... سندھ میں اردو شاعری: سچل سرمست سے شیخ ایاز تک

14 جولائ 2014

ای میل

دائیں: سچل سرمست؛ بائیں: شیخ ایاز -- فوٹوز -- وکی میڈیا کامنز
دائیں: سچل سرمست؛ بائیں: شیخ ایاز -- فوٹوز -- وکی میڈیا کامنز

دلبر کے در پر میں تو دیوانہ ہو رہا ہوں

یارو میں دو جہاں سے بیگانہ ہو رہا ہوں

یہ عقل فہم اس کے دیدار نے اڑایا

زلفوں کے پیچ و خم میں مستانہ ہو رہا ہوں

آئے گا جوں وہ دلبر تیروں کی ہوگی بارش

سینہ سپر ہے سچل نشانہ ہو رہا ہوں

ان سادہ مگر دلکش اشعار کے خالق ہیں سچل سرمست، انیسویں صدی کے اوائل کے سندھ کا وہ گوشہ نشین صوفی فقیر جسکے بارے میں روایت ہے کہ وہ خیر پور شہر کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں درازہ میں واقع اپنی خانقاہ سے بہت ہی کم باہر نکلے۔ تو پھر انہوں نے اردو کہاں سے سیکھی؟

لگتا ہے کہ اردو سیکھنے کیلئے سچل سرمست کو کہیں بھی جانا نہیں پڑا بلکہ اس دور میں برصغیر کے مختلف علاقوں میں مقبولیت حاصل کرنے والی یہ زبان خود چل کر انکے پاس آئی، ریاست خیرپور کے دربار کے رستے۔

اس ریاست کے تالپر حکمراں شعر و ادب کے دلدادہ اور فنون لطیفہ کے سرپرست تھے۔ اسی خاندان میں میر علی نواز جیسا صوفی منش شاعر حاکم بھی پیدا ہوا جس نے ایک مغنیہ بالی کے عشق میں خیرپور سے لاہور تک کا ننگے پاؤں سفر کیا.


یہ داستان پھر کبھی، پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری بھی ریاست خیر پور کے درباری شاعر رہے. تالپر میر اپنے دربار میں مشاعرے منعقد کرواتے رہتے تھے، جس میں شرکت کیلئے ہندوستان سے بھی شعراء آتے رہتے تھے۔

انہی مشاعروں میں شریک ہونے والے بعض حضرات کا درازہ بھی آنا جانا تھا۔ وہ اپنے ساتھ درباری مشاعروں میں سنی جانے والی اردو غزلیں لاتے ہوں گے اور سچل سرمست کو سناتے ہوں گے۔

سچل سرمست مختلف زبانوں میں دلچسپی رکھتے تھے اور سندھی، سرائیکی کے ساتھ فارسی اور عربی میں بھی شاعری کرتے تھے، اردو کی شیریں بیانی سے متاثر ہو کر انہوں نے اس میں بھی طبع آزمائی کی اور پچاس کے قریب غزلیں لکھیں مگر اپنے مخصوص اسلوب میں۔

میرے پاس کورے قاضیا کیسا تمہارا کام ہے

تجھ کو کتابوں کی خوشی میرے لیئے ماتم ہے

مجھ کو تو مارا ہجر نے کہتا ہے تو آ پڑھ کتاب

گھر میرے اس محبوب کی آمد کا آج انجام ہے

آخر کو مطلب پا لیا مرشد ھمن سون یون کہا

بن عشق دلبر کے سچل کیا کفر کیا اسلام ہے۔


سچل سرمست کی اس روایت کو انکے مقلد بیدل نے آگے بڑھایا، روہڑی سے تعلق رکھنے والے بیدل ایک مذہبی عالم تھے اور اتنے پرہیزگار کہ گھر سے مدرسے آتے جاتے وہ اپنے منہ کو ایک رومال سے ڈھانپے رکھتے تھے کہ کسی غیر محرم پر نظر نہ پڑ جائے.

