میری بہن پروین رحمان کی یاد میں

اپ ڈیٹ 13 مارچ 2017

Email


نفیس کڑھائی والی سفید قمیض جب خون سے سرخ ہونے لگی ہوگی، تو اس نے سوچا ہوگا کہ امی انتظار کر رہی ہوں گی۔ — خاکہ خدا بخش ابڑو۔
نفیس کڑھائی والی سفید قمیض جب خون سے سرخ ہونے لگی ہوگی، تو اس نے سوچا ہوگا کہ امی انتظار کر رہی ہوں گی۔ — خاکہ خدا بخش ابڑو۔

اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی ڈائیریکٹر پروین رحمان کو 2013 میں اس دن قتل کر دیا گیا تھا۔

وہ ایک بے لوث اور پرعزم سماجی کارکن، ایک پیاری دوست، ایک قریبی ساتھی، ایک محبت کرنے والی بیٹی اور میری چھوٹی بہن تھیں۔

یہ تحریر، جو زیادہ تر تصوراتی ہے مگر جس میں حقیقی تفصیلات بھی شامل ہیں، واقعات کے اس سلسلے کا اعادہ ہے جس کا اختتام پروین رحمان کے قتل کے لمحے پر ہوتا ہے۔


اس صبح وہ معمول کے مطابق ساڑھے سات بجے اٹھ چکی تھی۔ اس کے باغ میں لال پیلے ایگزورا اور کھجور کے درختوں پر چہچہاتے پرندوں، مٹی کی بطخوں اور ہاتھیوں، بیلوں اور پھلوں، اور تتلیوں اور شہد کی مکھیوں نے کیا۔ اس کا بستر باغ کی جانب کھلنے والی کھڑکی کے ساتھ ہی تھا جس کے پردے کبھی بھی بند نہیں ہوا کرتے تھے۔

اس کی بلیاں جو اس کے ساتھ سویا کرتی تھیں، کھانے کے لیے پکارنے لگیں۔ اس نے بلیوں سے تب تک صبر کرنے کے لیے کہا جب تک کہ وہ منہ ہاتھ نہیں دھو لیتی، مگر بلیوں کو کھانے کے لیے 'صبر' کرنے کا کہنا بھی وقت کا ضیاع ہی تھا، چنانچہ وہ اپنے بال سنبھالتی ہوئے اپنے نائٹ گاؤن میں ہی کچن میں گئی تاکہ ان کے لیے کھانا نکالا جا سکے۔ ہمارے خاندان میں ان دو مستقل بلیوں کے علاوہ بلی کے تین سیاہ بچے بھی تھے جنہیں وہ دفتر سے واپسی پر راستے سے اٹھا لائی تھی۔

بلیوں کو کھانا دینے کے بعد اس نے اپنے اور امی کے لیے ناشتہ بنایا، ایک انڈہ اپنے لیے، مکھن کے ساتھ دو ٹوسٹ امی کے لیے، اور چائے دونوں کے لیے۔ وہ دونوں ڈائننگ ٹیبل پر ڈائننگ روم کی کھڑکی کے بالکل سامنے بیٹھی تھیں، جہاں سے لال، گلابی، اور سفید خوشبودار جھمکا پھول، رادھاچورا کے پیلے پھول، اور دل کی شکل کے پتوں والی بیلیں اندر جھانک رہی تھیں۔

میز پر مٹی کے برتن، گلدان، جگ، کھانے کی پلیٹیں، اور بوتلوں میں پودے رکھے تھے جنہیں وہ سندھ اور پنجاب کے شہروں اور دیہات کے دوروں سے واپسی پر اٹھا لاتی تھی۔

وہ دو دن میں سندھ اور پنجاب کے سیلاب زدگان کے لیے شیلٹرز کی تعمیر کا معائنہ کرنے کے لیے دادو جا رہی تھی۔ اس نے انور راشد سے کہا تھا کہ وہ اسی مہینے جشنِ بہاراں کے لیے بھٹ شاہ بھی جانا چاہتی ہے۔

ان کا معمول تھا کہ وہ سالِ نو کے موقع پر بھٹ شاہ جایا کرتے تھے، جن کے سندھ کی سات سورمیوں مومل، سسئی، ہیر، لیلا، سورٹھ، مارئی اور سوہنی کے بارے میں لکھے گئے اشعار ان کی خوبصورتی اور ان کے پاکیزگی کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ انور راشد نے مذاقاً کہا تھا کہ اگر پروین رحمان شاہ بھٹائی کے دور میں زندہ ہوتی، تو انہوں نے اس کے نام پر بھی ایک راگ تخلیق کرنا تھا، جسے شاید وہ 'سُر مسکراہٹ' کا نام دیتے۔

وہ جب بھی مزار کے احآطے میں جاتی، تو سفید اور نیلے نقوش و نگار والے مزار کی سیڑھیاں خوشی خوشی چڑھتی۔ راستے میں وہ ہر چھابڑی والے سے رک کر حال احوال لیتی اور ان سے ایک انگوٹھی، چوڑیوں کا سیٹ، کچھ نہ کچھ ضرور خریدتی جیسے پہلی دفعہ آئی ہو۔ پھر وہ یہ سب چیزیں اپنے دوستوں، ٹیم کے افراد اور بھانجیوں میں تقسیم کر دیتی۔

یہی اس کا طریقہ اچ شریف کے بازاروں، ٹھٹھہ کی گلیوں، بہاولپور، تھائی لینڈ، بانڈونگ، سری لنکا، نیپال، انڈیا، سوئٹزرلینڈ، جاپان اور ہر جگہ، جہاں بھی وہ غریبوں کے لیے نکاسی آب، گھروں کی تعمیر، تعلیم، اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے عوام اور حکومت کی شراکتداری پر لیکچر دینے جاتی، وہاں اس کا معمول یہی ہوا کرتا تھا۔

بدھ کی اس صبح 13 مارچ اس نے اپنی نقشے تیار کرنے والی ٹیم کو لے کر گڈاپ ٹاؤن کے ایک گوٹھ کا نقشہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ کراچی میں زمین کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے شہر برق رفتاری سے مضافاتی علاقوں کی جانب پھیل رہا تھا، لہٰذا گڈاپ، بن قاسم اور کیماڑی کے گوٹھوں پر مسماری کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ پروین گھر سے نکالے جانے کا درد جانتی تھی۔

موسم کی سختیوں سے بچانے والی دیواروں اور چھتوں کو مسمار کر دیا جائے تو وہ ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیں، اور انسان کھلے آسمان کے رحم و کرم پر رہ جاتا ہے، جیسے کہ پروین رحمان فروری 1972 میں بنگلہ دیش میں تھی۔

نئے ملک کے سپاہیوں نے تینوں بہن بھائیوں کو والدین سمیت گھر سے بے دخل کر کے ایک میدان میں بھیج دیا تھا، جہاں سے مردوں کو جیل اور عورتوں کو دریائے سیتالکھیا کے پاس ایک کیمپ میں بھیجا جا رہا تھا۔

اسی وجہ سے وہ بے دخل کیے جانے کی کسی بھی خبر پر اتنا شدید ردِعمل دیتی تھی کیوں کہ وہ خود اس کرب سے گزر چکی تھی۔

دفتر پہنچنے پر اس کا سب سے پہلا کام اپنے جوائنٹ ڈائریکٹر کے ساتھ جاری کاموں اور مستقبل کے منصوبوں پر کام کرنا ہوتا تھا۔

"کیا کسی نے بیچ لگژری ہوٹل کے باہر موجود اس ہائیڈرینٹ کا معائنہ کیا؟ میں نے وہ کراچی لٹریچر فیسٹیول سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا۔ ہم ہوٹل سے گاڑی میں نکل رہے تھے جب میں نے اسے برگد کے ایک پرانے درخت کے نیچے دیکھا تھا۔"

"آپ ایسی چیزیں کس طرح تلاش کر لیتی ہیں؟"

"یہ تو بالکل سامنے تھا، نظروں سے بچ ہی نہیں سکتا۔ اور کسی کو ملیر کینٹ کے سامنے والے روڈ پر موجود ہائیڈرینٹ کو بھی دیکھنے کے لیے بھیجیں۔"

"مگر آپ تو اس سڑک سے کبھی جاتی ہی نہیں، آپ کو اس کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟"

"جب کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ افراد کے قتل کے خلاف مظاہرین نے سڑک بند کر رکھی تھی، تو ہم نے آپا کے گھر پہنچنے کے لیے صفورہ گوٹھ کا پیچھے والا راستہ لیا تھا۔"

"اشرف بیچ لگژری کے قریب والے ہائیڈرینٹ پر گیا تھا، مگر اسے تصویریں لیتے ہوئے دیکھ لیا گیا تھا چنانچہ وہ واپس آ گیا۔ آپ جانتی ہیں غیر قانونی ہائیڈرینٹس کو دستاویزی صورت میں لانا کتنا خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔"

