ای میل

سہیل یوسف اور محمد عمر


کیا آپ کو کبھی حیرت ہوتی ہے کہ معروف گوالمنڈی اسٹریٹ نے اتنے مختلف النوع کھانوں سے خود کو کیسے سجایا؟

گوالمنڈی فوڈ اسٹریٹ کے چیئرمین خواجہ شکیل ممکنہ طور پر اس کے کچھ جواب رکھتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں " تقسیم کے بعد گوالمنڈی چار دیواری سے گھرے لاہور شہر کے نواح میں پہلا مناسب طور پر آباد علاقہ تھا یہ 1911 کے بعد ہی رہائشی بستی کی شکل اختیار کرگیا تھا اور بعد کے برسوں میں یہ اپنے دور کا گلبرگ(موجودہ لاہور کا ایک علاقہ) سمجھا جاتا تھا"۔

خواجہ شکیل کے مطابق امرتسر اور دیگر قریبی شہروں سے ہجرت کرکے آنے والے خاندانوں نے گوالمنڈی میں رہائش اختیار کی جن میں دستکار اور کچھ کاروباری افراد شامل تھے۔ روزگار کے مواقعوں کی کمی کے باعث ان نئے خاندانوں میں سے کچھ نے اپنے گھروں کے سامنے چھوٹی دکانیں کھولنا شروع کردیں، باصلاحیت دستکاروں تجارت کے ذریعے زندگی گزارنے لگے مگر ان میں سے کچھ افراد نے گلیوں میں کھانے پینے کے مراکز قائم کرلیے۔

گوالمنڈی کی ایک دکان میں ہریسہ تیار کیا جارہا ہے— فوٹو محمد عمر
گوالمنڈی کی ایک دکان میں ہریسہ تیار کیا جارہا ہے— فوٹو محمد عمر

وہ مزید بتاتے ہیں"یہ مراکز بتدریج پھلنے پھولنے لگے اور اس گلی کے ہر کونے میں کچھ نہ کچھ منفرد ملنے لگا مثال کے طور پر امرتسر کے سکھ جو گوالمنڈی میں مقیم ہوگئے تھے، نے بیسن لگی تلی ہوئی مچھلی کو متعارف کرایا اور یہ 'سردار فش' کے نام سے مقبول تھی۔ اب یہ ترکیب لاہور کی شناخت بن چکی ہے"۔

خواجہ شکیل کے مطابق اسی طرح باربی کیو کی تراکیب اور متعدد اقسام کے فالودہ ان خاندانوں نے متعارف کرائے جن کے آبائواجداد پہلوان تھے۔ کشمیری یہاں ہریسہ لے کر آئے اور مزیدار دودھ جلیبی نے بھی گوالمنڈی میں شہرت اختیار کرلی، اس طرح مختلف نسلوں کی آبادی یہاں کچھ نہ کچھ منفرد لے کر آئی۔

انہوں نے مزید بتایا"بتدریج یہاں ایک وقت ایسا بھی آیا جب گوالمنڈی بہترین کھانوں کا مرکز سمجھا جانے لگا حالانکہ یہاں دیگر کاروبار بھی چل رہے تھے مگر پکوان اس علاقے کی وہ خاصیت تھی جو شہر کے دیگر حصوں کے مقابلے میں اسے نمایاں کرتی تھی۔ آج کل لوگ اپنی تراکیب کتابوں میں لکھتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کس طرح کھانا بنایا جاتا ہے مگر اس علاقے کے رہائشیوں کے ہاتھوں میں جو مزہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوا ہے"۔

ایک شخص چکن سجی تیار کررہا ہے— فوٹو محمد عمر
ایک شخص چکن سجی تیار کررہا ہے— فوٹو محمد عمر
امرتی تیار کرنے میں مصروف ایک شخص— فوٹو محمد عمر
امرتی تیار کرنے میں مصروف ایک شخص— فوٹو محمد عمر
لاہور کی مشہور لاہوری مچھلی— فوٹو محمد عمر
لاہور کی مشہور لاہوری مچھلی— فوٹو محمد عمر
بیسن لگی مچھلی کو ایک شخص تیار کرنے میں مصروف— فوٹو محمد عمر
بیسن لگی مچھلی کو ایک شخص تیار کرنے میں مصروف— فوٹو محمد عمر

سال 2000 میں پہلی بار کھانے پینے کے شوقین افراد اور مقامی حکومت نے گوالمنڈی کو باقاعدہ فوڈ اسٹریٹ کی شکل دینے کی تجویز پیش کی جو کہ اسے عالمی شناخت دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتی تھی۔ تو خواجہ شکیل نے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ مقامی برادری کو بھی اس اقدام کے لیے قائل کرنے کی مہم شروع کی۔

وہ بتاتے ہیں"یہاں کے رہنے والے باسی شروع میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئے کیونکہ وہ اس تصور کو سمجھ نہیں سکے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ سب اس کے لیے تیار ہوگئے اور اس گلی کا تاریخی اسٹرکچر محفوظ کرلیا گیا حکومت نے رہائشی عمارات کو مالکان سے خرید لیا جبکہ فوٹو اسٹوڈیوز اور دیگر دکانیں بھی ریسٹورنٹس کی شکل میں تبدیل کردی گئیں"۔

