!یہ ہے بلوچستان: ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کو میرا سلام

26 جون 2014

ای میل

پچھلے دنوں بلوچستان میں حکمراں جماعت نیشنل پارٹی کے ایم پی اے ہینڈری مسیح بلوچ کو ان کے گارڈ نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ واقعے کی خبر ملتے ہی سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی اپنے گارڈ کے ہاتھوں قتل کی یاد تازہ ہو گئی۔
پچھلے دنوں بلوچستان میں حکمراں جماعت نیشنل پارٹی کے ایم پی اے ہینڈری مسیح بلوچ کو ان کے گارڈ نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ واقعے کی خبر ملتے ہی سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی اپنے گارڈ کے ہاتھوں قتل کی یاد تازہ ہو گئی۔

پچھلے دنوں بلوچستان میں حکمراں جماعت نیشنل پارٹی کے ایم پی اے ہینڈری مسیح بلوچ کو ان کے گارڈ نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ واقعے کی خبر ملتے ہی سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی اپنے گارڈ کے ہاتھوں قتل کی یاد تازہ ہو گئی۔

ابتدا میں یہی سمجھا گیا کہ اس قتل کا پس منظر وہی ہے۔ مجھے اس بات کا یقین نہیں آ رہا تھا کہ ہینڈری بلوچ کو اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ مسیحی تھے۔ دو روز بعد میرا یہ خیال دُرست ثابت ہوا۔

معلوم ہوا کہ گارڈ کا اُن کے بھتیجے سے کوئی تنازعہ تھا اور وہ اُسے قتل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن جب ہینڈری بلوچ بھتیجے کو بچانے لگے تو وہ بھی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ یہ بات ہمیں نیشنل پارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات مخدوم ایوب قریشی نے بتائی۔

خیر ہم پریس کلب بیٹھے تھے کہ ہمارے سکھ دوست سردار رمیش سنگھ نے کہا؛

جناب یہ "مسیحی بلوچ" والی بات سمجھ نہیں آئی۔ ہم نے اُن سے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ایک ہندو ارجن داس بگٹی تھے۔ سردار جی بولے ہاں ایک سکھ بگٹی سنت سنگھ بھی بلوچستان اسمبلی کے رُکن تھے.

یہ میری معلومات میں ایک اور اضافہ تھا۔ اب مسئلہ ان حضرات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا تھا کہ یہ حضرات کب اور کیسے اسمبلی پہنچے۔ بے شمار ویب سائٹس دیکھیں لیکن کوئی معلومات میسر نہیں ہوئیں۔ بلوچستان میں بے شمار صحافی دوستوں سے بات چیت کی لیکن نتیجہ لا حاصل۔

آخر کار بلوچستان کے ایک محقق دوست میر باز کاکڑ کا نمبر ملا۔ انھوں نے ہمیں ارجن داس بگٹی کے بہ حیثیت اسپیکر منتخب ہونے کی تاریخ سے آگاہ کیا۔ اب سنت سنگھ بگٹی کی تلاش شروع کی۔ سینئر صحافی صدیق بلوچ نے ہمیں بتایا کہ وہ غالباََ 1990 میں اسمبلی کے رُکن تھے۔

اب ہم ڈان کی لائبریری پہنچے اور اخبارات میں متعلقہ سنین کے اخبار تلاش کیے۔ دنوں کی محنت کے بعد اخبارات مل گئے۔ سنت سنگھ بگٹی 1990 کی اسمبلی میں رُکن تھے۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ انھوں نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے انتخابات میں حصّہ لیا تھا۔ روز نامہ ڈان مطبوعہ 18 نومبر 1990میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق؛

وزارت اعلی کے لیے تاج محمد جمالی کا نام سردار ثناء اللہ زہری نے پیش کیا جن کا تعلق PNP سے تھا جب کہ IJI کے سرور کاکڑ کی تائید کی۔ ان کے مد مقابل گرو سردار سنت سنگھ بگٹی کا نام عبدالکریم نوشیروانی نے پیش کیا جب کہ تائید کنندگان میں سردار محمد طاہر لونی سمیت جمہوری وطن پارٹی کے 11 اراکین اسمبلی شامل تھے

بلوچستان کے اکثر سیاسی تجزیہ نگاروں کی سیاسی رائے یہ ہے کہ نواب اکبر بگٹی کا جمہوری وطن پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے سنت سنگھ بگٹی کی نامزدگی کا مقصد صرف تاج محمد جمالی اور ان کے حمایتیوں کو نیچا دکھانا تھا۔ لیکن ہمارے سیاسی دوست عزیز سنگور کا کہنا ہے کہ نواب اکبر بگٹی قبیلے کے ہر فرد کو مذہبی تفریق سے قطع نظر صرف بگٹی تسلیم کرتے تھے۔ اس لیے انھوں نے 1994 میں ارجن داس بگٹی کو بلوچستان اسمبلی کے لیے ڈپٹی اسپیکر نامزد کیا اور وہ کامیاب بھی ہوئے۔

ارجن داس بگٹی کے مقابلے میں جمیت علماء اسلام کے مولانا عبدالواسع اُمیدوار تھے۔ عزیز سنگور کے مطابق ان کی جماعت کے ایک قائد نے نواب اکبر بگٹی کو فون کر کے کہا تھا کہ اُن کے اُمیدوار کے مقابلے پر کم از کم کسی مسلمان کو ہی نام زد کر دیتے۔ **نواب صاحب کا جواب یہ تھا؛

"بگٹی صرف بلوچ ہوتا ہے، نا کہ سکھ، ہندو، عیسائی یا مسلمان!