"ہاں میں جانتی ہوں، خاص طور پر جب کامران خان نے ہماری تحقیق پر پروگرام کیا۔ مگر انہوں نے ہمارا نام نہیں لیا، تو شاید یہ اتنا بھی برا نہیں ہے کہ لوگ پانی کے مسئلے کی شدت سے آگاہ ہوتے جا رہے ہیں، اور اس بات سے بھی کہ اس غیر قانونی فروخت کو روک کر پانی کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔ کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ اس کاروبار سے مافیا 50 کروڑ روپے کماتی ہے جبکہ سرکاری ادارے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا بجٹ صرف 5 کروڑ روپے ہے۔"

"آپ کو نہیں لگتا کہ یہ لوگ پتہ لگا لیں گے کہ تحقیق کے پیچھے کون ہے؟ اور اب جبکہ عسکریت پسندوں نے سائٹ اور بلدیہ کی صنعتوں کو فراہم کیے جانے والے ٹینکروں سے حصہ لینا شروع کر دیا ہے، تو اب یہ اور بھی خطرناک ہو چکا ہے۔ وہ بالکل ہمارے دروازے کے سامنے ہیں، آپ جانتی ہیں۔"

"اچھا ٹھیک ہے، بس ان دو ہائیڈرینٹس کو اپنی فہرست میں شامل کر لیں اور ٹیم کو ان کی تصاویر لینے کے لیے مت بھیجیے گا۔ آپ صحیح کہہ رہے ہیں، ہمیں خبردار رہنا چاہیے۔"

"مجھے لگتا ہے کہ ہمیں مزید کسی ہائیڈرینٹ پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے بجائے گوٹھوں کے ہاؤسنگ پروگرام پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک گوٹھ کے بڑے نے مجھ سے رابطہ کیا تھا، وہ اپنے گوٹھ کا نقشہ بنوانا چاہتے ہیں۔"

"زبردست ۔۔۔ ہم نے کتنے لوگوں کے لیے رہائش کا انتظام کیا ہے ۔۔۔ ایک ہزار گوٹھوں کو لیز مل چکی ہے ۔۔۔ اس سے یہ تاثر تبدیل ہوگا کہ یہ خالی زمینیں ہیں جن پر کوئی بھی قبضہ کر کے انہیں منافع کے لیے فروخت کر سکتا ہے۔"

"مگر گوٹھوں کے بڑے پھر بھی شاید یہ زمینیں بیچنا چاہیں۔"

"یہ ٹھیک ہے، گھروں سے باہر نکالے جانے کے بجائے زمینیں بیچ دینا ان کا حق ہے۔ کم از کم انہیں اس کی اچھی قیمت تو ملے گی۔ آپ کو پتہ ہے قبضہ مافیا کے پاس کتنا پیسہ ہے؟ اس قدر پیسہ شاید صرف انہی کے پاس ہے۔"

"آپ کو لگتا ہے کہ انہیں منشیات بیچ کر پیسہ ملتا ہے؟"

"ہاں، اور نیٹو اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ٹرکس سے بھتہ لے کر، اور یہ سب ایک جنگی معیشت کے تسلسل کی وجہ سے ہے۔ خیر دیکھتے ہیں کہ ہمارے محفوظ رہائش کے پروگرام کے نئے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں، مجھے فخر ہے کہ ہم اتنے لوگوں کی مدد کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔"

اس شام گھر لوٹتے ہوئے شاید اس نے اپنی نیلی کرولا آفس کے باہر گلی میں داخل ہوتے ہوئے اپنے کندھے کو گھما کر دیکھا ہوگا۔ اس وقت اورنگی کی گلیوں پر شام اتر رہی تھی۔

شاید اس نے چائے کے ہوٹل کے تھڑے پر بیٹھے ہوئے اس نوجوان کو دیکھا ہو جس کے ٹوپی کے نیچے لمبے کالے گھنگھریالے بال لہرا رہے تھے، جس نے چھوٹی سی گہری خاکستری رنگ کی قمیض اور گھیر والی شلوار پہن رکھی تھی۔ شاید اس نے اسے موبائل فون نکال کر کال ملاتے ہوئے دیکھا ہو۔

