نیو-لبرل ڈھونگ

ای میل

فائل فوٹو --.
فائل فوٹو --.

جب نئے فنانس منسٹر اسحاق ڈار نے اس بدھ کو نئی حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا تو میرا دھیان خود بخود ترکی میں پھیلی ہوئی احتجاجی لہر کی طرف مڑ گیا، جو 2002 سے لے کر اب تک اقتدار پر موجود اے کے پی گورنمنٹ کے لئے سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے-

وزیر اعظم ریسپ طیپ اردگان نے اقتصادی ترقی کے طویل دور پر حکومت کی، اور لگاتار تین انتخابات جیتے- لیکن پھر بھی وہ ملک کے جوان متوسط طبقے کے ایک مایوس اور ناطق حصے کے لئے ناپسندیدہ ہیں-

ترکی، دنیا کی تیزی سے ابھرتی مارکیٹوں میں سے ایک، کی حکمران جماعت اور ایک ایسے ملک، میں ابھی اقتدار میں آئی پی ایم ایل-این کے درمیان کیا تعلق ہے؟ جس کے بارے میں خود اس کے وزیر اعظم نے کہا کہ مایوس کن حالت میں ہے-

اصل میں بہت سی باتیں مشترک ہیں- دونوں جماعتیں اسلامسٹس کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہیں، دونون کو ملک کے روایتی مرکزی حصّوں میں جڑیں بناۓ نئے دولتیے تجارتی طبقے کی حمایت حاصل ہے، جن کا یہ ماننا ہے کہ جدید دور میں مسلم معاشرے کو لاحق تمام مسائل کا حل، فری مارکیٹ میں ہے-

ترکی ان تمام اچھی اچھی چیزوں کی مثال بن گیا ہے جو نیو-لبرل ازم سے خریدی جا سکتی ہیں- جبکہ پاکستان، سرمایہ کاروں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بننے کے صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے- اور یہ محض قسمت پر نہیں چھوڑا جا سکتا-

بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو پاکستان کو ترکوں سے سیکھنی چاہییں- سب سے اہم  یہ کہ ریاستی معاملات کو مذہبی معاملات سے الگ رکھنا-

لیکن اس حقیقت سے بھی نہیں ہٹنا چاہیے کہ شریف برادرز اور ان کے حمایتیوں نے ہمیں ترقی کا جو نقشہ دکھایا ہے اور جس کی بنا پر انہیں کامیابی ملی ہے وہ وزیر اعظم اردگان کے نقشے سے زیادہ مختلف نہیں ہے-

اور یہ بھی ہے کہ، پوری دنیا میں کسی حکومت کی کامیابی کا موازنہ اس بات سے کیا جاتا ہے کہ اس کے منصوبہ ساز نیو-لبرل تصور کی کس حد تک نقل کر سکتے ہیں-

یہ ماڈل کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے- بس آپ یہ کریں کہ اپنی مارکیٹ، پوری دنیا کے سرمایہ کاروں کے لئے کھول دیں، خصوصاً مالیاتی-بنکنگ سیکٹر کو ترغیب دے کر ایک دھارے میں شامل کریں، نمایاں اخراجات کو فروغ دیں، اور تعمیراتی صنعت کو کھلی چھٹی دے دیں-

اگر یہ تمام چیزیں اکھٹی ہو جائیں تو پیداواری شرح، آسمان سے باتیں کرنے لگے- بے پناہ پیسا کمایا جا سکتا ہے اور شہر فوری طور پر سیاحوں اور اوپر اٹھتی مڈل کلاس، دونوں کے لئے تسکین آمیز ٹھکانہ بن سکتے ہیں-

لیکن اس ماڈل کی پارہ صفت فطرت کی وجہ سے، ذرا سی بھی سیاسی لغزش، سرمایہ جنگ، لگاۓ گۓ سرماۓ کے اخراج تک لے جا سکتی ہے- جو آگے جا کر مالیاتی بحران میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے-

اور تب آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) اپنے زخمی شکار پر نازل ہوگا- مالیاتی غیر ذمہ داری، نا قابل برداشت بجٹ خسارے اور سرمایہ کاروں کی عدم اعتمادی کے سبق دہراۓ گا- 2001 میں ترکی کی اقتصادی حالت کم و بیش ایسی ہی تھی-

ماہرین اس بات کی تنبیہ کر رہے ہیں کہ اگر یہ احتجاجی مظاہرے اسی طرح چلتے رہے تو حالت پھر ویسی ہی ہو جاۓ گی-

سوال وہیں رہ جاتا ہے کہ آخر کس طرح محفوظ بنیادوں پر استوار کی گئی کامیابی، اتنی تیزی کے ساتھ ناکام ہو سکتی ہے؟

اس نیو-لبرل جنّت یا جہنم میں، انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس سائیڈ پر ہیں؟

کسی زمانے میں بنیادی اہمیت کے حامل مسائل، جیسے بیروزگاری اور عدم مساوات کومکمل طور پر ایک جانب کر دیا گیا ہے- بیشک ترکی یورو زون (جس کا ترکی حصّہ بننے کا خواب دیکھ رہا ہے) کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ عدم مساوات کو فروغ دینے والا ملک ہے-

