چہرے کا نقاب

07 اگست 2014

ای میل

نقاب کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ایک وقتی ثقافتی شوق ہے جسے سعودی عرب سے درآمد کیا گیا ہے-
نقاب کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ایک وقتی ثقافتی شوق ہے جسے سعودی عرب سے درآمد کیا گیا ہے-

سوال یہ ہے کہ نقاب پہنا جائے یا نہیں؟ یہ سوال یورپ میں مسلسل پوچھا جارہا ہے جہاں فرانس، بلجیئیم اسپین اور اٹلی میں عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی ہے-

نقاب میں پورا چہرہ چھپ جاتا ہے اور صرف آنکھوں کے لئے دو چھوٹے سے شگاف کھلے چھوڑ دیئے جاتے ہیں- یہ پابندی حجاب پر نہیں ہے جو ہر جگہ نظر آتا ہے، حجاب سر پر پہنا جاتا ہے جس میں چہرہ پوری طرح کھلا رہتا ہے- کسی بھی ملک میں ابھی تک حجاب پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے-

اسٹراس بورگ کی انسانی حقوق کی یورپین کورٹ نے عورتوں کے اس متنازعہ لباس کے بارے میں حال ہی میں ایک فیصلہ صادر کیا ہے جہاں ایک فرانسیسی خاتون ایس اے ایس( ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے) نے جو پیدائشی پاکستانی ہیں فرانسیسی قانون کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس کے تحت عوامی مقامات پر چہرے کو نقاب سے مکمل طور پر چھپانا ممنوع ہے- ایس اے ایس کا کہنا ہے کہ اس قانون نے "مذہبی اور اظہار کی آزادی" چھین لی ہے-

فرانس میں 2010 میں جبکہ اس قانون پر بحث ہورہی تھی ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا- مسلم کمیونٹی کا ایک حصہ اسکی مخالفت کررہا تھا- لیکن اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا کیونکہ فرانس میں پچاس لاکھ مسلمان رہتےہیں-----جو کسی مغربی یورپی ملک میں رہنے والی سب سے بڑی تعداد ہے----اور ایک اندازے کے مطابق ان میں سے صرف 1900 خواتین پورا نقاب لیتی تھیں جبکہ 2011 میں یہ قانون نافذ ہوا تھا- اب کہتے ہیں کہ ان کی تعداد گھٹ کر نصف رہ گئی ہے-

کورٹ نے جو رولنگ دی وہ اہم ہے- فیصلہ میں کہا گیا تھا کہ؛

"پابندی کی وجہ اس لباس کی مذہبی حیثیت نہیں ہے بلکہ اسکی واحد وجہ یہ ہے کہ اس سے پورا چہرہ چھپ جاتا ہے-"

ججوں نے فرانس کے اس نظریہ کی توثیق کی تھی کہ "چہرہ سماجی میل جول میں ایک اہم رول انجام دیتا ہے-"

پاکستان میں جہاں جنس کی تفریق بہت عام ہے، بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس فیصلہ کے اثرات کو سمجھ نہیں سکتے- اگرچہ نقاب کے بارے میں مذہبی علماء کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہے، لیکن مذہبی ہدایات کی چھوٹی چھوٹی باریکیوں پر مسلسل بحث جاری ہے- ہمارے ملک میں بھی جو مسلمان ملک ہے------الٹرا قدامت پسند ملکوں سے قطع نظر---- نقاب کی حمایت کرنے والے لوگ کم ہی ہیں-

اگر ایس اے ایس کو مذہب کی فکر تھی تو ان کی یہ بات سن کر تعجب ہوتا ہے کہ وہ کہتی ہیں،"میں اپنا چہرہ ہمیشہ نہیں چھپاتی، لیکن جب چھپاتی ہوں تو اپنے ایمان، اپنے کلچر اور اعتقادات کی خاطر-" حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ کبھی چہرہ کو چھپانے اور کبھی نہ چھپانے کے رویہ کو وہ کس طرح جائز قرار دیتی ہیں-

