'کلبھوشن یادیو کو بھارت کے حوالے کرنے کا کوئی امکان نہیں'

اپ ڈیٹ 03 مارچ 2017

ای میل

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے خلاف ناکافی ثبوت ہونے کی بات نہیں کی بلکہ اس کے خلاف کیس تیار کیا جارہا ہے۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے سینیٹ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی حکومت نے بھارت کو کلبھوشن یادیو اور اس کی سرگرمیوں سے متعلق باضابطہ آگاہ کردیا ہے جبکہ داخلی معاملات میں بھارتی مداخلت کے واقعات میں ملوث ہونے سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی آگاہ کیا جاچکا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں حساس اداروں نے بلوچستان سے بھارتی جاسوس اور نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔

'را' ایجنٹ کی گرفتاری کے چند روز بعد اس کی ویڈیو بھی سامنے لائی گئی، جس میں کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی 'را' میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’کلبھوشن کے خلاف شواہد اکھٹے کررہے ہیں‘

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی صدارت میں ہونے والے سینیٹ اجلاس میں جمع کرائے گئے اس جواب میں مزید کہا گیا کہ دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو بھی بھارتی مداخلت کے حوالے سے آگاہ کرنے پر غور جاری ہے۔

سینیٹ کے وقفہ سوالات میں سینیٹر طلحہ کی جانب سے کیے گئے اس سوال پر کہ 'کیاریمنڈ ڈیوس کی طرح کلبھوشن یادیو کو بھی ریڈ کارپٹ پر واپس بھجوایا جاسکتا ہے؟' مشیر خارجہ کا کہنا تھا کلبھوشن یادیو کو بھارت کے حوالے کرنے کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی تجویز زیرغور ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے کبھی بھی کلبھوشن یادیو کے خلاف ناکافی ثبوت موجود ہونے کی بات نہیں کی اور کلبھوشن یادیو کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جاچکی ہے۔

سرتاج عزیز کا مزید کہنا تھا کہ بھارت بالواسطہ اور بلاواسطہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، بالخصوص بھارت کے ریاستی عناصر پاکستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں اور گرفتار کلبھوشن ہادیو بھی بھارتی حاضر سروس افسر تھا۔

مزید پڑھیں: 'کلبھوشن یادیو کے معاملے پر حکومت الجھن کا شکار'

ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی فورمز پر پاکستان نے یہ موقف اپنایا ہے کہ بھارتی ریاستی عناصر پاکستان میں دہشت گردی کررہے ہیں اور ہمارے اس موقف کو عالمی فورمز پر پذیرائی مل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے حوالے سے پاکستان نے سوالات کی فہرست بھیجی ہے اور بھارت سے ان کے تفصیلی جوابات طلب کیے ہیں۔

مشیرخارجہ کے مطابق کلبھوشن یادیو کے خلاف ڈوزیئر اصل مسئلہ نہیں، پراسیکیوشن اصل کام ہے جس پر کام جاری ہے۔

اس موقع پر سینیٹر اعتزاز احسن نے ایک بار پھر وزیراعظم سے کلبھوشن یادیو کا نام لینے کا مطالبہ دہرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے اعلان کررکھا ہے کہ اگر وزیراعظم نے اپنی زبان سے کلبھوشن یادیو کا نام لیا تو میں 50 ہزار روپے پاکستان بلائنڈ ایسوسی ایشن کو دوں گا'۔

اعتزاز احسن نے سرتاج عزیز سے سوال کیا کہ بتایا جائے کیا وزیراعظم اپنی زبان سے کلبھوشن یادیو کا نام لیں گے؟

جس پر سرتاج عزیز نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں کہ وزیراعظم نواز شریف کلبوشن یادیو کا نام نہ لیں، جب مناسب موقع ہوگا تو وزیراعظم کلبوشن یادیو کا نام ضرور لیں گے۔

اس موقع پر اجلاس میں وزراء کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رضا ربانی نے شیخ آفتاب سے سوال کیا کہ وفاقی وزرا کہاں ہیں؟ جس پر شیخ آفتاب نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ہونے والے سینیٹ اجلاس میں تو وزراء پاناما کیس میں سپریم کورٹ حاضری لگوانے جاتے تھے، اب تو پاناما کیس بھی نہیں، وزراء کو سینیٹ اجلاس میں موجود ہونا چاہیئے۔

جس پر راجا ظفر الحق کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ کافی عرصے بعد آج اپوزیشن لیڈر خود سینیٹ اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