Email


اوسلو، یورپ کا وہ پہلا شہر تھا جہاں سے میرے یورپ کے سفر کا آغاز ہوا، لیکن منیر نیازی کی نظم کی طرح

یہی اصل حقیقت ہے

کہ میری بے رخی چاہت

ہوئی مثل قفس مجھ کو،

مجھے تم سے محبت ہے

بس اتنی بات کہنے میں

لگے بارہ برس مجھ کو

بالکل ایسے ہی محبت کا یہ اظہار بھی سات سال لے گیا. ان سات سالوں میں درجنوں بار اوسلو کو دیکھنے کا موقع ملا. میرے بڑے بھائی اوسلو کے نواح میں میڈیکل ڈاکٹر ہیں، اس لیے یہاں آمد کے لیے کسی خاص بہانے کی ضرورت نہیں پڑتی. ان کو ناروے میں آئے چودہ پندرہ برس بیت چکے ہیں۔

اوسلو شہر کا ایک منظر — تصویر رمضان رفیق
اوسلو شہر کا ایک منظر — تصویر رمضان رفیق

اوسلو شہر کا ایک منظر — تصویر رمضان رفیق
اوسلو شہر کا ایک منظر — تصویر رمضان رفیق

اوسلو کا شمار دنیا کے چند مہنگے ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ جتنے روپوں میں آپ پراگ کی سیر کے لیے چار دنوں کے سفری پاس حاصل کرتے ہیں اتنے پیسوں میں یہاں ایئر پورٹ سے سینٹرل اسٹیشن طے کرنے کا یکطرفہ ٹکٹ آتا ہے۔ اگر ایئرپورٹ سے ٹیکسی پر اوسلو شہر کے مرکزی علاقے تک آیا جائے تو پاکستان میں موجود ایک مزدور کے لیے مقرر کم از کم تنخواہ سے بھی تھوڑا زیادہ خرچ آ جاتا ہے۔ یعنی پاکستان کے 12 سے 15 ہزار روپے۔

لیکن بھلا ہو بڑے بھائی اور ان کے مہربان دوستوں کا جنہوں نے اس مہنگے ملک کو میرے لیے سستی ترین منزل بنائے رکھا ہے۔ چھوٹا ہونے کے ناطے کچھ تحفے تحائف بھی واپسی پر سفر کا لطف دوبالا کیے رکھتے ہیں اس لیے جب کبھی آپ اوسلو کی طرف رخت سفر باندھیں تو زاد راہ کو کھلے دل کے ساتھ باندھیں۔

اوسلو میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، حتیٰ کہ گروند لینڈ نامی علاقے میں آ کر پاکستان کے کسی حصے کا گماں ہونے لگتا ہے۔ دیسی دکانوں پر اردو میں تحریر عبارتیں، حلال گوشت کی دکانیں، پاکستانی فیشن کی دکانیں، دیسی ریسٹورنٹ، دیسی مٹھائی کی دکانیں، لاہوری ناشتہ، دیسی مصالحہ جات اور گروسری کے بازار، غرض یہ کہ اپنے دیس کی گلیوں کا گمان ہو رہا ہوتا ہے۔

مجھے اوسلو کی جامع مسجد میں جمعہ پڑھنے کا اتفاق بھی ہوا ہے، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی آتے ہیں۔ اردو میں جمعے کا خطبہ سن کر لگتا ہی نہیں آپ یورپ کے کسی پرائے دیس میں بیٹھے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں چاند رات پر ایک مینا بازار جانے کا بھی اتفاق ہوا، جہاں، چاند رات کو ہونے والے کسی بھی پاکستانی بازار جیسا رش تھا۔ اگر سیاحتی نکتہ نظر سے اوسلو کو دیکھا جائے تو جن جگہوں پر میرا بارہا جانے کا اتفاق ہوا ان میں اوسلو کا اوپرا ہاؤس ایک ہے۔

اوسلو اوپرا ہاؤس

سفید سنگ مرمر سے بنی یہ خوبصورت عمارت، ایک مشہور پاکستانی آرکیٹیکٹ کے بقول، زمین سے اگی ہوئی معلوم ہوتی ہے نہ کہ تعمیر کی ہوئی۔ اس سفید عمارت کو ایک سفید آئس برگ کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے جو سمندر کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے سمندر کا ایک حصہ معلوم ہوتی ہے۔ خصوصاً موسم سرما میں دیکھنے پر یہ خوبصورت عمارت میں آئس برگ کی کیفیت مزید ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

