جی ایم سید اور ضیاء الحق کی 'سیاسی' ملاقاتیں

اپ ڈیٹ 17 مارچ 2016

ای میل

زیادہ تر لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ سندھی قوم پرست رہنما اور فوجی حکمران کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
زیادہ تر لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ سندھی قوم پرست رہنما اور فوجی حکمران کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

کراچی کی حیدر منزل نہ صرف سائیں جی ایم سیّد کی سیاسی و سماجی زندگی کا آئینہ دار ہے بلکہ اس کے در و دیوار ایک سیاسی تاریخ کا عملی نمونہ بھی ہیں۔ حیدر منزل وہ مقام ہے جہاں 1934 میں سندھ پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ اس پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری کے پڑنانا سر شاہ نواز بھٹو تھے۔

1941 میں جب سائیں جی ایم سیّد اور اللہ بخش سومرو کے درمیان سیاسی اختلافات پیدا ہوئے تو اس کے حل کے لیے مولانا ابوالکلام آزاد نے حیدر منزل کا دورہ کیا اور سیّد کو اللہ بخش سومرو کی حمایت پر قائل کر لیا جس کے نتیجے میں اللہ بخش سومرو دوسری بار سندھ کے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔

سید 1940 میں جب مسلم لیگ سندھ کے صدر بنے تو محمد علی جناح ان سے ملاقات کے لیے حیدر منزل آئے۔ عوامی لیگ کے سربراہ اور بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان نے بھی 1969 میں حیدر منزل کا دورہ کیا۔

حیدر منزل میں جو بڑے بڑے سیاسی اکابرین جی ایم سیّد سے ملاقات کے لیے آتے تھے، اُن میں خان عبدالغفار خان (باچا خان)، غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل، حیدر بخش جتوئی، سندھ اسمبلی کے پہلے اسپیکر میراں محمد شاہ، سر شاہ نواز بھٹو، شاہ مردان شاہ پیر پگارا، بیگم نسیم ولی خان، سابق وزیراعلیٰ جام صادق علی اور دیگر شامل ہیں۔

ان سب کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین اور مہاجر قومی موومنٹ کے قائد آفاق احمد بھی حیدر منزل کا دورہ کرنے والوں میں شامل ہیں۔ حیدر منزل 1974 سے قبل اور بعد سندھ میں مختلف تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ ان تحریکوں میں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی، کراچی کی مرکز سے واپسی اور ون یونٹ کے خاتمے کی تحریک نمایاں ہے۔ اس وقت حیدر منزل میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کا مرکزی دفتر قائم ہے اور یہاں سے سیاسی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔

سائیں جی ایم سیّد کا نام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ اس کی بنیادی وجہ ان کے وہ سیاسی افکار تھے جن کی بناء پر انہیں ملک دشمن اور غدار قرار دیا گیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ نظر بندی میں بسر کیا۔ وہ پاکستان کے واحد سیاست دان تھے جن کا اصرار تھا کہ ان پر غداری کا جو مقدمہ قائم کیا گیا تھا، اس کی سماعت مکمل کرکے انہیں سزا سنائی جائے یا ان کے مؤقف کو سچ تسلیم کیا جائے۔

سائیں جی ایم سیّد کی سیاست کا آغاز یوں تو ضلع دادو میں ان کے آبائی گاؤں 'سن' سے ہوتا ہے لیکن بعد ازاں انہوں نے تقسیمِ ہند سے قبل اور اس کے فوراً بعد کراچی کی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کراچی میں 1933میں بابائے کراچی جمشید نسروانجی کی خواہش پر موجودہ نشتر پارک (سابقہ پٹیل پارک) کے علاقے میں حیدر منزل تعمیر کروائی۔

حیدر منزل مختلف سیاسی تحریکوں میں کا مرکز رہا۔ حیدر منزل کا دورہ کرنے والوں میں قائدِ اعظم محمد علی جناح صاحب بھی شامل تھے۔ حیدر منزل کا نام سائیں جی ایم سید نے اپنے پردادا سیّد حیدر شاہ سنائی کے نام پر رکھا۔ سیّد حیدر شاہ کو سندھ کی سیاست میں ایک ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔

حیدر شاہ نے سندھ میں ارغون دورِ حکومت سے قبل مہدی جونپوری، جس نے امام مہدی ہونے کا اعلان کیا تھا، کی کشتیاں سن کے قریب دریائے سندھ میں ڈبوئی تھیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حیدر شاہ سندھ کے ایک بڑے عالم مخدوم بلاول سے بہت متاثر تھے جنہوں نے اُس وقت مہدی جونپوری کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تھا۔

— فوٹو بشکریہ کتاب جی ایم سید کی کہانی از ظہیر احمد، مطبوعہ حیدرآباد، 1987
— فوٹو بشکریہ کتاب جی ایم سید کی کہانی از ظہیر احمد، مطبوعہ حیدرآباد، 1987

جی ایم سیّد کی باقاعدہ سیاسی زندگی کا آغاز خلافت تحریک سے ہوتا ہے۔ 1919 میں جلیانوالہ باغ میں ایک المناک حادثے میں انگریز فوجی جنرل ڈائر نے برطانوی راج کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر مشین گنوں اور بندوقوں کے منھ کھول دیے جس کے نتیجے میں بے شمار لوگ شہید ہوئے۔ اس واقعے نے سیّد کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ 7، 8، 9 فروری 1920 کو پیر تراب علی شاہ اور جان محمد جونیجو کی کوشش سے لاڑکانہ میں سندھ کے بزرگ پیر راشد شاہ 'جھنڈے والے' کی زیرِ صدارت سندھ خلافت کانفرنس کا اجلاس بلایا، جس میں مخدوم معین الدین کہنیاری والے اور سیّد اسد اللہ شاہ ٹکھڑائی کے ساتھ سیّد بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔

اس اجلاس میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مولانا شوکت علی، شیخ عبدالمجید اور دوسرے حضرات شریک ہوئے۔ باوجود نوجوانی کے سیّد نے 17مارچ 1920 کو اپنے آبائی شہر سن میں اس حوالے سے ایک کانفرنس منعقد کی جس میں ترکوں کی مدد کے لیے چندہ جمع کیا گیا اور کئی سیاسی رہنماؤں نے انگریز سرکار کی جانب سے دی گئی مراعات اور القاب واپس کیے۔

سیّد کی گاندھی جی کے ساتھ ملاقات 27 اپریل 1921 کو سن اسٹیشن پر ہوئی جب وہ حیدرآباد سے دادو جا رہے تھے۔ گاندھی جی نے سیّد کو اس مختصر ملاقات میں کھدر پہننے کی تلقین کی اور سیّد نے اس پر عمل کرتے ہوئے 19مئی 1921 سے کھدر پہننا شروع کیا۔

سیّد کا یہ رویہ انگریز سرکار کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ انہوں نے اس طرزِ عمل پر دھمکی دی کہ چونکہ ان کی ملکیت ”کورٹ آف وارڈس“ میں ہے اور اس سے جو رقم سیّد خاندان کو مل رہی ہے، وہ بند کر دی جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔ سیّد 1924 تک خلافتِ تحریک کا ایک فعال حصہ رہے۔

ان کا کراچی سے ایک مضبوط اور مربوط رشتہ رہا ہے۔ 1928 میں وہ ضلع لوکل بورڈ کراچی کے صدر منتخب ہوئے اور بورڈ کے زیرِ اہتمام ترقیاتی اور تعمیری کاموں میں بہت فعال کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ سیّد کراچی میں کام کرنے والی مختلف تنظیموں کے رکن یا عہدیدار رہے۔

جی ایم سیّد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ وہ کراچی لوکل بورڈ کے صدر تھے اور بورڈ کی ایک نئی عمارت تعمیر کرنا چاہتے تھے، لیکن برطانوی راج اس بات کے درپے تھا کہ کسی طرح سے وہ اس عمارت کاافتتاح نہ کر پائیں۔ سیّد ایک روشن خیال اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے۔ اس لیے انہوں نے جب اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کروایا تو اس موقعے پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے دعائیں کروائی گئیں۔

مولوی محمد صادق نے تلاوت کلامِ پاک سے اس تقریب کا آغاز کیا۔ مسیحی ریورنڈ ایلگر نے اپنے مذہبی دعائیہ کلمات پیش کیے۔ پارسیوں کی جانب سے ڈاکٹر ایم ایف ڈھالا نے اپنی مذہبی کتاب کا حوالہ پڑھ کر سنایا، جس کے بعد ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے پنڈت وشوناتھ شاستری نے گیتا کے اشلوک سنائے اور آخرمیں بھائی دھرم سنگھ نے بھی گرونانک کی تعلیمات میں انسان دوستی کا ذکر کیا۔

— فوٹو بشکریہ کتاب جی ایم سید کی کہانی از ظہیر احمد، مطبوعہ حیدرآباد، 1987
— فوٹو بشکریہ کتاب جی ایم سید کی کہانی از ظہیر احمد، مطبوعہ حیدرآباد، 1987

سیّد 1937 میں پہلی سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 27 اپریل 1942 کو سندھ مسلم لیگ کے صدر سر حاجی عبداللہ ہارون کی وفات کے بعد انہیں سندھ مسلم لیگ کا صدر مقرر کیا گیا۔ 3 مارچ 1943 کو سید نے سندھ اسمبلی میں وہ معروف قرارداد پیش کی جو قیامِ پاکستان کی بنیاد قرار پائی۔ قرارداد کا متن یہ ہے:

"سندھ سرکار کو یہ اسمبلی سفارش پیش کرتی ہے کہ وائسرائے ہند کی معرفت بادشاہ سلامت کی حکومت کو سندھی مسلمانوں کے مندرجہ ذیل جذبات اور خواہشات سے واقف کروائے۔ ”جیسا کہ ہندوستان کے مسلمان مذہب، فلسفہء حیات، معاشی رسوم، ادب، روایات، سیاسی اور اقتصادی مفاد کے مختلف ہونے کے سبب ایک علیحدہ قوم ہیں اور ایک علیحدہ قوم کی حیثیت میں ہندوستان کے جس بھی خطہء زمین میں اکثریت میں ہیں، وہاں ”آزاد اور خودمختار قومی حکومتیں“ قائم کرنے کے حقدار ہیں۔

"اس لیے صوبہء سندھ کے مسلمان پُرزور طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کو ایسا کوئی بھی آئین قبول نہیں ہوگا، جو ان کو ایک مرکزی حکومت میں دوسری اکثریتی قوم کے ماتحت رہنے پر مجبور کرے۔ اس لیے مستقبل میں آزادانہ زندگی گزارنے اور علیحدہ نظریہء حیات کے مطابق ترقی کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کو ”علیحدہ آزاد قومی حکومتیں قائم کرنے دی جائیں۔ کوئی بھی ایسی کوشش جو ان کو جبراً ایک مرکزی حکومت کے ماتحت رکھے گی، وہ ان کو قبول نہیں ہے بلکہ ایسی کوشش لازمی طور پر ملک میں خانہ جنگی اور دوسرے خوف ناک نتائج کی صورت میں نمودار ہوں گی۔“

جی ایم سیّد اور مسلم لیگ کے درمیان اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب انہوں نے سندھ اسمبلی کے انتخابات کے لیے اپنے پسندیدہ امیدواروں کی فہرست روانہ کی۔ اس فہرست کو ان کے مخالفین نے رد کردیا اور قائدِ اعظم نے ان کے مخالفین کے مؤقف کی حمایت کی جس کے بعد مسلم لیگ اور سیّد کی راہیں جدا ہو گئیں۔ جنوری 1946 کے انتخابات میں سیّد کی پارٹی کے چار ارکان صوبائی اسمبلی کے رکن بنے، جن میں ان کے علاوہ سیّد محمد علی شاہ، سیّد بقا دار شاہ اور غلام مصطفی بھرگڑی شامل تھے۔

قیامِ پاکستان کے بعد کے سیاسی منظر نامے پر بھی سیّد نے اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ 1948 میں انہوں نے کراچی کی سندھ سے علیحدگی کے خلاف مہم کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں انہیں نظر بند کر دیا گیا۔ وہ 1953 میں سندھ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے منتخب ہوئے، انہوں نے ون یونٹ کی مخالفت کی اور اس کا نتیجہ ان کی گرفتاری پر منتج ہوا۔

— فوٹو بشکریہ کتاب جی ایم سید کی کہانی از ظہیر احمد، مطبوعہ حیدرآباد، 1987
— فوٹو بشکریہ کتاب جی ایم سید کی کہانی از ظہیر احمد، مطبوعہ حیدرآباد، 1987

سیّد کی عملی سیاست کا اختتام اس وقت ہوا جب انہیں 1970 کے عام انتخابات میں دادو سے حلقے میں شکست ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک سکندر نے انہیں شکست سے دوچار کیا۔ سیّد عملی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے اور اس کے بعد انہوں نے سندھ کے حقوق حتیٰ کہ سندھ کی آزادی کا علم بلند کر دیا۔

خادم حسین سومرو اپنی کتاب ”جی ایم سیّد — آدرشی انسان سے اوتار تک“ کے صفحہ نمبر 418 پر لکھتے ہیں:

”ضیاء الحق سائیں جی ایم سیّد سے ملنا چاہ رہے تھے۔ انہوں نے میر علی محمد تالپور، حاجی مولا بخش سومرو اور الٰہی بخش سومرو کے ذریعے سیّد کو پیغام بھیجا کہ میں آپ سے ملنا چاہ رہا ہوں۔ سید نے ان حضرات سے کہا کہ ملاقات کے لیے کوئی ایجنڈا ہے یا ایسی ملنا چاہ رہے ہیں۔ اگر ایجنڈا ہے تو مسٹر ضیاء الحق نے جی ایچ کیو کو آگاہ کیا ہے اور اس ایجنڈے پر بات کرنے کی جی ایچ کیو نے انہیں اجازت دی ہے یا نہیں؟ باقی ایسی ملاقات کوئی معنی نہیں رکھتی۔ سید کی یہ بات جب ضیاء الحق کو بتائی گئی تو انہوں نے کہا کہ سید کی وضاحت طلبی درست ہے۔

“سید کو سن (دادو) میں نظر بندی کے دوران دل کا دورہ پڑا اور حیدرآباد کے ”دیوانِ مشتاق وارڈ“ میں داخل کیے گئے۔ اس دوران ضیاء الحق بھی حیدرآباد کے دورے پر تھے، انہوں نے دیوانِ مشتاق وارڈ میں سید کی عیادت کی۔ سید سے ملاقات کے دوران ضیاء الحق نے کہا کہ شاہ صاحب آپ ملاقات کرنے سے کیوں اجتناب برت رہے تھے؟ سید نے دوٹوک الفاظ میں ضیاء الحق کو کہا کہ ایک تو کوئی ایجنڈا نہیں تھا، دوسری بات سرائیکی شعر:

اُٹھاں میھاں دا کہڑا میلا

او چرن جھنگ او چرن بیلا

(بھینسیں اور اونٹ آپس میں کیسے مل سکتے ہیں؟ بھینسیں جنگل میں رہتی ہیں جہاں پانی ہوتا ہے، جب کہ اونٹ صحراؤں میں رہتے ہیں اور وہ کئی دنوں کا پانی اپنے جسم میں محفوظ رکھتے ہیں۔)

“ضیاء الحق نے سید سے کہا کہ ہمارے اسلامی پروگرام کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ سید نے کہا کہ بنیادی جمہوریت، اسلامی سوشلزم اور اسلام کے نعروں کے پیچھے اقتدار میں رہنا ہی مقصد ہے۔

“یہ تھی سید سے ضیا کی پہلی ملاقات۔ دوسری ملاقات مرحوم میر علی محمد تالپور کی تدفین کے وقت ہوئی تھی، جس میں سید اور ضیاء الحق نے نمازِ جنازہ ایک ساتھ پڑھی تھی۔ ضیاء الحق نے سید کو اس دوران کہا کہ میں آپ کی لائبریری دیکھنا چاہتا ہوں، لیکن پنجاب میں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے شور مچایا کہ ضیاء الحق کو ملک دشمن کے ساتھ نہیں ملنا چاہیے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے حامی، کمیونسٹ اور ترقی پسند شور مچا رہے تھے کہ سید کو ایک آمر سے نہیں ملنا چاہیے۔

— فوٹو بشکریہ کتاب جی ایم سید کی کہانی از ظہیر احمد، مطبوعہ حیدرآباد، 1987
— فوٹو بشکریہ کتاب جی ایم سید کی کہانی از ظہیر احمد، مطبوعہ حیدرآباد، 1987

“سید کے ساتھ ضیاء الحق کی تیسری ملاقات سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی بیٹی کی شادی کے موقع پر مٹیاری کی جاموٹ برادری کے یہاں ہوئی تھی جس میں سید کو ضیاء الحق نے کہا تھا کہ مجھے آپ سے ایک اہم بات کرنی ہے، میں سن ضرور آؤں گا۔

“سید نے انہیں طنزاً کہا کہ پنجاب میں جلوس اور شور کی وجہ سے ملاقات سے ڈر گئے ہو۔ اس ملاقات میں سید نے انہیں کہا کہ چھوٹی قوموں کو حقوق دلوانے کے لیے آپ کردار ادا کریں اور میں بھی آپ کی ہندوستان سے کشمیر کے معاملے اور پاکستان میں چھوٹی قوموں کے حوالے سے مدد کرنا چاہتا ہوں۔ بہرحال اس کے بعد سیّد سے ضیاء الحق کی کوئی بھی ملاقات نہیں ہوئی۔“

لیکن خادم حسین سومرو کے حوالے کے باوجود ہم یہاں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ جنرل ضیاء نے لیاقت میڈیکل کالج میں سیّد سے ملاقات کی تھی لیکن اس کے علاوہ بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) جہانداد خان اپنی کتاب ”پاکستان: قیادت کا بحران“ میں لکھتے ہیں:

"اس مرحلے پر ملک میں ایک دلچسپ افواہ اُڑی کہ جنرل ضیاء اور جی ایم سیّد کے مابین گہرے مراسم فروغ پا رہے ہیں۔ صدر کے جی ایم سیّد سے رابطوں کے بارے میں عجیب عجیب خبریں اخباروں کے صفحات کی زینت بن رہی تھیں جو آزاد سندھو دیش کے زبردست حامی تھے۔

"لوگوں کا خیال تھا کہ یہ سب کچھ پی پی پی کی دشمنی میں کیا جا رہا ہے۔ ان کہانیوں کا مقصد عوام کو یہ باور کروانا تھا کہ جنرل ضیا حزبِ اختلاف سے خوف زدہ ہو کر شیطان کو بھی گلے لگانے پر تیار ہیں۔ حقیقت صرف اتنی سی تھی کہ وفاقی وزیر الٰہی بخش سومرو نے جنرل ضیاء کو قائل کر لیا تھا کہ وہ 1985 کے انتخابات سے قبل ایک بار جی ایم سیّد سے ضرور ملاقات کرلیں جو اُس وقت لیاقت میموریل ہسپتال، حیدرآباد میں زیرِ علاج تھے۔

"یہ وہی زمانہ تھا جب ایم آر ڈی (تحریکِ بحالیِ جمہوریت) نے انتخابات سے قطع تعلق کرنے کا اعلان کیا تھا اور جنرل ضیا کو اپنے ریفرنڈم اور انتخابات میں حمایت کرنے والوں کی تلاش تھی۔ اس لیے جی ایم سیّد سے ملاقات کا مقصد سیاسی تھا تاکہ سیاسی عمل کو تقویت حاصل ہو اور انہیں زیادہ سے زیادہ سندھیوں کی حمایت مل جائے لیکن جنرل ضیا نقصانات کا اندازہ لگائے بغیر اس غلطی کے مرتکب ہونے والے نہیں تھے۔

"جنرل ضیا کے اس رویے سے معمر سندھی رہنما بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ جنرل ضیا نے بھی اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے جی ایم سید کے پوتے کو پی آئی اے میں ملازمت کرنے کی پیش کش کر دی اور انہیں مکمل اختیار دے دیا کہ وہ ضرورت پڑنے پر حکومت سے ہر قسم کی امداد طلب کرسکتے ہیں۔

"لیکن یہ ملاقات بہت زیادہ مفید ثابت نہ ہوئی۔ جی ایم سیّد کو جیئے سندھ کے کارکنوں کی تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔ سیاسی لحاظ سے یہ ملاقات جیئے سندھ تحریک کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوئی کیونکہ اپنے سلوک کی بدولت جنرل ضیا نے اپنی حکومت کے خلاف ایک سخت ترین قوم پرست تحریک کو تقریباً بے اثر کردیا۔

