تعصب ہمارے نصاب میں

اپ ڈیٹ دسمبر 10, 2015 12:18pm

Email


Your Name:


Recipient Email:


سوچنے کی بات ہے کہ ہماری نصابی کتب میں بچوں کو اختلافی مسائل پڑھانے کی ضرورت ہی کیا ہے اور ان کے پیچھے کیا مقاصد موجود ہیں۔ — اے ایف پی۔
سوچنے کی بات ہے کہ ہماری نصابی کتب میں بچوں کو اختلافی مسائل پڑھانے کی ضرورت ہی کیا ہے اور ان کے پیچھے کیا مقاصد موجود ہیں۔ — اے ایف پی۔

جس ملک میں نصابی کتب میں نفرتوں، قانون شکنیوں اور کدورتوں کی بھرمار ہو، جس ملک میں خود اساتذہ تعصبات کی عملی تصویر ہوں، دانشور و میڈیا تجزیہ کرتے ہوئے مذہبی، لسانی، قومیتی اور فرقہ وارانہ ترجیحات کو اولیت دیتے ہوں اور ریاستی ادارے بھی انہی تعصبات کو مقدم رکھیں، وہاں بھلا قومی ایکشن پلان کیونکر کامیاب ہو سکتا ہے؟

دنیا بھر کے تعلیمی ماہر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اگر آپ کی اسکول کی تعلیم بردباری، قانون کی حاکمیت، جدیدیت اور رنگا رنگی (diversity) کی ترویج نہیں کرتی تو آپ کی نئی نسل کنفیوژن، لاتعلقی اور آزادی کے دھوکے میں غلطاں ہو کر اپنی ہی صورت بگاڑ لیتی ہے۔ بالعموم جنوبی ایشیاء اور بالخصوص پاکستان ایسی ہی صورتحال کا شکار ہے۔

میں گذشتہ 10 سال سے پاکستان کے تعلیمی بندوبست پر کام کر رہا ہوں۔ 2007ء میں ایک قومی کمیشن (2010-1998 کی تعلیمی پالیسی کا وسط مدتی جائزہ) کے ساتھ بطور محقق کام کرتے ہوئے مجھے 1947ء سے تادم تحریر 13 سے زیادہ سرکاری تعلیمی دستاویزات تفصیل سے پڑھنے کا موقع ملا۔ 2010ء اور 2015ء میں دو بار میں نے سرکاری سطح پر چھپنے والی نصابی کتب کا جائزہ لیا اور پانچ مضامین یعنی اُردو، انگریزی، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور اخلاقیات کی دسویں جماعت تک نصابی کتب کو جستہ جستہ پڑھا۔

اس دوران نجی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی انہی مضامین کی کتب کو بھی دیکھا جن میں اشرافیہ (Elite) کے اسکولوں سے لے کر 200 روپے سے کم فیس والے اسکول بھی شامل تھے۔ علاوہ ازیں 2009ء سے تسلسل سے سرکاری و نجی اسکولوں میں جا کر اساتذہ اور دیگر عملے سے ملاقاتیں بھی کیں اور تعلیمی ماحول کا جائزہ بھی لیا۔

1980ء کی دہائی سے ہم تعصبات اور نفرتوں سے لیس جو نسل تیار کر رہے ہیں، ان میں سے بیشتر آج پاکستان کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں مختلف حیثیتوں میں براجمان ہیں۔ وہ اگر عورتوں اور اقلیتوں کے خلاف ہیں تو یہ وہ سبق ہے جو وہ اپنے اپنے اسکولوں سے لے کر آئے ہیں۔ میں 1970ء سے 1980ء تک لاہور کے ایک سرکاری اسکول میں پڑھا، مگر مجھے دسویں جماعت تک یہ معلوم نہ تھا کہ میری کلاس میں کس کس مسلم مکاتب فکر (فرقہ) تعلق رکھنے والے طالب علم ساتھی پڑھ رہے ہیں۔

مگر جو بچے 1990ء میں سرکاری و نجی اسکولوں میں پڑھ رہے تھے انہیں اس بات کا ادراک بھی تھا اور ان میں فرقہ وارانہ جراثیم بھی بدرجہ اتم موجود تھے۔ میں نصابی کتب میں تعصبات کے حوالہ سے کچھ مثالیں پنجاب کریکلم و ٹیکسٹ بک بورڈ کی 15-2014 کی کتب سے دوں گا تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ ہم اپنے بچوں کو آج کے دور میں بھی کیا پڑھا رہے ہیں۔

2010ء تک سرکاری سطح پر تعصبات پر مبنی کتب چھاپنے کا فریضہ مرکزی کریکلم ونگ، وزارتِ تعلیم اسلام آباد تن تنہا ادا کرتا تھا مگر 18 ویں ترمیم کے بعد یہ بوجھ چاروں صوبوں کے ٹیکسٹ بک بورڈ اٹھا چکے ہیں۔ پنجاب میں تو پھر بھی 2010ء کے بعد غیر مسلموں کے لیے اسلامیات کے بجائے اخلاقیات کی کتب چھاپنے سمیت نصابی کتب میں کچھ قابل قدر اضافے بھی ہوئے ہیں مگر بالعموم نجی و سرکاری نصابی کتب میں تعصبات کی بھرمار تاحال ہمارا منہ چڑا رہی ہے۔

یہ تعصبات دیہی زندگی کے خلاف بھی ہیں اور مذہبی، فرقہ وارانہ تعصبات بھی ہیں۔ جن انتہاپسندیوں کے خلاف لڑنے کا مصمم ارادہ قومی ایکشن پلان میں سیاسی اور عسکری قیادتوں نے کیا ہے، ان تعصبات کی نصابی کتب میں موجودگی اس ارادہ کی کاٹ ہے۔ آپ چند ایک مثالوں کا خود جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ہماری نصابی کتب میں کیا درج ہے۔ مطالعہ پاکستان ساتویں جماعت، ص 57 اور مطالعہ پاکستان آٹھویں جماعت، ص 70 پر ہندوﺅں کے خلاف یہ تحریریں موجود ہیں۔

ہم اپنی نصابی کتب کے ذریعے نوخیز ذہنوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ ہندو عیار تھے، مسیحی مسلمانوں کے دشمن تھے تو پھر پاکستان میں بسنے والے لاکھوں ہندو اور مسیحی کیونکر پاکستانی قومیت کاحصہ بنیں گے۔ یہی نہیں بلکہ جو مسلمان بچہ ہندوﺅں اور مسیحیوں سے نفرتوں کو جزوِ ایمانی بنا لے گا، اسے تو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی طرف دھکیلنے کے لیے کسی بھی انتہاپسند گروہ کو زیادہ تردد ہی نہیں کرنا پڑے گا۔

مذہبی منافرت پھیلانے کا کھیل انتہائی خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ اس کے بطن سے فرقہ واریت جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نصابی کتب میں مذہبی منافرت یعنی دوسرے مذاہب کی مخالفت بھی موجود ہے اور خود مسلم مکاتب فکر کے خلاف مواد بھی ہے۔ دوسری جماعت کی اُردو کی کتاب کے سبق نمبر 1، ص 95 تا 97 میں لکھا ہے کہ مسلمان دو عیدیں مناتے ہیں۔ یہاں عیدِ میلاد النبی ﷺ کا ذکر ہے ہی نہیں۔ تیسری جماعت میں اسی بچے نے عید میلاد النبی ﷺ کے بارے میں ایک سبق بھی پڑھا۔ جبکہ ساتویں جماعت، سبق نمبر 19، ص 106 میں لکھا ہے کہ ہم عیدالفطر، عیدالاضحیٰ اور عید میلادالنبی ﷺ مناتے ہیں۔

اسی طرح مطالعہ پاکستان ساتویں جماعت 7 کے ص 79 اور ص 106 پر دو الگ الگ واقعات لکھے ہیں جنہیں مسلمانوں کے باہمی اتحاد کے خلاف باآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایک واقعہ بہادر شاہ اوّل کے دور کا ہے، جب خطبہء جمعہ اور اذان میں مسلکی بنیاد پر تبدیلی کی گئی تھی، تو دوسرا واقعہ ٹیپو سلطان کے دور کا ہے۔ 2009ء تک تو اس واقعے میں مسلک کا نام بھی لکھا جاتا تھا۔ اس کی نشاندہی میں نے 2010 میں چھپنے والی اپنی رپورٹ میں کی تھی۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ مذہبی منافرت اور فرقہ واریت پر مبنی واقعات کو نوخیز ذہنوں سے کچی عمر میں متعارف کروانے کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔

اسی دوران مجھے اشرافیہ کے اسکولوں میں پڑھائی جانے والی ساتویں جماعت کی کتاب بھی مل گئی جس میں بچوں کو جنگِ جمل سے متعارف کروایا گیا تھا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ یہ واقعات درست ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ نوخیز ذہنوں کو کچی عمروں میں ان اختلافی واقعات سے متعارف کروانے کے مقاصد کیا ہیں۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ دسویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں ص 15 پر افغان جنگ کی عظمتیں گنوائی گئی ہیں۔

