Email


Your Name:


Recipient Email:


2015: پاکستان کرکٹ کے 8 یاد گار لمحات

زندگی لمحات کا مجموعہ ہے جیسے کرکٹ کیریئر گیندوں کے ساتھ کھیلنے سے مکمل ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگ ہمارے اردگرد کی دنیا کو ایک شکل دینے کے لیے بڑا کردار ادا کرتے ہیں جس کے لیے ہر کسی کو اپنے دائرہ کار میں خاص مقام حاصل ہے۔ کبھی کبھی صرف ایک گیند کا اثر ہی بہت گہرا ہوتا ہے تو جو انمٹ نشان چھوڑ جاتا ہے، سنچری، ڈبل سنچری اور داد جو تاریخ کا انمٹ حصہ ہوتی ہے لیکن عارضی طور پر بھولے ہوئے اس حصے کو زندہ کرنے کے لیے صحیح سمت اٹھایا گیا قدم راستہ ہموار کرتا ہے۔ وقت اور حالات کے پہلوؤں میں بھولے ہوئے یہ واقعات ایک اننگز، ایک کیریئر، ایک کرکٹ ٹیم یا صرف بذات خود زندگی کی حقیقت بن جاتے ہیں۔

سرفراز دھوکا نہیں دے گا

7 مارچ2015 (ایڈن پارک، آکلینڈ، نیوزی لینڈ)

ڈیل اسٹین میچ کی پہلی گیند پھینکنے کے لیے دوڑنا شروع کرتے ہیں، سامنے سرفرازاحمد ورلڈ کپ میں اپنی پہلی گیند کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ میں پاکستان کا پانچواں مقابلہ تھا جو مارو یا مرجاؤ کے مترادف تھا ،اس سے قبل سرفراز کوٹیم میں شامل کرنے کے لیے عوام اور میڈیا کا دباؤ ٹیم انتظامیہ خصوصاً کوچ وقار یونس پر بڑھ گیا تھا جنھوں نے اسے قبل وکٹ کیپر بلے باز کو موقع نہ دیے جانے پر کئی بہانے تراشے تھے۔

اور وہ یہاں اس دور کے بلاشبہ بہترین فاسٹ باؤلر کا سامنا کررہےتھے جبکہ ان کے تجربہ کار ساتھی احمد شہزاد دوسرے اینڈ سے میچ کی پہلی گیند کو دیکھ رہے تھے لیکن سرفراز احمد یہاں صرف کھڑے نہیں تھے بلکہ جنوبی افریقہ کے بڑے اور تیز ترین باؤلر کے لیے کریز سے تقریباً دو فٹ باہر کھڑے تھے اور اس وقت سرفرازاحمد کم ازکم اپنے ذہن میں ایک ہیرو تھے، ساڑھے سات گھنٹے بعد وہ جارحانہ 49رنز اور ون ڈے کرکٹ کے ایک میچ میں ریکارڈ 6کیچز لینے پر میچ کے بہترین کھلاڑی منتخب ہوئے۔

سرفراز پھر لاکھوں لوگوں کے دلوں پر راج کرنے لگے۔

فاسٹ اینڈ فیورس(آندھی اور تندی)

20مارچ 2015(ایڈیلیڈ اوول، ایڈیلیڈ،آسٹریلیا)

وہاب ریاض بھرپور انداز میں دھاڑتے ہوئے شین واٹسن کی طرف بڑھے جو پہلے ہی وقت کا بہترین اسپیل بن چکا تھا۔ انھوں نے پہلے ہی ڈیوڈ وارنر اورکپتان مائیکل کلارک کو پویلین بھیجا تھا۔ وہ خوش قسمت تھے جو کچھ دھول اڑاتی گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد آؤٹ ہو کر واپس جا چکے تھے لیکن ان کے ساتھی واٹسن خون کی پیاسی 12گیندوں پر صرف 2رنز بنا کر جانبر ہوئے، ان میں سے ایک بازو کے اوپر سے سلپ سے ہوتے ہوئے گزر گئی۔

وہاب 150کلومیٹر فی گھنٹے سے زائد کی حامل ایک اور گیند کو بلے باز کے کان کو نشانہ بناتے ہوئے، شاٹ کھیلنے کیلئے بے چین واٹسن نے بے خوابی کے عالم میں اسے کھیلنے میں کامیاب رہے، گیند فضا میں بلند ہوتی ہوئی فائن لیگ میں گئی جہاں آسان ترین کیچ ہو سکتا تھا لیکن راحت علی اس گیند کو تھامنے میں ناکام رہے۔

واٹسن نے نہ صرف اس آندھی کا سامنا کیا بلکہ 64 رنز بنا کر جیت کے ساتھ واپس ہوئے اور پاکستان کو ورلڈکپ کے کوارٹر فائنل سے باہر کردیا۔

یاسر بمقابلہ سنگاکارا

17جنوری 2015(گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم، گال ، سری لنکا)

یاسر شاہ سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں چوتھا اوور کررہے تھے، وہ اس میچ سے قبل آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل کر چکے تھے لیکن انھیں سری لنکا سے بالکل مختلف چیلنج درپیش تھا۔ وہ اپنی زندگی میں پہلی دفعہ عظیم کھلاڑی کمارسنگاکارا کو باؤلنگ کررہے تھے ، سنگاکارا نے لیگ اسپنر کی پہلی دس گیندوں پر محتاط انداز میں تین رنز بنائے تھے۔

سنگا کارا نے کریز سے نکل کر کو پار کرتے ہوئے اپنے بلے کو شارٹ لیگ کی طرف گھمایا، وہاں موجود اظہر علی دونوں ہاتھوں گیند تک لے کر آئے لیکن کیچ پکڑنے میں ناکام رہے، یوں سنگاکارا بچ گئے لیکن اس پہلی مڈبھیڑ میں یاسر نے سری لنکا کے سب سے تجربہ کار اور اہم بلے باز پر اپنی برتری ثابت کردی تھی۔ یاسر نے دوسری اننگز میں اپنے شکار کو اچکنے میں کامیاب رہے اور پھر اگلے ٹیسٹ دوبارہ وکٹ لی۔ دونوں دفعہ شارٹ لیگ پر اظہر علی نے کیچ تھاما جبکہ آخری مرتبہ عظیم ترین سری لنکن بلے باز پہلی ہی گیند پر گولڈنگ ڈک پر پویلین لوٹے۔

کمارسنگارا چار اننگز میں یاسر کے خلاف صرف 32 رنز بنا سکے جہاں سیریز میں ان کی مجموعی اوسط 25 رنز کی رہی۔ یاسر پاکستان کی تاریخ میں تیز ترین50وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی بن گئے اور اس سیریز کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔

پاکستان نے 9سال بعد سری لنکا کے خلاف اسی کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں فتح حاصل کی۔

مزید ریکارڈ یونس خان کے نام

7جولائی 2015(پالی کیلے، کینڈی ، سری لنکا)

جیہان مبارک نے کریز پر مرد آہن کی طرح ڈٹے مصباح الحق کو راؤنڈ دی وکٹ آ کر گیند پھینکی جنہوں نے بلا توقف کے گیند کو باؤلر کے اوپر سے فضاؤں کی سیر کراتے ہوئے خالی اسٹینڈ میں جا پھینکا۔ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے مصباح کو وکٹ کے دوسرے اینڈ پر موجود یونس خان نے مبارکباد دی جو پاکستان کی جانب سے زیادہ چھکے لگانے والوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

مجموعی طورپر 79 سال کی عمر کے حامل دونوں کھلاڑی ناقابل شکست 127رنز کی شراکت جوڑ کر پویلین واپس لوٹے۔ دونوں نے پاکستان کو محض تین وکٹوں کے نقصان 328 رنز کے ہدف تک رسائی دلائی جو پاکستان کا ہدف کے تعاقب میں سب سے بڑا اسکور جبکہ چوتھی اننگ میں پاکستان کا اب تک کا چوتھا بڑا اسکور بھی ہے۔ یہ کرکٹ کی تاریخ میں ہدف کے تعاقب کا چھٹا بڑا اسکور بھی ہے۔

یونس خان کے 171رنز ناٹ آؤٹ چوتھی اننگز میں پاکستان کی جانب سے سب بڑی اننگز اور آرتھر مورس، سر ڈان بریڈمین، گارڈن گرینیج اور مارک بوچر کے بعد پانچویں بڑی اننگز تھی۔

یونس نے پاکستان کو آئی سی سی ٹیسٹ درجہ بندی میں تیسری پوزیشن دلادی۔

مصباح اور شعیب ملک کا فاتحانہ جشن

5نومبر 2015(شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم، شارجہ، متحدہ عرب امارات)

شعیب ملک نے الیسٹر کک کو وکٹ سے راؤنڈ دی وکٹ گیند کی ، انگلش کپتان معجزاتی طورپر آؤٹ ہونے سے بچے، ملک اسپن باؤلرز کے اس سلسلے کی آخری کڑی ہیں جنھیں اسپن کا جادو ثقلین مشتاق سے براہ راست ورثے میں ملا، اضافی لمحات نے ملک کو اتنا وقت دے دیا تھا کہ انہوں نے کک کو پچ سے نکلتے ہوئے دیکھ لیا،انھوں نے جلدی سے گیند کو پیچھے پھینکا اور اگلے ہی لمحے سرفراز نے بیلز کو لمحے بھر کی بھی دیر نہ کرتے ہوئے اڑا دیا، کپتان مصباح الحق خوشی سے ملک کی جانب لپکے اور جشن مناتے ہوئے انہیں زمین پر لٹا دیا۔

صرف تین گیندوں بعد ملک نے ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہہ دیا ، مصباح پہلے پاکستانی بنے جن کی قیادت میں ٹیم نے 20ٹیسٹ میچ جیتے اور آئی سی سی کی درجہ بندی میں پاکستان نے دوسرے درجے میں ترقی کی۔

یونس خان کا بڑا فیصلہ

11نومبر2015(شیخ زید اسٹیڈیم،ابوظہبی، متحدہ عرب امارات)

انگلینڈ کے فاسٹ باؤلرریس ٹوپلی، یونس خان کو گیند کرنے کے لیے دوڑے جو 28منٹ سے کریز پر کھڑے تھے اور صرف 8رنزبنا پائے تھے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں دو سال تک مسلسل کارکردگی دکھانے کے بعد یونس کو ردھم میں آنے اور جدید ون ڈے کرکٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ انھوں نے گیند کو اپنے جانتے بھرپور قوت سے کھیلنے کی کوشش کی لیکن صحیح طریقے سے جڑ نہیں پائے اور سیدھا مڈ آن کی جانب کھیل بیٹھے۔ اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے یونس کی آخری اننگز نے ان کے ون ڈے کیریئر، پی سی بی اور ان کے ساتھیوں سے تعلقات کا خلاصہ پیش کردیا۔ بعد میں انھوں نے اس منصوبے کے پہلے سے طے شدہ ہونے کا اعتراف کیا۔

بلاشبہ پاکستان کے عظیم ترین ٹیسٹ بلے باز ون ڈے ٹیم میں اپنی جگہ نہیں بنا سکے اور ان کی اوسط 31.24 رہی جو 7ہزار رنز بنانے والوں میں کم ترین ہے سوائے شاہد آفریدی کے جن کی ون ڈے میں اوسط 23.57رنز فی اننگز تھی۔

انھیں ڈریسنگ روم میں جہاں ان کا احترام بہت ہوتا تھا، نیم گرم جوشی سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، خان نے ون ڈے کرکٹ کو 256میچوں کے بعد خیرباد کہہ دیا۔

انوکھی دوڑ

26نومبر 2015( دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی ، متحدہ عرب امارات)

دو کھلاڑیوں کے درمیان دس میٹر کی آخری حد چھونے کے لیے دوڑ کا مقابلہ تھا، ان کے بازو کھلے ہوئے تھے اور بلے نصاب کی کتاب کی طرح خالص طور پر آگے بڑھ رہے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس مختصر دوڑ کا فاتح کون ہو گا اور کون پویلین واپس جائے گا، تھرڈ امپائر کو آخری فیصلے کے لیے کہا گیا تھا، فیصلے کے مطابق عمر اکمل کو پویلین لوٹنا پڑا اور صہیب مقصود نے اپنے ساتھی پر برتری حاصل کی۔

پاکستان 5وکٹوں پر 74بناکرشکست خوردگی کے عالم میں تھا لیکن شاہد آفریدی کے گراؤنڈ میں نمودار ہوتے ہی پاکستانی شائقین خوشی سے جھوم اٹھے، وہ دو گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد اسکورر کو زحمت دیے بغیر میدان بدر ہوئے اور جلد ہی لوگوں نے اسی طرح اسٹینڈ کو خالی کرنا شروع کردیا۔ ان تین گیندوں کے درمیان پاکستانی ڈریسنگ روم میں ٹیم اسپرٹ بتدریج واضح ہو چکا تھا۔

پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف اگلے دوٹی ٹوئنٹی میچوں میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اسی طرح سیریز میں 3-0 سے ناکامی ہوئی۔

حفیظ اور عامر کا آمنا سامنا

8دسمبر2015(شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم، میرپور، بنگلہ دیش)

محمد عامر ایک دفعہ پھر ابھر نے لگے، وہ سالوں سے اس طرح کے انتقامی جذبات کے ساتھ نہیں دوڑے تھے۔ مبصرین کا خیال تھا کہ وہ اپنی رفتار سے 10کلومیٹرفی گھنٹہ تیز گیند کر رہے ہیں۔ عامر نے ٹی ٹوئنٹی میچ میں اپنی پہلی 8گیندوں میں کوئی رن نہیں دیا لیکن آخری تینوں اس کے دل اور ذہن کے انتہائی قریب تھیں۔ مشکل حریف کی خامیوں سے باخبر عامر گیند کو اسٹمپس کے باہر پھیکنتے ہوئے ان کا امتحان لے رہے تھے ، حریف نے ایک گیند کو چھوڑ دیا تو دوسرے میں آزمائشی انداز میں کھیلا اور ایک گیند تو ان کے بلے باز باہری کنارے کے انتہائی قریب سے گزری۔۔عامر نے ایک اور گیند اسی طرح پھینکی جو محمد حفیظ نے چھوڑنے کی کوشش کی لیکن گیند ان کے بلے کو چھوتے ہوئے کیپر کے ہاتھوں میں محفوظ ہو گئی۔عامر انگلی کو ہوا میں لہراتے ہوئے جس طرح جشن منایا، ایسا جشن لمبے عرصے سے نہیں منایا تھا۔

بعض نے اسے اچھائی اور برائی کے درمیان جنگ کہا اور دیگر نے کہا کہ یہ نظریاتی کشمکش ہے جیسا کہ ایک ملک کے دو باسی اور ماضی میں ٹیم کے ساتھی اپنی جنگ کو لفظوں کے ذریعے میدان میں لے آئے۔ پوری قوم ان کی حمایت اور ان کو داد دینے میں تقسیم نظر آئی، پورے ملک میں کھانے کی میز پر مقابلے کو انتقام، غداری، حوصلہ شکنی اور بحالی جیسے جملوں سے تعبیر کر کے استعمال کیا گیا تاہم یہ سب کچھ اس بات کو واضح کررہا تھا کہ پاکستان باؤلنگ کے شعبے میں صلاحیتوں سے مالامال ہے جبکہ بیٹنگ تکنیکی طور پر دلیر مگر خامیوں سے بھرپور ہے ۔

پاکستان کی جینتیاتی کامیابی اور ناکامی کا خلاصہ اس ایک گیند سے ہو گیا۔