گھوسٹ سکول، اساتذہ بلوچستان کی بڑی مشکل

اپ ڈیٹ 01 مئ 2014
۔—فائل فوٹو۔
۔—فائل فوٹو۔

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے تعلیم سردار رضا محمد برائچ کا کہنا ہے کہ صوبے میں فرضی سکولوں کا مسئلہ تشویشناک صورت اختیار کرگیا ہے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ساتذہ اپنی مرضی کے مقام پر تبادلہ کروانے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر ان کے دفتر میں سیاسی شخصیات اور اثر و رسوخ کرنے والے لوگ ٹیچرز کی من مانی جگہ پوسٹنگ کروانے کے لیے آتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بڑی تعداد میں اساتذہ اسکول جاتے ہی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت سینکڑوں کی تعداد فرضی اسکول اور ٹیچرز موجود ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے صوبے میں ان سکولوں کو دوبارہ کھولنے، انہیں کارآمد بنانے اور اساتذہ کو ان سکولوں میں کلاس لینے کے طریقہ کار پر زور دیا۔

صوبائی مشیر نے کہا کہ محکمہ تعلیم اس مسئلے کے حل کے لیے گلوبل پوزیشنگ سسٹم اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم کو متعارف کروانے پر غور کررہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے کی صرف 33 فیصد لڑکیاں سکول جاتی ہیں جبکہ لڑکوں میں یہ تعداد دو تہائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے سکولوں میں دس لاکھ سے زائد بچوں کا اندراج کیا گیا ہے تاہم ابھی بھی بڑی تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

ان کے مطابق 12500 میں سے 6000 اسکولوں میں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں