پاکستان کا فرسودہ تعلیمی نصاب

23 نومبر 2014
نصاب تیار کرنے سے پہلے بچوں کی ذہنی، جسمانی، اور نفسیاتی ضرورتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
نصاب تیار کرنے سے پہلے بچوں کی ذہنی، جسمانی، اور نفسیاتی ضرورتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

ماہرینِ تعلیم کے نزدیک 'نصاب' سیکھنے کے اس پورے عمل کو کہا جاتا ہے، جو تعلیمی ادارے کی جانب سے پلان کیا گیا ہو، اور اس سیکھنے میں ادارے کی رہنمائی شامل ہو، پھر چاہے ایسا گروپس کی صورت میں کیا جائے یا انفرادی طور پر، اسکول کے اندر کیا جائے یا اسکول سے باہر۔

اگر ہم نصاب کی اس تعریف کو صحیح مان لیں، تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ نصاب کا مطلب صرف کورس اور کتابیں نہیں، بلکہ وہ باتیں بھی شامل ہیں جو کہ تعلیمی ماحول میں سیکھی جاتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں کہیں تو نصاب میں تعلیمی کتابیں و کورس، اور ان کو پڑھانے کا مرحلہ شامل ہے۔ اس لیے ایک معیاری نصاب کے مقاصد میں طلبا کی جسمانی و نفسیاتی ترقی، اور آگاہی کو پروان چڑھانا شامل ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں سیکھنے کے مرحلے کو بچوں کے اندر چھپے ٹیلنٹ کو باہر لانے والا ایک مثبت مرحلہ بنانے کے بجائے حکومتوں نے نصاب کو بچوں میں مخصوص نظریات کو راسخ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اور یہ کام سب سے زیادہ جوش و جذبے سے جنرل ضیا الحق کے دور میں کیا گیا۔

اس دور میں زبانوں، اسلامیات، سوشل اسٹڈیز، یہاں تک کہ سائنس میں بھی ایسا مواد شامل کردیا گیا، کہ بچوں میں باقی دنیا سے الگ تھلگ کردینے والا مائنڈسیٹ ڈالا جاسکے۔ اس کے علاوہ مواد نے تعلیمی ریسرچ کی نفی کی، جبکہ چار بنیادی نظریات نصاب میں شامل کیے گئے۔

سب سے پہلا، جنگ اور جنگی ہیروز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔ پرائمری اور سیکنڈری اسکول میں لینگویج یا سوشل اسٹڈیز کی کتاب اٹھا کردیکھ لیں، آپ کو صرف کچھ ہی ہیروز ایسے ملیں گے جو اپنی جنگی قابلیت کے لیے مشہور نہیں ہیں۔ دوسرا، دوسرے مذاہب، اقوام، ممالک، اور نسلوں کو برا بنا کر پیش کرنا۔ تیسرا، خواتین کو سماجی، سیاسی، اور تعلیمی میدان میں شرکت کے لیے نااہل قرار دینا۔ چوتھا، تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرنا، اور یہاں کی وہ تہذیبیں اور شخصیات جو اپنی دانش، سیاسی اور سماجی کامیابیوں اور قابلیتوں کی وجہ سے جانی جاتی تھیں، انہیں نظرانداز کرنا۔

پھر بعد کے سالوں میں نصابی مواد، تعلیمی ماحول، اور پڑھانے کے طریقوں نے ایسے رویوں کو جنم دیا ہے جو 'دوسروں' کو قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ یہ رویہ ہمیں دوسروں سے الگ کردیتا ہے، جبکہ اس سے نہ صرف ملکوں کے درمیان کھنچاؤ بڑھتا ہے، بلکہ نسلی، لسانی، اور مذہبی بنیادوں پر بھی ٹینشن میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح پاکستانی اسکولوں کا نصاب ہمارے افغانستان اور انڈیا کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا سبب بنتا ہے۔

