فیس بک نہیں، بک

ای میل

مطالعہ سے ذہن کو وسعت ملتی ہے اور ہم جو کچھ پڑھتے ہیں ان تجربات سے گزرے بغیر بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں-
مطالعہ سے ذہن کو وسعت ملتی ہے اور ہم جو کچھ پڑھتے ہیں ان تجربات سے گزرے بغیر بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں-

کرامت اللہ غوری پاکستان کے سابق سفارتکار ہیں- انھوں نے اپنی تازہ ترین کتاب بارشناسائی میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے چند دلچسپ واقعات رقم کئے ہیں جو پرلطف ہیں- یہ کتاب نو شخصیات کے خاکوں پر مشتمل ہے جنھیں وہ اپنی کتاب کے ذیلی عنوان میں ایسی شخصیات قرار دیتے ہیں جنھوں نے 'پاکستان کی تاریخ بنائی اور بگاڑی"-

اس کتاب کو ان شخصیات کے بارے میں ایک مورخ کا معروضی تجزیہ نہیں کہا جاسکتا--- جو یا تو سیاستداں ہیں یا فوجی حکمراں، سوائے لینن انعام یافتہ شاعر فیض احمد فیض اور پروفیسر عبدالاسلام کے، جو نوبل انعام یافتہ سائنسداں ہیں- یہ کتاب یادوں اور تذکروں پر مشتمل ہے اور مصنف ان کی صداقت کا ضامن ہے کیونکہ وہ ان واقٰعات کا چشم دید گواہ ہے-

جنرل پرویز مشرف کے ساتھ غوری کی ملاقات کا ایک واقعہ مجھے قابل ذکر محسوس ہوتا ہے- اکتوبر 1999 میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے فوراً بعد جنرل نے ترکی کا دورہ کیا جہاں انھوں نے اپنے بچپن کے سات سال گزارے تھے- مصنف ان دنوں انقرہ میں پاکستان کے سفیر تھے- جب انھوں نے غوری کی ذاتی لائبریری دیکھی اور انھیں پتہ چلا کہ وہ کتابیں پڑھنے کے شوقین ہیں تو جنرل نے جواب میں کہا،"مجھے پڑھنے کا شوق نہیں-"

یہ ایک اہم انکشاف ہےاور ان پانچ مختصر لفظوں میں مشرف نے پاکستان میں اپنے نو سالہ دور اقتدار میں جاری سیاسی صورتحال کا مختصر اور جامع تجزیہ پیش کردیا ہے- اور میں سمجھتی ہوں کہ انھوں نے پاکسان کا المیہ بیان کردیا ہے-

ہمارے ملک پر ایسے حکمرانوں نے حکومت کی جنھیں کتابوں میں دلچسپی نہ تھی- اگر دلچسپی تھی بھی تو چند چنندہ کتابوں کی حد تک جن سے انھیں کوئی معقول فیصلے کرنے میں مدد نہیں ملی- اگر کتابوں کا انتخاب ہمہ گیر نہ ہو تو پڑھنے والا ان سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا-

شائد یہی ایک بنیادی وجہ ہے جس نے ہماری سیاست اور حکمرانی کو----اور منطقی طورپر، ملک کو اس حالت میں پہنچا دیا- ممکن ہے ہم نے ایسے رہنما پیدا کئے جنھوں نے سیاسی مصلحتوں اور ظلم و ستم میں میکاولی اور چانکیہ کوبھی پیچھے چھوڑ دیا ہولیکن ہم نے کبھی The Prince اور ارتھ شاستر نہیں پڑھی- یہی وجہ ہے کہ ہم نے اقتدار کی راہداریوں میں سیاسی مدبر پیدا نہیں کئے- مجھے شبہ ہے کہ کتنے لوگوں نے نیلسن منڈیلا کی کتاب Long Walk to Freedom پڑھی ہوگی-

مطالعہ سے ذہن کو وسعت ملتی ہے اور ہم جو کچھ پڑھتے ہیں ان تجربات سے گزرے بغیر بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں- مختلف موضوعات پر کتابیں پڑھنے سے ہمیں شخصیات اور واقعات کے مختلف پہلووں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، اور ہم اپنے عصر کے واقعات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں-