"جنرل ضیا، جی ایم سیّد سے دوسری بار اس وقت ملے جب وہ جناح ہسپتال کراچی میں بہ غرضِ علاج داخل تھے۔ سیّد صاحب نے جنرل ضیا کا شکریہ ادا کیا اور میری موجودگی میں درخواست کی کہ آئندہ اگر ملاقات کے لیے تشریف لائیں تو جتنی خاموشی سے آسکیں، آئیں، کیونکہ ہر بار انہیں اپنی جماعت کے کٹّر کارکنوں کی خفگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دونوں شخصیات میں کوئی اور وجہ دوستی کی نہیں تھی سوائے پی پی پی کی مخالفت کے۔ دونوں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایک دوسرے سے کام لینا چاہتے تھے۔"

سندھ کی آزادی کے حوالے سے سیّد کے مؤقف اور تحریک کے سلسلے میں مختلف آراء تھیں۔ ممتاز علی بھٹو اور دوسرے اکابرین کا کہنا تھا کہ سیّد نے یہ مؤقف وقت سے پہلے پیش کر دیا تھا۔

— فوٹو بشکریہ کتاب جی ایم سید کی کہانی از ظہیر احمد، مطبوعہ حیدرآباد، 1987
— فوٹو بشکریہ کتاب جی ایم سید کی کہانی از ظہیر احمد، مطبوعہ حیدرآباد، 1987

ان کو اپنے سیاسی خیالات کے سبب سب سے بڑی مخالفت کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب وہ ایک پروگرام کے تحت کراچی سے سکھر روانہ ہوئے۔ پروگرام کے مطابق دورہ ضلع شکار پور سے شروع ہونا تھا جس کے تحت شکار پور، جیک آباد، سکھر، خیرپور، نوشہرو فیروز اور نواب شاہ میں سید کو مختلف مقامات پر تعزیت کرنی تھی، دعوتوں میں شرکت اور جلسوں سے خطاب کرنا تھا۔

سیّد یکم اکتوبر 1989 کو کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز سکھر روانہ ہوئے، سیّد جہاز میں ہی تھے کہ اس دوران سکھر ایئر پورٹ پر پاکستان کا پرچم نذرِ آتش کر دیا گیا۔ پرچم کس نے جلایا، اس میں کس کا ہاتھ تھا، اس کے پیچھے کیا منصوبے اور مضمرات تھے؟ ابھی تک اس کے متعلق کوئی بھی صحیح معلومات میسر نہیں آسکیں لیکن اس بات نے سیّد کے تمام دورے پر بہت برے اثرات مرتب کیے اور پارلیمنٹ سے لے کر تمام مرکزی جماعتوں نے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

انہیں 1973 سے 1987 تک نظر بند رکھا گیا۔ 1987 میں رہا ہوئے لیکن 1987 میں دوبارہ تین ماہ کے لیے نظر بند کر دیے گئے۔ بعد ازاں رہا کردیے گئے اور پھر 1992 میں نظربند کر دیے گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام حیدر منزل میں ہی بسر کیے۔ دورانِ نظربندی ان کی طبیعت خراب ہونے کے باعث حیدر منزل سے انہیں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں 25 اپریل 1995 کو وہ آزاد سندھ کا خواب لیے دنیا سے کوچ کر گئے۔

آج انہیں قوم پرست حلقوں میں سندھ کی آزادی کا علمبردار تصور کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف انہیں پاکستان دشمن اور غدار قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں تصورات کے درمیان وہ جی ایم سید شاید کہیں کھو گیا ہے جس نے انجمنِ ترقیء اردو میں بھی فعال کردار ادا کیا تو تھیوسوفیکل سوسائٹی کی مختلف برانچوں میں بھی کام کیا۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے پیغام پر کتابیں اور مضامین لکھے تو ہاریوں کے حقوق اور ان کے استحصال کے خاتمے کے لیے بے پناہ انجمنیں بھی قائم کیں۔ وہ فری میسن تنظیم کے رکن تھے جس پر پاکستان میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

سائیں جی ایم سید کی سیاست، ان کے نظریات، دوسری قومیتوں کے بارے میں ان کی آراء سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک بات جس سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا، وہ یہ کہ وہ ایک علمی اور ادبی شخصیت تھے، اور اتنے بلند پائے کی شخصیت تھے کہ ان کی ذات کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