کئی تحقیقوں نے بار بار نصاب میں موجود مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے اس میں تبدیلی کی سفارشات کی ہیں۔ ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز کمیٹی، جو کہ چاروں صوبوں کے نامور اسکالرز، ماہرینِ تعلیم، اور ماہرینِ نفسیات پر مشتمل تھی، نے 2006 میں نصاب کو اسٹینڈرڈائز کرنے اور اس میں تبدیلیاں لانے کے لیے اپنی سفارشات پیش کیں۔

2010 میں جب اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیمی پالیسی، پلاننگ، گورننس، اور نصاب کے معاملات کو صوبوں کے حوالے کردیا گیا، تو پنجاب اور خیبر پختونخواہ نے صرف کچھ سفارشات پر عمل کیا، جبکہ کچھ تبدیلیوں کو وقت کے ساتھ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔

جن تبدیلیوں پر زور دیا گیا تھا، ان میں نہ ہی اسلامی تعلیمات کو نصاب سے نکالنا شامل تھا، اور نہ ہی پاکستان کی ثقافتی اقدار اور مسلم ہیروز کی کہانیاں نکالنا۔ حقیقت میں صرف اتنا کیا گیا تھا کہ صرف بار بار کی تکرار ختم کی گئی تھی۔ لیکن مذہبی حلقوں کی جانب سے ان معمولی تبدیلیوں کی بھی مخالفت کی گئی۔

یہ مذہبی حلقے، جن میں سب سے نمایاں نام جماعت اسلامی کا ہے، ایک ایسی جماعت جس کی خیبر پختونخواہ میں 124 میں سے صرف آٹھ نشستیں ہیں، تب سے لے کر اب تک خیبرپختونخواہ میں نصاب کی اسٹینڈرڈائزیشن کی مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ پریشر ڈالنے والی ان حرکتوں کی بنا پر ایسا لگتا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں اس کی سینیئر پارٹنر یعنی پاکستان تحریک انصاف اس کے سامنے ہار مانتے ہوئے اقلیت بن گئی ہے جبکہ جماعت اسلامی اسلام اور کلچر کی اپنی تشریح اکثریت پر نافذ کرنے کی کوشش میں ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ 80 کی دہائی میں جنرل ضیا الحق کے زیرِسایہ نصاب کے ذریعے انتہاپسندی کو فروغ دینے والے جس ایجنڈا کا آغاز ہوا تھا، جماعت اسلامی اب اس کے اگلے حصے کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، اس دور میں نصاب کو دوسروں سے نفرت اور عدم برداشت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس ماحول نے عسکریت پسندی کے لیے زرخیز زمین فراہم کی، جس نے دوسرے عوامل کے ساتھ مل کر پاکستان میں طالبانائزیشن کی بنیاد ڈالی۔ فرقہ واریت جو پہلے ہی پاکستانی ریاست اور سوسائٹی کو دیمک کی طرح کھائے جارہی ہے، وہ اسی مرحلے کی ایک پیداوار ہے۔

2006 میں جب ریفارمز کمیٹی نے اپنی سفارشات حکومت، میڈیا، اور سول سوسائٹی کے سامنے پیش کیں، تو اس وقت خیبر پختونخواہ میں متحدہ مجلس عمل برسرِ اقتدار تھی، اور جماعت اسلامی اس کا حصہ تھی۔ ایم ایم اے نے 2002 سے 2007 تک صوبے پر حکومت کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت جماعت اسلامی نے سرکاری طور پر کوئی اختلافی نکتہ نہیں اٹھایا، اور نہ ہی متبادل سفارشات پیش کیں، احتجاجی مظاہروں کی تو بات مختلف ہے۔

یہ بات جاننا اہم ہے کہ نصاب تیار کرنا خصوصی مہارت کا تقاضہ کرنے والا شعبہ ہے، جسے تعلیمی نقطہ نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نصاب تیار کرنے، اور پڑھانے کے طریقہ کار کا فیصلہ کرنے سے پہلے پرائمری اور سیکنڈری سطح کے بچوں کی ذہنی، جسمانی، اور نفسیاتی ضرورتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔


لکھاری Re-thinking Education: Critical Discourse and Society کے مصنف ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر [email protected] کے نام سے لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ مضمون ڈان اخبار میں 3 نومبر 2014 کو شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں