اسلام آباد کا ایک ' ماڈل' اسکول

09 مئ 2015

ای میل

اسلام آباد کے ایک ماڈل اسکول میں طالبات خیمے میں پڑھنے پر مجبور — تصاویر خرم امین
اسلام آباد کے ایک ماڈل اسکول میں طالبات خیمے میں پڑھنے پر مجبور — تصاویر خرم امین

اسلام آباد : یہ وفاقی دارالحکومت یعنی اسلام آباد کا ایک ' ماڈل اسکول' ہے جہاں طالبعلم ایک خیمے کے اندر یا کھلے آسمان تلے بیٹھ کر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لڑکیوں کے لیے سیکٹر ایچ 13 میں ڈھوک سلیمان میں واقع اسلام آباد ماڈل اسکول فار گرلز (آئی ایم سی جی) میں لگ بھگ 230 طالبات اپنی کلاسز کھلے آسمان تلے بارش یا شدید دھوپ میں لینے پر مجبور ہیں۔

اس اسکول میں چھ کلاس رومز ہیں جہاں پہلے ہی بہت زیادہ طالبات ہیں اور 2015 کے تعلیمی سال کے آغاز پر اسکول میں بڑی تعداد میں طالبات کو داخلے دیئے گئے جن میں بیشتر ایسی بچیاں تھیں جو اس سے پہلے مختلف وجوہات کی بناءاسکول چھوڑ چکی تھیں اور اب ان کی آمد سے یہ پرہجوم جگہ مزید تنگ ہوگئی۔

اس کے باعث ہیڈ مسٹریس نے اسکول کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ایک پرانی طالبات اور دوسرا حصہ نئی آنے والی بچیوں پر مشتمل ہے۔ اب یہ تمام نئی طالبات جو پریپ سے چوتھی کلاس میں زیرتعلیم ہیں، ایک شامیانے کے نیچے یا کھلے آسمان تلے خستہ حال قالینوں پر بٹھائی جارہی ہیں۔

ایک آٹھ سالہ طالبہ سعدیہ حامد کے مطابق " میں اس تنگ کیمپ میں تعلیم جاری نہیں رکھنا چاہتی، مجھے صبح سے ہی سر میں درد ہونے لگتا ہے جبکہ یہاں پنکھے بھی نہیں"۔

سعدیہ نے کہا کہ وہ کسی کلاس روم میں بیٹھنا چاہتی ہے جہاں وہ اور اس کی سہلیاں فرنیچر اور پنکھے جیسی سہولیات سے مستفید ہوسکیں گی۔

سعدیہ کی طرح اس کی کلاس کی ساتھی آٹھ سالہ فاطمہ وحید نے بھی مایوسی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب تیسری کلاس میں پڑھنے والی مریم نصر اللہ جسے کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور کیا گیا ہے، شامیانے میں بیٹھنے والی بچیوں پر رشک کرتی ہے۔

اس کا کہنا ہے " اگر کوئی کلاس روم نہیں تو ہمیں کم از کم ایک کیمپ ہی فراہم کردیا جائے"۔

اس کا مزید کہنا تھا " ہر روز ہمیں شدید گرمی کا سامنا ہوتا ہے، یہ سب ہمارے لیے بہت مشکل ہے"۔

فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای) جو وفاقی دارالحکومت میں 422 اسکولوں اور کالجوں کو انتظام سنبھالے ہوئے ہے، طالبعلموں کو نئی تدریسی کتب فراہم کرنے میں بھی ناکام ہوگیا ہے۔

اس تصویر میں کھلے آسمان تلے بیٹھی طالبات کو دکھایا گیا ہے
اس تصویر میں کھلے آسمان تلے بیٹھی طالبات کو دکھایا گیا ہے

کسی نہ کسی طرح ہیڈ مسٹریس صائمہ شفاعت نے سنیئر طالبات کی پرانی کتابیں متعدد نئی بچیوں کو فراہم کی ہیں مگر اب بھی بڑی تعداد میں طالبات کتابوں سے محروم ہیں۔

ایک مقامی رہائشی محمد ابرار کا کہنا ہے " یہ اسکول ہمارے حکمرانوں کی کارکردگی کی منہ بولتی تصویر ہے، یہ ہم سب سے باعث شرم ہے، تصور کریں کہ ہم جیسے افراد کے لیے بھی اس شدید گرمی میں آسمان تلے بیٹھنا مشکل ہے"۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم ہمارے حکمرانوں کی ترجیح نہیں اور دیہی علاقوں کے طالبعلموں کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔

محمد ابرار کے مطابق " حکمران ہمیشہ ہی اربوں روپوں کے منصوبے شروع کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر تعلیمی شعبے پر سرمایہ کاری کا سوچتے بھی نہیں"۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈھوک سلیمان اور ارگرد کی بڑی آبادی کے لیے آئی ایم سی جی واحد تعلیمی ادارہ ہے اور یہاں آنے والی طالبات کی اکثریت غریب خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے جبکہ اس پورے علاقے میں کوئی ہائی اسکول موجود نہیں۔

مقامی افراد کے مطابق طالبات کی بڑی اکثریت پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد تعلیمی سلسلہ ترک کردیتی ہے۔

اسکول کی ہیڈمسٹریس نے ڈان کو بتایا کہ اس علاقے کے ایک ہزار سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں " میں طالبات کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنی ہرممکن کوشش کرتی ہوں مگر انہیں فرنیچر اور کلاس رومز فراہم نہیں کرسکتی"۔

صائمہ شفاعت نے کہا کہ اسکول میں پہلے ہی 313 طالبات موجود ہیں مگر انہوں نے رواں برس 230 سے زائد بچیوں کو داخلہ دیا ہے۔

انکا کہنا تھا " اب ہمارے پاس پانچ سو سے زائد طالبات ہیں، میں فکرمند ہوں کہ ان سب طالبات کو سہولیات کیسے فراہم کروں"۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زمین کے ایک ٹکڑے کی خریداری کے لیے مقامی افراد کی امداد کے لیے بات چیت جاری ہے " اگر ہمیں زمین فراہم کردی جائے تو محکمہ تعلیم نئے کلاس رومز تعمیر کردے گا"۔

اسکول کی ایک ایک ٹیچر نے ڈان کو بتایا کہ شدید گرمی کے باعث طالبات اکثر بیمار ہونے کی شکایت کرتی ہیں " مجھے ڈر ہے کہ کچھ طالبات اسکول نہ چھوڑ دیں اور پھر تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی"۔

علاقے کی ایک معروف شخصیت ملک مہربان نے ڈان کو بتایا کہ وہ گزشتہ تین سال سے اسکول کی توسیع کا معاملہ اٹھا رہے ہیں مگر اب تک کچھ نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا " میں حیران ہوں کہ حکومت کیا کررہی ہے، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرے"۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اسکول کی توسیع کے لیے زمین فراہم کریں گے تو ان کا کہنا تھا " ہیڈ مسٹریس کی دعوت پر میں اساتذہ و والدین کے اجلاس میں شرکت کروں گا اور مقامی افراد کو قائل کرنے کی کوشش کروں گا کہ وہ اسکول کو زمین عطیہ کریں ، یقیناً میں اس حوالے سے قائدانہ کردار ادا کروں گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت علاقے میں ایک ہائی اسکول کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