عمران اور تارا مسیح

01 جولائ 2014

ای میل

عمران خان کو تو آپ سب ہی جانتے ہوں گے۔ وہ تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں۔ لیکن شاید آپ تارا مسیح سے واقف نہ ہوں۔ تارا مسیح وہ شخص ہیں جنھوں نے پاکستان کے مُنتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک عدالتی حُکم پر تختہِ دار پہ لٹکایا تھا. ایک وقت تھا کہ کراچی یونی ورسٹی میں اسلامی جمیعت طلباء کے کارکن یہ نعرہ لگاتے تھے؛ "تارا مسیح آئے گا، سُرخوں کو لٹکائے گا"۔

ان دنوں ملک میں عمران خان کی بہاولپور میں کی جانے والی تقریر کا بڑا چرچا ہے۔ تقریر میں اُنھوں نے پولیس کو خبردار کیا ہے کہ اگست 2014 میں حکومت مخالف مارچ کے دوران اگر پولیس نے اُن کے کارکنوں پر گولی چلائی تو وہ ذمے دار پولیس اہلکاروں کو اپنے ہاتھ سے پھانسی دیں گے۔

کپتان صاحب کے اس اعلان سے پاکستان میں کم از کم پھانسی کی سزا کے حامیوں کی کچھ تو تسلی ہوئی ہوگی جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو جرائم سے پاک معاشرہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر جُرم کی سزا پھانسی ہو۔ اس بناء پر یہ سمجھتے ہیں کہ سابق صدر زردادی کی ایک بہت بڑی غلطی یہ ہے کہ اُن کے پانچ سالہ دور صدارت میں کسی سزا یافتہ مجرم کو پھانسی کی سزا نہیں ہوئی۔

ہم سمجھتے ہیں غالباََ اس کی بنیادی وجہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کو دی جانے والی پھانسی کی سزا تھی۔ اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس کا ایک بہت بڑا ثبوت پھانسی کی سزا سنانے والے ججوں میں سے ایک حیات جج جسٹس نسیم حسن شاہ کا ایک انٹرویو ہے جس میں انھوں نے یہ اعتراف کیا کہ بھٹو کو پھانسی کی سزا اُس وقت کے حکمرانوں کے دباؤ پر سنائی گئی تھی۔

عمران خان نے اپنی مذکورہ تقریر میں حکومت وقت سے چار سوالوں کے جواب بھی طلب کئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے نا صرف ان سوالات کے جوابات دیئے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اگر جوابات غلط ہوں تو وہ خود عمران خان کے ہاتھوں پھانسی لگنے کے لئے تیار ہیں۔

یاد رہے کہ اکتوبر 1999 میں جب نواز حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد مشرف نے اُن پر طیارہ ہائی جیکنگ کیس بنایا تو یہ نہ صرف اُن کی خواہش تھی بلکہ انہیں اُمید بھی تھی کہ نواز شریف اور اُن کے ساتھیوں کو سزائے موت ہوگی۔

وہ تو بھلا ہو ایک سندھی جج جسٹس رحمت حسین جعفری کا جنھوں نے مشرف کی خواہشات کے بر عکس عمر قید کا فیصلہ سُنایا۔ اگر وہ بھی پرویز رشید کی طرح اور عمران خان کی طرح پھانسی، پھانسی کھیلنے پر یقین رکھتے تو میرا خیال ہے کہ آج نہ نواز شریف ہوتے اور نہ ہی پرویز رشید وزیر اطلاعات۔

پھانسی کی سزا کس قدر ہیبت ناک ہے اس کی ایک اور مثال پیشِ خدمت ہے؛

اکتوبر 1992میں حیدر آباد سندھ کے علاقے ٹنڈو بہاول میں ایک فوجی میجر ارشد جمیل نے ہندوستانی ایجنٹوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا اور مقابلے میں 9 ہندوستانی ایجنٹ ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس موقع پر اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف بھی حیدرآباد کے دورے پر تھے. انھوں نے ارشد جمیل اور اُن کی ٹیم کی اس کارروائی کو سرکاری ٹیلی ویژن پر سراہا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کارروائی جعلی تھی۔ ارشد جمیل کے خلاف مقدمہ ایک ملٹری کورٹ میں چلایا گیا اور اُنھیں پھانسی کی سزا سُنائی گئی۔ لیکن 1996 تک اس سزا پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ ہلاک ہونے والے دو بھائیوں کی بہنوں نے خود سوزی کی جس کے بعد اکتوبر 1996کو میجر ارشد کو پھانسی دی گئی۔

پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کیلئے فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ جس مجسٹریٹ کو نامزد کیا گیا۔ وہ گھنور خان جتوئی تھے۔ جتوئی صاحب سے ہماری بھی کُچھ علیک سلیک تھی۔ ہمارے دوست مظہر لغاری اور لائق تھیبو اُنھیں قریب سے جانتے تھے۔ اُن کے مطابق گھنور خان بہت حساس انسان تھے۔ اُنھوں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح اس عمل سے پیچھا چُھڑا لیں مگر ناکام رہے، پھانسی اُن کی موجودگی میں ہوئی۔

اُس کے کُچھ دن بعد گھنور خان بے چین سے رہنے لگے۔ اُن کو راتوں کو نیند نہیں آتی تھی۔ آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔ اُنھیں دماغی دورے پڑنے لگے۔ تنگ آکر اُنھوں نے اپنا تبادلہ ضلع سانگھڑ کروالیا لیکن اُن کا مرض بڑھتا ہی چلا گیا اور پھر ایک دن انھوں نے خود کُشی کرکے یہ قصہ تمام کیا۔ یاد رہے کہ اُنھوں نے پھانسی دی نہیں تھی، صرف دیکھی تھی۔

اس تفصیل کا مقصد عمران خان کو پھانسی دینے سے خوف زدہ کرنا نہیں ہے۔ پھانسی دینے کے لئے خاندانی جلاد ہونا ضروری ہے۔ ایم جی چیتکارا اپنی کتاب "بے نظیر: ایک شخصیت" میں لکھتے ہیں؛

"بھٹوکو پھانسی پر لٹکانے والے تارا مسیح کو اس کام کے لئے 25 روپے ادا کئے گئے تھے۔ تارا مسیح ایک خاندانی جلاد تھے۔ وہ اس کام کو اعزاز سمجھتے تھے۔ تارا مسیح کے والد نے حُریت پسند باغی بھگت سنگھ کو پھانسی پر لٹکایا تھا"

معاوضہ اپنی جگہ لیکن اعزاز تو اعزاز ہے۔ پڑوسی مُلک انڈیا میں بھی اس وقت پیشہ ور جلادوں کی بہت قلّت ہے۔ کلکتہ کے رہائشی ایک ہندوستانی جلاد مہادیب ملک کے مطابق یہ کوئی آسان کام نہیں، بہت زیادہ حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے، آپ بغیر کسی ذہنی دباؤ یا ذاتی وجہ کے ایک منصوبے کے تحت کسی کو ہلاک کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ ناکامی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ بعض اوقات آپ کو پھانسی پانے والے کی ناراضی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

بی بی سی کی اسی رپورٹ میں بتا یا گیا ہے کہ انڈیا میں ایک پھانسی کا معاوضہ جلاد کو تقریباََ 10 ہزار روپے ادا کیا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی 2013 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان کی جیلوں میں 6218 قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں۔ اگر پاکستان میں بھی ایک پھانسی پر 10ہزار روپے جلاد کو ادا کئے جائیں تو میرا خیال ہے کہ ان تمام قیدیوں کو پھانسی دینے کا معاوضہ تقریباََ 6 کروڑ سے زیادہ بنتا ہے۔

حکومتِ پاکستان اگر عمران خان کی پیشکش تسلیم کرلے تو نہ صرف دونوں کے تعلقات خوشگوار ہوسکتے ہیں بلکہ عمران خان پارٹی فنڈ کے لئے ایک خطیر رقم بھی جمع کرسکتے ہیں جو قیدیوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں اب کوئی غیر سرکاری پھانسی دینے والا جلاد موجود نہیں، سماجی کارکن ناظرہ جہاں کے مطابق جیل کا عملہ ہی یہ خدمات انجام دیتا ہے۔ اس کا انہیں الگ سے کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ دوسرے صوبوں میں کیا صورت حال ہے اس کا ہمیں کوئی علم نہیں۔

لیکن اگر پاکستان میں معاوضہ نہیں ملتا تو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہندوستان میں ایک پھانسی کے 10 ہزار تو مل ہی جاتے ہیں۔ دس ہزار انڈین کرنسی پاکستان کے کم و بیش بیس ہزار روپوں کے برابر ہوتی ہے۔ انڈیا میں پھانسی دینے سے ہند و پاک کشیدگی میں بھی کمی ہوگی اور زرِ مبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