اس عمارت کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں عمارت کی چھت تک جانے کے لیے کوئی سیڑھی نہیں بنائی گئی، بلکہ عمارت کی تعمیر ہی کچھ اس انداز میں کی گئی ہے کہ آپ بنا سیڑھیاں چڑھے چھت پر پہنچ جائیں گے، یہی بات اس پوری عمارت کو دور سے دلچسپ اور منفرد نظارہ بخشتی ہے۔

اوسلو اوپرا ہاؤس — تصویر رمضان رفیق
اوسلو اوپرا ہاؤس — تصویر رمضان رفیق

اوسلو اوپرا ہاؤس کی گرمیوں میں تصویر
اوسلو اوپرا ہاؤس کی گرمیوں میں تصویر

اوپرا ہاؤس کے سامنے، سمندر کنارے اکثر اوقات مختلف فنکار کنسرٹ کا انعقاد کر کے اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اوپرا ہاؤس کی اندرونی فنِ تعمیر کی خوبصورتی بھی قابلِ دید اور قابلِ داد ہے۔

ویسے تو یہ عمارت فنکاروں کے فن کے مظاہرے کی غرض سے تعمیر کی گئی تھی مگر یہ عمارت اپنے ہی اندر ایک فن پارہ سا محسوس ہوتا ہے۔ اس عمارت کا ڈیزائن اور تعمیر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ فن کی محفلوں کی اس جگہ کو دیکھے بغیر اوسلو کا سفر ادھورا ہے۔

ایکے برگ کی پہاڑی

اوپرا ہاؤس، اور اس کے ملحقہ علاقہ کا نام ایکے برگ ہے۔ یہاں ایک قلعہ بھی موجود ہے، لیکن قلعے کی طرف جانے سے پہلے اگر گاڑی میسر ہو تو تھوڑا دور نظر آتی پہاڑی پر جا کر شہر کا نظارہ کرنے کی کیا ہی بات ہے۔

بل کھاتی ایک سڑک اس پہاڑی پر لیے جاتی ہے۔ جس کی چوٹی پر ایک پوش ریسٹورنٹ بھی واقع ہے۔ اس کے سامنے جنگلہ لگا کر لوگوں کو شہر کے نظارے دیکھنے کی جگہ بنائی گئی ہے۔ یہاں سے شہر کی اونچی عمارتوں اور وادی میں موجود گھروں کا باآسانی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

پہاڑی سے شہر کا ایک منظر — تصویر رمضان رفیق
پہاڑی سے شہر کا ایک منظر — تصویر رمضان رفیق

گزشتہ سات برسوں میں اوسلو خاصا بدل چکا ہے۔ اوسلو میں اونچی عمارتیں زیادہ نظر آنے لگی ہیں۔ اب بہت سی عمارتیں ایکے برگ کی اس پہاڑی سے باتیں کرتی دکھائی دیتی ہیں جو کبھی ان چھوٹی موٹی عمارتوں کو منہ نہیں لگاتی تھیں۔ اس پہاڑی سے شہر کے علاوہ سمندر کا حصہ بھی دور تک دکھائی دیتا ہے۔

اگر کبھی شام ڈھلے اس پہاڑی پر آئیں اور مطلع صاف ہو، جو کبھی نصیبوں سے ہی ہو سکتا ہے، تو ثنا اللہ ظہیر کے اس شعر کی تصویر بن جاتی ہے۔

کنار شام سے بازووئے شب میں آتے ہوئے

یہ کس خیال سے چہرہ ہے لال سورج کا

ایکے برگ کا قلعہ اور ملحقہ علاقہ

ایکے برگ کے قلعے کو دیکھنے کے لیے ایک دن درکار ہے۔ اس کے در و دیوار کو بارہا دیکھا لیکن اندر جانے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ پتھر کی دیواروں سے تعمیر یہ قلعہ 1290 کے قریب تعمیر کیا گیا، اس نے بہت سی یورشوں کا سامنا کیا لیکن اب بھی اسی شان و شوکت سے ایستادہ ہے۔

اوپرا ہاؤس سے قلعے کی طرف چلیں تو یہ سارا ساحلی علاقہ خوبصورت ریسٹورینٹس سے بھرا ہوا ہے۔ موسم گرما میں یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کو ملتی ہے، لیکن اب کی بار دسمبر میں گیا ہوں تو سوائے چند سیاحوں کے بہت کم مقامی افراد دیکھنے کو ملے۔

ایکے برگ کا قلعہ — تصویر رمضان رفیق
ایکے برگ کا قلعہ — تصویر رمضان رفیق

ایکے برگ کا قلعہ — تصویر رمضان رفیق
ایکے برگ کا قلعہ — تصویر رمضان رفیق

ایکے برگ کا علاقہ، اوسلو — تصویر رمضان رفیق
ایکے برگ کا علاقہ، اوسلو — تصویر رمضان رفیق

اسی ساحلی پٹی کے ساتھ ایک لوہے کی تختی نصب ہے جس پر اوسلو کے ہزار سال مکمل ہونے کا جشن منانے کی عبارت تحریر ہے۔ اس تختی پر یہ بات بھی رقم ہے کہ اوسلو کے شہریوں نے ہزار سال بعد آنے والی نسل کے لیے ایک پیغام لکھ کر ٹاون ہال میں ایک جگہ پر رکھا ہے۔ اس پیغام میں آنے والی نسلوں کے لیے محبت کا پیغام ہے۔ اس پیغام کو ایک دھاتی خول میں رکھا گیا ہے، جس پر موسموں کا اثر بہت کم ہو سکتا ہے۔

ٹاؤن ہال اور نوبل پیس سینٹر

یورپ کے اکثر شہروں میں ٹاؤن ہال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اوسلو ٹاون ہال کی عمارت 1950 میں مکمل ہوئی، اس کی وجہِ شہرت یہاں 10 دسمبر کو منعقد ہونے والی امن کے نوبیل انعام کی تقریبات بنی ہیں، جس میں شامل مہمانوں میں دنیا بھر سے منتخب شخصیات اور ناروے کے شاہی خاندان کے افراد ہوتے ہیں۔

اس عمارت پر لوہے کے بڑے بڑے مجسمے نصب کیے گئے ہیں جو ناروے سے جڑی ماضی قریب کی تاریخ کی آئینہ دار ہیں۔ ٹاؤن ہال کی عمارت کو دوسری سمت سے دیکھیں تو دو عمودی رخ بنے ہوئے حصے بہت نمایاں نظر آتے ہیں، جن کو ان کی کشادگی کی بنا پر مینار نہیں کہا جا سکتا۔

ٹاؤن ہال، اسلو — تصویر رمضان رفیق
ٹاؤن ہال، اسلو — تصویر رمضان رفیق

نوبل پیس سینٹر — تصویر رمضان رفیق
نوبل پیس سینٹر — تصویر رمضان رفیق

ٹاؤن ہال کے بالکل سامنے ایکے برگ کے شاپنگ ایریا کی طرف پرانے ریلوے اسٹیشن کی عمارت کو ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ جس کو نوبیل پیس سینٹر سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس میوزیم میں نوبیل انعام کی تاریخ اور اس کو حاصل کرنے والوں کے متعلق ریکارڈ کو مرتب کیا گیا ہے۔

لوگوں کو انٹرایکٹو ٹیکنالوجی کی مدد سے نوبیل انعام کی کہانی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس سینٹر میں امن، جنگ اور معاشرت کے حوالے سے سیمینارز وغیرہ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں نوبیل انعام کے بانی الفریڈ نوبیل کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ عمارت سیاحت کے لیے ایک پرکشش اور منافع بخش مقام بنانے کی ایک عمدہ مثال ہے، جہاں ملک کے ایک نوبیل انعام کے تاثر کو ذہن میں رکھتے ہوئے سیاحوں کے لیے ایک نخلستان تخلیق کیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کی عمارت اور بادشاہ کا محل

ٹاون ہال سے تھوڑے ہی فاصلے پر نارویجئن پارلیمنٹ کی عمارت ہے۔ اس عمارت کا افتتاح 5 مارچ 1866 کو ہوا، پارلیمنٹ کی عمارت واکنگ اسٹریٹ کے کونے پر واقع ہے، جہاں سے تقریباً ہر سیاح کا گزر ہوتا ہے، دور دور تک کہیں سبزہ نظر نہیں آتا۔ ابھی تازہ ترین تصویر دسمبر کے اوائل میں لی گئی ہے، اس لیے ایک عارضی کرسمس ٹری تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ہو سکتا ہے جب آپ دیکھنے جائیں تو آپ کو مرکزی کرسمس ٹری دیکھنے کو نہ ملے۔ یہ عام سی عمارت پاکستان کے پوش بنگلوں سے کہیں کم تر دکھائی دیتی ہے مگر اس عمارت کے اندر ہونے والے فیصلے ملک میں عام اور خاص کے فرق کو کم سے کم کر کے اپنی طاقت کا لوہا منواتے ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس جانے والی سڑک کے ایک طرف چڑھائی ہے اور دوسری جانب اترائی، چڑھائی کی طرف دیکھیں تو ایک جاذب نظر عمارت پر نظر پڑتی ہے، یہ ناروے کے شاہی خاندان کا مسکن ہے۔

