ای میل

اسٹیڈیم کہانی: پاکستان کے مشہور کرکٹ میدان

ندیم ایف پراچہ

قذافی اسٹیڈیم

شہر: لاہور (پنجاب)

تعمیر: 1959

پہلا ٹیسٹ میچ: 1959 (پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا)

اصل نام: لاہور اسٹیڈیم. 1974 میں بدل کر قذافی اسٹیڈیم رکھ دیا گیا.

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 27,000

لاہور قلندرز؛ لاہور ایگلز؛ لاہور لائنز کا ہوم گراؤنڈ

لاہور: ملک کا ثقافتی مرکز. (Pic: Dody Baba)
لاہور: ملک کا ثقافتی مرکز. (Pic: Dody Baba)

• پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور ملک میں کرکٹ کی مرکزی ٹریننگ اکیڈمی قذافی اسٹیڈیم میں واقع ہے۔

• 1968 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے متاثر ہوا تھا۔ 1977 میں ایک بار پھر ٹیسٹ میچ (جو بھی انگلینڈ کے خلاف تھا) پولیس اور تماشائیوں کے درمیان ہنگامہ آرائی کی نظر ہوا تھا۔

• ہندوستان اور پاکستان میں منعقد ہونے والے 1987 کے ورلڈ کپ کے دوران قذافی اسٹیڈیم میں تین میچ کھیلے گئے تھے۔ اِن میچز میں سے ایک سیمی فائنل میچ بھی شامل تھا۔

• اسٹیڈیم کو 1996 سے تھوڑا ہی عرصہ قبل وسیع کیا گیا اور مرمتی کام کیا گیا۔ یہاں ورلڈ کے تین میچز کھیلے گئے جس میں 1996 ورلڈ کپ فائنل بھی شامل تھا۔

• پاکستان میں آخری ٹیسٹ میچ بھی 2009 میں قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا۔ اُن دنوں دہشتگردوں نے سری لنکن ٹیم کی بس پر حملہ کردیا اور یوں یہ میچ ادھورا رہ گیا اور پھر ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کا سلسلہ ختم سا ہوگیا۔

• اسٹیڈیم کی پچز بیٹنگ کے لیے کافی سازگار رہی ہیں ماسوائے 1978 میں 2004 میں ہندوستان کے خلاف ٹیسٹ میچوں کہ جہاں فاسٹ باؤلرز کی مدد کے لیے گرین ٹاپ پچز تیار کی گئی تھیں۔

• 1978 میں پہلا ایک روزہ میچ انگلینڈ کے خلاف اِسی میدان پر کھیلا گیا تھا.

• 2015 میں پہلا بین الاقوامی ٹی 20 میچ زمبابوے کے خلاف بھی اِسی میدان پر کھیلا گیا تھا.

• پاکستان کی پریمیئر لیگ، پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل مارچ، 2017 میں قذافی اسٹیڈیم میں منعقد ہوا تھا۔

1959: قذافی اسٹیڈیم میں پہلے ٹیسٹ میچ (جسے تب لاہور اسٹیڈیم کہا جاتا تھا): پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا. (تصویر: ڈان)
1959: قذافی اسٹیڈیم میں پہلے ٹیسٹ میچ (جسے تب لاہور اسٹیڈیم کہا جاتا تھا): پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا. (تصویر: ڈان)

1974: معمر قذافی کانفرنس کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر تھے تب اُنہوں نے اِس میدان میں خطاب کیا تھا۔ اُسی سال اسٹیڈیم کا نام بدل کر قذافی اسٹیڈیم رکھ دیا گیا تھا (تصویر: Doc Kazi)
1974: معمر قذافی کانفرنس کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر تھے تب اُنہوں نے اِس میدان میں خطاب کیا تھا۔ اُسی سال اسٹیڈیم کا نام بدل کر قذافی اسٹیڈیم رکھ دیا گیا تھا (تصویر: Doc Kazi)

1976: قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کے سابق کپتان، مشتاق محمد نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں فتح کا جشن بیئر پی کر منا رہے ہیں۔ 1964 کے بعد یہ پاکستانی ٹیم کی پاکستان میں پہلی کامیابی تھی۔ (تصویر Patrick Edger)
1976: قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کے سابق کپتان، مشتاق محمد نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں فتح کا جشن بیئر پی کر منا رہے ہیں۔ 1964 کے بعد یہ پاکستانی ٹیم کی پاکستان میں پہلی کامیابی تھی۔ (تصویر Patrick Edger)

1977: انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران پولیس اور بھٹو حامی تماشائیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی زد میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو بھی شدید زخمی ہوگئیں جن کے جسم سے خون بہہ رہا ہے۔ (تصویر:Zaid/DAWN)
1977: انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران پولیس اور بھٹو حامی تماشائیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی زد میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو بھی شدید زخمی ہوگئیں جن کے جسم سے خون بہہ رہا ہے۔ (تصویر:Zaid/DAWN)

1978 میں پاکستان بمقابلہ ہندوستان ٹیسٹ کے دوران قذافی اسٹیڈیم کا حصہ مکمل طور پر تماشائیوں سے بھرا ہوا ہے۔ (تصویر: Patrick Edger)
1978 میں پاکستان بمقابلہ ہندوستان ٹیسٹ کے دوران قذافی اسٹیڈیم کا حصہ مکمل طور پر تماشائیوں سے بھرا ہوا ہے۔ (تصویر: Patrick Edger)

قذافی اسٹیڈیم میں ایک ناقابل توقع گرین ٹاپ پچ پر پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر، عمران خان نے ہندوستانی بیٹسمین کو نیچے گرا دیا۔ (تصویر:Patrick Edger)
قذافی اسٹیڈیم میں ایک ناقابل توقع گرین ٹاپ پچ پر پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر، عمران خان نے ہندوستانی بیٹسمین کو نیچے گرا دیا۔ (تصویر:Patrick Edger)

1987: قذافی اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں تماشائیوں کا ایک بڑا ہجوم قومی ٹیم کے نائب کپتان جاوید میانداد کو آسٹریلیا کے خلاف ٹیم کو مشکل سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ آسٹریلیا میچ میں کامیاب ہوا تھا (تصویر:NDTV Sports)
1987: قذافی اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں تماشائیوں کا ایک بڑا ہجوم قومی ٹیم کے نائب کپتان جاوید میانداد کو آسٹریلیا کے خلاف ٹیم کو مشکل سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ آسٹریلیا میچ میں کامیاب ہوا تھا (تصویر:NDTV Sports)

قذافی اسٹیڈیم میں منعقد آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جانے والا 1996 کرکٹ ورلڈ کپ فائنل تصویر: Cricbuzz
قذافی اسٹیڈیم میں منعقد آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جانے والا 1996 کرکٹ ورلڈ کپ فائنل تصویر: Cricbuzz

قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو 1996 ورلڈ کپ کی ٹرافی سری لنکن کپتان کو پیش کر رہی ہیں۔ (بائیں جانب) سابق آسٹریلوی کپتان اور مقبول تبصرہ نگار ایان چیپل کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو 1996 ورلڈ کپ کی ٹرافی سری لنکن کپتان کو پیش کر رہی ہیں۔ (بائیں جانب) سابق آسٹریلوی کپتان اور مقبول تبصرہ نگار ایان چیپل کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

2005 میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک روزہ میچ کے دوران قذافی اسٹیڈیم میں موجود ایک ہندوستانی مداح (تصویر:Arif Ali)
2005 میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک روزہ میچ کے دوران قذافی اسٹیڈیم میں موجود ایک ہندوستانی مداح (تصویر:Arif Ali)

قذافی اسٹیڈیم میں (سندھ بمقابلہ بلوچستان) نیشنل ومینز ٹی 20 میچ کھیلا جا رہا ہے۔ (تصویر: The News)
قذافی اسٹیڈیم میں (سندھ بمقابلہ بلوچستان) نیشنل ومینز ٹی 20 میچ کھیلا جا رہا ہے۔ (تصویر: The News)

کرکٹ کی واپسی: قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل 2017 کا فائنل کھیلا جا رہا ہے۔ (تصویر: GeoTV)
کرکٹ کی واپسی: قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل 2017 کا فائنل کھیلا جا رہا ہے۔ (تصویر: GeoTV)

لاہور کی پریمیئر کرکٹ لیگ ٹیم، لاہور قلندرز۔ اِس ٹیم کی کل مالیت 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔ (تصویر: Pakistan Tribe)
لاہور کی پریمیئر کرکٹ لیگ ٹیم، لاہور قلندرز۔ اِس ٹیم کی کل مالیت 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔ (تصویر: Pakistan Tribe)

قذافی اسٹیڈیم میں موجود پی سی بی کے دفاتر. (تصویر: PCB)
قذافی اسٹیڈیم میں موجود پی سی بی کے دفاتر. (تصویر: PCB)

نیشنل اسٹیڈیم

شہر: کراچی (سندھ)

تعمیر: 1955

پہلا ٹیسٹ میچ: 1955 (پاکستان بمقابلہ ہندوستان)

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 40,000

کراچی کنگز؛ کراچی ڈولفنز؛ کراچی زیبراز کا ہوم گراؤنڈ

کراچی: پاکستان کا اقتصادی حب. (تصویر: B-Cube)
کراچی: پاکستان کا اقتصادی حب. (تصویر: B-Cube)

• نیشنل اسٹیڈیم پاکستان کا سب سے بڑا کرکٹ اسٹیڈیم ہے۔

• اِس اسٹیڈیم میں پہلا ٹیسٹ میچ 1955 میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کھیلا گیا تھا۔

• پہلا ایک روزہ میچ 1980 میں کھیلا گیا تھا۔

• پاکستانی ٹیم نے پاکستان میں اپنے نصف سے زائد ٹیسٹ میچ اِسی میدان پر کھیلے ہیں۔ اِن کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں سے قومی ٹیم کو صرف دو میں ناکامی ہوئی ہے۔ کسی دور میں نیشنل اسٹیڈیم ’پاکستان کرکٹ کا قلعہ’ کے طور پر شہرت رکھتا تھا۔

• پاکستان میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچز اور ایک روزہ میچز میں سے چند انتہائی دلچسپ مقابلے اِسی میدان میں کھیلے گئے۔

• پاکستان کرکٹ ٹیم کا ایک سب سے کامیاب ہوم گراؤنڈ ہونے اور چند انتہائی دلچسپ ٹیسٹ اور ایک روزہ میچز کے مقابلوں کی وجہ سے شہرت پانے کے باوجود میچز کے دوران یہ اسٹیڈیم سب سے زیادہ ہنگامہ آرائیاں کا سامنا کرنے کی تاریخ بھی رکھتا ہے۔

• 1968 میں انگلینڈ کے خلاف اور 1969 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سریز ہنگامہ آرائی کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہوئی۔ 1981 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ اور 1983 میں آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ میچ کے دوران بھی ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے سبب میچ درمیان میں ہی روکنا پڑا تھا۔ 1980 کی دہائی کے آواخر سے حالات بہتر ہونا شروع ہوئے۔

• اسٹیڈیم کو 1987 کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے وسیع کیا گیا۔ ورلڈ کپ کے دوران 3 میچز اِسی میدان پر کھیلے گئے تھے۔

• ورلڈ کپ 1996 کے لیے اِس اسٹیڈیم میں مزید بہتری لائی گئی۔ 1996 ورلڈ کپ کے دوران 3 میچز اِسی میدان پر کھیلے گئے تھے۔

• 1955 اور 1950 کی دہائی کے اواخر تک نیشنل اسٹیڈیم میں پچ کی تیاری میں میٹنگ پچ (پٹ سن) استعمال ہوتا تھا جو سیم باؤلنگ کے لیے کافی سازگار ثابت ہوتی تھی۔ میٹنگ کا استعمال ختم کردینے کے بعد پچز ہموار اور بیٹنگ کے لیے سازگار ہوگئی تھیں۔ یہ سلسلہ 1970 کی دہائی کے وسط تک جاری رہا۔ بعد ازاں میدان کے عملے نے اسکوائر ٹرنرز تیار کرنا شروع کردیا، مگر 1982 سے اسٹیڈیم کی پچز کھیل کے لیے مزید سازگار ہوگئیں۔ ٹیسٹ میچ کی شروعات میں یہ پچ فاسٹ باؤلرز کو سیم اور باؤنس باؤلنگ کا موقعہ فراہم کرتی، درمیان میں متوازن باؤلنگ کا موقع دیتی اور میچ کے بالکل آخر میں تھوڑا اسپن کو مواقع فراہم کرتیں، جبکہ ایک روزہ میچ کے دوران پچز بیٹنگ کے لیے سازگار رہیں۔

• نیشنل اسٹیڈیم کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ یہ میدان فاسٹ باؤلرز کو گیند گُھمانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک اِس کی وجہ متوازن سمندری ہوا ہے جو اکثر پورے اسٹیڈیم میں چلتی ہے۔

• یہاں آخری بین الاقوامی میچ 2009 میں کھیلا گیا تھا۔

1955: نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والا پہلا ٹیسٹ میچ. (تصویر: Rafique Ajmal)
1955: نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والا پہلا ٹیسٹ میچ. (تصویر: Rafique Ajmal)

1968: نیشنل اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ کے دوران تماشائی میدان پر اتر آئے۔ (تصویر:The Cricketer Pakistan)
1968: نیشنل اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ کے دوران تماشائی میدان پر اتر آئے۔ (تصویر:The Cricketer Pakistan)

1982: 1982 میں ہندوستان کے خلاف نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والے میچ کے دوران 200ویں ٹیسٹ وکٹ لینے پر عمران خان کو تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد داد دے رہی ہے۔
1982: 1982 میں ہندوستان کے خلاف نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والے میچ کے دوران 200ویں ٹیسٹ وکٹ لینے پر عمران خان کو تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد داد دے رہی ہے۔

1983: نیشنل اسٹیڈیم میں ہندوستان کے خلاف ٹیسٹ میچ کو طلبہ نے رکوا دیا ہے۔ (تصویر: The Cricketer Pakistan)
1983: نیشنل اسٹیڈیم میں ہندوستان کے خلاف ٹیسٹ میچ کو طلبہ نے رکوا دیا ہے۔ (تصویر: The Cricketer Pakistan)

1987: نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد 1987 ورلڈ کپ میچ کے دوران تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد ماسٹر ویسٹ انڈین بیٹسمین وون رچرڈز کو شاٹ مارتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ (تصویر:The Pakistan Cricketer)
1987: نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد 1987 ورلڈ کپ میچ کے دوران تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد ماسٹر ویسٹ انڈین بیٹسمین وون رچرڈز کو شاٹ مارتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ (تصویر:The Pakistan Cricketer)

1994: نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان آسٹریلیا کے خلاف ایک دلچسپ اور مشکل میچ کے بعد فتح یاب ہوا۔ (تصویر:The Cricketer Pakistan)
1994: نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان آسٹریلیا کے خلاف ایک دلچسپ اور مشکل میچ کے بعد فتح یاب ہوا۔ (تصویر:The Cricketer Pakistan)

1996 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران نیشنل اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم ایکشن میں ہے۔ (تصویر:Zimbio)
1996 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران نیشنل اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم ایکشن میں ہے۔ (تصویر:Zimbio)

2006: نیشنل اسٹیڈیم میں محمد آصف نے ہندوستانی بیٹسمین کو آؤٹ کرکے پاکستان کو جیت کے مزید قریب کردیا تھا۔ فاسٹ باؤلرز کراچی کے حالات سے ہمیشہ محظوظ ہوتے، جس کی وجہ سمندری ہوا ہے جو اکثر سوئنگ باؤلنگ کے لیے سازگار ثابت ہوتی ہے۔ (تصویر:Faisal Khalid)
2006: نیشنل اسٹیڈیم میں محمد آصف نے ہندوستانی بیٹسمین کو آؤٹ کرکے پاکستان کو جیت کے مزید قریب کردیا تھا۔ فاسٹ باؤلرز کراچی کے حالات سے ہمیشہ محظوظ ہوتے، جس کی وجہ سمندری ہوا ہے جو اکثر سوئنگ باؤلنگ کے لیے سازگار ثابت ہوتی ہے۔ (تصویر:Faisal Khalid)

نیشنل اسٹیڈم کی فضائی تصویر (تصویر: Mapio)
نیشنل اسٹیڈم کی فضائی تصویر (تصویر: Mapio)

کراچی کی پریمئر لیگ ٹیم، کراچی کنگز۔ ٹیم کی کل مالیت 2 کروڑ 60 لاکھ  روپے ہے۔
کراچی کی پریمئر لیگ ٹیم، کراچی کنگز۔ ٹیم کی کل مالیت 2 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے۔

اقبال اسٹیڈیم

شہر: فیصل آباد (پنجاب)

تعمیر: 1970 کی دہائی میں تعمیر ہوا۔

پہلا ٹیسٹ میچ: 1978 (پاکستان بمقابلہ ہندوستان)

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 18,000

فیصل آباد وولوز کا ہوم گراؤنڈ

فیصل آباد: ایک مصروف صنعتی شہر۔ (تصویر: Awais Yaqoub)
فیصل آباد: ایک مصروف صنعتی شہر۔ (تصویر: Awais Yaqoub)

• کسی دور میں لائل پور (فیصل آباد کا پرانا نام) اسٹیڈیم کے نام سے مشہور اقبال اسٹیڈیم کو 1978 میں مرمتی کام کے بعد صفِ اول کے کرکٹ اسٹیڈیم کا درجہ دیا گیا تھا۔

• عام طور پر، اقبال اسٹیڈیم کی پچز ہموار رہی ہیں۔ یہاں کھیلے جانے والے 24 ٹیسٹ میں سے 14 ڈرا ہوئے۔

