یارا ٹول کافران دے

اپ ڈیٹ 18 فروری 2015

ای میل

1992 میں جب ہندوستان میں بابری مسجد کی بے حرمتی کی گئی، تو پاکستان میں بھی اس کا ردِ عمل دیکھنے میں آیا۔ کراچی کے علاقے کیاماڑی ( اسے کیماڑی کہا جاتا ہے مگر درست نام کیاماڑی ہے کیونکہ 'کیا' نام ہے جب کہ ماڑی عمارت کو کہتے ہیں) میں مشتعل افراد کو توڑپھوڑ کے لیے کوئی مندر نہ ملا توانھوں نے مسیحی مشنری کے زیر اہتمام چلنے والے Sacred Heart School پر دھاوا بول دیا۔

ہجوم بڑی تیزی سے اسکول کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک مجمعے میں سے ایک بزگ آگے بڑھے اور ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر زور سے پشتو میں چلائے: ”داکر کرسٹان باندے، ہندوان نہ دے، او بابری جماعت ہندوانوں حملہ کڑے دہ (یہ ہندو نہیں مسیحی ہیں اور بابری مسجد پر حملہ ہندوؤں نے کیا ہے) اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہم اس بلاگ کے آخر میں بتائیں گے۔

تاہم یہ بتا دیں کہ یہ واقعہ ہمارے دوست صحافی انور خان نے ہمیں سنایا تھا۔ ایک دن ہم نے ان سے پوچھا کہ سنا ہے کراچی میں آریہ سماج نامی تنظیم کام کرتی تھی اور ان کے مندر بھی تھے، تو انہوں نے بتایا کہ ان کے علاقے کیاماڑی میں ایک عمارت ہے جس پر آریہ سماج کمپاؤنڈ اردو میں لکھا ہے۔ ان سے طے پایا کہ اتوار کے دن ہم وہاں جائیں گے، لیکن اتوار کو وہ نہ چل سکے۔ اگلے اتوار کو میں انور خان، فوٹو جرنلسٹ ماجد بٹ اور اختر سومرو کے ہمراہ کیاماڑی پہنچا۔ مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے وہ ہمیں ایک پرانی عمارت کے سامنے لے گئے۔ عمارت کے دروازے پر کوئی تختی نہیں لگی ہوئی تھی۔

ہم نے انور خان کی جانب دیکھا تو وہ پریشان ہو کر بولے یار تختی کچھ عرصے پہلے تک تو لگی ہوئی تھی۔ اتنی دیر میں ماجد بٹ نے دروازے کے اوپر اور بائیں طرف لگی ہوئی تختیوں کی جانب ہماری توجہ مبذول کروائی لیکن یہ تختیاں ہندی میں تھیں۔ انور خان کے ہمراہ ان کے ایک مقامی دوست محمد علی سومرو صاحب بھی تھے۔ انہوں نے عمارت کے بائیں جانب ایک کے جی اسکول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مقام پر مندر ہوتا تھا۔

محمد علی سومرو صاحب اور انور خان ہمیں علاقے میں ایک اور جگہ لے گئے اور وہاں ایک عمارت دکھلائی جو باقاعدہ ایک مندر کی عمارت لگ رہی تھی، لیکن اس کے بیرونی دروازے پر بھی ایک کے جی اسکول کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ آریہ سماج کمپاؤنڈ پر لگی تختیاں ہندی میں تھیں اور انہیں پڑھنے کے لیے ہندی دانوں سے رابطہ کرنا تھا۔ اور اس سے قبل یہ معلوم کرنا تھا کہ آریہ سماج اگر کراچی یا سندھ کے دیگر علاقوں میں تھا تو اس کی سرگرمیاں کیا تھیں۔ اس حوالے سے معروف مورخ عثمان دموہی اپنی کتاب کراچی تاریخ کے آئینے میں لکھتے ہیں کہ:

کچھ انتہا پسند ہندوؤں کا خیال تھا کہ قدیم زمانے میں تمام دنیا پر آریوں کی حکومت تھی۔ چنانچہ آریوں کو دوبارہ اپنا کھویا ہوا اقتدار حاصل کرلینا چاہیے۔ چونکہ وہ دنیا کی اعلیٰ ترین قوم ہیں لہٰذا ہندوؤں میں اعلیٰ درجے کی قومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ غیر مذاہب کے ماننے والوں کو یا تو جلا وطن کردیا جائے یا پھر سوکھی لکڑی کی طرح آگ میں جلادیا جائے۔ آریہ سماج ہندوؤں کی پرانی تنظیم ہے۔ جو ہندو مہا سبھا سے بھی قبل قائم ہوئی تھی۔ اس کا بانی منشی رام نامی ایک انتہا پسند ہندو تھا۔ یہ شخص تعلیم یافتہ اور ابتداء میں پنجاب پولیس میں ملازم تھا۔ بعد میں وہ پولیس کی ملازمت چھوڑ کر وکالت کرنے لگا اور پھر ترک دنیا کا ڈھونگ رچا کر گیان دھیان کی نام نہاد زندگی گزارنے لگا اور بالآخر منشی رام سے شردھانند بن بیٹھا۔ اس جماعت کا پس پردہ انگریز حکومت سے گہرا ربط و ضبط قائم تھا۔ انگریزوں کی شہہ پر ہی ہندو مسلم اتحاد کو فنا کرنے کے لیے اس جماعت نے پورے ہندوستان میں اپنی شاخیں قائم کی تھیں۔

سوامی شردھانند جی کو ان کی سرگرمیوں سے روکنے کے لیے قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے قتل کی داستان دیوان سنگھ مفتون، جو ایک بہت بڑے صحافی تھے اور اپنا ایک اخبار ”ریاست“ کے نام سے شائع کرتے تھے، نے اپنی کتاب 'ناقابل فراموش' میں بیان کی ہے، اور لکھا ہے کہ ان کے اخبار کے ایک کاتب نے، جو اس سے پہلے بھی مذہبی جنونیت کی علامات ظاہر کر چکا تھا، سوامی جی کو مذہبی وجوہات کی بنا پر قتل کیا تھا۔

پیر علی محمد راشدی اپنی کتاب ”اھی ڈینھں اھی شینھن“ (وہ دن وہ لوگ) میں آریہ سماج کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ 1920 کی اصلاحات کے بعد ہندوؤں نے تین چار تحریکیں بیک وقت شروع کیں (1) شدھی سنگھٹن (2) آریا سماج (3) ہندو مہا سبھا۔ ان سب کی سرتاج پرانی کانگریس تھی جو یہ نام نہاد دعویٰ کرتی تھی کہ وہ ہندو اور مسلمانوں کی مشترکہ جماعت ہے مگر درحقیقت اس کا مقصد ہندوؤں کی بالادستی قائم کرنا تھا۔ آریہ سماج کی سندھ میں سرگرمیوں کے حوالے سے پیر علی محمد راشدی مزید لکھتے ہیں کہ:

ہندو مسلم فسادات کا آغاز لاڑکانہ سے ہوا، جو 29 مارچ 1928 کو ایک مسلمان عورت کے مسئلے پر ہوا۔ کریماں نامی یہ عورت ایک دیہاتی مسلمان کی بیوی تھی اور تین بچوں کی ماں تھی۔ کریماں ایک ہندو سے بدراہ ہو کر لاڑکانہ بھاگ آئی اور بچوں سمیت ہندو آریہ سماجیوں (جنہوں نے شدھی کی تحریک شروع کررکھی تھی) کے ہاتھوں مرتد ہوگئی۔ یعنی بچوں سمیت ہندو دھرم میں داخل ہوگئی۔

شہر کے مسلمانوں نے بچوں کے حصول کے لیے عدالت میں درخوست دائر کی لیکن ان کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ مسلمانوں نے وفد کی شکل میں ضلعی اہل کاروں سے بچوں کے معاملے پر ملاقات کی۔ ہندوؤں نے اس دوران کریماں اور بچوں کو اپنے پاس چھپا لیا۔ کلکٹر سے ناامید ہو کر وفد ہجوم کی شکل میں حاجی امیر علی خان مرحوم سے ملنے گیا اور وہاں سے مایوس ہو کر واپس لوٹتے ہوئے وفد میں شامل کچھ لڑکوں نے ہندوؤں کے دو بیڑی سگریٹ فروخت کرنے والے کیبنوں کو لوٹا اور ہندو لڑکوں پر پتھراؤ کیا۔ اس کے بعد شہر میں فساد کے نتیجے میں ہندوؤں کی چار پانچ اور دکانیں متاثر ہوئیں۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ مذہبی اشتعال کے باوجود ہندوؤں کو کوئی جانی نقصان نہ پہنچا۔ نہ ہی کوئی ہندو مارا گیا اور نہ ہی شدید زخمی ہوا۔

دکانیں لوٹنے والی بات بھی عدالتوں میں جھوٹی ثابت ہوئی۔ کیوں کہ لوٹا ہوا مال کسی مسلمان سے برآمد نہ ہوا اور نہ ہی خود ہندو یہ ثابت کر سکے کہ ان کی دکانوں کو لوٹا گیا تھا۔ انگریز جج نے اپنے فیصلے میں ہندو گواہوں کو جھوٹا اور بے ایمان قرار دیا۔

ہندوؤں نے اس مختصر اور وقتی حادثے کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے جھوٹے مقدمات درج کروا کر 80 مسلمانوں کو جیلوں میں بند کروایا۔ لاڑکانہ کے اہم مسلمان قومی کارکنوں کو خاص طور پر گرفتار کروایا۔ خان بہادر ایوب کھوڑو کو، جو اس وقت بمبئی کاؤنسل میں مسلمانوں کے منتخب نمائندے تھے، صرف اس بنیاد پر کہ وہ مسلمانوں کے ہمدرد ہیں، جھوٹے مقدمے میں پھنسوانے کی کوشش کی۔

موجودہ دور میں کراچی یا سندھ کے دیگر علاقوں میں آریہ سماج کا وجود نظرنہیں آتا۔ آریہ سماج کی آخری نشانیاں کیاماڑی آریہ سماج کمپاؤنڈ کے مرکزی دروازے پر لگی ہوئی وہ تختیاں ہیں جو ہندی میں ہیں۔ انہیں پڑھنے کے لیے ہمارے دوست حسن منصور، حفیظ چاچڑ اور اجمل کمال نے ہماری مدد کی۔ تخیتوں پر لکھی ہوئی تحریروں کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

آریہ سماج کیاماڑی

یہ آدھار شیلا (سنگ بنیاد) شری آچاریہ رام دیو جی (گروکل کانگڑی) نے 15-9-1929 کو رکھا۔

اوم شری سوامی سیوک آنند جی کے ادیوگ (تعاون) سے یہ مندر بنایا گیا۔

کیاماڑی کے دونوں مندروں پر کے جی اسکول ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق آریہ سماج کا بنیادی مقصد یہی ہوتا تھا کہ ہندوؤں کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے لیے ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں، جہاں ہندو نوجوانوں کو ان کی قدیم تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور وہ اس پیغام کو مزید آگے بڑھائیں۔ آریہ سماج کمپاؤنڈ میں اب صرف مسلمان آباد ہیں لیکن مندروں میں قائم ہونے والے اسکول علاقے کے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روشناس کررہے ہیں۔ کبھی کبھی یہ سوچتا ہوں کہ اگر آریہ سماج تنظیم ختم نہ ہوتی، تو کیا اب بھی ان اسکولوں کے دروازے مسلمانوں پر کھلے ہوتے؟ اور اگر آریہ سماج تنظیم نہ ہوتی، تو کیا کوئی اور تنظیم کیاماڑی جیسے علاقے میں اسکول قائم بھی کرتی؟

بہرحال ہم واقعہ سنا رہے تھے کیاماڑی کے مشتعل ہجوم کا کہ جہاں ابھی ان بزرگ کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ مجمعے میں سے ایک فلک شگاف نعرہ بلند ہوا ”یارا ٹول کافران دے“ (یاروں یہ سارے کافر ہیں)۔ بس اس کے بعد وہی ہوا جو ایسے موقعوں پر ہوتا ہے۔ واقعے کے وقت اسکول کی چار دیواری تقریباً چار فٹ اونچی تھی اور اب تقریباً دس فٹ اونچی ہے۔

— تصاویر اختر بلوچ