کراچی کا ‘رنچھوڑ لائن' - 2

اپ ڈیٹ 22 جون 2013

ای میل

فوٹو -- مصنف --. یہ اس بلاگ کا دوسرا حصّہ ہے، پہلا حصّہ پڑھنے کے لئے کلک کریں.

رنچھوڑ لائن کا علاقہ مردم خیز رہا ہے۔ یہاں کا ذکر اس علاقے کے مرکز میں آباد سلاوٹ برادری کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ اس برادری سے وابستہ بابا میر محمد بلوچ اور ہاشم گذدر نے برادری کو ایک علاحدہ شناخت دی۔ یہ شناخت تقسیم ہند سے قبل بھی تھی اور اس کے بعد بھی۔ سلاوٹ برادری کے افراد سیاسی طور پر بہت بالغ تھے۔ انگریزوں سے آزادی کی جد و جہد میں بھی ان کا بڑا کردار رہا ہے۔ ان میں سے ایک بابا میر محمد بلوچ تھے۔ ممتازادیب اجمل کمال کی مرتبہ کتاب "کراچی کی کہانی" میں پیر علی محمد راشدی کی کتاب "وہ دن وہ لوگ" کے حوالے سے بابا میر محمد بلوچ کا ذکر یوں ہے؛ "بابا میر محمد بلوچ تو آخر بلوچ تھے، سرفروش، بے خوف اور انگریزوں کے جانی دشمن، ہندوؤں سے بے زار۔ رات دن حکومت کے خلاف ہنگامہ اٹھائے رکھتے۔ بمبئی کاؤنسل رکن منتخب ہوئے۔ انگریزی نہ جانتے تھے مگر اس سے، اُس سے، انگریزی میں سوال لکھوا کر کاؤنسل میں بھیجتے اور یوں حکومت کی خوب پردہ دری کرتے۔ جس سوال کو پوچھنے کے لیے دوسرے اراکین کانپنے لرزنے لگتے کہ مبادا حکومت خفا نہ ہو جائے، وہ سوال بابا میر محمد ڈنکے کی چوٹ پر پوچھ بیٹھتے۔" قوم پرست رہ نما سائیں جی ایم سید اپنی کتاب "جنب گزاریم جن سین" (جس کا اردو ترجمہ ہمارے خیال میں 'زندگی کے ہم سفر' ہونا چاہئے) کے صفحہ 146 پر بابا حاجی میر محمد ولد بلوچ خان کے عنوان سے لکھتے ہیں؛ "وہ جیسلمیر میں 1870 میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق راجپوتوں کی چوہان برادری سے تھا۔ کم سنی سے مزدوری کا آغاز کیا اور چھوٹے چھوٹے ٹھیکے لینے لگے۔ اس کے ذریعے انھوں نے کچھ پیسے جمع کیے اور پھر سرکار اور میونسپلٹی سے بڑے بڑے ٹھیکے حاصل کیے۔ 1919 میں خلافت تحریک کے آغاز کے بعد انھوں نے اعز ازی مجسٹریٹ کی حیثیت سے استفی دے کر تحریک میں حصہ لیا۔ جس کے سبب انھیں سرکاری ٹھیکے ملنا بند ہو گئے۔ ان کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے انھیں سندھ خلافت کمیٹی کا نائب صدر مقرر کیا گیا۔ ان کی قومی خدمات اور عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے لوگ انھیں بابا میر محمد بلوچ پکارتے تھے، جی ایم سید 'بابا حاجی میر محمد ولد بلوچ خان سلاوٹ' لکھتے ہیں۔ جب کہ علی محمد راشدی انھیں 'بابا میر محمد بلوچ' لکھتے ہیں۔" ہم خوش بھی تھے اور حیران بھی۔ خوشی کی بات تو کراچی کے ایک مارواڑی بلوچ کی انگریز کے خلاف جدوجہد تھی اور حیرانی اس بات کی کہ مارواڑی سلاوٹوں میں بھی بلوچ ہیں!

فوٹو -- مصنف --. بابا میر محمد بلوچ کے حوالے سے علی محمد راشدی اور سائیں جی ایم سید کی تحریروں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ بلوچ تھے لیکن گزدر برادری سے تعلق رکھنے والے حارث گزدر نے اس بات کی تردید کی کہ بابا میر محمد بلوچ تھے۔ انھوں نے مزید معلومات کے لیے بابا میر محمد کے ایک رشتےدار لالا حسین بلوچ کا نمبر دیا۔ ہم نے لالا سے ملاقات کی تو انھوں نے کہا کہ ان کے دادا کا نام میر محمد تھا اور پر دادا کا نام بلوچ تھا۔ اب بلوچ ان کا خاندانی نام ہے۔ لیکن وہ بلوچ ہیں نہیں۔ ان کا تعلق سلاوٹ برادری کی چوہان شاخ سے ہے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ وہ اپنا نام لالا حسین ایچ بلوچ لکھتے ہیں۔ ایچ سے مراد ان کے والد کا نام حسن ہے لیکن ان کے دوست یونس شاد بلوچ ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ دراصل آپ بلوچ ہیں اور H ' آنریری بلوچ' کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ تھی کہ بابا میر محمد بلوچ کو جی ایم سید اور علی محمد راشدی بلوچ سمجھتے تھے؟ اس سوال کا جواب نامور صحافی صدیق بلوچ نے کچھ یوں دیا کہ بابا میر محمد مارواڑی سلاوٹ تھے۔ لیکن چوں کہ ان کا اٹھنا بیٹھنا لیاری کے بلوچوں کے ساتھ تھا اور ان کا لباس بلوچوں کی طرح کا تھا اس لیے انھیں رفتہ رفتہ بلوچ کہا جانے لگا۔ وہ اعزازی بلوچ تھے۔ ہاشم گزدر کا نام بھی کراچی کے سیاسی اور سماجی تاریخ کے حوالے سے ایک بڑا نام ہے۔ وہ بھی رنچھوڑ لائن کے رہنے والے سلاوٹ تھے۔ ہاشم گزدر کے بارے میں محمد عثمان دموہی اپنی کتاب "کراچی تاریخ کے آیئنے میں" کے صفحہ نمبر 506 پر لکھتے ہیں کہ؛ "آپ تقسیم سے قبل سندھ کے وزیر اور قیام پاکستان کے بعد مرکزی قانون ساز اسمبلی کے ممبر رہے. 1941 اور 1942 کے دوران بلدیہ کراچی میں میئر مقرر ہوئے۔ آپ یکم فروری 1893 کو راجپوتانے کے شہر جیسلمیر میں پیدا ہوئے۔ جیسلمیر کے شاہی محل کے مین گیٹ کے اوپر بادل ولاس تعمیر کرنے پر ریاست کے راجا نے آپ کے والد کو گزدر کا خطاب عطا کیا تھا۔ آپ 25 سال مسلم مارواڑی سلاوٹ جماعت کے صدر رہے اور اسی خدمت کے پیش نظر آپ کو بابائے سلاوٹ کا خطاب دیا گیا تھا۔ آپ نے کراچی میں کئی شفاء خانے مدرسے اور خواتین کے لیے انڈسٹریل ہوم قائم کرائے۔" رنچھوڑ لائن کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ؛ "اس علاقے کا نام رنچھوڑ نامی ہندو کے نام سے منسوب ہے۔ یہ علاقہ انگریزوں کے ابتدائی دور میں آباد ہوا تھا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے گنجان علاقہ بن گیا۔ تقسیم سے قبل یہاں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ یہاں مارواڑی مسلمان بھی بڑی تعداد میں آباد تھے۔ یہ مارواڑی مسلمان کئی برادریوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ان برادریوں میں سلاوٹ برادری نے کراچی میں کئی کارنامے انجام دیے تھے۔ یہ لوگ اگرچہ پیشے کے لحاظ سے سنگ تراش تھے مگر ان میں قابل لوگوں کی بھی کمی نہ تھی۔ یہ لوگ شاعر، ادیب، اخبار نویس اور اعلی پائے کے معمار تھے۔ جناب محمد ہاشم گزدر کا تعلق بھی اسی برادری سے تھا۔" احمد حسین صدیقی اپنی کتاب "گوھر بحیرہ عرب (کراچی)" کے صفحہ 96 پر رنچھوڑ لائن کا ذ کر یوں کرتے ہیں؛ "یہ شہر کا قدیم علاقہ ہے۔ جو تقریباََ 4 ایکڑ پر واقع ہے۔ یہاں پر زیادہ تر تعداد مارواڑ سے آئے لوگوں کی ہے جو زمانہ قدیم سے یہاں آباد ہیں۔ کراچی کے فن تعمیر میں ان کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔" محمد عثمان دموہی کے مطابق رنچھوڑ لائن کا نام ہاشم گذدر کی خدمات کے اعتراف میں گذدر آباد رکھا گیا تھا۔ ہاشم گذدر کی کراچی کے لیے خدمات اپنی جگہ، بابا میر محمد بلوچ مارواڑی کا کردار اپنی جگہ۔ دونوں کے خاندانوں کا کوئی فرد اب اس علاقے میں نہیں رہتا۔ لیکن وہ علاقے کی سباجی تقریبات میں ضرور شریک ہوتے ہیں۔

فوٹو -- مصنف --. رنچھوڑ لائن کا سرکاری نام اب 'گزدر آباد' ہے۔ نام کی تبدیلی کا اندازہ بس سرکاری رکارڈ سے ہوتا ہے یا رنچھوڑ لائن میں واقع ایک آدھ نجی عمارت کی پیشانی پر عمارت کے نام کے ساتھ گذدرآباد لکھا ہونے سے۔ سرکاری رکارڈ میں تو رنچھوڑ لائن گذدر آباد ہو گیا۔ لیکن اگر آپ سیاسی پارٹیوں کے یونٹ اور سیکٹرز میں گذدر آباد کا نام تلاش کریں گے تو ناکامی ہو گی۔ لیکن رنچھوڑ لائن کا نام ضرور ملے گا۔

فوٹو -- مصنف --. اگر آپ آج بھی کسی سلاوٹ برادری کے فرد سے علاقے کا نام معلوم کریں گے تو وہ گذدر آباد کے بجائے رنچھوڑ لائن ہی بتائے گا۔ ہاشم گذدر جنھیں سلاوٹ برادری نے بابائے سلاوٹ کا خطاب تو دے دیا مگر ان کے نام سے منسوب رنچھوڑ لائن کو گذدر آباد تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ جہاں تک بابا میر محمد بلوچ کا تعلق ہے ان کے نام سے سلاوٹ برادری نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک لائبریری قائم کر رکھی ہے۔ جو تمام دن بند رہتی ہے۔ ہاں البتہ شام کو سلاوٹ جماعت کے بزرگ یہاں بیٹھ کر گپ شپ لگاتے ہیں۔

  اختر حسین بلوچ سینئر صحافی، مصنف اور محقق ہیں. سماجیات ان کا خاص موضوع ہے جس پر ان کی کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں. آجکل ہیومن رائٹس کمیشن، پاکستان کے کونسل ممبر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں