سینز میں انہوں نے مزاحیہ حرکتیں لاجواب کیں ہیں اور جین دوجارڈن، جنہوں نے اس کے سوئس بینکر کا کردار نبھایا ہے)۔

بیلفورٹ کے خاص لوگوں میں شامل ہے ڈونی ازوف، اور یہ کردار ادا کیا ہے جونا ہل نے (جو یقیناً اس کردار کے لئے انتہائی موزوں انتخاب ہیں)- میرے خیال میں فلموں میں دوشی قرار دیے جانے والے کرداروں میں شاید اب تک کا سب سے بہترین کردار ہے اور وہ بھی اچھے انداز میں)۔

سکرین شاٹ
سکرین شاٹ

اور آخر میں ان کا زوال، فلموں اور حقیقی کی طرح، غیر متوقع موڑ یا برے لوگوں کی وجہ سے کم، کائنات کے آفاقی اصول کی طرح زیادہ ہے جس میں سنسنی بھی ہے اور اس سے بچ نکلنے کا مزہ بھی- اس لحاظ سے "وولف آف وال اسٹریٹ" ان چھوٹے مجرموں کی کہانی ہے جو غیر قانونی طریقے سے ڈھیر سارا پیسہ بنا لیتے ہیں- اسکورسس، جنہوں نے ماہرانہ انداز میں ان لوگوں کی فتوحات کے بارے میں بتانے کے ساتھ ساتھ قانون کے لمبے ہاتھوں کیسے اپنا شکنجہ کستے ہیں کا بھی بتایا ہے (کائل چینڈلر، جنہوں نے فیڈرل ایجنٹ پیٹرک ڈینہم کا کردار ادا کیا ہے)- اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ بیلفورٹ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے انجام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔

اسکورسس کی ہدایت کاری اور ٹیرنس ونٹر کی لکھی فلم "وولف آف وال اسٹریٹ" کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے "آزاد جیو، اور سختی سے مر جاؤ یا شاید نہ بھی مرو۔

فلم میں دکھایا جانے والا ننگا پن اور سیکس سینز جو کہ ہر پانچ سے دس منٹ میں ایک کے بعد ایک آتے ہی جاتے ہیں بہت زیادہ ہیں- گو کہ کبھی کبھی تو تکلیف دہ حد تک زیادہ ہو جاتے ہیں لیکن کہانی کے انتہائی جزو بھی ہیں- ویسے یہ سب جورڈن بیلفورٹ کی سوانح عمری سے ماخوذ ہیں۔

سکرین شاٹ
سکرین شاٹ

اسکورسس کی یہ کاوش خاصی تلخ اور بزدلانہ معلوم ہوتی ہے- انہوں نے جو کیمرہ اینگل استعمال کئے ہیں ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ آپ کیمرے کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں بلکہ لگتا ہے جیسے آپ سب کچھ کسی کھلی کھڑکی سے دیکھ رہے ہوں- بیلفورٹ کو دکھانے کے لئے جو تکنیک، کرینز، ٹریکس اور لوگ جس طریقے سے استعمال ہوئے ہیں اس میں وہی جوش اور ولولہ دکھائی دیتا ہے جو ان لوگوں میں تھا جن کے بارے میں یہ فلم ہے- (ویسے روڈریگو پریٹو نے فلمبندی کے لئے مختلف طریقے اپنائے ہیں جن میں روایتی کے ساتھ ساتھ جدید ڈیجیٹل طریقہ بھی شامل ہے)۔

تاہم جب بھی سکورسس نے ڈی کیپریو کے مناظر میں اپنی مہارت کھل کر دکھائی ہے، ان کا جوہر کھل کر سامنے آیا ہے۔

سکرین شاٹ
سکرین شاٹ

کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ بیلفورٹ اپنی کامیابی کے نشے میں اتنا چور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہم سے باتیں شروع کر دیتا ہے- ان لمحات میں چوتھی دیوار معنی ہی نہیں رکھتی کیونکہ ان موقعوں پر سکورسس کچھ ایسے انداز میں کہانی بیان کرتے ہیں جو سنیما کی حدود میں آتی ہی نہیں۔

اگر بیلفورٹ ہم سے بات کرتا ہے (اس بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے کہ ہم ہالی وڈ کی ایک بڑی تخیلاتی دستاویزی فلم کا حصہ تھے بھی یا نہیں)، تو ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ اسے اور سکورسس کو معلوم ہے محض ناظرین کی طرح نہیں بلکہ ہم دل ہی دل میں اس جادوئی دنیا کا حصہ بننا چاہتے ہیں جو ڈی کیپریو اور سکورسس نے بنائی ہے۔

"وولف آف وال اسٹریٹ" کو اگر گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو یقیناً یہ سال کی بہترین ایسی فلم ہے جس میں معاملات کو ایک طنزیہ نقطۂ نگاہ سے دیکھا گیا ہے- سکورسس نے اپنے مخصوص انداز میں اخلاقیات کا مذاق اڑایا ہے اور دکھایا ہے کہ کیسے مرد عورتوں کے لئے نقطۂ نگاہ رکھتے ہیں، یا یہ تکرار کہ کیسے لالچ بھی انسانوں کے لئے خدا کا ایک تحفہ ہے اور دیکھا جائے تو مووی کے حساب سے انہوں نے صحیح نقطۂ نگاہ کا انتخاب کیا ہے۔

اس فلم کو پیراماؤنٹ پکچرز نے ریلیز کیا ہے اور اسے بالغان کے لئے ریٹ کیا گیا ہے کیونکہ فلم میں حد سے زیادہ ننگا پن، سیکس مناظر ہیں اور انتہائی شدید ڈرامائی صورتحال پیش کی گئی ہے اور وہ بھی ان لوگوں کی جانب جنہیں آپ جلتا دیکھ کر بھی اچھا محسوس کریں۔

ڈائریکٹر: مارٹن اسکورسس

پروڈیوسر: مارٹن اسکورسس، لیونارڈو ڈی کیپریو، رضا عزیز، جوائے مکفرلینڈ اور ایما ٹلینگر

رائٹر: ٹیرنس ونٹر (جورڈن بیلفورٹ کی کتاب پر مبنی)۔

سنیماٹوگرافی: روڈریگو پریٹو

ایڈیٹنگ: تھیلما شونمیکر

فلم کے ستاروں میں شامل ہیں؛ لیونارڈو ڈی کیپریو، جونا ہل، مارگوٹ روبی، میتھیو مک کونہے، کائل چینڈلر، روب رینر، کرسٹن ملیوتی اور جین ڈوجاڑدن

ترجمہ: شعیب بن جمیل