کیا پاکستان معاشی انقلاب کے نزدیک ہے؟

19 دسمبر 2014

ای میل

اس سے پہلے کہ نئے مواقع ہمارے در پر دستک دیں، ہمیں خود میں ان کو قبول کرنے جتنی قابلیت پیدا کرنی ہوگی — خاکہ خدا بخش ابڑو
اس سے پہلے کہ نئے مواقع ہمارے در پر دستک دیں، ہمیں خود میں ان کو قبول کرنے جتنی قابلیت پیدا کرنی ہوگی — خاکہ خدا بخش ابڑو

پاکستان کے 67 سالوں کے مسائل کا ذمہ دار ایک سنگین خامی کو ٹھہرایا جاسکتا ہے، اور وہ ہے تصور اور تخیل کی کمی۔

صلاحیتوں سے بھرپور ملک اس قدر پسماندہ ہوچکا ہے، کہ جہاں نہ صرف انسانوں، بلکہ ریاست تک کے لیے جینا کسی کارنامے سے کم نہیں۔

وسائل اور جوش و جذبے سے مالامال قوم عام سی زندگی تک محدود ہے۔

ایک ایسا ملک جہاں عام رہنے کو پسند کیا جاتا ہے، اور غیرمعمولی ہونے سے نہ صرف خوفزدہ ہوا جاتا ہے، بلکہ حوصلہ شکنی بھی کی جاتی ہے۔

تخیل کی قوت انسان کو روزانہ کی سختیوں سے باہر نکال کر بہتر مستقبل کی تیاری کرنے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن ہماری تاریخ پر ایک نظر ڈالنے سے اچھی طرح یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہم نے شاید ان چیزوں پر کبھی سوچا ہی نہیں ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے، تو پھر آپ کے خیال میں ہم کیسے جمہوریت کو برا اور آمریت کو اچھا ثابت کرنے کے لیے جمہوری دلیلیں دیتے ہیں؟

نہیں مانے؟ چلیں پھر سوچیں کہ کس طرح پچھلے چھ سالوں سے ہمارے ملک کے میڈیا کا ایک بڑا حصہ ہمیں بار بار یاد دہانی کروا رہا ہے کہ ملک کے مرکزی سیاستدان اصل میں ڈکٹیٹر ہیں، اور یہ کہ اسلامی جمہوریہ پر حکومت کرنے والا آخری ڈکٹیٹر ان لوگوں سے کہیں زیادہ جمہوری تھا۔

ہر ملک کے قومی مباحثوں میں سیاسی دلیلیں ہوتی ہیں، مذہبی دلیلیں ہوتی ہیں، اور معاشرتی اور کلچرل دلیلیں ہوتی ہیں۔ لیکن اقتصادی دلیلیں جو کسی بھی ملک کی بقا کے لیے سب سے ضروری ہوتی ہیں، ان سب پر حاوی رہتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک چھوٹی سے چھوٹی اور عام سی بات بھی اقتصادی دلیلوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے۔

آپ ملک کو سیاحوں کی جنت بنانا چاہتے ہیں؟ معاف کیجیے گا، ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہماری اقدار ہمیں سیاحوں کے لیے پرکشش جگہ بنانے کی اجازت نہیں دیتیں۔

آپ چاہتے ہیں کہ بینکس نئے کاروباروں کو آگے بڑھنے کے لیے سرمایہ فراہم کریں؟ ارے کیا آپ جانتے نہیں کہ سود حرام ہے؟

خواتین کی ترقی اور ملک کی ترقی میں ان کے کردار کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا یہ قابلِ فہم نہیں کہ اقتصادی مقابلے کے اس دور میں ملک کی آدھی آبادی کام کرے تاکہ ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی کو بڑھایا جاسکے؟ نہیں بھئی، ہم کیسے اپنی غیرت چھوڑ کر اپنی خواتین کو کام سے لگا دیں؟

آپ پڑوسی ملکوں کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات چاہتے ہیں؟ لیکن آخر کیوں ہم اپنے سیاسی تنازعات کے حل کے بغیر ان کے ساتھ روابط بڑھائیں؟