2 جون 1994 کو روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں ارجن داس بگٹی نے 20 ووٹ حاصل کیے۔ جب کہ اُن کے مد مقابل جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالواسع نے 8 ووٹ حاصل کیے

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عزیز سنگور کا بیان دُرُست ہے۔ نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق رُکن ڈاکٹر عبدالحئی ان تین اراکین قومی اسمبلی میں سے ایک ہیں جنہوں نے 1973 کے "متفقہ" آئین پر دستخط نہیں کیے تھے۔ ان میں سے ایک میڈم جینیفر قاضی موسی اور تیسرے نواب خیر بخش مری تھے۔

اب یہ ایک اہم سوال ہے کہ اس کے باوجود 1973 کا آئین متفقہ کیوں ہے؟ ….. اس کا جواب پھر کبھی…….۔

ڈاکٹر عبدالحئی کے مطابق ہندو، عیسائی اور سکھ بلوچستان میں تقسیم ہند کے بعد بھی امن و آشتی سے رہتے تھے۔ پاکستان کے دوسرے صوبوں کی بہ نسبت بلوچستان میں تقسیم کے وقت غیر مسلموں کی جانب سے کوئی ہجرت نہیں ہوئی۔

وہ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اپریل 1948 تک بلوچستان پاکستان کا حصہ نہ تھا۔ اس لیے وہاں غیر مسلموں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب کے اس بیان کے بعد ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر غیر مسلموں کے خلاف فسادات صرف ان علاقوں میں ہی کیوں ہوئے جو پاکستان میں شامل تھے؟ کوشش کریں گے کہ اس حوالے سے بھی حقائق آپ کی خدمت میں پیش کیے جائیں۔

تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہم قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر کو پاکستان میں سیکولرازم کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اس کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے جس اجلاس میں تقریر کی گئی اس کی صدارت اسمبلی کے ایک ہندو رکن جوگندر ناتھ منڈل نے کی تھی جن کا تعلق دلت برادری سے تھا۔ لیکن 50 کی دہائی میں وہ ہندوستان منتقل ہو گئے تھے۔

بلوچستان کے نوجوان سیاسی تجزیہ کار اکبر نوتیزئی کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں سینکڑوں کی تعداد میں سکھ اور ہندو بلوچستان سے ہندوستان منتقل ہوئے۔ ان میں سے تقریباً 1000 ہندو ایسے تھے جو اغوا ہونے کے بعد تاوان ادا کر کے آزاد ہونے کے بعد ہندوستان منتقل ہوئے۔

ہمارے دوست کیاّ قادر بلوچ --جنہوں نے ڈیرہ بگٹی میں آپریشن کے بعد وہاں کا دورہ کیا تھا اور اس حوالے سے ان کی رپورٹ انگریزی روزنامہ ’’ڈیلی ٹائمز‘‘ میں شائع ہوئی تھی-- نے غیر مسلموں کی ڈیرہ بگٹی میں آبادی کے حوالے سے ہمیں بتایا کہ؛

"ڈیرہ بگٹی میں نواب صاحب کے آبائی علاقے میں ایک مارکیٹ ہے جسے سلال مارکیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں تقریباً 200 کے قریب دکانیں ہندو اور سکھوں کی تھیں۔ آپریشن کے بعد ان کی اکثریت انڈیا منتقل ہو گئی۔ اس کے علاوہ ہندو اور سکھوں کی عبادت گاہیں بھی وہاں موجود ہیں جو اب خستہ حالی کا شکار ہیں۔"

سینئر صحافی صدیق بلوچ کے مطابق جب ڈیرہ بگٹی میں نواب بگٹی کے خلاف آپریشن کیا گیا تو اس دوران 70 کے قریب ہندو اور سکھ ہلاک ہوئے تھے۔ ہندوستان منتقل ہو نے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔

خیر یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں بلوچستان وہ واحد صوبہ ہے جہاں نا صرف وہاں کی قوم پرست بلوچ پارٹیوں میں غیر مسلموں نے فعال کرداد ادا کیا بلکہ ان پارٹیوں کی جانب سے وزارات اعلیٰ سمیت اہم عہدوں کے لیے ناصرف نامزد کیا گیا بلکہ کامیاب بھی کروایا گیا۔ ایسی مثال ہمیں کسی اور صوبے میں نہیں ملتی۔

آیئے ابھی ہینڈری مسیحی بلوچ کے ذکر پر اس بلاگ کا اختتام کرتے ہیں۔ ہینڈری بلوچ نے اپنی سیاست کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے کیا۔ وہ نیشنل پارٹی کے بانی اراکین میں شامل تھے۔ بلوچستان کے علاقے مستونگ کے رہائشی تھے۔ پہلی بار بلوچستان اسمبلی کے رُکُن منتخب ہوئے۔

"یہ ہے بلوچستان: ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کو میرا سلام!"