جوگندر ناتھ منڈل: اچھوت اچھوت ہی رہا

اپ ڈیٹ 11 اگست 2017

جوگندر ناتھ منڈل ایک ایسی شخصیت تھے جن کا انتخاب جناح صاحب نے تقسیمِ ہند سے قبل بھی مشترکہ انڈیا میں بحیثیتِ وزیر مسلم لیگ کی جانب سے کیا تھا اور وہ مشترکہ ہندوستان کے صوبے بنگال میں وزیرِ قانون تھے۔ تقسیم کے بعد 10 اگست کو جب جناح صاحب نے پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا، تو آئین ساز اسمبلی کے اس اجلاس کی صدارت کا اعزاز بھی جوگندر ناتھ منڈل کے حصے میں آیا۔

جوگندر ناتھ کا تعلق ہندو مذہب کے اس طبقے سے تھا جسے اچھوت سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے استاد، نامور محقق و مؤرخ ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق تقسیمِ ہند کے ایک طویل عرصے بعد انہوں نے اپنے لیے لفظ ”دَلِت“ کا انتخاب کیا۔ گاندھی جی نے اچھوتوں کو "ہریجن" کا لقب دیا تھا لیکن وہ اس نام کو قبول کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں تھے۔

مشترکہ ہندوستان کے معروف اچھوت رہنما ڈاکٹر امبیدکر کا خیال تھا کہ گاندھی جی ہریجن کا لقب دے کر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اچھوتوں کو ہندو مذہب میں شامل رکھا جائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ گاندھی جی اچھوتوں سے دھوکہ کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے 3,000 ساتھیوں سمیت بدھ مذہب اختیار کیا۔

تقسیم سے قبل مشترکہ ہندوستان اور اس کے بعد انڈیا پاکستان میں بسنے والے دلِتوں کی معاشی اور سماجی صورتِ حال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی لیکن ایک طویل عرصے بعد انہیں اپنے حقوق کا ادراک بھی ہوا ہے اور وہ اسے منوانے کے لیے جدوجہد بھی کر رہے ہیں۔ بہرحال ہم بات کر رہے تھے جناب منڈل کی جو پاکستان کے پہلے وزیرِ قانون بنے۔

10 اگست 1947 کو جب قائدِ اعظم نے گورنر جنرل کا حلف اٹھانا تھا، تو جناح صاحب کی خواہش تھی کہ اس اجلاس کی صدارت ایک اچھوت اقلیتی رکن اسمبلی جوگندر ناتھ منڈل کریں۔ ان کے اس فیصلے سے اس بات کا اظہار ہوتا تھا کہ جناح صاحب نئی مملکت میں اقلیتوں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

لیاقت علی خان نے اجلاس کی صدارت کے لیے جوگندر ناتھ کا نام تجویز کیا، جبکہ اس کی تائید خواجہ ناظم الدین نے کی۔ جوگندر ناتھ نے بحیثیت صدر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ جناح صاحب کی قیادت میں ملک مزید ترقی کرے گا۔ احمد سلیم اپنی کتاب ”پاکستان اور اقلیتیں“ کے صفحہ نمبر 104 پر اس حوالے سے لکھتے ہیں:

”اقلیتی فرقے کے ارکان میں سے صدر کا انتخاب نئی مملکت کی روشن خیالی کا غماز اور ایک اچھا شگون ہے۔ پاکستان کا وجود بجائے خود برصغیر کی ایک اقلیت کے پیہم اصرار اور مساعی کی بدولت عمل میں آیا۔ میں یہ نکتہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف پاکستان اور ہندوستان بلکہ تمام دنیا کے باشندوں کی نظریں پاکستان کی مجلس دستور ساز پر لگی ہوئی ہیں۔

