دونوں سابق چیف جسٹس دھاندلی میں ملوث،سابق اے ایس الیکشن کمیشن

اپ ڈیٹ 25 اگست 2014

ای میل

اسلام آباد : سابق ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن محمد افضل خان نے کہا ہے کہ انتخابات 2013 میں ہونے والی دھاندلی میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی بھی ملوث ہیں، الیکشن 2013 میں عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا، چیف الیکشن کمشنر فخرو الدین جی ابراہیم نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں 35 نہیں سیکڑوں پنکچر لگائے گئے، چوہدری نثار نے بھی ہر حلقے میں ہزاروں ووٹ ناقابل تصدیق قراردیئے ہیں۔

واضح رہے کہ محمد افضل خان 2013 میں انتخابات میں ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن تھے جو کہ اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔

انٹرویو میں سابق ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن افضل کا کہنا تھا کہ انتہائی منظم طریقے سے الیکشن میں کرپشن کی گئی، ریٹرننگ افسران کو الیکشن کمیشن کے بجائے افتخار چوہدری نے تعینات کیا، دھاندلی کی شکایات کے کیسز کو جان بوجھ کر لمبا کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں بھی کسی حد تک قوم کا مجرم ہوں، کچھ جماعتوں نے زور دیا تھا کہ انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کروائے جائیں، نواز شریف کو حاصل ہونے والا مینڈیٹ مشکوک ہے۔

افضل خان نے مزید کہا کہ حامد خان نے میرے خلاف عمران خان کے کان بھرے، دھاندلی کی شکایات کے کیسز کو جان بوجھ کر طول دیا گیا۔

انہوں ے مزید کہا کہ ریٹرننگ افسران کو افتخار چوہدری نے تعینات کیا،2013 کے انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔


افضل خان ملازمت میں عدم توسیع پر الزام تراشی کر رہے ہیں، جسٹس(ر)ریاض کیانی


سابق رکن الیکشن کمیشن جسٹس(ر)ریاض کیانی نے کہا ہے کہ افضل خان ملازمت میں توسیع نہ ہونے پر الزام تراشی کر رہے ہیں، یہ ایک کرپٹ شخصیت ہیں۔

ڈان نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ افضل خان کی شخصیت دوران ملازمت بھی متنازع رہی، ان کو ریٹائرڈ ہونے کے 14 ماہ بعد ابھی کیوں یاد آیا ہے۔


افضل خان کی بات نہیں سننی چاہیے،رانا ثناء اللہ


مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ افضل خان جیسے آدمی کی بات بھی نہیں سننی چاہیے، فخروالدین جی ابراہیم پر پوری قوم کو اعتبار ہے۔

ڈان نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ڈرامہ فلاپ ہو رہا ہے،اس لیے افضل خان جیسے مہرے کو چلایا گیا۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس ڈرامے میں عمران خان بھی ایک مہرہ ہیں، عمران خان ایک دن کچھ اور دوسرے دن کچھ اور کہتے ہیں۔

انہوں نے افضل خان کے حوالے سے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایسے آدمی کو طلب کرنا چاہیے، ایسا لگتا ہے افضل خان کا معاملہ پہلے سے طے تھا،افضل خان جیسے لوگ خاص موقعوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔


افضل خان کے اعتراف کے بعد وزیراعظم مستعفی ہونے کا اعلان کریں، عمران خان


پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان کے دھاندلی سے متعلق انکشافات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ تحفظ ملے تو اور لوگ بھی دھاندلی کو بے نقاب کرنے کیلئے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افضل خان کے اعتراف کے بعدوزیراعظم نواز شریف مستعفی ہونے کا اعلان کریں جبکہ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں انہیں دوبارہ الیکشن ہوتے نظر آرہے ہیں۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن میں بہت بڑا فراڈ ہوا جس میں طاقتور لوگ ملوث تھے۔

ادھر پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ان انکشافات کے بعد وزیر اعظم فوری استعفیٰ دیں، دھاندلی کے سب سے زیادہ ثبوت کراچی سے دیئے تھے۔

ڈان نیوز سے گفتگو میں عارف علوی نے کہا کہ افضل خان نے بہادری کا کام کیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ دھاندلی کے انکشافات ہورہے ہیں۔


افضل خان کی شہادت معتبر نہیں لگی،اعتزاز احسن


پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی، افضل خان کی شہادت معتبر نہیں لگی، الزامات مبہم ہیں۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ عمران خان کے الزامات میں بہت سچائی ہے۔

الیکشن کمیشن کے سابق ممبر جسٹس(ر) ریاض کیانی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کردار پر بے شمار لوگوں کو تحفظات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری مٹیاری میں ریٹرننگ افسر کے دفتر میں 3 گھنٹے کیوں بیٹھے رہے۔