ای میل

وہ باتیں جو ذیایبطس کے مریضوں کو معلوم ہونی چاہئے



لو بلڈ شوگر جسے hypoglycemia بھی کہا جاتا ہے کہ اکثر ذیابیطس کے شکار افراد پر انتہائی خوفناک اثرات مرتب کرتا ہے۔

ایسی صورتحال میں آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ اور کیسے اندازہ لگانا چاہئے کہ شوگر میں اچانک انتہائی کمی واقع ہوئی ہے؟

یہ بھی پڑھیں : ذیابیطس کی علامات اور بچاؤ کی تدابیر

درحقیقت ایسا تو برسوں یا دہائیوں سے ذیابیطس کے شکار اکثر افراد کے لیے بتانا بھی مشکل ہوتا ہے تاہم ایسی کچھ علامات ہیں جن سے آپ کافی حد تک اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بلڈ شوگر کم ہوئی ہے۔

لو بلڈ شوگر کی علامات

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

ایسا اس وقت ہوتا ہے جب بلڈ شوگر کا انسولین توازن بگڑ جائے اور اس کی علامات درج ذیل ہیں:

کمزوری اور کپکپاہٹ محسوس ہونا۔

جلد زرد پڑ جانا اور ٹھنڈ سمیت چپچپا محسوس ہونا۔

چڑچڑاہٹ، الجھن اور خراب رویے کا مظاہرہ۔

دل کی دھڑکن کی رفتار اچانک بڑھ جانا۔

مریض کا ہوش و حواس کھو دینا یا بے ہوش ہوجانا۔

مگر کچھ تیاری کے ساتھ آپ اس اچانک حملے کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔

15-15 رول پر عمل کریں

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

اگر آپ کا بلڈ شوگر ریڈنگ کم ہوجائے (70 ملی گرام سے کم) تو تیزی سے اثر کرنے والا کاربوہائیڈریٹ جیسے جوس کی 15 مقدار کو پی لیں، یہاں تک کہ اگر آپ خود کو ٹھیک محسوس کررہے ہو تو بلڈ شوگر لیول کی علامات کا انتظار مت کریں۔ پندرہ منٹ تک انتظار کریں اور اپنے بلڈ گلوکوز کو دوبارہ چیک کریں، اگر پھر بھی کم ہو تو اس عمل کو دوبارہ اس وقت تک دہرائیں جب تک بلڈ شوگر کی سطح صحت مند سطح تک پہنچ جائیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھانے سے قبل آپ کا بلڈ شوگر لیوم معمول کی سطح پر پہنچ چکا ہو۔

اچھی چیزوں کا ذخیرہ کریں

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

لو بلڈ شوگر کا فوری علاج گلوکوز سے بھرپور غذا کو کھا یا پی کر بھی کیا جاسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریض تین سے چار گلوکوز ٹیبلیٹس، چار یا پانچ نمکین بسکٹ، پانچ یا چھ سخت کینڈی، دو چائے کے چمچ کشمش، آدھا کپ فروٹ جوس یا کولڈ ڈرنک، ایک کپ دودھ یا ایک چائے کے چمچ شہد کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں۔ ضروری نہیں کہ یہ سب اپنے پاس رکھیں مگر ان میں سے ایک یا دو چیزیں ہر وقت ساتھ ہونی چاہئے۔

گاڑی چلانے سے قبل لو بلڈپریشر پر قابو پالیں

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

اگر آپ کا بلڈ شوگر لیول کم ہو تو ڈرائیونگ سے گریز کرنا چاہئے اور ذیایبطس کے مریضوں کو کبھی اس صورت میں گاڑی سڑک پر نہیں لانی چاہئے جب وہ بھوک ہو۔ گاڑی کا انجن چلانے سے قبل اپنا بلڈ شوگر لیول چیک کریں، اگر وہ معمول کی سطح پر نہیں تو اس کا علاج کریں اور پندرہ منٹ تک انتظار کرکے دوبارہ چیک کریں۔ احتیاطی تدبیر کے طور پر پروٹین سے بھرپور چیز جیسے ایک چھوٹا سیب گاڑی پر نکلنے سے پہلے کھالیں۔ اگر گاڑی چلاتے ہوئے لو بلڈ شوگر کی علامات کا سامنا ہو تو اسے فوری روک دیں۔

گلوکا گون کٹ اپنے پاس رکھیں

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

بلڈ شوگر لیول خطرناک حد تک کم ہوجائے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو مناسب مقدار میں کچھ کھانے یا پینے کا ہوش ہی نہ رہے، اگر ایسا حال ہوجائے تو گلوکاگون شاٹ کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے بلڈ شوگر لیول فوری طور پر اوپر جاتا ہے، اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے آپ ایک گلوکاگون کٹ لے سکتے ہیں اور اسے ایسی جگہ رکھیں جہاں آپ کے پیارے آسانی سے رسائی حاصل کرسکیں۔

اپنے شوگر ٹیسٹ میں مہارت حاصل کریں

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

بلڈ شوگر لیول میں انتہائی کمی سے واقفیت کا واحد ذریعہ گلوکوز کی سطح کا ٹیسٹ کرنا ہوتا ہے، مستند نتائج کے لیے اپنی کٹ کو کمرے کے درجہ حرارت پر رکھیں، تمام ٹیسٹنگ میٹریل کی آخری تاریخ (ایکسپائر ڈیٹ) کو چیک کرتے رہیں اور ٹیسٹ سے قبل اپنے ہاتھوں کو گرم اور صابن والے پانی سے دھو کر اچھی طرح خشک کرلیں۔ نمی، ایکسپائر میٹریل اور گیلی انگلیاں آپ کے ٹیسٹ کے نتائج کو غیر یقینی بناسکتے ہیں، اپنے نتائج کو آن لائن ٹول جیسے diabetes.orgپر ٹریک کریں اور ڈاکٹر کو بھی اس سے آگاہ کریں۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