"مسلمان اپنے لیے الگ مملکت کے طالب تھے۔ اب دنیا یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ مسلمان اقلیتی فرقے کے ساتھ دریا دلی کے ساتھ پیش آتے ہیں کہ نہیں۔ مسلم لیگ کے لیڈروں اور خاص طور پر قائدِ اعظم نے اقلیتوں کو یقین دلایا کہ پاکستان کی اقلیتوں کے ساتھ نہ صرف انصاف اور رواداری بلکہ فراخ دلانہ سلوک روا رکھا جائے گا۔ اقلیتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ مملکت کے وفادار رہیں اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں۔“

1946 میں ہندوستان میں برطانوی راج کے دوران مقامی نمائندوں پر مشتمل جو عبوری کابینہ مقرر کی گئی تھی، اس کے لیے مسلم لیگ کی جانب سے جوگندر ناتھ منڈل کو نامزد کیا گیا تھا۔ یہ ایک بہت بڑی بات تھی کہ ایک جماعت جو مسلمانوں کے حقوق کی بات کر رہی ہے، وہ کابینہ کے لیے ایک ہندو اچھوت کو اپنا وزیر نامزد کرے۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ کانگریس کی جانب سے بھی وزارت کے لیے مولانا ابو الکلام آزاد کو نامزد کیا گیا تھا۔ زاہد چوہدری اپنی کتاب ”پاکستان کی سیاسی تاریخ (جِلد 2) کے صفحہ نمبر 47 پر لکھتے ہیں:

”لیگ (مسلم لیگ) کی طرف سے اچھوت کو شامل کرنے پر کانگریسی رہنماؤں کا جو ردِ عمل تھا سو تھا، لندن میں لیبر حکومت کو اس بات کی تشویش لاحق ہوگئی کہ کہیں کانگریس ناراض نہ ہوجائے اور حکومت سے دستبردار نہ ہوجائے۔ چنانچہ 14 اکتوبر کو لارڈ پیتھک لارنس نے (گورنر جنرل) لارڈ ویول کو لکھا: ”ہمیں اس صورتِ حال کا سامنا ہو سکتا ہے کہ کانگریس عبوری حکومت میں شامل رہنے سے اس بنا پر انکار کر دے کہ اچھوت کو مسلم لیگ کا نمائندہ تصور نہیں کیا جاسکتا۔“ اور جب 15 اکتوبر کو ویول نے لیگ کے پانچ نام شاہِ برطانیہ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے لندن روانہ کیے تو اسی روز پیتھک لارنس نے جواب میں لکھا ”مجھے افسوس ہے کہ میں واقعی یہ سمجھتا ہوں کہ شاہی منظوری حاصل کرنا اس وقت تک ممکن نہ ہوگا جب تک آپ یہ نام نہرو پر ظاہر نہ کر دیں۔ کانگریس کو اچھوت کی شمولیت پر سخت اعتراض ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ حکومت سے دستبردار بھی ہوسکتی ہے۔ اس مرحلے پر شاہ برطانیہ کو ملوث کرنا مناسب نہ ہوگا۔“

مارچ 1949 میں جوگندر ناتھ منڈل نے قرارداد مقاصد کی حمایت کی۔ (یہ وہی قرارداد مقاصد ہے جو آج تک پاکستان کی سیاست کا موضوع ہے۔ ترقی پسندوں کا خیال یہ ہے کہ اس قرارداد کے ذریعے جناح صاحب کے "سیکولر پاکستان" کو ایک مذہبی ریاست کا درجہ دے دیا گیا)۔

اچھوتوں کے لیے جداگانہ انتخابات کے حق کو منوا کر انہوں نے ہندو اقلیت کے اثر کو کم کرنے کی کوشش میں بھی حکومت کا ساتھ دیا۔ اپنی ان وزارتی خدمات کے صلے میں وہ 1950 میں اپنے وزارتی عہدے سے فارغ کر دیے گئے، جس کا انہیں بے حد رنج ہوا۔ رنج ہونا بھی چاہیے تھا۔ سندھی میں ایک مثل مشہور ہے ”جنہن لائے موئا سیں، سے کاندھی نہ تھِیا“ (جن کے لیے مرے تھے، انہوں نے کاندھا تک نہ دیا)۔

قیامِ پاکستان کے بعد نوکرِ شاہی کی گرفت جس طرح اقتدار کے ایوانوں میں زور پکڑتی جا رہی تھی، اس کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ہندوؤں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ضروری تھا۔ تاثر یہ دیا جاتا تھا کہ یہ اکثریتی مسلمانوں کی خواہش ہے کہ غیر مسلموں کے کردار کو محدود کیا جائے کیونکہ ان کی نئی مملکت سے وفاداری مشکوک ہے۔

یہ مفاد پرست نوکر شاہی کی جانب سے غیر مسلموں اور خصوصاً ہندوؤں کے لیے ایک واضح اشارہ تھا کہ حکومتِ وقت کی حمایت اور تائید سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور ان کے لیے پاکستان میں اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔

کتنے معصوم تھے جوگندر ناتھ منڈل۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ کچھ عرصے بعد انہیں پاکستان چھوڑنا پڑے گا۔ دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں جب جناح صاحب کو قائدِ اعظم کا لقب دینے کی قرارداد پیش کی گئی، تو تقریباً تمام ہی اقلیتی ارکان نے اس کی مخالفت کی لیکن جوگندر ناتھ منڈل نے اس کی حمایت کی۔ اور جب جناح کا انتقال ہوا تو انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا کہ:

”تقدیر کے ظالم ہاتھوں نے قائدِ اعظم کو اس وقت ہم سے چھین لیا جب ان کی اشد ضرورت تھی۔“

جناح صاحب کے انتقال کے کچھ عرصے بعد ہی جوگندر ناتھ منڈل پاکستان سے دوبارہ انڈیا منتقل ہوگئے۔ اس کی کیا وجوہات تھیں؟ اس حوالے سے احمد سلیم اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ:

”پاکستان کے پہلے وزیر قانون اور اچھوت رہنما جوگندر ناتھ منڈل نے قدم قدم پر حکومت پاکستان کی تائید و حمایت کی تھی۔ انہیں کچلے ہوئے عوام کا ہیرو ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ 1940 سے جب وہ کلکتہ کارپوریشن میں منتخب ہوئے، وہ مسلم عوام کا ساتھ دے رہے تھے۔ انہوں نے اے کے فضل الحق وزارت اور خواجہ ناظم الدین وزارت (45-1943) کے ساتھ تعاون کیا اور (1946-47) میں مسلم لیگ کے اس وقت کام آئے جب قائدِ اعظم کو متحدہ ہندوستان کی عبوری وزارت کے لیے اپنے پانچ وزیروں کے نام درکار تھے۔

قائدِ اعظم منڈل کو مسلم لیگ کی جانب سے وزیر نامزد کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے قائدِ اعظم کی یہ پیشکش قبول کر کے قائد کی اس حکمتِ عملی کو کامیاب بنایا کہ اگر کانگریس ابو الکلام کو ایک مسلمان وزیر کے طور پر نامزد کر سکتی ہے تو مسلم لیگ بھی ایک اچھوت کو اپنا وزیر مقرر کر سکتی ہے۔

پھر 3 جون 1947 کا اعلان ہوا تو ضلع سلہٹ کے باشندوں کو یہ طے کرنا تھا کہ آیا ان کا ضلع آسام میں شامل رہے گا یا پاکستان کا جزو بنے گا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے ووٹوں کی تعداد میں کچھ زیادہ فرق نہیں تھا، اور اچھوت اقوام کے کافی ووٹ تھے جو استصواب کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے تھے۔ قائدِ اعظم کی ہدایت پر مسٹر منڈل استصواب کے سلسلے میں سلہٹ پہنچے اور فیصلہ پاکستان کے حق میں کر وا کر لوٹے۔“

جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کی سیاست میں بیورو کریسی کا عمل دخل بہت زیادہ تھا۔ وہ کسی بھی ایسے شخص کو بلا لحاظِ مذہب و ملت برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھی جس کے سامنے اسے جوابدہ ہونا پڑے۔ اس لیے انہوں نے ایسے تمام افراد کے پَر مختلف حیلوں بہانوں سے کترنا شروع کیے۔

جوگندر ناتھ منڈل بھی اس کا شکار ہوئے۔ غالباً وہ قیامِ پاکستان کی کابینہ کے واحد وزیر تھے جنہیں ایک بیورو کریٹ نے اس حد تک مجبور کیا کہ وہ نہ صرف وزارت چھوڑنے پر تیار ہوئے، بلکہ ملک ہی چھوڑ گئے۔ اس حوالے سے پیر علی محمد راشدی اپنی کتاب ”رودادِ چمن“ میں لکھتے ہیں کہ:

”چودھری محمد علی مرحوم و مغفور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ انگریزی کی ملازمت میں بسر کرنے کے بعد اب دہلی سے پاکستان تشریف لے آئے تھے اور آتے ہی بحیثیتِ سیکریٹری جنرل مرکز پاکستان میں نوکر شاہی کے معمار اور امام مانے جانے لگے۔ ابھی وہ کابینہ میں محض سیکریٹری تھے (ہنوز وہ سیکریٹری خزانہ، وزیرِ خزانہ، نہ وزیرِ اعظم بنے تھے، ان کی ترقی درجات کا اہتمام بعد میں ہوتا رہا)۔ ان پر(بقول خود) یکایک یہ انکشاف ہوا کہ منڈل کی ملک سے وفاداری مشکوک ہے، جس کے معنیٰ یہ ہوتے تھے کہ چودھری صاحب مرحوم مردم شناس اور وفاداری پرکھنے کے معاملے میں قائد سے بھی زیادہ تیز نظر رکھتے تھے۔

"چنانچہ انہوں نے وزیر منڈل سے کابینہ کے اہم کاغذات چھپانے کی کوشش شروع کر دی۔ یہ بات منڈل سے برداشت نہ ہو سکی۔ وہ خود دار اور انا پرست ہندو سیاست دان تھا۔ تحریک آزادی کے دوران بڑی قربانیاں دے کر اور شدید مشقتیں برداشت کر کے خصوصاً آڑے وقت میں اپنی قوم کے خلاف ہمارے قائد کا ساتھ دے کر وزارت کے اس منصب تک پہنچا تھا، اب وہ کیونکر یہ توہین برداشت کر سکتا تھا کہ کابینہ کا اپنا ملازم اس کے سیاسی کریکٹر اور وفاداریوں کے بارے میں جج بن کر بیٹھے؟ وہ فوراً وزارت چھوڑ چھاڑ کر واپس کلکتہ چلا گیا اور بقیہ عمر وہاں ہندوؤں کے طعنے برداشت کرتا رہا۔“

جوگندر ناتھ منڈل کی قربانیاں، مسلمانوں سے محبت، مسلم لیگ سے وفاداری سب اپنی جگہ، لیکن اس عظیم شخص کے ساتھ ایک بیوروکریٹ نے جو کچھ کیا، وہ اب غالباً تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔

لیکن ہم سمجھتے ہیں اب بھی پاکستان میں بے شمار جوگندر موجود ہیں جو اس وطن سے اپنی دوستی کا ثبوت دیتے دیتے تھک گئے ہیں لیکن کوئی بھی اسے ماننے کے لیے تیار نہیں۔

کیا اچھوتوں کو ماننے کے لیے اور اقلیتوں کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کے لیے پاکستان میں ایک اور جناح کی ضرورت ہے؟

