وہ ڈاکو کیوں بنا؟

اپ ڈیٹ 23 مئ 2015

ای میل

جرائم پیشہ گروہ اپنا پیشہ چھوڑنے میں سنجیدہ نہیں اور ہمارے ادارے انہیں پکڑنے میں سنجیدہ نہیں۔ — شمس بھٹو/فائل
جرائم پیشہ گروہ اپنا پیشہ چھوڑنے میں سنجیدہ نہیں اور ہمارے ادارے انہیں پکڑنے میں سنجیدہ نہیں۔ — شمس بھٹو/فائل

اسے سب میرانی کے نام سے جانتے تھے اور میں نے بھی کبھی اس کا اصلی نام جاننے کی کوشش نہ کی مگر میں اسے جب بھی مخاطب کرتا، میرانی صاحب کہہ کر مخاطب کرتا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ بھی پھیل جاتی اور وہ جھینپتے ہوئے مجھے منع کرتا کہ وہ صاحب نہیں ہے۔ اسے بیک وقت سندھی، سرائیکی، اور کچھ حد تک اردو پر بھی عبور حاصل تھا۔

میں ایک بین الاقوامی ادارے کی طرف سے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ ایک سروے کر رہا تھا۔ یہ علاقہ کچے کے علاقے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ میری بیوقوفی تھی کہ میں ان علاقوں میں جا گھستا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے شجرِ ممنوعہ تھے۔ ان کی چیک پوسٹس کئی جگہوں پر قائم تھیں، جہاں مجھے روک دیا جاتا کہ بین الاقوامی ادارے کی لینڈ کروزر میں ہوں تو فلاں فلاں علاقوں تک نہ ہی جاؤں تو بہتر ہے۔

بعض مقامات پر مجھے پولیس کے محافظ بھی مل جاتے تھے، مگر ایک بار تو یوں بھی ہوا کہ کچھ آگے جا کر میں نے پیچھے کی سمت دیکھا تو دور دور تک مجھے پولیس کی گاڑی دکھائی نہیں دی۔ تب میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک چھوٹے مقامی سردار نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان بے کسوں کا یہاں کیا کام۔ اس کی بات میں بھی وزن تھا کہ اس پٹی کے بارے میں حتمی طور پر یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کس حد تک یہ کس صوبے کی ذمہ داری بنتا ہے کیونکہ دریائے سندھ بل کھاتے کبھی پنجاب میں آجاتا ہے تو کبھی سندھ اور کبھی بلوچستان میں، لہٰذا حدود کا تعین پولیس کے لیے ایک بہت بڑا سر درد ہے۔

پڑھیے: ٹرپل ایم اے اور سی ایس ایس پاس ڈاکو

ایک بار میں اور میرا مقامی مترجم میرانی ہیڈ گڈو میں ایک ہوٹل میں چائے پی رہے تھے، کہ اس نے مجھ سے ایک بار پھر فرمائش کی کہ میں اسے اپنے ساتھ ہی کسی روزگار پر رکھ لوں۔ یہ میرے اختیار میں نہیں تھا۔ اس کی آنکھیں خوشحالی کے خواب بُنتی رہتی تھیں، اور اس کا عکس اس کی باتوں میں بُنتا رہتا تھا۔ وہ اپنے علاقے میں ویسی ہی زندگی چاہتا تھا جیسی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تھی۔ ہسپتال، اسکول، اور ایسے صنعتی ادارے جہاں روزگار ہو۔ میں ادھر ادھر کی باتوں میں لگا کر اسے بہلانے کی کوشش کرتا۔

میرا کام مکمل ہوا تو میری واپسی ہو گئی، مگر موبائل فون پر میرا اس سے رابطہ رہا۔ زندگی کی مصروفیت اور شہری زندگی کی خود غرضی نے اپنا کام دکھایا، اور بات چیت کم ہوتے ہوتے آخر بالکل ختم ہوگئی۔ مہینے سالوں میں بدلتے چلے گئے، اور ایک دن ہمارے مشترکہ جاننے والے نے یہ انکشاف کیا کہ میرانی کسی گروہ میں بھرتی ہو گیا ہے۔

میں نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر ناکامی ہوئی۔ کچھ دن بعد پتہ چلا کہ وہ کسی پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ شاید کسی اخبار میں چھوٹی سی خبر بھی چھپی ہوگی، اور کسی پولیس اہلکار کی ترقی بھی ہوئی ہوگی۔ میرانی کی زندگی اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی۔

آج میرے ذہن میں میرانی پھر سے زندہ نہ ہوتا اگر میں نے مختلف چینلز اور اخبارات میں کچے کے پولیس آپریشن کی فوٹیج اور پولیس کی دھواں دھار بیان بازی نہ دیکھی ہوتی۔ مجھے میرانی جیسے بے شمار لوگ دکھائی دینے لگے، جنہیں ہمارا نظام خود بناتا ہے، اور پھر جہاں محسوس ہو کہ اصل ذمہ داروں کے چہروں سے نقاب ہٹنے کو ہے، تو ایک ایسا اسٹیج تیار کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں پیادے گرا دیے جاتے ہیں، اور اصل کرداروں کو تحفظ دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: جنوبی پنجاب کا کیس