اگر ہم اپنے رہنماوں کی پڑھنے کی عادتوں کا جائزہ لیں تو ہم پر بہت سے انکشافات ہونگے- ان کے ذریعے ہمیں ایسی بہت سی معلومات حاصل ہونگی جن کی مدد سے ہم اپنی سیاست اور تاریخ کو جان سکینگے- زیڈ اے بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نپولین سے متاثر تھے اور ان کے بارے میں بہت سی کتابیں پڑھی تھیں- یہ نہیں معلوم کہ انھوں نے فرانسیسی رہنماؤں کے نقادوں کی کتابیں بھی پڑھی تھیں یا نہیں یا انھوں نے ان کتابوں سے کچھ سیکھا تھا بھی یا نہیں-

قائد اعظم کے پڑھنے کے ذوق کے بارے میں زیادہ مواد نہیں ملتا- وہ ایک تجربہ کار وکیل تھے اور یقیناً انھوں نے قانون پر بہت سی کتابیں پڑھی ہونگی- آئینی قوانین کے بارے میں ان کا علم کافی گہرا تھا- مصنف اور سیاسی مبصر سعید حسن خان نے مجھے ایک کتاب کا دلچسپ حوالہ دیا جو قائد اعظم کو بہت پسند تھی-

انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک غیر ملکی دانشور بانی پاکستان کے بارے میں تحقیقات کے سلسلے میں کراچی یونیورسٹی لائبریری میں قائد اعظم کے کتابوں کے ذخیرہ کو دیکھ رہے تھے تو انھیں Gray Wolf, Kemak Ataturk:An Intimate Study of a Dictator پر قائد اعظم کے لگائے ہوئے کچھ نشانات نظر آئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسٹر جناح نے اس کتاب کا گہرا مطالعہ کیا تھا-

اسکی تصدیق رفیق ذکریا بھی کرتے ہیں جنھوں نے اپنی لکھی ہوئی جناح کی سیاسی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ جناح آرم سٹروںگ کی اتاترک پر لکھی ہوئی کتاب (جو 1932 میں شائع ہوئی) سے اتنے زیادہ متاثر تھے کہ وہ ہمیشہ اپنی بہن فاطمہ اور اپنے دوستوں سے اس کا ذکر کیا کرتے تھے جو ان سے ملنے لندن آیا کرتے تھے جہاں وہ ہندوستان کی سیاست سے مایوس ہونے کے بعد 1930 کی دہائی میں چلے گئے تھے- ان کی بیٹی انھیں پیار سے Gray Wolf کہا کرتی تھیں- ذکریا لکھتے ہیں کہ جناح اتاترک کو اپنا آئیڈیل سمجھتے تھے-

"اس ترک آمر نے اپنے ہم مذہبوں کی اصلاح کرنے اور انکے طرز فکر کو تبدیل کرنے اور اسے جدید بنانے کے لئے جو کچھ کیا تھا اس نے انھیں مسحور کردیا تھا- وہ (جناح) ہندوستانی مسلمانوں کے لئے یہی کچھ کرنا چاہتے تھے-

وہ انھیں ملاؤں کےپنجوں سے بچانے کے لئے بھی کچھ کم فکرمند نہ تھے اور انھیں قدامت پرستی کے شکنجے سے محفوظ رکھنا چاہتے تھے-" لیکن جناح یہ محسوس کرتے تھے کہ انھیں اتنی طاقت حاصل نہ تھی جتنی کہ ترک رہنما کو-

جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں وہ اپنے پیچھے اپنا ورثہ چھوڑ جاتے ہیں --- اپنی ذاتی لائبریری- اسکے علاوہ انکا کتابوں کا انتخاب اس ذہنی فکر پر روشنی ڈالتا ہے جس سے ان کے طرز فکر کی تشکیل ہوئی- لیکن جو لوگ کتابیں نہیں پڑھتے ---- بلکہ ان باتوں پر چلتے ہیں جو فیس بک پر لکھی ہوتی ہیں --- ایک معمہ ہی بنے رہتے ہیں-

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: سیدہ صالحہ