اور ایسی مثالوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

ایک قوم جو اپنے کھانے تک کا خرچہ نہیں اٹھا سکتی، وہ اخلاقیات، آزاد سیاست، مذہب، اور انوکھی ثقافت نہیں حاصل کرسکتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم سازی کے عمل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چاروں صوبوں میں مختلف اقتصادی ماحول کی وجہ سے ہمارے پاس اب بھی ایک ایسا دھاگہ نہیں ہے، جو ہمیں ہماری بقا کی جنگ کے لیے متحد کرسکے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اقتصادی دلیل کی اہمیت کو سب سے اوپر رکھیں۔

یہ ملک اس قدر بری حالت میں ہے کہ ہر سطح پر مالی نقصانات موجود ہیں۔ کرپشن کا ہونا اور جاری رہنا کوئی اچھی بات نہیں لیکن اس سے بھی زیادہ بڑے مسائل موجود ہیں جن کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ہر سال کے بجٹ میں موجود بے قابو مالی خسارہ۔

پاکستانی ٹیکس ادا کرنے میں، یا اپنے ٹیکسوں کے استعمال کے احتساب میں کم ہی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے ردِ عمل میں ریاست نہ صرف عوام کی بھلائی اور انہیں خدمات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہوجاتی ہے، بلکہ اپنے غیرترقیاتی بجٹ میں سے غیرضروری اخراجات کی کٹوتی سے بھی انکار کردیتی ہے۔

اصلاحات کی جانب ایک جامع سوچ کی عدم موجودگی میں ملک کی قدیم بیوروکریسی اور حکومتی ڈپارٹمنٹس سرکاری اور نجی سیکٹرز میں سرمائے کا بہترین استعمال کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ تھوڑی سے لے کر صفر ترقی، تھوڑے بہت کاروباری اقدامات، ملازمتوں اور دولت کی پیداوار کی بری صورتحال، اور دولت کا ناکافی بہاؤ اس کے نتائج میں شامل ہیں۔

اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ملک اقتصادی انقلاب کی سطح پر موجود ہے، کیونکہ وسطی ایشیا اور چین سے روابط میں بہتری ہمیں خطے میں تجارتی مرکز میں تبدیل کردے گی۔ اس سے ہمارے پاس وہ دولت، اور ترقی کے وہ مواقع آئیں گے، جو ہمارے خیالات سے بھی دور ہیں۔

لیکن پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مشرف دور میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان میں اربوں ڈالر آئے، اور غائب بھی ہوگئے۔ جب ریاست اور معاشرے میں اس قدر پیسہ جذب کرنے کی صلاحیت موجود نہ ہو، تو کرپشن اور فنڈز کے غلط استعمال کو ہوا ملتی ہے۔

اس سے پہلے کہ نئے مواقع ہمارے در پر دستک دیں، ہمیں خود میں ان کو قبول کرنے جتنی قابلیت پیدا کرنی ہوگی۔ صرف تب ہی ہم اس نئی حاصل شدہ دولت کو عام آدمی تک پہنچا سکیں گے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں (چاہے پارلیمنٹ میں ہوں یا باہر) کو اقتصادی ترقی، استحکام، اور قابلیت بڑھانے کے لیے 10 سالہ جنرل فریم ورک پر اتفاق رائے کرنا ہوگا۔

کوئی بھی معیشت غیر مستحکم سیاسی ماحول میں پروان نہیں چڑھ سکتی۔ بار بار کے فوجی ٹیک اوور، جمہوری سلسلے کی معطلی، اور غیر مستحکم سیاسی مہمات نے ملک کی سیاسی ارتقا کے امکانات کو تقریباً ختم کردیا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پرائیویٹ میڈیا کی حمایت سے مظاہرین اپوزیشن لیڈران کی زیرِ قیادت اس پورے مرحلے کے خاتمے پر تلے ہوئے ہیں، یہ خوف زور پکڑ رہا ہے کہ سخت محنت سے سیکھے گئے سبق ایک بار پھر بھول جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہونے دینا چاہیے۔