شاید اس نے اسے کہتے ہوئے سنا ہو، "پرندہ اپنے گھونسلے سے اڑ چکا ہے ۔۔۔" شاید اس نے سوچا ہو کہ یہ شخص اس وقت پرندوں کے بارے میں کیوں بات کر رہا ہے۔ پھر شاید اسے بلبل کی اس جوڑی کا خیال آیا ہو جس نے پروین کے باغ میں اپنا گھونسلہ بنا رکھا تھا۔ اس نے سوچا ہوگا کہ کہیں بلبل کو اس کی کالی بلی نے کہیں ستایا تو نہیں تھا۔

گلی میں روشنی نہیں تھی، اور ڈوبتے سورج کی نارنجی روشنی سے منور پتوں سے عاری درخت آسمان پر نقش و نگار بنا رہے تھے۔ یہ سب کچھ ڈراؤنا لگ رہا تھا، مگر پروین کو کسی چیز سے خوف نہیں تھا۔

اس نے اپنے ڈرائیور سے کہا، "ولی داد، دیر ہوگئی ہے، امی ناراض ہوں گی۔"

"میڈم، انہیں تو آپ کے وقت کی عادت ہوگئی ہے۔ آپ جلدی گھر جاتی ہی کب ہیں، حالاں کہ وقت کتنا خراب ہے، میں کہتا بھی ہوں آپ سے کہ اندھیرا ہونے سے پہلے واپس ہو لیا کریں، مگر آپ سنتی نہیں۔"

"میں جانتی ہوں ولی داد، مگر ہمیں کام کرنا ہے۔ میں بدین سے آئی ہوئی ان خواتین کو کام مکمل ہونے سے پہلے کیسے چھوڑ سکتی تھی؟ انہیں کل صبح واپس جانا ہے۔ اس کے علاوہ انور راشد بھی تو دیر تک کام کرتے ہیں اور مجھے دفتر میں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑتے۔ آپ نے وہ سبزیاں لے لیں جو امی نے آپ سے لینے کے لیے کہی تھیں؟

"جی، میں نے لے لی ہیں۔"

اس کے بالکل سامنے کراچی کی سرحد بنے ہوئے منگھوپیر کے پہاڑ تھے۔ یہ وہ شہر تھا جہاں وہ اپنی جائے پیدائش مشرقی پاکستان سے نکال دیے جانے کے بعد آئی تھی۔

پھر شاید اس نے سیٹ پر ٹیک لگا کر اپنی آنکھیں بند کر لی ہوں گی۔ وہ تھک چکی تھی۔ دن طویل تھا۔ اس کے سامنے کونے پر موجود لکڑیوں کی ٹال خالی پڑی تھی۔ گاڑی بائیں جانب موڑ لے کر مرکزی سڑک پر آ گئی۔

اکا دکا اسٹریٹ لائٹ اور چاند کی تھوڑی بہت روشنی کے علاوہ ہر چیز اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ رات کی سیاہی میں گھروں کے مختلف رنگوں میں فرق کرنا مشکل تھا، ہر چیز صرف مجرد صورت میں نظر آ رہی تھی۔

ایک عرصے سے یہ سڑک خراب حالت میں تھی۔ اس میں بڑے بڑے گڑھے موجود تھے، جبکہ سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا برساتی نالہ کچرے، مٹی اور پلاسٹک سے بھرا ہوا تھا۔ وہ بنارس چوک کی جانب بڑھ رہے تھے، جو اورنگی کے دو داخلی علاقوں میں سے ہے۔ پیرآباد کا علاقہ آگے تھا۔ انور راشد کی سفید کرولا آگے آگے جا رہی تھی۔

شاید اس نے موٹرسائیکل پر پیچھے بیٹھے ہوئے نقاب پوش شخص کو پستول نکالتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ شاید اس نے چار گولیوں اور شیشہ ٹوٹنے کی آواز سنی ہوگی۔

شاید اسے اپنی نازک سی گردن میں شدید درد محسوس ہوا ہوگا۔ نفیس کڑھائی والی سفید قمیض جب خون سے سرخ ہونے لگی ہوگی، تو اس نے سوچا ہوگا کہ امی انتظار کر رہی ہوں گی۔

گولیوں کی تڑتڑاہٹ کے بعد کی خاموشی اتنی گہری تھی جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے جیسے زمین ایک خلا میں موجود ہو، جہاں کوئی آواز نہیں، اپنے سانس اور اپنی دھڑکنوں تک کی بھی نہیں، جیسے کہ شعور کی آواز بھی تھم چکی ہو۔ شاید اس لمحے اسے اندازہ ہوا ہوگا کہ اس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