واکنگ اسٹریٹ، اوسلو — تصویر رمضان رفیق
واکنگ اسٹریٹ، اوسلو — تصویر رمضان رفیق

ناروے پارلیمنٹ، اوسلو — تصویر رمضان رفیق
ناروے پارلیمنٹ، اوسلو — تصویر رمضان رفیق

شاہی محل، اوسلو — تصویر رمضان رفیق
شاہی محل، اوسلو — تصویر رمضان رفیق

یہ عمارت بھی دیکھنے میں سادہ سی معلوم ہوتی ہے۔ ہم جنہیں برج اور مینار اور فصیلیں دیکھے بغیر بادشاہت کا گماں نہیں گزرتا، ان سادہ دلوں کا کا گزارہ شاید اس بات سے ہو سکے کہ اس محل میں 173 کمرے ہیں۔

یہ عمارت 1849 میں مکمل ہوئی، اس کی تعمیر کے قریب نصف صدی کے بعد سے لے کر 1991 تک اس محل کی مرمت کے لیے پیسے ہی نہیں تھے۔

2002 میں جب اس محل کی حالت انتہائی بوسیدہ ہو گئی تو موجودہ ولی عہد کو محل کی مرمت کے لیے پارلیمنٹ سے منظور شدہ اخراجات سے تجاوز کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی تعمیر کچھ وقت کے لیے مؤخر بھی رہی، حالانکہ وہ پیسے صرف محل کے 150 سال پرانے ڈھانچے کی مرمت میں ہی خرچ ہو گئے تھے۔

فروگنر پارک

اوسلو کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے عوامی مقامات میں سے ایک اعلیٰ درجے کا حامل یہ پارک بھی ہے، اس خوبصورت پارک کی شان اور خوبصورتی پتھر سے تراشے ہوئے بے شمار مجسموں اور ان کے انداز پیشکش سے ہے۔

اس پارک کے سب شاہکار عریاں ہیں، اس لیے پردے دار خواتین و حضرات کو تاکید کی جاتی ہے کہ اپنی نظروں کی حفاظت کا خوب بندوبست رکھیں۔ لیکن اگر آپ کو فنون لطیفہ سے ذرا سی بھی دلچسپی ہے تو یہ پارک دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

فروگنر پارک مجسمے — تصویر رمضان رفیق
فروگنر پارک مجسمے — تصویر رمضان رفیق

فروگنر پارک مجسمے — تصویر رمضان رفیق
فروگنر پارک مجسمے — تصویر رمضان رفیق

فروگنر پارک کی گرمیوں میں لی گئی تصویر — تصویر رمضان رفیق
فروگنر پارک کی گرمیوں میں لی گئی تصویر — تصویر رمضان رفیق

فن سنگ تراشی سے نابلد شخص بھی انسانی ہاتھ سے تراشی ہوئی مسکراہٹوں، آرزوؤں کی مجسم اشکال کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ اس پارک کے ایک دو مجسموں کو دنیا دور دور سے دیکھنے آتی ہے۔ خصوصاً چینی سیاحوں کا تو ہجوم سا چھایا رہتا ہے۔

ان مجسموں کے خالق گسٹو وجالند کی یہ کاوش اوسلو میونسپلٹی اور اس فنکار کے درمیان ایک معاہدے کا نتیجہ ہے۔ ہمارے ہاں بھی فنکار حکومتوں کی آشیرواد کے منتظر ہیں ورنہ کتنی آسانی سے ایسے کئی تاج محل اور مجسمے تراشے جا سکتے ہیں۔

بگ ڈوئی کا ساحل اور فرم میوزیم

ہم وائکنگ میوزیم کے راستے میں تھے کہ میرے میزبان نے بگ ڈوئی کے ساحل کی تعریف کی۔ دسمبر کے موسم میں ساحل سمندر پر جانا ایک خنک تجربہ ہے، لیکن حسن ہر رنگ میں حسین لگتا ہے۔ سچ پوچھیے تو اگر اس ساحل پر نہ جاتا تو افسوس ہوتا۔