ملک پر کون حکومت کر رہا ہے، یہ بات مکمل طور پر غیرمتعلق نہیں ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم جمہوری مرحلے کا تسلسل ہے۔ اسی تسلسل کے لیے ہی ساری محنت کی گئی اور قربانیاں دی گئی ہیں۔

جمہوریت ایک نازک مرحلہ ہے، اس لیے ملک کی طاقتور فوج اور عدلیہ کو بھی اس کا ساتھ دینا ہوگا۔ اگر جمہوریت کا تسلسل قائم رہتا ہے، تو ہر 5 سالہ دورِ حکومت کا اختتام سسٹم میں مزید ترقی، بالیدگی اور بلوغت لائے گا۔

ووٹروں کو نہ صرف حکومتوں کو منتخب کرنے کا موقع ملے گا، بلکہ انہیں ووٹ کے ذریعے ایوانوں سے باہر نکال دینے کی طاقت بھی ملے گی۔ عوام آہستہ آہستہ اپنی ذمہ داری سمجھیں گے، اور اپنے انتخاب کی ذمہ داری قبول کریں گے۔ اس لیے بھلے آہستہ آہستہ ہی سہی، لیکن ان کے فیصلوں کا معیار بہتر ہوگا۔

اسٹریٹیجک طور پر بات کی جائے تو اس ملک نے ہمیشہ اپنے جغرافیے کی کم قیمت وصول کی ہے، خطے سے مخصوص فائدے اٹھانے میں خاص کامیاب نہیں رہا ہے، اور اپنے پڑوسیوں کو اپنا مخالف بنایا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم مارکیٹنگ میں کم وقت لگائیں، اور خطے میں مل جل کر کام کرنے پر زیادہ وسائل اور توانائی صرف کریں۔

یہ غیر مناسب نہیں ہوگا اگر تجویز کیا جائے کہ خطے کے سیاسی معاملات پر ہم خود کو ماہر تصور کرنے کے بجائے ہم صرف خطے میں اپنے دیگر پارٹنرز سے بہتر بننے کی کوشش کریں۔ خطے میں ہمارے تنازعات انتظار کرسکتے ہیں۔ ہمیں اِس وقت یہ کرنا ہوگا کہ ہماری موجودہ سرحدوں کو مضبوط کریں۔ ایک بار پھر، اقتصادی دلیل کو سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے مقامی کاروباروں کے مفادات کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔

سماجی تحرک بھی ہمارے معاشرے میں کم ہی پایا جاتا ہے۔ نچلے طبقے سے اونچے طبقے میں پہنچنا انتہائی تھکا دینا والا اور اکثر اوقات ناممکن ہوتا ہے۔ تعلیم کا معیار، تحقیق اور ترقی کی سہولیات، وسائل تک رسائی، بینکنگ قوانین، اور مجموعی طور پر کاروباری ماحول، اس سب کو تیزی سے بہتر ہونا ہوگا۔ اہم اسٹیک ہولڈرز کو ایسا ممکن بنانے کے لیے وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔

اور آخر میں اعتدال پسندی پر کچھ الفاظ۔ عام طور پر جمہوری مرحلہ خود ہی معاشرے میں اعتدال لانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن ہماری دلچسپ تاریخ کو دیکھتے ہوئے اعتدال پسندی کو ریاست کی جانب سے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اب تک ہماری ریاست نے مذہبی شناخت میں ٹھیک ٹھاک وسائل لگائے ہیں، اور یہ مرحلہ پچاس ہزار سے زائد جانوں کے ضائع ہونے کے باوجود بھی رکا نہیں ہے۔ ریاست کو خود کو مذہبی معاملات سے الگ کرنا ہوگا، اور پاکستانی شناخت میں وسائل اور توانائی لگانی ہوگی۔

اگر ان تمام مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا ہوجائے، تو ملک اپنی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ توقع سے بھی جلد اٹھا سکتا ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