— خاکہ بلال کریم مغل
— خاکہ بلال کریم مغل

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہءِ ابلاغیات کی کلاس میں مشہور ڈرامہ نگار اور ہدایت کار ایوب خاور نے اسٹوڈنٹس سے سوال کیا کہ "فلم اور ڈرامے میں کیا فرق ہے؟"

دیگر اسٹوڈنٹس کے ساتھ میں نے بھی اپنا ہاتھ کھڑا کر دیا اور ایوب صاحب نے میرا جواب سب سے آخر میں یہ سمجھ کر لیا کہ میں شکل سے قدرے سمجھدار لگتا ہوں، اس لیے میرا جواب دوسروں سے بہتر ہوگا۔

میری باری آنے پر انتہائی بارعب طریقے سے میں نے جواب دیا کہ فلم دیکھنے کے لیے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں اور ڈرامہ مفت میں دیکھا جاتا ہے۔

جواب سن کر ایوب صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور ان کی آواز میں گرج پیدا ہونے لگی۔ میری طرف گھور کر بولے، آفرین ہے تم پر، شرم آنی چاہیے یہ جواب دیتے ہوئے۔

عزت افزائی کے بعد ایوب صاحب نے بتایا کہ ڈرامہ ہر چیز کی دلیل مانگتا ہے جبکہ فلم دلیل کی محتاج نہیں ہوتی۔

مثال کے طور پر امیتابھ بچن کو چند فلموں میں بیمار ماں کے ساتھ برساتی رات میں روتا دکھایا گیا اور پھر امیتابھ کی ماں وفات پا گئی۔ امیتابھ مشکلات میں سے گزرتا ہوا جوان ہوکر ہیرو بن جاتا ہے۔

یہی کہانی اگر ڈرامے میں ہو تو امیتابھ کے باپ سے متعلق بتانا پڑے گا، پھر اس کی بیمار ماں کی تفصیلات اور پھر وہ کیسے بڑا ہوا، سب دکھانا پڑے گا۔

اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ فلم میں کچھ بھی ممکن ہے، مگر ڈرامہ ہر سین کی دلیل یا منطق مانگتا ہے۔ فلم میں آپ وہ سب کچھ دیکھتے ہیں جس کا ممکن ہے کہ حقیقت سے کوئی تعلق نا ہو، اور یہی فلم اور ڈرامے میں بنیادی فرق ہے۔

آج کل ریلیز ہونے والی پاکستانی فلموں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہدایت کار فلم میں پیش آنے والے واقعات کی وجوہات بتانے میں ٹائم ضائع کرتے ہیں۔ فلم میں بتایا جاتا ہے کہ ہیرو اور ہیروئن کیسے ملے، ان کے والدین کا آپس میں کیا تعلق ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ دو سے تین گھنٹوں میں سے زیادہ وقت واقعات کی وجوہات بیان کرنے اور پھر ان وجوہات کے اثرات دکھانے پر ضائع کر دیا جاتا ہے۔

پاکستانی فلمی تاریخ کی مشہورِ زمانہ فلم مولا جٹ کے مصنف ناصر ادیب نے ایک بار ہماری کلاس میں لیکچر دیتے ہوئے بتایا تھا کہ فلم اور ڈرامے میں فرق یہ ہے کہ فلم کا مصنف دریا کو کوزے میں بند کرتا ہے، جبکہ ڈرامے کا مصنف کوزے کو دریا بناتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی ڈرامہ ہِٹ ہوجائے تو اس سے مزید بزنس کمانے کی خاطر کہانی میں مزید واقعات شامل کرکے اقساط بڑھائی جاتی ہیں۔ یعنی کہ ڈرامے کا اختتام مزید بزنس کی خاطر بدلا جاسکتا ہے۔ ناظرین کو چوں کہ ڈرامے کا اختتام معلوم نہیں ہوتا، اس لیے کسی کو کہانی میں تبدیلی کا پتا بھی نہیں لگتا۔

جبکہ فلم بینوں کے پاس صرف دو سے ڈھائی گھنٹے ہوتے ہیں، لہٰذا فلم بین کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ تفصیلات کی گہرائی میں جائے بغیر دیکھنے والوں کو اتنی کہانی سمجھا دے کہ تشنگی بھی محسوس نہ ہو، اور غیر ضروری طوالت لوگوں کو جمائیاں لینے پر بھی مجبور نہ کر دے۔

اس کی سب سے بڑی مثال مشہورِ زمانہ فلم سیریز ہیری پوٹر کی ہے، جس کی ہر کتاب کئی سو صفحات پر مبنی ہے، مگر اس کتاب پر فلم بنانے والوں نے اس کی طویل ترین کہانی کو بھی اس مہارت سے دیکھنے والوں کے لیے پیش کیا ہے کہ کہانی میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی۔

پر آج کل بننے والی پاکستانی فلموں کو دیکھیں تو ان کا مزاج طوالت اور تفصیلات سے بھرپور محسوس ہوتا ہے جو کہ ڈرامے کا خاصہ تو ہے، مگر فلم کا نہیں۔

پاکستان میں اس سے زیادہ ستم ظریفی کیا ہوگی کہ 'منٹو' کے نام سے بنائی جانے والی فلم درحقیقت ڈرامہ تھا، جس کی تمام اقساط کو جوڑ کر فلم بنا دی گئی۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ فلم کا ہدایت کار فلم کے 85 فیصد مناظر میں خود موجود تھا۔

منٹو تو ایک ڈرامہ تھا جسے جوڑ کر فلم بنا دیا گیا۔ مگر کچھ ہفتے قبل ہم ٹی وی پر شروع ہونے والا ڈرامہ سیریل 'بِن روئے' 2015 میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم بِن روئے کا extended version ہے، جسے ٹی وی دیکھنے والوں کے لیے فلم کی کہانی میں مناسب رد و بدل کر کے بنایا گیا ہے، جو کہ بنیادی طور پر فرحت اشتیاق کے ناول 'بِن روئے آنسو' سے ماخوز ہے۔

منٹو ڈرامے کو جوڑ کر فلم بنانا یقیناً فلم بینوں کے ساتھ زیادتی تھی، مگر چوں کہ بن روئے کو ٹی وی کے ناظرین کو دیکھتے ہوئے بنایا گیا ہے، لہٰذا یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ تجربہ کامیاب ہوگا۔

پاکستان کی موجودہ فلم انڈسٹری کی ایک خرابی یہ بھی ہے کہ فلموں میں ڈرامے کے ہیرو اور ہیروئن کو ہی بطور ہیرو اور ہیروئن کاسٹ کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے فلم دیکھنے والے فلم کو بھی ڈرامہ سمجھ کر ہی دیکھتے ہیں۔ پھر فلموں کی کہانی بھی ڈراموں کی طرح خاندانی سیاستوں اور خاندانوں کے ارد گرد گھومتی رہتی ہے، اس لیے فلم دیکھنے کے بعد یہی لگتا ہے کہ کسی بھی ڈرامے کی تمام اقساط کو اکٹھا دیکھا گیا ہے۔

بس ڈرامے کو فلم بنانے کے لیے اس میں چند گانے شامل کر دیے جاتے ہیں۔ اس سے تو بہتر ہے کہ ڈراموں میں ہی چند گانے شامل کرکے ان پر ہیرو اور ہیروئن کو تھرکتا دکھا دیا جائے تو یہ کمی بھی پوری ہوجائے گی۔

دوسری جانب ہندوستانی فلم انڈسٹری کا کوئی بھی سپر اسٹار تب تک ڈراموں میں کام نہیں کرتا جب تک کہ اسے فلمیں ملنا بند نا ہوجائیں۔ اس کے علاوہ کیا ماضی کے پاکستانی سپر اسٹارز محمد علی، وحید مراد یا پھر ندیم نے اپنے جوبن پر ڈراموں میں کام کیا تھا؟ کبھی ریما، شبنم، صبیحہ خانم یا زیبا بختیار نے ڈرامے میں کام کیا؟ کبھی نہیں۔

اس لیے نہیں کیوں کہ فلم اور ڈراما دو مختلف اصناف ہیں۔ اسی لیے ہندوستان میں بھی ڈراموں اور فلموں کے اداکار اپنی اپنی اصناف تک محدود رہتے ہیں، یا پھر شاذ و نادر ہی کوئی ڈرامے کا اداکار فلم میں کاسٹ کیا جاتا ہے۔

لہٰذا ہمارے فلم سازوں کو بھی فلم بناتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے کہ لوگ اپنی مصروف ترین زندگی میں سے وقت نکال کر انتہائی رش والی سڑکوں سے گزر کر پیسے خرچ کرکے فلم دیکھنے جاتے ہیں۔ انہیں ایسی کہانی دکھائیں کہ دیکھنے والوں کا انٹرول کا وقت گزارنا مشکل ہوجائے۔

اسٹوڈیوز کا استعمال کرتے ہوئے ایسے سیٹ بنائیں کہ دیکھنے والے آنکھیں جھپکنے نا پائیں۔ ایسی موسیقی کمپوز کریں کہ عدنان سمیع کو ہندوستانی شہریت لینے پر شرمندگی ہو۔

لڑتی بھابھیاں، کالج کینٹینز میں ڈیٹس اور کوٹھوں پر رومانس کرتے ہیرو ہیرؤئنز کو دیکھ دیکھ کر ہم تنگ آ چکے ہیں۔ ہماری ڈراما انڈسٹری اپنی جگہ پر بہترین کام کر رہی ہے، اس کی کامیابی کا فارمولہ فلم انڈسٹری میں اپنا کر ویسی کامیابی نہیں ملے گی جو فلم انڈسٹری کو ملنی چاہیے۔ لہٰذا فلم بنائیں فلم، فلم کے نام پر طویل دورانیے کے ڈرامے نہیں۔