ایک سفر کے دوران شریر ہوا نے رومال اڑا دیا اور انکی نظر کرم چند نامی ایک نوخیز ہندو لڑکے پر پڑی، کیوپڈ کا تیر نشانے پر لگا اور وہ اس لڑکے پر یوں عاشق ہوئے کہ مولوی عبدالقادر سے صوفی بیدل بن گئے اور وعظ کے بجائے شاعری کرنے لگے۔

انکے علمی پس منظر کی وجہ سے انکی زبان سچل کی عوامی بولی کے مقابلے میں زیادہ ادبی اور معیاری ہے۔

رات تجھ بن پکار رکھتے ہیں

دن سبھو انتظار رکھتے ہیں

لعل لب کی قسم کہ گوہر اشک

محض بہر نثار رکھتے ہیں

محفل درد و عشق میں بیدل

عزت و افتخار رکھتے ہیں


نانک یوسف سچل سرمست کے شاگرد تھے، انکا آبائی علاقہ بلوچستان کا سندھی بولنے والا خطہ تھا، مگر انکا خاندان وہاں سے ہجرت کر کے خیرپور کے نزدیک ایک گاؤں اگڑا میں آباد ہو تھا، اپنے مرشد کی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے بھی اردو شاعری کی اور خوب کی۔

نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے لسانی تجربات بھی کئے، ایک ہی شعر میں اردو اور فارسی کی آمیزش کر کے یا موسیقی کی زبان، دھن، تا، تھئی وغیرہ کو قافیے کے طور پر استعمال کر کے، بازار میں چلتے ہوئے مستی کے عالم میں انکی کہی گئی یہ غزل زبان و بیان کی شیرینی، اردو، سندھی اور سرائیکی کی پیوندکاری اور اندرونی قافیے کی جھنکار کی وجہ سے ایک عجب سماں پیدا کرتی ہے۔

واہ دیکھا اسرار، برھ بازار، تماشا چل پل کا واھ وا

ہم جاؤں گی بلھار، ہمارے یار، حسن کی جھل جھل کا واھ وا

جب لاگی عشق ٹکور، انہد گھور، درد کا شور دل اندر ہے

مجھ چھاتی میں چھمکار، برھ بھنڑ کار، اگنڑ در جل جل کا وھ وا

جس پیتا جام شراب ہوا بے تاب نشے میں خواب غرقدر ہوں

جیویں بھنورا میں گلزار، مقید تار، زلف کی سل سل کا واھ واھ

گم کرہستی کا کوٹ، جسم کی اوٹ، چلا دم چوٹ صفاتی میں

پیچھے ویکھیں یوسف یار صفا دیدار، سبھا میں ال ال کا وھ وا


اسطرح سندھ کے صوفی شعرا نے اپنی قلبی وارداتوں کو اردو میں قلمبند کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا وہ جاری و ساری رہا، زمانہ حال میں اس کی سب سے بڑی مثال سعید آباد کے اعجاز راشدی ہیں جنکی "صبا اس گلبداماں کو پیام آہستہ آہستہ" اور دیگر غزلیں سندھ کے طول و عرض میں واقع صوفیوں کے آستانوں اور درگاہوں پر بڑے زوق و شوق سے گائی اور سنی جاتی ہیں۔

یہ سلسلہ فقط صوفیا تک محدود نہیں رہا۔ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے اپنی کتاب "سندھ میں اردو شاعری، عہد شاہجہاں سے قیام پاکستان تک" میں مختلف سندھی شعراء کا اردو کلام جمع کیا ہے۔


سندھ کے سیکیولر اور انقلابی شعرا بھی سندھی کے ساتھ اردو میں طبع آزمائی کرتے رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے سندھ کے عظیم ترین شاعر شیخ ایاز نے تو اپنی شاعری کی شروعات ہی اردو کلام سے کی اور اپنے پہلے مجموعہ کلام کا نام غالب کے ایک شعر سے مستعار لیتے ہوئے "بوئے گل نالہ دل" رکھا.