• یہی وہ اسٹیڈیم ہے جہاں 1988 میں انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک گیٹنگ اور پاکستان امپائر شکور رانا کے درمیان بدنام زمانہ تلخ کلامی ہوئی تھی۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے لیے بھی ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا تھا۔

• 2006 میں یہاں آخری ٹیسٹ کھیلا گیا تھا۔ یہاں آخری ایک روزہ میچ 2008 میں کھیلا گیا تھا۔

1978: اقبال اسٹیڈیم میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کا پہلا دن۔
1978: اقبال اسٹیڈیم میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کا پہلا دن۔

1988: اقبال اسٹیڈیم میں گیٹنگ اور رانا ایک دوسرے پر چلاتے ہوئے۔ (تصویر: Morris)
1988: اقبال اسٹیڈیم میں گیٹنگ اور رانا ایک دوسرے پر چلاتے ہوئے۔ (تصویر: Morris)

2005 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والا ٹیسٹ میچ (تصویر: Stu Foster)
2005 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والا ٹیسٹ میچ (تصویر: Stu Foster)

فیصل آباد کی نیشنل ٹی 20 ٹیم فیصل آباد وولوز ہے۔ فیصل آباد کی ابھی تک پریمیئر لیگ کی ٹیم نہیں ہے۔ (تصویر: Urdu Wire)
فیصل آباد کی نیشنل ٹی 20 ٹیم فیصل آباد وولوز ہے۔ فیصل آباد کی ابھی تک پریمیئر لیگ کی ٹیم نہیں ہے۔ (تصویر: Urdu Wire)

راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم

شہر: راولپنڈی/اسلام آباد

تعمیر: 1992

پہلا ٹیسٹ میچ: 1993 (پاکستان بمقابلہ زمبابوے)

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 25,000

اسلام آباد یونائیٹڈ؛ راولپنڈی ریمز؛ اسلام آباد لیوپرڈز کا ہوم گراؤنڈ۔

راولپنڈی: فوجی چھاؤنی کا شہر (تصویر: M B. Naveed)
راولپنڈی: فوجی چھاؤنی کا شہر (تصویر: M B. Naveed)

اسلام آباد: پاکستان کا دارالحکومت (تصویر: Mangobaaz)
اسلام آباد: پاکستان کا دارالحکومت (تصویر: Mangobaaz)

• یہ اسٹیڈیم پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے قریب ترین، روالپنڈی کے مضافاتی علاقے میں واقع ہے۔ یہاں پہلا ٹیسٹ میچ 1993 میں کھیلا گیا تھا۔

• 1996 کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران اِس اسٹیڈیم کو کافی زیادہ استعمال کیا گیا۔

• 2000 کی دہائی کے اوائل تک یہ مستقل طور پر ٹیسٹ میچز کا میدان بنا رہا۔

• یہاں کی پچز میچ کھیلنے کے لیے کافی سازگار رہیں۔

• اِس اسٹیڈیم میں آخری ٹیسٹ 2004 میں کھیلا گیا تھا۔

1993 میں راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سب سے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم ایکشن میں نظر آ رہے ہیں۔
1993 میں راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سب سے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم ایکشن میں نظر آ رہے ہیں۔

1996: راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کے میدان میں 1996 کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران جنوبی افریقہ کے فاسٹ باؤلر، ایلن ڈونلڈ کی گیند متحدہ عرب امارات کے بیٹسمین کے سر پر جا لگی۔ (تصویر: Getty)
1996: راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کے میدان میں 1996 کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران جنوبی افریقہ کے فاسٹ باؤلر، ایلن ڈونلڈ کی گیند متحدہ عرب امارات کے بیٹسمین کے سر پر جا لگی۔ (تصویر: Getty)

اسلام آباد کی پریمیئر لیگ ٹیم، اسلام آباد یونائیٹڈ ہے۔ ٹیم کی کل قیمت 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز ہے۔ (تصویر: Pak Tribe)
اسلام آباد کی پریمیئر لیگ ٹیم، اسلام آباد یونائیٹڈ ہے۔ ٹیم کی کل قیمت 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز ہے۔ (تصویر: Pak Tribe)

راولپنڈی کی نیشنل ٹی 20 ٹیم روالپنڈی ریمز ہے۔ راولپنڈی کے پاس ابھی تک کوئی پریمیئر لیگ نہیں ہے۔ (تصویر: ET)
راولپنڈی کی نیشنل ٹی 20 ٹیم روالپنڈی ریمز ہے۔ راولپنڈی کے پاس ابھی تک کوئی پریمیئر لیگ نہیں ہے۔ (تصویر: ET)

ارباب نیاز اسٹیڈیم

شہر: پشاور (خیبر پختونخوا)

تعمیر: 1984

پہلا ٹیسٹ میچ: 1995 (پاکستان بمقابلہ سری لنکا)

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 20,000

پشاور زلمی اور پشاور پینتھرز کا ہوم گراؤنڈ

پشاور: پاکستان کا قدیم سرحدی شہر (تصویر: TCKP)
پشاور: پاکستان کا قدیم سرحدی شہر (تصویر: TCKP)

• ارباب نیاز اسٹیڈیم 1980 کی دہائی کے اوائل میں ایک اہم کرکٹ میدان کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا، مگر 1995 تک اِس اسٹیڈیم نے کسی بھی ٹیسٹ میچ کی میزبانی نہیں کی۔ یہ زیادہ تر ایک روزہ میچز کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔

• یہاں کی پچز بڑی حد تک اسپنرز کے لیے سازگار رہیں۔

• یہاں 2003 میں آخری ٹیسٹ میچ کھیلا گیا تھا۔

1990 کی دہائی کے اواخر میں ارباب نیاز اسٹیڈیم میں ہونے والے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی بیٹسمین سعید انور سری لنکن باؤلر کی گیند پر شاٹ مار رہے ہیں۔ (تصویر: Alamy)
1990 کی دہائی کے اواخر میں ارباب نیاز اسٹیڈیم میں ہونے والے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی بیٹسمین سعید انور سری لنکن باؤلر کی گیند پر شاٹ مار رہے ہیں۔ (تصویر: Alamy)

2006: ارباب اسٹیڈیم، پشاور میں کھیلا جانے والا پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک روزہ میچ۔ (تصویر: Cricinfo)
2006: ارباب اسٹیڈیم، پشاور میں کھیلا جانے والا پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک روزہ میچ۔ (تصویر: Cricinfo)

پشاور کی پریمیئر لیگ ٹیم، پشاور زلمی ہے۔ اِس کی کل مالیت 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے۔ (تصویر: Dunya News)
پشاور کی پریمیئر لیگ ٹیم، پشاور زلمی ہے۔ اِس کی کل مالیت 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے۔ (تصویر: Dunya News)

ملتان کرکٹ اسٹیڈیم

شہر: ملتان (پنجاب)

یہاں کھیلا گیا آخری ٹیسٹ میچ: 2001 (پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش)

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 35,000

ملتان ٹائگرز کا ہوم گراؤنڈ ہے

ملتان اولیاء اکرام و مزارات کا قدیم شہر (تصویر: Natasha Ayub)
ملتان اولیاء اکرام و مزارات کا قدیم شہر (تصویر: Natasha Ayub)

• ملتان کرکٹ اسٹیڈیم نے پہلی بار ٹیسٹ میچ کی میزبانی 1981 میں اور آخری ٹیسٹ میچ کی میزبانی 2006 میں کی تھی۔

• یہاں کی پچ عام طو پر سیم باؤلرز کے لیے سازگار رہی ہے۔

• 1981 میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ میچ کے دوران ویسٹ انڈین فاسٹ باؤلر، سلویسٹر کلارک نے ایک تماشائی کو اینٹ دے ماری تھی جو اُن پر نارنگیاں پھینک رہا تھا۔ تماشائی کو اینٹ لگ جانے کی وجہ سے اُسے ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

• پاکستان نے 2005 میں اِسی میدان پر انگلینڈ کی مضبوط ٹیم کو شکست دی تھی، واضح رہے کہ اُسی سال انگلینڈ نے ایشز سریز میں آسٹریلیا کو شکست دی تھی۔

2005:ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کے میدان میں انگلینڈ کے خلاف 2005 کے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے وکیٹ اڑا دی تھیں (تصویر:AFP)
2005:ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کے میدان میں انگلینڈ کے خلاف 2005 کے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے وکیٹ اڑا دی تھیں (تصویر:AFP)

2005: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کے دوران ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کا ہجوم (تصویر:AFP)
2005: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کے دوران ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کا ہجوم (تصویر:AFP)

ملتان کی نیشنل ٹی 20 ٹیم، ملتان ٹائیگرر ہے۔ (تصویر: White Star)
ملتان کی نیشنل ٹی 20 ٹیم، ملتان ٹائیگرر ہے۔ (تصویر: White Star)

جناح اسٹیڈیم سیالکوٹ

شہر: سیالکوٹ (پنجاب)

تعمیر: 1920 کی دہائی.

