... کچھ نیا کر

اپ ڈیٹ 28 مئ 2014
کیا ہی اچھا ہو اگر پاکستان، ہندوستان اور بنگلادیش یورپی یونین کی طرز پر ایک ساؤتھ ایشین بلاک بنائیں
کیا ہی اچھا ہو اگر پاکستان، ہندوستان اور بنگلادیش یورپی یونین کی طرز پر ایک ساؤتھ ایشین بلاک بنائیں

جب سے ہوش سنبھالا بس یہی سُنتے آئے ہیں کہ چین ہمارا 'بیسٹ فرینڈ' ہے مگر عجب اِتفاق ہے کہ میں نے تو بچپن سے اب تک آدھے پاکستان کو یا تو گبّر جیسا پایا ہے یا پھر بسنتی کے پیچھے پڑا ہوا دیکھا ہے۔

'پاک چین دوستی زندە باد' کے نعرے بھی اُس دن خوب لگائے تھے جب ہمیں اسکول سے اُٹھا کر ہاتھوں میں پاکستانی اور چینی پرچم پکڑا کر سڑی دھوپ میں اُس وقت کے پاکستانی صدر مرحوم ضیااُلحق اور چینی سربراەِ مملکت کے استقبال کے لئےسڑک کے دونوں طرف کھڑا کردیا گیا تھا۔

نہ مجھے اُس دن اور نہ ہی آج یہ پتہ ہے کہ چین کے صدر یا وزیرِاعظم کا نام کیا ہے، چین کے کتنے صوبے ہیں، اُن کے سیاسی رہنماوں کے نام کیا کیا ہیں، چلیں یہ تو مشکل سوال ہیں میں نے آج تک چینی زبان کی کوئی فلم کوئی ڈرامہ نہیں دیکھا. حد تو یہ ہے کہ آج تک کوئی چینی زبان کا گانا نہ تو میرے کانوں تک پہنچا اور نہ ہی میں نے اپنے ملک میں ہونی والی کسی شادی میں اپنے ملک کے بیسٹ فرینڈ ملک کے کسی آئیٹم نمبر پر کبھی کسی کو ڈانس کرتے دیکھا۔

اس کے برعکس اپنے ملک کے سب سے قریبی اور سب سے بڑے دشمن ملک کے سرکاری ٹی وی کی نشریات کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے اپنے محلے کے اُس گھر پر ہر شام جمع ہوئے اُس جمِ غفیر کو میں شائید کبھی نہ بھول پاٴوں جسکے چھت پر لگے انٹینا سے بُوسٹر نامی کوئی چیز چپکی ہوا کرتی تھی۔

ہم تو چھوٹے بچےتھے تو ہمیں تو آگے ہی جگہ مِل جایا کرتی تھی مگر جو لوگ پیچھے رە جایا کرتے تھے اُن کے لئے ٹی وی کے دُور سے درشن بھی کافی ہوا کرتےتھے۔ کیا گیت مالا اور کیا فلمی ماحول اُس دور میں وە ایک چینل لوگوں کو تفریح کے وە مواقع دے دیا کرتا تھا جو آج ١٠٠ ٹی وی چینلز مِل کے بھی نہیں دے پا رہے۔

جی یہ زکر زمانہِ بلیک اینڈ وہائیٹ کا ہے، تھوڑی اور ترقی ہوئی ٹیلیوژن کی، زندگیوں میں کچھ رنگ آئے یا یوں کہہ لیجیئے کہ ہم غریبوں کے گھر تک رنگین ٹی وی پہنچا (کیونکہ شائید رنگین ٹی وی اور پہلے ہی ایجاد ہو گیا تھا) اور بس پھر کیا تھا دشمن مُلک کی ثقافت ہمارے محلے کی نُکڑ والی ویڈیو کیسیٹ کی دکان پر پانچ پانچ دس دس روپے میں کرائے پر ملنے لگی۔ وی سی آر کے ساتھ چار فلمیں نوے روپے میں پوری رات کے لئے کرائے پر مِل جایا کرتی تھیں اور پورا محلہ کسی ایک کے گھر پر جمع ہو کر شبِ جمعہ کو دشمن ملک کی چارفلموں اور کُل ملا کر کم و بیش بیس گانوں سے مُستفید ہوا کرتا تھا۔ پھر کیا کسی کی سالگرە کیا عقیقہ اور کیا محلے کی کوئی شادی جس تقریب میں ایک بولی وڈ گانا نہ ہو سمجھئے کہ جیسے تقریب نامکمل ہے۔