تبصرے (18) بند ہیں

Sameer Khan Jul 08, 2015 04:46pm
بلوچ صاحب کی کیا تعریف کروں؟جو بھی کہوں گا کم ہی ہوگا۔۔۔مجھے آج بھی پاکستان کی سیاست پر یقین نہیں ہے۔مگر یہ قطعاً نہیں پتہ تھا کہ پچھلے وقتوں میں بھی ہماری ریاستوں کے ہیروز کے ساتھ احسان فراموشی کا عمل دوہرایا جاتا رہا ہے۔منڈل صاحب گو کہ اچھوت تھے لیکن انھوں نے پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کیے اور اسی وجہ سے جناح صاحب ان کے ہر عمل کے معترف تھے۔۔مجھے خوشی ہوئی کہ اختر بلوچ اور ڈان ڈاٹ کام کے اس کارِ خیر کی وجہ سے ہمیں اپنے ملک کے چند اچھوت چہروں(جو کہ واقعی اچھوت رہے ہیں) کو جانے کا موقع ملا۔۔۔بہت خوب اختر بلوچ۔۔۔
Asma Ali Jul 08, 2015 04:48pm
بہت عمدہ بلوچ صاحب۔۔۔آپ کے ہر بلاگ کو پڑھ کر ایک نئی چیز اور ایک نئی حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے۔۔۔اس بلاگ سے بھی ہمیں بہت سی حقیقتوں کا سامنا ہوا۔۔۔ہم ڈان ڈاٹ کام اور اختر بلوچ کے آبھاری ہیں۔۔۔
Aamir Khan Jul 08, 2015 04:54pm
جناب بلوچ بھائی مجھے جلن محسوس ہونے لگی ہے اب آپ سے۔۔۔یار آپ کس طرح اتنی ساری ریسرچ کر لیتے ہیں؟؟؟میں بھی پیشے کے لحاظ سے ایک لکھاری ہوں لیکن ہماری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیا جائے۔۔۔؟؟کس بارے میں لکھا جائے؟؟کوئی نئی چیز ہی سامنے نہیں آتی۔۔ ہم تو قلم ہاتھ میں لے کر’’ یاحسین یا حسین ‘‘کرتے رہتے ہیں۔۔ لیکن جب جب ڈان پر آپ کا بلاگ پڑھا، ہمیشہ ایک منفرد چیز سے آشنائی ہوئی۔۔۔بہت عمدہ۔۔۔مولا تینوں خوش رکھے وے بلوچ دیا بچیا۔۔۔
Umer Shahzad Jul 08, 2015 04:57pm
Dear Sir, Brilliant work again...I have started to like you...That's why i am sending you a flying kiss because you made me happy this time...Very informative blog again dear Akhtar...Keep it up...
کھوسو Jul 08, 2015 05:58pm
نچوڑ کر رکھنا اسی کا نام ہے کہ گیلا پن جو ذہنوں میں برقرار ہے آلودگی کی وہ خشک ہو جائے ۔ میں داد دیتا ہوں آپکو جناب جب آپ گلے میں اترنے والے نوالے کو دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ یہ نوالا مکھن والا تو مگر اس میں بال بھی ہیں اور آپ بال نکالنا چانتے ہیں ۔
نجیب احمد سنگھیڑہ Jul 08, 2015 06:29pm
اقلیتوں کو ماننے اور اچھوتوں کو زندہ رکھنے کے لیے جناح کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ضرورت ‘نظریہ پاکستان‘ کا بریکوں فیل پراپیگندہ، لٹریچر، تقاریر، کالمز ۔۔۔۔۔ کو ڈسٹ بن دکھانے کی ہے۔ اور یہ سب تب ہی ممکن ہو گا جب لوگ سر پر کفن باندھ کر نکلیں گے۔
Saleem Baloch Jul 08, 2015 10:14pm
@Aamir Khan جناب عامر خان صاحب کسی بھی تحقیقی مکالہ لکھنے کے لئے کسی جادو کی چھڑی کی ضرورت نہیں بس پڑھنا پڑتا ہے تگ و دو کرنا پڑھتا ہے جتنا علم کا ذخیرہ آتا جائے گا اتنا ہی لکھنے میں وسعت آتی چلی جائے گی
Hussain Jul 08, 2015 10:15pm
Dear Akhtar Balouch aray tumhain ab tak pata nahin chala ke Jinnah(for us quaid-e-azam) ko Pakistan establishment nay 11 august 1947 mein hi achhoot kar diay tha.... Pakistan establishment made Quiad e Azam Mohammad Ali Jinnah an' untouchable' when Chodhry Muhammad Ali censored his policy speech at first constituent assembly of Pakistan as its elected president.
Ali Jul 08, 2015 10:23pm
Baloch saheb ap sirf ak tarikhdaan hi naee balke tarikh k ak sache farshtey bi han jb bi apki blogs parta hon to yahii andaza hota hi k hamare mulki taarikh ka jo haheena ap dekate han wo kitna saf dekate han kash doosre bi apki tara safgo aor hakeekat pasand hote allaha apka umar daraz rake
Razzak Abro Jul 08, 2015 10:53pm
عزیزم اختر بلوچ لکھو، اور لکھو، اور لکھتے رہو۔۔۔شاید کسی پڑھنے والے کے ذہن میں آپ کی تحریر سے سوالات پیدا ہوں اور وہ ان سوالوں کا جواب جاننے کے لیے مزید تحقیق کرے۔۔۔اچھوتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس میں ایک بڑا کردار بری ذات والے ہندوؤں کا بھی ہے۔جو انھیں اپنے مندروں میں آنے نہیں دیتے اور نہ ہی ان کے مندروں میں جانا پسند کرتے ہیں۔جوگندر ناتھ منڈل تو چلے گئے لیکن آج بھی پاکستان میں اقلیتوں کی جو نشستیں مخصوص ہیں، ان پر اچھوت نہیں بلکہ اکثریت میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو سیاسی پارٹیاں نام زد کرتی ہیں۔اس پر بھی کچھ لکھیں۔
prince koul Jul 08, 2015 11:09pm
A fantastic and well researched post by you Mr Baloch. A perfect and high impact ending also. Yes, I think Pakistan did not get a better visionary and secular broadminded leader than Mr Jinnah after he left this world. You require a leader like him.
Muhammad Ayub Khan Jul 08, 2015 11:43pm
barh aadami hamesha barha aadami hota hey----brahman, rajpoot, kashatri ya achoot naheyin hota ------manddal barhaa aadami tha aor her kisi ney usey maana
Ali Jul 09, 2015 06:05am
Akhtar Sahab .. what an article and I think the crux of it all is اب بھی پاکستان میں بے شمار جوگندر موجود ہیں جو اس وطن سے اپنی دوستی کا ثبوت دیتے دیتے تھک گئے ہیں لیکن کوئی بھی اسے ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کیا اچھوتوں کو ماننے کے لیے اور اقلیتوں کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کے لیے پاکستان میں ایک اور جناح کی ضرورت ہے؟ Thank you
Arshad Ali Jul 09, 2015 09:59am
قیام پاکستان کے بعد سے بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار ایسا ہی رہا کہ کتنے ہی منڈل مسلسل پاکستان سے منتقلی کو ہی راہ نجات سمجھنے لگے اور بد قسمتی سے ہمارے رویے اور طرز عمل میں‌ آج بھی کوئی فرق نہیں اور یہ ہجرت کا عمل نسل در نسل جاری و ساری ہے۔
الیاس انصاری Jul 09, 2015 01:00pm
ایک ہندو کو دستورساز اسمبلی کی صدارت اور اس کے بعد وزیرقانون کا منصب دینے کا فیصلہ اقلیتوں کو اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ قائداعظم پاکستان کو مذہبی کی بجائے سیکولر ریاست کے طور پر دیکھتے تھے
Shamss Jul 09, 2015 01:18pm
Mr. Akhtar Baluch's well written article portrays how we reached here.
Umair ahmad Jul 09, 2015 11:06pm
bohet khoob janab...bloch sahib ye jo shamaa app jalaa rehay hain..ik din pakistan main zaror ujala ker de gi...
irfan Jul 15, 2015 12:53pm
Jennah ki ideology ko promote karo, then you will see the equality and justice in the society, now need to work hard to remove extremists from all the positions