دوسرے مجموعے تک پہنچتے پہنچتے وہ عربی فارسی کے سحر سے آزاد ہو کر اپنی شعری زبان کا رشتہ دھرتی سے استوار کر چکے تھے جسکا اظہار اسکے نام "نیل کنٹھ اور نیم کے پتے" سے ہوتا ہے۔

انیس سو اسی کی دہائی میں کراچی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی کانفرنس کا آغاز انکے اس بلند آہنگ ترانے سے ہوا تھا؛

میرے دیدہ ورو، میرے دانشورو

پاؤں زخمی سہی ڈگمگاتے چلو

راہ میں سنگ و آہن کے ٹکراؤ سے

اپنی زنجیر کو جگمگاتے چلو

رود کش نیک و بد کتنے کوتاہ قد

سر میں بادل لیئے ہین تہیہ کئے

بارش زہر کا اک نئے قہر کا

ایک فرعون کیا لاکھ فرعون ہوں

ڈوب ہی جائین گے، ڈوب ہی جائیں گے

شیخ ایاز اپنی کتاب "کراچی جا ڈینھ ائین راتیون" (کراچی کے دن اور راتیں) میں لکھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد اس شہر کے میٹھا رام ہاسٹل میں قیام کے دوران انہیں احساس ہوا کہ اگر وہ یہاں مقیم رہے تو مکمل طور پر اردو شاعر بن جائیں گے اور سندھی شاعری اگر کرتے بھی رہے تو اس میں زبان و بیان کی وہ چاشنی نہیں رہے گی، جو صرف سندھ کے دیہی علاقوں کے نزدیک رہ کر حاصل کی جاسکتی ہے.

نتیجتاۡ انہوں نے اپنی سندھی شاعری کیلئے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کو بھی محدود کرنے کی قربانی دی (بحیثیت وکیل وہ کراچی میں زیادہ کامیابی حاصل کر سکتے تھے) اور سکھر منتقل ہو گئے، نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے اردو میں شعر لکھنا ترک ہی کر دیا.

اسکی وجہ پاکستان کی نوزائیدہ ریاست میں اردو کو قومی زبان قرار دینا اور سندھی اور دیگر مقامی زبانوں کو انکی جائز سرکاری حیثیت سے محروم کر دینا تھا۔ اس اقدام کی وجہ سے جو عوامی رد عمل ہوا، اسے طاقت سے کچلا گیا، ڈھاکہ میں قائم ایک یادگار آج بھی ان شہداء کی یاد دلاتی ہے جو اپنی زبان کی حرمت بچانے سڑکوں پر نکلے تو انہیں گولیوں سے بھون دیا گیا۔

یہ شاونسٹک رویہ صرف ارباب اقتدار تک محدود نہیں تھا بلکہ اردو بولنے والے دانشوروں میں بھی موجود تھا۔ چند دہائیوں بعد جب ستر کے عشرے میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھی کو سندھ صوبے کی سرکاری زبان قرار دیا تو روزنامہ جنگ نے رئیس امروہی کا یہ اشتعال انگیز شعری تبصرہ چھاپا؛

"اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے".

اسطرح جب اردو کو مقامی زبانوں کے مقابلے میں کھڑا کر دیا جائے تو سندھی زبان میں ماں کی لوری سننے والے شعرا میں اردو میں شاعری کرنے کا رجحان ختم کیوں نہ ہو؟

اب تو یہ عالم ہے کہ راقم الحروف جیسے اکا دکا سندھی افراد جو کراچی میں پیدا ہونے اور رہنے کے سماجی جبر کی وجہ سے اردو کو اپنی شعری زبان بنائے ہوئے ہیں، اپنی برادری میں اس ضمن میں معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