گوالمنڈی فوڈ اسٹریٹ کا تاریخی اسٹرکچر محفوظ کرلیا گیا— فوٹو محمد عمر
گوالمنڈی فوڈ اسٹریٹ کا تاریخی اسٹرکچر محفوظ کرلیا گیا— فوٹو محمد عمر
فوڈ اسٹریٹ کا ایک منظر— فوٹو محمد عمر
فوڈ اسٹریٹ کا ایک منظر— فوٹو محمد عمر
ہریسہ اور باربی کیو فروخت کرنے والی ایک دکان— فوٹو محمد عمر
ہریسہ اور باربی کیو فروخت کرنے والی ایک دکان— فوٹو محمد عمر
اس فوڈ اسٹریٹ میں ہر طرح کے نان اور پراٹھے دستیاب ہیں— فوٹو محمد عمر
اس فوڈ اسٹریٹ میں ہر طرح کے نان اور پراٹھے دستیاب ہیں— فوٹو محمد عمر

تاہم گوالمنڈی فوڈ اسٹریٹ حقیقی معنوں میں اس وقت سامنے آئی جب امریکی قونصل جنرل نے اس جگہ کا دورہ کیا خواجہ شکیل اس بارے میں بتاتے ہیں" وہ یہاں کھانوں کی اقسام اور یہاں موجود مرد، خواتین اور بچوں کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے، وہ یقیناً پاکستان کے بارے میں بالکل مختلف تصور رکھتے تھے۔ متعدد سفارتخانوں کے سفارتکاروں کی آمد کے بعد یہ فوڈ اسٹریٹ ایک سیاحتی مقام بن گیا"۔

عارضی مشکلات

گوالمنڈی فوڈ اسٹریٹ کو شہری روایات کا دل مانا جاتا تھا مگر 2011 میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے یہ عذر پیش کرتے ہوئے گلی کو بند کردیا کہ ' غیرملکیوں سمیت دیگر افراد اور گاڑیوں کے اس علاقے میں آنے سے شاہراہیں بلاک ہوجاتی ہیں"۔

وہ تاریخی دروازے جنھیں دولت مند مسلمانوں، سکھوں اور ہندو خاندانوں نے تقسیم سے پہلے تعمیر کیا تھا، انہیں بھی گرا دیا گیا۔

پنجاب حکومت نے اس کے بعد جنوری 2012 میں ایک اور فوڈ اسٹریٹ فورٹ روڈ پر قائم کی مگر گوالمنڈی کی قسمت غیریقینی صورتحال کا شکار رہی۔ اس علاقے کے کاروباری افراد کے مطابق اس فوڈ اسٹریٹ سے آٹھ سے دس ہزار افراد کا روزگار بندھا ہوا تھا جو اس پابندی کے نتیجے میں متاثر ہوئے۔

خواجہ شکیل بتاتے ہیں " پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی نے آخرکار ہمیں کچھ ڈھیل دیتے ہوئے اس گلی کو 2013 میں دوبارہ کھولنے میں مدد فراہم کی۔ میرا اندازہ ہے کہ انہیں اس جگہ کی ثقافتی اور سیاحتی اہمیت کا احساس ہوگیا تھا۔ لاعلم حکام نے ہماری سیاحت کی صنعت کو مکمل طور پر تباہ کرکے رکھ دیا تھا"۔

اس جگہ کے چیئرمین کے مطابق گوالمنڈی میں ایک بار پھر سیاحتی مرکز بننے کی صلاحیت موجود ہے— فوٹو محمد عمر
اس جگہ کے چیئرمین کے مطابق گوالمنڈی میں ایک بار پھر سیاحتی مرکز بننے کی صلاحیت موجود ہے— فوٹو محمد عمر
فوڈ اسٹریٹ کا ایک منظر— فوٹو محمد عمر
فوڈ اسٹریٹ کا ایک منظر— فوٹو محمد عمر

ان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخی گوالمنڈی اسٹریٹ اب دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے اور ملک کے ہر کونے کے سو سے زائد پکوانوں سے یہاں لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے " ہم سیاسی انتقامی کارروائیوں اور نظرانداز کیے جانے سے متاثر ہوئے مگر اب ہم دوبارہ کھڑے ہوکر دوڑنے لگے ہیں۔ اب ہمارے پاس پوری گلی کے لیے کوالٹی کنٹرول اور طے شدہ قیمتیں ہیں، نظم و ضبط اور تحفظ کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں آنے والے خاندان رات دو بجے تک بیٹھے رہتے ہیں اور مقامی سیاح واپس آگئے ہیں"۔

خواجہ شکیل نے کہا کہ پاکستان کو مقامی سیاحت پر اس وقت تک توجہ مرکوز کرنی چاہئے جب تک غیرملکی اس ملک میں آمد کو محفوظ نہ سمجھنے لگے " ایک قوم کے طور ہم ایک بڑی آبادی ہیں، لوگوں کو ان کی اپنی تاریخ اور ثقافت کے ذائقے سے روشناس کرایا جائے"۔