دو لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل "ماچھکہ" کا یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے سندھ، بلوچستان، اور پنجاب سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ چھلانگ لگا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے "لکن میٹی" (چھپن چھپائی) کھیلتے رہتے ہیں اور دونوں اطراف کے کھلاڑی لطف اندوز ہوتے ہیں۔

جرائم پیشہ گروہ اپنا پیشہ چھوڑنے میں سنجیدہ نہیں اور ہمارے ادارے انہیں پکڑنے میں سنجیدہ نہیں، دونوں اپنی اپنی بقا کی جنگ میں مصروف عمل ہیں۔ کچے کے اس پورے علاقے میں ایک ہی صنعت روزگار مہیا کر سکتی ہے اور وہ ہے اغواء برائے تاوان کی صنعت، جس کی جڑیں بہت مضبوط ہو چکی ہیں۔ اس کے تانے بانے شہروں سے ہی شروع ہوتے ہیں، اور یہ علاقے پناہ گاہ کا درجہ رکھتے ہیں جہاں پر مغویوں کو لا کر رکھا جاتا ہے۔

مگر کیا اتفاق ہے کہ ہر سال گندم کی کٹائی کے موسم ہی میں یہاں آپریشن ہوتے ہیں اور ایک سی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ بیک وقت تین صوبوں کی پولیس ان آپریشنز میں حصہ لیتی ہے، اور اب تو انہیں فضائی امداد بھی حاصل ہوتی ہے۔

اس سب کو دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان قانون شکن گروہوں کے قلعہ نما ٹھکانے تو مرکزی سڑکوں کے قریب ہی واقع ہوتے ہیں، یہ عام حالات میں کسی کو کیوں دکھائی نہیں دیتے؟ اگر ایک بار اچھی طرح فضائی جائزہ لے لیا جائے، تو ایسی بہت سی آماجگاہیں آشکار ہوسکتی ہیں۔ کیا ایک ہی دفعہ ان علاقوں میں فیصلہ کن آپریشن کر کے ان گروہوں کا صفایا نہیں کیا جا سکتا؟ کیوں یہ آپریشن صرف سال میں ایک ہی دفعہ یاد آتا ہے۔

اور وہ پولیس کے سجیلے جوان جنہیں کچھ روز قبل اغواء کیا گیا تھا، ان کی برآمدگی "مرزا صاحباں" کی داستان محسوس ہوتی ہے۔ انہیں میڈیا کے سامنے پیش کرنے میں کیا ہچکچاہٹ تھی؟ جوابات اور وجوہات بہت سی ہو سکتی ہیں مگر ایک بات طے ہے کہ ریاستی نظام میں معاشی ترقی یکساں سمت میں ہونے کے بجائے پنجاب کے چند شہروں سے آگے بڑھ ہی نہیں رہی ہے، اور نتیجہ یہ کہ جنوبی پنجاب کا یہ خطہ محرومی اور نا انصافی کے ایسے گڑھے میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے جسے اگر ابھی سے بھرا نہ گیا تو آنے والے دنوں میں مسائل بڑھیں گے۔

جانیے: جنوبی پنجاب کے مسائل کا حل الگ صوبہ ہی ہے؟

اس وقت ہماری حکمتِ عملی یہ ہے کہ ہم نے لوگوں کو روزگار، صحت، تعلیم، پانی وغیرہ فراہم نہیں کرنا، لیکن جیسے ہی کوئی ان سب عوامل سے متاثر ہو کر جرائم کے گڑھے میں جا گرے، تو اسے مجرم قرار دے کر مار دینا ہے۔ اس سے آپ افراد کو تو ختم کر سکتے ہیں، لیکن جب تک جرائم پر آمادہ کرنے والے عوامل کو ختم نہیں کیا جائے گا، کتنے ہی بے روزگار میرانی روزگار کے خواب آنکھوں میں سجائے کسی نہ کسی گروہ میں بھرتی ہوتے رہیں گے۔

ضروری ہے کہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی کی طرف بھی سوچا جائے، اور ترقی کے ثمرات برابری ساتھ پورے ملک میں تقسیم کیے جائیں تاکہ کسی بھی جگہ کے لوگ محروم نہ رہیں۔ اور ایک دفعہ جب ان کی تمام محرومیاں دور ہوجائیں، مجرموں کے پاس موجود جواز اور بہانے ختم ہوجائیں، تو پھر کسی کا مجرم گروہ میں شمولیت اختیار کرنا خالصتاً مجرمانہ ذہنیت کی وجہ سے ہوگا، جس کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔

لیکن کیا حکومت صحت، روزگار، تعلیم، اور دیگر بنیادی ضروریات کو یقینی بنائے بغیر مجرموں کے ان بہانوں کو رد کر سکتی ہے؟ یقیناً نہیں۔ لہٰذا پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے محرومیاں دور کریں، اور پھر اگلا قدم اٹھائیں۔ کیا پتہ ان میں سے کتنے ہی لوگ نارمل زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہوں؟