پی ٹی آئی کی شکست کی پانچ وجوہات

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2015

ای میل

تحریکِ انصاف اب بھی شہری پنجاب سے نہیں جیت رہی، تو وہ اگلے ڈھائی سال تک کوئی بھی قومی انتخابات نہیں جیت سکتی۔
تحریکِ انصاف اب بھی شہری پنجاب سے نہیں جیت رہی، تو وہ اگلے ڈھائی سال تک کوئی بھی قومی انتخابات نہیں جیت سکتی۔

جس بھی غیر جانبدار محقق کی این اے 122 کے انتخابات پر نظر تھی، اسے معلوم تھا کہ تحریکِ انصاف اور ن لیگ کے درمیان یہاں ایک سخت مقابلہ ہوگا، مگر ن لیگ نے یہ الیکشن اتنا نہیں جیتا جتنا تحریکِ انصاف نے ہارا۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے جی توڑ مقابلہ کیا مگر آج ن لیگ کے قریب ووٹ حاصل کرنے کا مطلب کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ رائے عامہ ہفتوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ آپ میں سے جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس ہار کی وجہ دھاندلی کے علاوہ اور کچھ ہے، تو جان لیں کہ تمام کلیے انتخابی مہم کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مئی 2013 سے اب تک کافی وقت گزر چکا ہے اور اب تک حکومت کی کارکردگی اور دھرنوں کے اثرات کے باعث چیزیں ن لیگ کے خلاف ہونی چاہیے تھیں (1990 کی دہائی یاد ہے؟ حکومت کی دو سال کی مدت اب تقریباً پوری ہوچکی ہے)۔

تحریکِ انصاف نے اپنی پوری طاقت شہری لاہور میں جیتنے کے لیے صرف کر دی ہے۔ اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اگر تحریکِ انصاف ایک مضبوط تیسری قوت بننا چاہتی ہے تو اسے ان جگہوں سے جیتنا ہوگا جہاں شہری، تعلیم یافتہ نوجوان ان کی حمایت کریں۔

سادہ الفاظ میں کہیں تو اگر تحریکِ انصاف اب بھی شہری پنجاب سے نہیں جیت رہی، تو وہ اگلے ڈھائی سال تک کوئی بھی قومی انتخابات نہیں جیت سکتی۔

تحریکِ انصاف کی انتخابی مہم ناکام ہونے کی پانچ وجوہات

1۔ دوسروں پر حملہ ہمیشہ کارگر ثابت نہیں ہوتا

تحریکِ انصاف نے ایاز صادق کو اس قدر مطعون کیا کہ انہیں سیاسی شہید بنا ڈالا۔ اس کے جواب میں ایاز صادق نے وقار کا مظاہرہ کیا۔ ایسا ہوتا ہے کہ آپ اپنی مہم ایسے نقطے تک لے جاتے ہیں جہاں وہ آپ کے خلاف کام کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اور اس کے اثرات تب واضح ہوتے ہیں جب آپ کے مخالف کے ووٹر بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آ پہنچیں۔

2۔ امیدوار منتخب کرنا انتخابات جیتنے کے لیے نہایت اہم ہے

یقیناً تحریکِ انصاف نے ڈھائی سالوں میں کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔ انتخابی مہم میں دوسروں پر حملے سے لوگ آپ کے مخالف سے نفرت تو کرنے لگتے ہیں، مگر پھر آپ سے اونچی امیدیں بھی وابستہ کر لیتے ہیں۔ آپ کے ووٹر یہ چاہتے ہیں کہ آپ میں وہ اقدار موجود ہوں جو آپ کے مطابق آپ کے مخالف میں موجود نہیں ہیں۔

اس لیے اگر آپ ایسی کوئی مہم چلانا چاہتے ہیں تو پھر امیدوار اچھے کردار کے مالک کسی مرد یا عورت کو رکھیں (پھر بھلے ہی وہ زیادہ مشہور نہ ہو)، بجائے اس کے کہ مشہور مگر متنازع امیدوار کو کھڑا کیا جائے۔

3۔ ایک حقیقی انتخابی مہم چلائیں جو آپ کے امیدوار کے گرد گھومتی ہو

صرف اسٹیٹس کو کے خلاف ہونا کافی نہیں ہوتا۔ سست ووٹر علیم خان کو صرف تحریکِ انصاف کی ن لیگ مخالف مہم تک ہی جانتے تھے، اس سے زیادہ نہیں۔ مہم کو لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی وجہ دینی چاہیے، نہ کہ صرف کسی کے خلاف ووٹ دینے کی۔

4۔ اپنا گھر ٹھیک کریں

سب سے ہلاکت خیز بات یہ ہے کہ آپ کے امیدوار اور آپ کی جماعت کی اقدار میں کوئی مطابقت نہ ہو۔ اگر آپ کے امیدوار کے اندر وہ اقدار موجود نہیں (یا سامنے نظر نہیں آتیں) جن کا آپ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، تو ووٹر آپ کی اخلاقیات پر ضرور سوال اٹھائیں گے۔

مجھے اس بات کا جواب دیں کہ کیا تبدیلی کی حقیقی علمبردار ہونے کی حیثیت سے کیا تحریکِ انصاف کے ووٹر آج بھی پارٹی کے ساتھ ہیں جیسے تین سال پہلے تھے؟ وہ پارٹی کے ساتھ نہیں ہیں اور پارٹی کی اندرونی سیاست اس کی بنیادی وجہ ہے۔

5۔ میڈیا کو الزام مت دیں

اگر آپ نے میڈیا کا درست استعمال نہیں کیا تو یہ آپ کی غلطی ہے۔


یہ ایک کامیاب انتخابی مہم کے لیے درکار صرف چند نکات ہیں جن پر تحریکِ انصاف نے عمل نہیں کیا تھا۔ یہ مقابلہ ایاز صادق اور علیم خان کے درمیان نہیں تھا بلکہ یہ تحریکِ انصاف کے راست بازی اور انتخابی دھاندلی کے شیطان کے درمیان تھا۔

ایک حلقے میں جیت کو اپنی پارٹی کے پیغام کی کامیابی کے طور پر پیش کرنا ایک غلط روایت ہے۔ ایک انتخابی مہم کے لیے یہ بہت بڑا دباؤ ہے اور الیکشن ویسے بھی صحیح اور غلط کے بجائے اعداد و شمار پر زیادہ منحصر ہوتے ہیں۔

اگر اسے ایسا پیغام بنا کر پیش کیا جائے تو جیتنا مشکل ہوتا جاتا ہے اور ایک حلقے سے ہارنے کی صورت میں آپ کے مکمل مقصد پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔

چھوٹی چھوٹی فتوحات مقاصد کو زندہ رکھتی ہیں، شکستیں نہیں۔ چھوٹی فتوحات ہی حامیوں کے جوش کے لیے اور ووٹروں کو قائل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

اور آخر میں یہ امید کہ انتخابی مرحلے میں تبدیلی (انتخابی اصلاحات) سے انتخابی نتائج مختلف آنے لگیں گے، ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا۔ خاص طور پر تب جب پارٹیاں وہ امیدوار منتخب کریں جن کے پیچھے چلنا عوام کو پسند نہ ہو۔

مرحلے اور قوانین کچھ تبدیل نہیں کرتے۔ یہ صرف زبردستی اثرانداز ہونے سے روکنے کے لیے ہوتے ہیں۔ مگر بغیر زبردستی بھی ایسے ہی نتائج آئیں تو؟

اس کے بجائے انتخابی مہم نتائج پر درست معنوں میں اثرانداز ہوتی ہے۔ انتخابی مہم میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ عوام کی پسند ناپسند کو تبدیل کر سکے۔ مگر یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ ووٹر کو آپ کو ووٹ دینے کے لیے کتنی اچھی وجہ فراہم کر سکتے ہیں۔

انگلش میں پڑھیں۔