اگر اتفاق رائے نہ ہو تو کیا عقل سے، قانون کی حکمرانی اور اس جمہوری اصول سے رہنمائی حاصل کرنا مناسب نہیں ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جائے؟ فرانسیسی حکومت نے جو دلیل دی ہے اور یورپین کورٹ نے جس کی توثیق کی ہے وہ قابل غور ہے- اس نے لوگوں کے درمیان باہمی تعلقات میں اور سماجی زندگی میں چہرے کے تاثرات کی اہمیت کو بیان کیا ہے- نقاب پر پابندی لگانے میں فرانس کی سیکیولر روایات کو اور ایک ایسے معاشرے کے درمیان ثقافتی میل جول کو پیش نظر رکھا گیا ہے جہاں مختلف نسل کی قومیں آباد ہیں-

کیا ہم نے سماجی پس منظر میں خود اپنی روایات پر کبھی غور کیا ہے؟ اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیئے کہ حجاب کرنے والوں کی تعداد میں اس لئے بھی اضافہ ہورہا ہے کہ فیشن ڈزائنرز وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے رنگ برنگے، خوبصورت، سر کو ڈھانکنے والے اسکارف بنا رہے ہیں جو پہننے والوں کے کپڑوں سے میچ کرتے ہیں- لیکن نقاب ساری دنیا میں مقبول نہیں ہے- بہت سے لوگوں نے اسکی مخالفت بھی کی ہے- قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ایک عوامی لیکچر میں شکایتاً کہا کہ جب ان کی کلاس میں طالبات اپنے چہرے کو نقاب سے چھپاتی ہیں تو انھیں پتہ نہیں چلتا کہ وہ جو کچھ پڑھا رہے ہیں ان کی سمجھ میں آ بھی رہا ہے یا نہیں-

پروفیسر صاحب کا یہ کہنا بالکل بجا ہے- ایک اور اہم رکاوٹ جو نقاب کرنے والوں کے تعلق سے پیش آتی ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ بہرے پن کا شکار ہیں اور ہونٹوں کی حرکت سے بات کو سمجھتے ہیں وہ گفتگو میں شامل نہیں ہوسکتے- باہمی تعلقات میں صرف بولنا ہی اہمیت نہیں رکھتا- تاثرات بھی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں جس سے ہم آہنگی بھی پیدا ہوتی ہے یا دوریاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں- کیا آپ نے کبھی اس فرق کو محسوس کیا ہے جو ایک مسکراتے چہرے اور اس چہرے کے درمیان ہو جب تیوری پر بل پڑے ہوں-

اسکے علاوہ بھی سیکیورٹی کا معاملہ اہمیت رکھتا ہے- اگر کسی عام جگہ پر کسی شخص کو پہچانا نہ جاسکے تو سیکیورٹی کیسے ہوگی؟ اس خوف میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے اگر آپ اس واقعہ کو یاد کریں جب لال مسجد کے مولانا عبد العزیز 2007 کے محاصرے کے دوران عورت کی طرح برقع پہن کر فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے- اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان، غیر اہم مسائل پر رونگٹے کھڑا کردینے والی بحث کرنے کے بجائے عوام کے حقیقی مسائل کی جانب توجہ دیں، مثلاً سماجی انصاف کی فراہمی-

ان لوگوں کے لئے جنھیں اب بھی اس مسئلہ پر تشویش ہے جس کا ذکر میں نے مضمون کے ابتداء میں کیا ہے ، مسلم ایجوکیشنل سنٹر، آکسفورڈ، کے ڈائریکٹر ڈاکٹر تاج حارگے کا یہ جملہ پیش خدمت ہے- گزشتہ ہفتہ لندن میں چہرے کو مکمل طور پر چھپانے پر پابندی لگانے کی حمایت میں ایک قومی مہم کا آغاز کرتے ہوئے انھوں نے کہا، " اسکے حامیوں کے دعویٰ کے برخلاف نقاب کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ایک وقتی ثقافتی شوق ہے جسے سعودی عرب سے درآمد کیا گیا ہے-"

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: سیدہ صالحہ