جو مخصوص ذہنی رجحان ہم ان نصابی کتب سے پروان چڑھا رہے ہیں اس کی سب سے خوفناک مثال مفکر پاکستان علامہ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد کا غلط اور گمراہ کن ترجمہ ہے جو نویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی کتاب کے ص 11 پر چھپا ہوا ہے۔ اس کی نشاندہی میں نے2010 اور 2015 کی رپورٹوں میں کی تھی۔

(علامہ محمد اقبال کے خطبہ الٰہ آباد کا مکمل متن کولمبیا یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر بحوالہ اقبال اکیڈمی لاہور کی شائع کردہ کتاب Speeches, Writings, and Statements of Iqbal محفوظ ہے۔)

کتاب میں درج خطبہ الٰہ آباد کے اصلی متن میں ”اسلامی ریاست“ کی اصطلاح استعمال ہی نہیں کی گئی جبکہ اس کے ترجمے میں یہ تبدیلی کر دی گئی۔ یقیناً نصابی کتب لکھنے اور انہیں تیار کروانے والے علامہ اقبال اور قائد اعظم سے بھی زیادہ ”عقلمند“ ہیں اور وہ اپنے رہنماﺅں کے بیانات میں ترمیم و اضافہ کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

2010ء میں جب میں نے پہلی بار پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی نصابی کتب کا جائزہ لیا تھا تو اس میں 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں منظور کردہ تاریخی قرارداد پاکستان کے غلط و گمراہ کن ترجمے کی نشاندہی کی تھی۔ ثبوت کے لیے میں نے مینار پاکستان جا کر اصل عبارت کی نقل بھی چھاپی تھی جو 1966ء میں نصب کی گئی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ بورڈ نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور آج کل پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب میں اصل قرارداد ہی چھاپی جاتی ہے۔ مگر یہ رویہ جس کے تحت ہم نصابی کتب میں تعصبات ڈالتے ہیں، بذات خودہمارے بچوں میں انتہا پسندیوں کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

آٹھویں جماعت کی اسلامیات کی کتاب کے ص 36، 48 اور 51 پر امر بالمعروف، جہاد اور اتحاد ملی کے حوالے سے سرخیاں دی گئیں ہیں۔

نصاب میں ان باتوں کی شمولیت سے اختلاف نہیں مگر بچوں کو یہ بتاتے وقت کہیں آئینِ پاکستان کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ یہ بات کہیں نہیں لکھا گیا کہ جہاد کا اعلان ریاست کی ذمہ داری ہے۔ امر بالمعروف کی ضمانت آئینِ پاکستان دیتا ہے اور امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کے نام پر کسی بھی گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، مگر یہاں بھی یہ ذکر بوجوہ نہیں ہے۔ اتحاد ملی کا ذکر کرتے ہوئے آپ اس حقیقت سے بچوں کو متعارف نہیں کروا رہے کہ ملت (Community) اور قوم (Nation) یا وطنی ریاست (Nation State) میں کیا فرق ہوتا ہے۔ پاکستان ایک وطنی ریاست ہے اور بطور وطنی ریاست اس کے مخصوص مفادات ہیں۔

یہ کتب پنجاب، سندھ، خیبر پی کے، بلوچستان ہر جگہ موجود ہیں۔ نجی اسکولوں کی کتب میں بھی ایسے تعصبات کی مثالیں جا بجا موجود ہیں۔ 2009ء کی تعلیمی پالیسی کے بعد ہر صوبے کے ٹیکس بک بورڈ کو غیر مسلموں کے لیے اخلاقیات کی کتب چھاپنی تھیں مگر ماسوائے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کسی نے یہ کام تاحال نہیں کیا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے ایک حکم نامے کے ذریعے بورڈ کو قومی ایکشن پلان سے ہم آہنگ کتب چھاپنے کی ہدایات بھی جاری کیں مگر تاحال پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ اگر ہم نصابی کتب سے تعصبات کا خاتمہ نہیں کر سکتے تو پھر قومی ایکشن پلان پر بیان بازی محض پاجامہ ادھیڑ کر سیا کر تک ہی محدود رہے گی۔ کیا ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ 2016ء میں پاکستانی بچے تعصبات سے پاک کتب پڑھیں؟