یہ کچھ عجیب سا فرق تھا جسے میں آج تک سمجھ نہ پایا کہ ایک ملک کی عوام اپنے مُلک کے قریبی ترین بلکہ بہترین دوست مُلک سے ایسے لاتعلق اور سب سے بڑے دشمن سے ثقافتی طور پر اُتنے ہی قریب؟

خیر صاحب اِس بات کو سمجھنے سے میں تو کیا شائید میری اولاد اور اُن کی اولادیں بھی قاصر ہی رہیں گی کیونکہ ہم اِس بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے. اپنی اِس چاہت میں ہم بحیثیت ایک قوم اپنا کتنا نقصان کر رہے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے اور میری کوئی آشا نہیں کہ میں ایسی کسی بھی بحث کا حصہ بنوں۔ سیاست بڑے لوگوں کا کام ہے ہم غریب تو بس ووٹ ڈال کر اپنے فرض سے فراغت حاصل کر لیتے ہیں اور نہ جانے ایسے کتنے غریب ہیں جو مشکل ہی آج تک کسی پولنگ بُوتھ تک بھی پہنچ پائے ہوں مگر اِس ترقی پزیر مُلک میں بھی ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے کہ آپ اپنے گھر ہی بیٹھے رہئیے اور آپ کا ایک ووٹ کم سے کم آٹھ دفعہ تو کاسٹ ہو ہی جاتا ہے۔

پڑوسی دشمن ملک کا حال بھی زیادە مختلف نہیں مگر بس وہاں 'تبدیلی' کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے اور شائید یہی وجہ ہے کہ جس دیش میں گنگا بہتی ہے اُسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

زیادە قدیم تو میں ہوں نہیں اِسی لئے کانگریس کے پچھلے دو ادوار جس میں ڈاکٹر منموہن سنگھ لوک سبھا کی قیادت کرتے پائے گئے کو زرا غور سے دیکھنے کا اِتفاق ہوا. ان دو ادوار میں پاکستان دورِ مشرف سے گزرتا ہوا زرداری صاحب کے جمہوری دور میں داخل ہوا اور جمہوریت تاریخ میں پہلی بار --ٹہلتی ہوئی ہی سہی-- اپنے پانچ سال مکمل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ میاں صاحب ١۴ سالہ وقفے کے بعد آگے بڑھے اور جمہوریت کی کمان سنبھال کر اپنا پہلا سال مکمل کرنے ہی والے تھے کہ عین اُسی وقت پڑوسی مُلک اپنی تاریخ کے پندرہویں انتخابات سے گزرنے لگا۔

ڈاکٹر سنگھ کے یکے بعد دیگرے دونوں کانگریسی ادوار ہندوستانیوں کے لیے عام طور پر اور خاص طور پر پاکستانیوں کے لئے کُچھ مایوس کُن ہی رہے۔ صنعت و تجارت سے لے کر خارجہ پالیسی تک تقریباً ہر محاذ پر ہی کانگریس کو منہ کی کھانی پڑی. کرپشن کے بھی خوب ریکارڈ بنے مگر کیا کہنے عوام کے جنہوں نے ایک ہی جماعت کو دو دفعہ موقعہ دیا اور مجال ہے جو دھاندلی کے الزامات کے باوجود بھی کسی نے ووٹ کے سوا کسی اور دوسری یا تیسری طاقت سے حکومت یا جمہوریت کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہو۔

جب وفاق میں کانگریس جیسی اعتدال پسند یا بائیں بازو کی جماعت حکومت کے مزے لُوٹ رہی تھی عین اُسی وقت ریاست گُجرات میں دائیں بازو کی اور قدرے متعصب جماعت بی۔جے۔پی اقتدار میں تھی اور مسلمانوں کے بارے نہ صرف اچھے خیالات نہ رکھنے والے بلکہ گجرات میں ہوئے مسلمانوں کے قتلِ عام میں مبینہ طور پر ملوث متنازع ترین شخصیت نریندر مودی صاحب وزیرِ اعلٰی کے طور پر اپنے فرائض ادا کر رہے تھے۔

نہ جانے مودی صاحب کے پاس ایسی کونسی جادو کی چھڑی تھی یا اُنہوں نے ایسی کونسی دُودھ کی نہریں گجرات میں بہادیں کہ ناصرف ہندوستانی عوام بلکہ سرمایہ دار بھی اُن پر فریفتا ہو گئے یہاں تک کہ میرے ایک ہندوستانی مسلم دوست نے بھی مجھ سے کہا کہ ہم سب تو مودی صاحب کو ہی ووٹ دیں گے کیونکہ اُن کے وژن کے سامنے ہندو مسلم مسئلہ ایک بہت چھوٹی سی بات ہے۔

بحرحال جس وژن کے پیچھے پورا ہندوستان اور ہندوستانی سرمایہ دار دیوانہ ہوا پھر رہا ہے اُس کی ایک جھلک گجرات میں نظر تو آتی ہے اور اب وہی وژن گجرات سے سفر کرتا ہوا دلی آن پہنچا ہے۔ انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد اگر خطے کے سب سے بڑے مُلک کا سربراە اپنے حلف لینے والے دن سے ہی پاس پڑوس کے ملکوں کو ساتھ لیکر چلنے کے عملی اِقدامات کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو ہمیں بھی ماضی کی تلخیوں کو ایک طرف رکھ کر عزت و وقار کے ساتھ اُس کا ساتھ دینا چاہئیے۔

کیا ہی اچھا ہو اگر پاکستان، ہندوستان اور بنگلادیش یورپی یونین کی طرز پر ایک ساؤتھ ایشین بلاک بنائیں۔ جنگ کرتے تو ٦٧ سال بِتا دئیے، کیا بُرا ہو اگر افغانستان جاتے ہندوستانی ٹرک پاکستان سے گزرتے ہوئے کروڑوں بلکہ شائید اربوں ڈالر سالانہ چُنگی ادا کرتے جائیں۔ ہماری ایسی روزمرە استعمال کی چیزیں جو یا تو ہندوستان میں بنتی یا پیدا ہوتی ہیں، براستہ دبئی آنے کے بجائے اگر براەِ راست امرتسر سے لاہور پہنچیں تو شائید ہمیں اتنی سستی قیمت میں دستیاب ہوں کہ ہم ایک ماە کے خرچے میں اُن اشیاٴ کا پورے سال کا کوٹہ برابر کر سکیں اور اِسی طرح ہماری مصنوعات کی رسائی ہندوستانی مارکیٹ تک ممکن ہو۔

بات پھر وہی ہے، غریب یا تو ووٹ دے سکتا ہے یا مشورە، عمل تو حضور بڑے لوگ ہی کرتے ہیں۔ ایک طرف مودی جی ہیں تو دوسری طرف اپنے میاں صاحب اور کُچھ بھی ممکن ہے مگر اگر ہم اپنے دردناک ماضی پر نظر ڈالیں تو میاں صاحب ہوں یا کوئی بھی حکمراں اُسے 'دشمن ملک' سے قُربت کبھی راس نہیں آتی۔ میاں صاحب کی اِس دوستانہ پالیسی سے کسی کا بھی اختلاف جائز ہے، لیں آپ کی باری بھی آنی ہے بس تھوڑا انتظار کر لیجئیے اور کوشش یہی کیجئیے گا کہ تبدیلی کے لئے ووٹ کی طاقت کا ہی استعمال ہو اور وە بھی اپنے مقررە وقت پر۔

تبصرے (5) بند ہیں

qasim May 28, 2014 06:36pm
hahahahahaha ap kia chahty hein k nawaz zardari ko bhi bar bar mauka diya jai aur woh 'lifafa' journalism sy apki jaib garam rakhy.mulk beshak jai bhar mein.......................!!!!! magar bhai jan india sy tijarat hamarey masly ka hal nai hy.sasta maal tu china sy bhi arha hy uska sirf aur sirf humy nuksan hy hamari apni economy brth rahi hy.industrialist bha rha hy,.......india sy dosti k bjai sirf govt itna kr dy k apni bijli gas theek kr dy aur tax mein kami kre ta k log karobar jama skein aur import ki bjai ziada export sy mulk ko revenue bna k dein
Anwar Amjad May 28, 2014 10:46pm
India is our main competitor in all the products that we export such as textiles, rice, etc. Our small manufacturing industry will never be able to compete in cost with much bigger Indian industry due to economies of scale. Initially they will flood Pakistani market with their cheaper products and kill it like they did to Pakistani film industry and then they will charge double or triple later. Indian film industry is getting about a billion rupees from Pakistan each year without spending a single paisa to meet the Pakistani demand. In Japan the rice fields are so small that they look like residential plots and the price of beef is highest in the world. Despite their huge exports, they are keeping their rice and beef production alive through restrictions on imports. Please have some mercy on Pakistani manufacturing industry.
Israr Muhammad May 28, 2014 11:45pm
بلکل‏ ‏صحیح‏ ‏اور‏ ‏مثبت‏ ‏مشورہ‏ ‏ھے‏ ‏تم‏ ‏پڑوسی‏ ‏ممالک‏ ‏کے‏ ‏دوستانہ‏ ‏تعلقات‏ ‏ضروری‏ ‏ھے‏ ‏جنگ‏ ‏اور‏ ‏دشمنی‏ ‏کسی‏ ‏بھی‏ ‏مسئلے‏ ‏کا‏ ‏حل‏ ‏نہیں‏ ‏پڑوسیوں‏ ‏کے‏ ‏ساتھ‏ ‏اچھے‏ ‏تعلقات‏ ‏بہتر‏ ‏حل‏ ‏ھے‏‏ مجھے‏ ‏اس‏ ‏بات‏ ‏کی‏ ‏زیادہ‏ ‏حوشی‏ ‏ھوگی‏ ‏کہ‏ ‏تمام‏ ‏سارک‏ ‏ممالک‏ ‏بمعہ‏ ‏دوسرے‏ ‏پڑوسی‏ ‏ملک‏ ‏چین‏ ‏افعانستان‏ ‏ایران‏ ‏کے‏ ‏درمیان‏ ‏باقائدہ‏ ‏امن‏ ‏معاہدے‏ ‏ھوں ‏اور‏ ‏میرا‏ ‏تو‏ ‏یہ‏ ‏بھی‏ ‏خواہش‏ ‏ھے‏ ‏کہ‏ ‏تمام‏ ‏سارک‏ ‏ممالک‏ ‏اور‏ ‏افعانستان‏ ‏ایران‏ ‏چین‏ ‏کے‏ ‏درمیان‏ ‏ویزہ‏ ‏کی‏ ‏پابندی‏ ‏بھی‏ ‏نہ‏ ‏ھو‏ ‏ازاد‏ ‏تجارت‏ ‏ھو‏ ‏انا‏ ‏جانا‏ ‏ھو‏ ‏اس‏ ‏میں‏ ‏تمام‏ ‏ممالک‏ ‏کی‏ ‏ترقی‏ ‏ھے‏ ‏
asa May 29, 2014 12:45am
@Anwar Amjad: great
غلام اختر شاہین Jun 01, 2014 10:30am
بلاگ رائٹر صاحب نے دانش کی گنگا بہا دی محض زبان کو بنیاد بنا کر چائنہ کو تضحیک کا نشانہ بنایا جو انتہائی نا مناسب ہے ، انڈین فلمیں پاکستان مین اس لئے پسند کی جاتی رہی ہیں کہ پاکستان میں مولوی ضیاء الحق کے دور میں گھٹن اور تفریحی سر گرمیوں پر نا روا پابندی لگائی گئی جس کی وجہ سے بالیوڈ اور دیگر نا شائستہ موویز فلموں کا رواج ہوا، رہی بات تجارت کی تو گزشتہ پانچ سالہ تجارت کا ریکارڈ ملاحظہ فرما لیجیئے کہ اس نام نہاد تجارت کا توازن کس کے حق میں جاتا ہے، بہارت کے بارے میں ہماری تو آخری رائے یہی ہے کہ اس کا بس چلے تو ہماری آکسیجن بھی بند کر دے۔