ڈیم، کینال، بیراج، اور ماحول

16 ستمبر 2014

ای میل

لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہیں۔
لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہیں۔

پنجاب اور سندھ کے وسیع علاقے اب معمول کے تحت مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کو جھیل رہے ہیں۔ یہ پانچواں سال ہے کے جب وادی سندھ کے بڑے حصے میں گرمیوں کے اختتام میں سیلاب آیا ہے۔ حیرانگی میں اضافہ تب ہوتا ہے، جب ہم یہ سوچیں کہ ذمہ داران نے سیلاب کے اس معمول کا سدباب کرنے کے لیے کیا کیا؟

افسوس کی بات ہے کہ کارپوریٹ میڈیا نے اس حوالے سے چبھتے ہوئے سوالات نہیں اٹھائے، بلکہ اس کی زیادہ تر توجہ شارع دستور پر جاری اسٹیج ڈرامے کی جانب ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی لائیو کوریج ضرور بیوروکریسی، حکومت، اور ہم سب کو اس بات پر مجبور کرے گی، کہ ہم ایک سنجیدہ مسئلے کے دیرپا حل کے لیے سوچیں۔

اور مین اسٹریم میڈیا سیلاب پر جو بھی کمنٹری کر رہا ہے، اس کا ایک بڑا حصہ ہندوستان مخالفت پر مبنی ہے، کہ اس نے "ہمارے" دریاؤں میں معمول سے زیادہ پانی چھوڑا۔ ہندوستان سے نفرت کرنے والے ہمیشہ اس پر ہمارا پانی روکنے کا الزام عائد کرتے ہیں، اور ان کے الزامات پر مبنی حالیہ پروپیگنڈا کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔

سچ تو یہ ہے، کہ پاکستان کے کسی بھی علاقے کے مقابلے میں ہندوستانی پنجاب میں زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے اپ سٹریم کا پانی ہماری طرف کے چناب اور جہلم دریاؤں میں بہہ آیا ہے۔ اس کا ہندوستان کے کسی شیطانی منصوبے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، اور زیادہ سے زیادہ یہ ہونا چاہیے، کہ سندھ طاس معاہدے پر بحث دوبارہ چھڑ جائے۔

مون سون بارشوں کے جغرافیائی پھیلاؤ کا مطلب ہے، کہ نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں سیالکوٹ، گوجرانوالہ، اور چنیوٹ نے اب تک سیلابوں کا سب سے زیادہ نقصان جھیلا ہے۔ گذشتہ گرمیوں میں مشرقی اور وسطی ضلعوں کو اپنے مغربی اور جنوبی جانب موجود سرائیکی علاقوں کے مقابلے میں کہیں کم نقصان پہنچا تھا۔ لیکن قدرت کا قانون یہی ہے، کہ سیلابی پانی سمندر میں گرنے سے پہلے ان علاقوں میں بھی تباہی پھیلاتا جاتا ہے، جہاں بہت ہی کم بارشیں ہوئی ہیں۔

ماہرین اس بات کا خوف ظاہر کر رہے ہیں، کہ دریائے سندھ کے بیسن پر قائم کئی بیراجوں میں سے اکثر کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ ان میں جھنگ کے نزدیک ہیڈ تریمو شامل ہے جہاں چناب اور جہلم کا سنگم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بالائی سندھ میں سکھر اور گڈو بیراج بھی تناؤ جھیل رہے ہیں، جبکہ انہیں شگافوں کا بھی خطرہ لاحق ہے۔

انجینئر بیوروکریٹ اب ہر گھڑی نئے ایڈ ہاک حل پیش کر رہے ہیں، جن میں بندوں کو جان بوجھ کر توڑنا شامل ہے تاکہ پانی کے بہاؤ کو موڑا جا سکے۔ لیکن اس کے علاوہ فیصلہ لینے والوں کے درمیان شاید کینالوں، بیراجوں، اور ڈیموں کے حوالے سے اس بات پر اتفاق ہے، کہ ہمیں اس طرح کے انفراسٹرکچر کو بچانا لازمی ہے۔

انسانوں نے ایک طویل عرصے سے قدرتی وسائل، بالخصوص پانی کا استعمال کیا ہے، تاکہ سماجی زندگی کو بہتربنایا جا سکے۔ اور ایسا مستقبل میں بھی جاری رہے گا، اور رہنا بھی چاہیے۔ لیکن جدید ٹیکنالوجی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے، اور اٹھایا جانا بھی چاہیے، خاص طور پر تب جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم اپنے جس آبی انفراسٹرکچر پر بہت فخر کرتے ہیں، اس کے ساتھ کئی سنجیدہ مسائل ہیں۔ منگلا اور تربیلا ڈیموں کی ذخیرے کی قابلیت میں کئی دہائیوں سے مٹی جمع ہونے کے باعث کمی ہو رہی ہے، جبکہ پانی کے بہاؤ کے قدرتی سسٹم، جن کی پانی مدد کرنے میں خاصی مدد لی جاسکتی ہے، ان کو تباہ ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

لیکن انجینیئرنگ سائنس میں ناکامی اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود کچھ لوگ ہیں، جو یہ شور مچا رہے ہیں کہ سیلابی پانی ضائع ہورہا ہے۔ یہ شور بالکل ویسا ہی ہے، جو تھر کے کوئلوں کے وسیع ذخائر اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں گڑے معدنیات کے بارے میں مچایا جاتا ہے۔

انسانی معاشرے اور ایکو سسٹم کے درمیان ایک رشتہ موجود ہے، اور اس میں ہزاروں سالوں سے ایک توازن رہا ہے۔ لیکن پچھلی آدھی صدی میں اس توازن کو شدید نقصان پہنچا ہے، کیوںکہ انسان اس بات پر مصر ہے کہ تمام قدرتی وسائل کو بغیر کسی تاخیر کے انسانی استعمال میں لے آیا جائے۔

یا مجھے یہ کہنا چاہیے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں، جنہیں صرف منافع کے نئے ذرائع سے مطلب ہے، قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال پر زور دیتی ہیں؟ سرمایہ دارانہ نظام کے اس اسکینڈل کا راز تب کھلے گا، جب اس کا نشانہ بننے والے لوگ ان کمپنیوں کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے، جو ہر چیز کو اپنے منافع کے لیے قابل فروخت بنا دیتی ہیں۔

پانی کے میگا پراجیکٹس کو صرف انسانی ترقی میں مددگار کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ ترقی اور قدرتی ماحول میں ایک توازن قائم رکھنا ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے، کہ جو لوگ ڈیموں، کینالوں، اور بیراجوں کی خدا کے جیسے تعریفیں کرتے ہیں، ان سے سوالات کیے جائیں۔ وقت کے ساتھ اب یہ بات ثابت ہورہی ہے، کہ جنہیں جواہرلال نہرو نے کبھی جدید مندر کہا تھا، ان کے اثرات کسی بھی دوسری انسانی ایجاد کی طرح برے ہوسکتے ہیں۔

انگلش میں پڑھیں۔


لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 12 ستمبر 2014 کو شائع ہوا۔