اسکا ریونیو اسٹرکچر، دنیا کے دوسرے حصّوں کی طرح جارحانہ ہے- بالواسطہ  ٹیکسوں کا ایک بڑا تناسب موجود ہے- اس دوران ترکوں کو ہماری طرح نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کا سامنا ہے-

اور انہیں اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ وہ پیداوار جس کی بنیاد تمام چیزوں کی مالیاتی حیثیت بڑھانے پر رکھی گئی ہو، وہ صرف بڑھتی ہوئی ہنرمند جوان آبادی کے لئے روزگار کے مواقعوں کی کمی سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال ہو رہی ہے-

شریف خاندان بھی اقتدار میں، بلکل ااسی طرح پنجاب کے شہری مڈل کلاس نوجوان طبقے کی حمایت کے ذریعہ آئی ہے، جو دوسرے سماجی حصّوں کے مقابلے میں، مشرّف دور میں نیو-لبرل ماڈل کو مکمل اختیار کرنے کے بعد سے اب تک اقتصادی تحریک سے بھر پور لطف اندوز ہوتے رہے ہیں-

ٹھیک اسی طرح، پی ایم ایل-این بھی اکثریتی جمہوریت سے فائدہ اٹھا رہی ہے، جیسے اے کے پی نے اپنی جڑیں گنجان آباد اناتولین، ترکی کے ہارٹ لینڈ میں مضبوط کر لیں-

لیکن ایک ایسے دور میں، اکثریتی جمہوریت ایک سنگین مسئلہ ہے- جہاں، دائیں بازو کے عوامی نعرے صرف وقتی طور پر بینک دیوالیہ، مطلب سرمایہ دارانہ نظام سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال ہوں-

جلد یا بدیر بلّی تھیلے سے باہر آجاۓ گی اور عوامی شہرت کا یہ سراب دھندلا جاۓ گا-

جیسا کہ یہ پتا چلا ہے کہ شریف برادران، خاص طور سے چھوٹے والے بھائی صاحب، اے کے پی اور اردگان کے زیادہ مداح ہیں- لاہور میٹرو بس منصوبہ، حالیہ اقدامات میں پہلا منصوبہ نہیں ہے جو بھاری بھرکم ترکش سرمایہ کاری (اقتصادی یا دیگرے) سے مماثلت رکھتا ہو-

اب چونکہ پی ایم ایل-این مرکز میں اقتدار پر آچکی ہے، تو ملک میں ترکش ماڈل اور سرمایہ کاری دونوں نمایاں ہونگی-

اپنی اصلیت کے حوالے سے، پی ایم ایل-این فخریہ طور پر بجٹ کو "سرمایہ کاری اور کاروبار دوست" کہتی ہے- اور کچھ نہیں تو ہم اس بات کا یقین کرنا چاہتے ہیں کہ جس سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع، جن کے فروغ کے لئے حکمران کوشاں ہیں فقط پنجاب تک محدود نہیں رہیں گے-

ایک ملک گیر سڑک کے انفرااسٹرکچر کے تعمیر کی باتیں ہو رہی ہیں، جو کہ وسیح پیمانے پر نیو-لبرل منصوبوں کے لئے بلکل مناسب ہوگی- اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا ایسے اقدامات کے لئے سیاسی اوّلیت کا بھی دھیان رکھا جاۓ گا؟ خصوصاً مایوس بلوچستان میں-

اپنے آخری مشاہدے میں ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم معاشیات کی کتابوں میں جو کچھ پڑھتے ہیں، نیو-لبرل ازم کا اطلاق اس سے یکسر مختلف ہے-

ہم عصر مارکسسٹ ماہر نظریات، ڈیوڈ ہاروے نے اس بات پر بار بار اصرار کیا ہے کہ نیو-لبرل ازم کو نظریات کی حیثیت سے نیو-لبرلائیزیشن کی مشقوں سے الگ رکھا جاۓ-

اول الذکر ریاستی مداخلت کے بغیر ہمسر مارکیٹوں کا بہترین نمونہ ہے، جبکہ آخر الذکر میں ایسی مارکیٹیں آتی ہیں جن میں ریاست کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے اور انکی حیثیت سیاسی ہوتی ہے-

ہاروے اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ نیو-لبرل دور کی لعنت کو لالچی سرمایہ کار بینکروں اور بد عنوان اعلیٰ حکام کی ذاتی خواہشات سے منسوب نہیں کیا جا سکتا- اس کے بجاۓ نیو-لبرلائیزیشن کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے اندر بڑھتے ہوے تضاد کا نتیجہ ضرور کہا جا سکتا ہے-

یہ نظام اس لئے چل رہا ہے کیوں کہ اس نے ابھی ایک پختہ سیاسی چیلنج کا سامنا کرنا ہے- ایک ایسی نظام مخالف قوت تیار کرنے کی ضرورت ہے جو نیو-لبرل فریب کو بے نقاب کر سکے کہ آخر اس کی حقیقت کیا ہے-


مصنف قائد اعظم یونیورسٹی ، اسلام آباد میں پڑھاتے ہیں

ترجمہ : ناہید اسرار