ساحلوں کی خوبصورتی کو سمجھنے کے لیے سمندر جتنی گہرائی چاہیے، کچھ لوگوں کو صرف موسمِ سرما کے ساحل اور اس پر لوگ اچھے لگتے ہیں اور میرے لیے ساحل سارے سال کا تجربہ ہے۔

ساحلوں پر کچھ ایسا ہے جو دل کے تاروں پر اوپرا کا سا اثر کرتا ہے جس کے بول سمجھ نہیں آتے، جس کی زبان اجنبی ہے مگر کچھ ہونے کا احساس دلاتی ہے۔

ساحل سے سمندر کا نظارہ جہاں ایک کشتی سفر کو گامزن ہے — تصویر رمضان رفیق
ساحل سے سمندر کا نظارہ جہاں ایک کشتی سفر کو گامزن ہے — تصویر رمضان رفیق

اوسلو کا خوبصورت ساحلی کنارہ — تصویر رمضان رفیق
اوسلو کا خوبصورت ساحلی کنارہ — تصویر رمضان رفیق

فرم میوزیم، اوسلو — تصویر رمضان رفیق
فرم میوزیم، اوسلو — تصویر رمضان رفیق

اگر آپ اوسلو شہر کی سیر کے دوران شہر کے اس حصے کی طرف نکلیں جہاں فرم میوزیم یا دیگر میوزیم ہیں تو اس ساحل پر میرا سلام کہنا مت بھولیے گا۔ ناروے کے بادشاہ کی موسمِ گرما کی رہائش گاہ کے تھوڑا قریب، جہاں اور بھی دیگر میوزیم جیسے کلچرل ہسٹری اور وائکنگ شپ میوزیم موجود ہیں وہاں فرم میوزیم بھی ہے۔

اس میوزیم میں فرم نامی جہاز جو 1893 سے 1912 تک آرکٹک اور انٹارکٹکا کے علاقوں کی دریافت میں استعمال ہوا تھا، رکھا گیا ہے۔ اس میوزیم میں قطبی علاقوں میں زندگی کے مختلف رخوں کی بھی تصویر کشی کی گئی ہے۔

سینٹرل اسٹیشن اور ٹائیگر سے ملاقات

اوسلو سینٹرل اسٹیش کے سامنے ایک ٹائیگر کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ٹائیگر اوسلو شہر کا نک نیم ہے۔ 1870 کے قریب ایک نارویجئین شاعر نے اوسلو کو ایک ٹائیگر سے تشبیہ دی تھی، اس لیے شہر کی اس مرکزی جگہ پر یہ ٹائیگر اوسلو شہر کے اس خفی نام کی طرف ایک اشارہ ہے۔

سینٹرل اسٹیشن، اوسلو — تصویر رمضان رفیق
سینٹرل اسٹیشن، اوسلو — تصویر رمضان رفیق

سینٹرل اسٹیشن سے باہر موجود ٹائیگر — تصویر رمضان رفیق
سینٹرل اسٹیشن سے باہر موجود ٹائیگر — تصویر رمضان رفیق

اوسلو سینٹرل اسٹیشن کا علاقہ — تصویر رمضان رفیق
اوسلو سینٹرل اسٹیشن کا علاقہ — تصویر رمضان رفیق

ناروے کی خوبصورتی اس شہر کے ماحول میں جھلک رہی ہوتی ہے۔ شخصی آزادی، مساوات، سماجی نظام، قانون کی بالادستی اس کی شان ہے، اسی لیے اس کا شمار دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ جیسے زندگی میں ہر اچھی چیز کی قیمت ہوتی ہے، ایسے ہی ناروے کے لوگ ریاست کو بہت زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

اوسلو شہر میں کئی جگہوں پر گاڑی پر داخل ہوں تو ٹول ادا کرنا پڑتا ہے۔ دراصل حکومت شہر کے اندر گاڑیوں کے داخلے کو کم سے کم کرنے پر مائل ہے اور عوامی ذرائع آمد و رفت کو بڑھانے کی خواہشمند ہے۔

اوسلو میں جتنی بھی خوبصورتیاں تلاش کر لوں لیکن ایک خوبصورتی سب پر بھاری ہے کہ محبت کرنے والے بھائی اور ان کے دوست جنہوں نے میرے ہر سفر کو آسان بنایا۔ شکریہ اوسلو اور شکریہ مہربان دوستو، پھر ملیں گے۔


رمضان رفیق کوپن ہیگن میں رہتے ہیں، اور ایگری ہنٹ نامی ویب سائٹ چلاتے ہیں۔ ان کا بلاگ یہاں وزٹ کریں: تحریر سے تقریر تک


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