ای میل

صحافی کی ڈائری: پی این ایس ذوالفقار کا بحری سفر

توصیف رضی ملک

یہ تین حصوں پر مشتمل سریز کا دوسرا مضمون ہے۔ پہلا حصہ یہاں پڑھیے۔


دوسرا دن

7 بجے: آج میں وقت پر اٹھا۔ باہر اب تک اندھیرا تھا اور دھند چھائی ہوئی تھی۔

اس دن کا پلان کل سے تھوڑا مختلف تھا — اس بار کسی ہوائی جہاز کے بجائے فیول سے بھرا ہوا اور سمندری سفر طے کرنے کے لیے تیار ایک تباہ کن اور مسلح بحری جہاز کراچی میں نیول ڈاکیارڈ پر ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کمانڈر پاکستان فلیٹ (COMPAK) وائس ایڈمرل عارف اللہ حسینی نے ہمیں بحریہ ٹیکٹیکل ٹریننگ اسکول میں بحری فوج کے جان جوکھم میں ڈالنے والے کاموں کے بارے میں بریف کیا۔

نیول ڈاکیارڈ کے راستے میں گفتگو کا رخ مبینہ طور پر دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے افسر کے بحری جہاز اغواء کرنے کے بدنام زمانہ واقعے کی طرف ہوا۔

ماحول تب مزیدار ہوگیا جب صحافیوں نے نیول افسران سے زبان زدِ عام کہانیوں کی تصدیق کرنے کو کہا — ان کے چہروں پر گھبراہٹ کے آثار نمودار ہونا بجا تھے جسے انہوں نے جبری مسکراہٹ سے چھپانے کی کوشش کی۔ اتنے میں ان کے ایک ساتھی افسر بول پڑے کہ وہ اس واقعہ کے بارے میں کم علم رکھتے ہیں کیونکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔

یہ سن کر صحافی ہنس پڑے اور اپنی قیاس آرائیاں جاری رکھیں کہ اس رات کیا ہوا ہوگا۔

نیوی کا جوان پی این ایس ذوالفقار کی ایک چوکی پر نگرانی کر رہا ہے۔
نیوی کا جوان پی این ایس ذوالفقار کی ایک چوکی پر نگرانی کر رہا ہے۔

9 بجے: ٹیکٹیکل اسکول میں وائس ایڈمرل حسینی نے سمندر کے ذریعے ہونے والی ملکی تجارتی سرگرمیوں کی حفاظت کرنے کے لیے نیوی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے بتایا کہ پاک بحریہ کی ''متوازن بیڑا'' سمندری راستوں کے ذریعے تجارت کے ساتھ ساحلی پٹی کی بھی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے ہمیں کہا کہ، ''میرا یہ پیغام میرے لوگوں اور حکومت تک پہنچائیں۔ آپ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو مستحکم کریں، ہم یہاں آپ کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔''

ہم پی این ایس ذوالفقار پر سوار ہوئے جو سمندر پر اپنا تسلط قائم رکھنے اور نگرانی کے مقصد کے لیے حاصل کردہ پاک بحریہ کا جدید ترین جہاز ہے۔ یہ تباہ کن بحری جہاز زمین سے زمین اور زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہے اور اس میں دشمن کی آبدوزوں کو تباہ کرنے کے لیے تارپیڈو بھی نصب ہیں۔

مختصراً یہ کہ یہ بحری جہاز ملک کی ساحلی پٹی کی حفاظت اور جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار ایک مکمل طور پر فعال پیکج ہے۔ اس بات سے ہم سب کافی متاثر ہوئے۔

ایف 22 پی فریگیٹ پی این ایس ذوالفقار پر نصب ریڈار سسٹم.
ایف 22 پی فریگیٹ پی این ایس ذوالفقار پر نصب ریڈار سسٹم.

11 بجے: بحریہ نے بیرونی خطرات کے دوران اپنی چوکسی اور مہارت کا مظاہرہ پیش کرنے کے لیے مشقوں کا اہتمام کیا ہوا تھا۔

ان میں پی این ایس ذوالفقار پر کشتی کے ذریعے جعلی حملہ شامل تھا، جو جہاز پر موجود افسران کے مطابق کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا تھا کیونکہ بحری جہاز کی طرف آنے والا ''دشمن کا جہاز'' ''اسپلیش'' ہو چکا تھا — بحریہ کی زبان میں یہ لفظ کشتی ڈبونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اگلے مظاہرے میں سی کنگ ہیلی کاپٹر اور نیول اسپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز شامل تھے۔

کمانڈوز جھولتے ہیلی کاپٹر سے بحری جہاز کے فلائیٹ ڈیک پر اترے اور تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے جہاز پر موجود ''انسانی اسمگلرز'' کو حراست میں لے لیا۔

جہاز پر موجود افسران نے ایک بار پھر کامیاب آپریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تمام اہداف ''نیوٹرلائیزڈ'' (بے اثر) کر دی گئے ہیں۔

سی کنگ ہیلی کاپٹر اور نیول ایس ایس جی کی کشتی پی این ایس کی جانب آرہی ہے.
سی کنگ ہیلی کاپٹر اور نیول ایس ایس جی کی کشتی پی این ایس کی جانب آرہی ہے.

1 بجے: دن کے کھانے کا اہتمام جہاز کے ہینگر میں کیا گیا تھا؛ تین کورسز پر مشتمل کھانا جہاز پر ہی تیار کیا گیا تھا۔

مگر جہاز پر موجود افسران سے تھوڑی بہت بات چیت کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ انہیں جہاز پر ان کے عام طور پر 3 ماہ طویل ڈیوٹی کے دوران ایک بار بھی اس معیار کا کھانا میسر نہیں ہوتا۔

ایک لیفٹیننٹ نے بتایا کہ ''ہم کئی کئی دن تک صرف دال چاول ہی کھاتے ہیں''۔ میں ان لیفٹیننٹ کا نام نہیں لوں گا کہ کہیں انہیں دال چاول سے بھی محروم نہ کر دیا جائے۔

ہیلی کاپٹر، وزٹ، بورڈ، سرچ اینڈ سیژر (ایچ وی بی ایس ایس) مشق کا ایک منظر.
ہیلی کاپٹر، وزٹ، بورڈ، سرچ اینڈ سیژر (ایچ وی بی ایس ایس) مشق کا ایک منظر.

دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد آدھے سے زیادہ صحافیوں نے وارڈ روم کا رخ کیا۔ ان میں سے کچھ کی طبیعت سمندری سفر کی وجہ سے شروع سے خراب ہو رہی تھی اور اب شکم سیر کھانا ان کی غنودگی میں شدت کا باعث بن رہا تھا۔

دیگر صحافی جہاز کے مختلف عرشوں کی بے آرام سیڑھیاں اترنے چڑھنے کے بعد نڈھال ہوچکے تھے۔

ایسے میں مجھے جہاز پر تعینات عملے کے ارکان سے بات چیت کرنے کا موقع مل گیا تھا، جن کے پاس بھی بتانے کے لیے ان کی اپنی کہانیاں تھیں — وہ کہانیاں جو فوج کے بارے میں عوامی نکتہءِ نظر سے دور کی ہیں۔

نیول ایس ایس جی کمانڈوز عرشے پر (ایچ وی بی ایس ایس) مشق کا مظاہرہ کر رہے ہیں.
نیول ایس ایس جی کمانڈوز عرشے پر (ایچ وی بی ایس ایس) مشق کا مظاہرہ کر رہے ہیں.

انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ مہینوں تک اپنے گھر والوں کو دیکھ نہیں پاتے اور گھر پر ہونے والی کسی تقریب میں حصہ نہیں لے پاتے۔ ایک افسر نے کہا کہ وہ گھروالوں کے دباؤ کے باوجود شادی نہیں کر رہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ناانصافی ہوگی اگر ان کی ہونے والی بیوی گھر پر اکیلی رہے جبکہ وہ مہینوں تک سمندر میں رہیں۔

ایسے بھی افسران تھے جو اپنے بچوں کی پیدائش کے مواقع پر وہاں موجود نہیں تھے۔

مگر سب سے تکلیف دہ کہانیاں ان کی تھیں جو اپنے والدین کے جنازوں میں شریک نہیں ہو پائے تھے اور اب اپنے دلوں پر یہ بوجھ لیے پھرتے ہیں۔

یہ ماننا پڑے گا کہ یہ لوگ بہت بہادر ہیں۔ وہ اپنے دشوار کام کے بارے میں شکایت نہیں کرتے اور مسکراتے چہروں اور کھلی بانہوں سے اپنی ذمہ داریوں کو گلے لگاتے ہیں۔

وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں نہ صرف بجٹ میں سب سے زیادہ حصے لینے کے حوالے سے یاد کریں، بلکہ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کے حوالے سے بھی یاد کریں۔

نیوی کے ایک ایس ایس جی کمانڈو.
نیوی کے ایک ایس ایس جی کمانڈو.

4 بجے: بحری جہاز نے بندرگاہ کی جانب لوٹنا شروع کیا۔

کراچی شہر اتنا دور نہیں تھا اور بحیرہءِ عرب اپنا گہرا نیلا رنگ آہستہ آہستہ کھو رہا تھا۔ سمندر سے دیکھنے پر کراچی صاف افق پر دھوئیں کے بادل کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔

آہستہ آہستہ کراچی پورٹ کی دیو قامت کرینوں کی نوکیں نمودار ہونا شروع ہوئیں، اس کے بعد تجارتی مراکز کی بلند و بالا عمارتیں ابھرنا شروع ہوئیں۔

ہم جیسے ہی پورٹ میں داخل ہوئے تو جہاز پر سوار افسران اور عملے نے دوسرے بحری جہاز کو سلیوٹ کیا جو ایندھن سے بھرا ہوا اور سمندر کے سفر پر روانہ ہونے کے لیے تیار کھڑا تھا۔

ایک خاتون نیول افسر نے بتایا کہ چونکہ وہ ایک کمیشنڈ جہاز تھا، اس لیے انہوں نے سلیوٹ کیا تھا۔

سمندر سے کراچی شہر صاف آسمان پر ایک کالے بادل سا دکھائی دے دیتا ہے.
سمندر سے کراچی شہر صاف آسمان پر ایک کالے بادل سا دکھائی دے دیتا ہے.

پی این ایس ذوالفقار کے لنگر انداز ہونے کے ساتھ ہی جو صحافی خرابیءِ طبیعت کی وجہ سے سو رہے تھے، جاگنا شروع ہوگئے تھے۔

بحری جہاز پر سفر کے دن کا اختتام ہونے پر ہم جہاز سے اترنے لگے تو ایک ایسے افسر سے بھی ملے جو جہاز پر ہمارے ساتھ سوار ہوئے تھے مگر بعد میں کہیں دکھائی نہیں دیے تھے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ ''آپ کہاں تھے؟''

انہوں نے جواب دیا کہ ''سمندری سفر سے میری طبیعت خراب ہو گئی تھی اس لیے میں کیبن میں سو رہا تھا۔''

سمندری سفر سے طبیعت خراب، وہ بھی ایک نیول افسر کی؟ میں گہری سوچ میں پڑگیا۔

انگلش میں پڑھیں۔


بحریہ کے شعبہء تعلقات عامہ کی جانب سے 50 صحافیوں کے گروپ کو بلوچستان کی ساحلی پٹی پر گوادر اور پسنی میں واقع بحریہ کی تنصیبات کا دورہ کروایا گیا تھا۔


توصیف رضی ملک ڈان ڈاٹ کام کے اسٹاف ممبر ہیں.

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: [email protected]


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