پہلا ٹیسٹ میچ: 1985 (پاکستان بمقابلہ سری لنکا)

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 18,000

سیالکوٹ اسٹالین کا ہوم گراؤنڈ

سیالکوٹ: دنیا بھر میں مختلف کھیلوں کے سامان کی صنعت وجہ سے شہرت کا حامل ہے۔ (تصویر:Tariq Javed)
سیالکوٹ: دنیا بھر میں مختلف کھیلوں کے سامان کی صنعت وجہ سے شہرت کا حامل ہے۔ (تصویر:Tariq Javed)

• اِس اسٹیڈیم کو 1920 کی دہائی میں برٹش حکومت نے تعمیر کروایا تھا۔ 1950 کی دہائی میں اِس کا نام بدل کر جناح پارک رکھ دیا گیا۔ 1979 میں اِس میدان کو اپ گریڈ کیا گیا اور نام بدل کر جناح اسٹیڈیم رکھ دیا گیا تھا۔

• یہاں پہلا ٹیسٹ 1985 میں جبکہ آخری ٹیسٹ 1995 میں کھیلا گیا تھا۔

• پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف 1976 میں اپنا سب سے پہلا ایک روزہ میچ اِسی میدان پر کھیلا تھا۔ جبکہ پاکستان کے خلاف نیوزی لینڈ کا بھی یہ پہلا ایک روزہ میچ تھا۔

• جناح اسٹیڈیم اپنی گرین ٹاپ پچز کی وجہ سے مشہور ہے جو فاسٹ باؤلر کے لیے کافی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

• 1984 میں ہندوستانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کی خبر موصول ہونے کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جاری ایک روزہ میچ درمیان میں ہی روک دیا گیا تھا۔ اُس وقت ہندوستان بیٹنگ کر رہا تھا۔

1976: جناح اسٹیڈم، سیالکوٹ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایک روزہ میچ کے دوران نیوزی لینڈ کا فیلڈر امپائر سے بات کر رہا ہے۔ اُن دنوں گراؤنڈ کے گرد کسی قسم کا جنگلا نہیں لگا تھا۔
1976: جناح اسٹیڈم، سیالکوٹ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایک روزہ میچ کے دوران نیوزی لینڈ کا فیلڈر امپائر سے بات کر رہا ہے۔ اُن دنوں گراؤنڈ کے گرد کسی قسم کا جنگلا نہیں لگا تھا۔

1989: ایک ٹیسٹ میچ کے دوران جناح اسٹیڈیم میں پاکستانی باؤلر وقار یونس کی گیند ماسٹر انڈین بیٹسمین، ٹینڈولکر کے چہرے پر جا لگی۔
1989: ایک ٹیسٹ میچ کے دوران جناح اسٹیڈیم میں پاکستانی باؤلر وقار یونس کی گیند ماسٹر انڈین بیٹسمین، ٹینڈولکر کے چہرے پر جا لگی۔

ویران جناح اسٹیڈیم (تصویر: The Nation)
ویران جناح اسٹیڈیم (تصویر: The Nation)

سیالکوٹ کی نیشنل ٹی 20 ٹیم، سیالکوٹ اسٹالینز ہے۔ سیالکوٹ کے پاس فی الوقت کوئی پریمئر لیگ ٹیم نہیں ہے۔ (تصویر: News Tribe)
سیالکوٹ کی نیشنل ٹی 20 ٹیم، سیالکوٹ اسٹالینز ہے۔ سیالکوٹ کے پاس فی الوقت کوئی پریمئر لیگ ٹیم نہیں ہے۔ (تصویر: News Tribe)

نیاز اسٹیڈیم

شہر: حیدرآباد (سندھ)

تعمیر: 1962.

پہلا ٹیسٹ میچ: 1973 (پاکستان بمقابلہ انگلینڈ)

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 15,000

حیدرآباد ہاکس کا ہوم گراؤنڈ

حیدرآباد: سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے. (تصویر: Mapio)
حیدرآباد: سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے. (تصویر: Mapio)

• 1984 میں نیاز اسٹیڈیم کے میدان میں دنیا کا 1000واں ٹیسٹ میچ (پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ) کھیلا گیا تھا۔

• سوئنگ باؤلر، جلاالدین نے پاکستان کے لیے پہلی ایک روزہ ہیٹ ٹرک حاصل کی تھی۔ انہوں نے یہ اعزاز 1983 میں نیاز اسٹیڈیم کے میدان میں آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ میچ کے دوران حاصل کیا تھا۔

• یہاں آخری ٹیسٹ میچ 1984 میں کھیلا گیا تھا، مگر پھر بھی نیاز اسٹیڈیم نے 2008 تک ایک روزہ میچز کی میزبانی جاری رکھی۔

• نیاز اسٹیڈیم کی پچ عام طور پر نرم اور بیٹنگ کے لیے سازگار رہی ہے۔

1982: نیاز اسٹیڈیم میں ہندوستان کے خلاف میچ میں جاوید میانداد اپنی ڈبل سینچری کی جانب بڑھتے ہوئے۔ (تصویر: The Cricketer Pakistan)
1982: نیاز اسٹیڈیم میں ہندوستان کے خلاف میچ میں جاوید میانداد اپنی ڈبل سینچری کی جانب بڑھتے ہوئے۔ (تصویر: The Cricketer Pakistan)

2011: مزدور نیاز اسٹیڈیم کی پچ کو نئے سرے سے بنا رہے ہیں۔ (تصویر: PPI)
2011: مزدور نیاز اسٹیڈیم کی پچ کو نئے سرے سے بنا رہے ہیں۔ (تصویر: PPI)

حیدرآباد کی نیشنل ٹی 20 ٹیم، حیدرآباد ہاکس ہے۔ حیدرآباد کے پاس فی الوقت کوئی پریمیئر لیگ ٹیم نہیں ہے۔ (تصویر: PPI)
حیدرآباد کی نیشنل ٹی 20 ٹیم، حیدرآباد ہاکس ہے۔ حیدرآباد کے پاس فی الوقت کوئی پریمیئر لیگ ٹیم نہیں ہے۔ (تصویر: PPI)

گجرانوالہ جناح اسٹیڈیم

شہر: گجرانوالہ (پنجاب)

پہلا ٹیسٹ میچ: 1991 (پاکستان بمقابلہ سری لنکا)

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 20,000

• یہاں پہلا اور آخری ٹیسٹ میچ 1991 میں کھیلا گیا تھا۔

• اِس اسٹیڈیم میں آخری ایک روزہ میچ 2000 میں کھیلا گیا تھا۔

• اِس اسٹیڈیم میں 1987 کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے درمیان ایک میچ منعقد ہوا تھا۔

• عہدِ حاضر کے عالمی سطح پر صف اول امپائر، پاکستان کے علیم ڈار نے اِسی میدان پر 2000 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ایک روزہ میچ کے دوران اپنی بین الاقوامی امپائرنگ کا آغاز کیا تھا۔

گجرانوالہ جناح اسٹیڈیم  (تصویر: Ghosia)
گجرانوالہ جناح اسٹیڈیم (تصویر: Ghosia)

شیخوپورہ اسٹیڈیم

شہر: شیخوپورہ (پنجاب)

تعمیر: 1995

پہلا ٹیسٹ میچ: 1996 (پاکستان بمقابلہ زمبابوے)

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 15,000

• اَس اسٹیڈیم نے دو ٹیسٹ اور دو ایک روزہ میچز کی میزبانی کی۔

1998: شیخوپورہ اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ایک روزہ میچ۔ (تصویر: GeoViews)
1998: شیخوپورہ اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ایک روزہ میچ۔ (تصویر: GeoViews)

ظفر علی اسٹیڈیم

شہر: ساہیوال (پنجاب)

تعمیر: 1955

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 35,000

• اِس اسٹیڈیم میں صرف دو ایک روزہ میچز کھیلے گئے تھے۔ ایک 1977 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا گیا اور دوسرا 1978 میں ہندوستان کے خلاف کھیلا گیا تھا۔

• یہ گراؤنڈ 1978 میں ہونے والے اَس ایک روزہ میچ کے لیے کافی شہرت کا حامل ہے جس میں ہندوستان نے پاکستان کے آگے ہار مان لی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب سرفراز نواز اور عمران خان جیسے فاسٹ باؤلرز نے صرف بیٹسمین کو زخمی کرنے کی غرض سے باؤنسرز بھینکنے کا آغاز کیا تھا۔ اُن دنوں ایسی باؤلنگ کے خلاف کسی قسم کے قوانین یا ضابطے نہیں تھے۔

ظفر علی اسٹیڈیم کا داخلی راستہ۔ (تصویر: Socio-Economic Pakistan)
ظفر علی اسٹیڈیم کا داخلی راستہ۔ (تصویر: Socio-Economic Pakistan)

ایوب نیشنل اسٹیڈیم

City: Quetta (Balochistan)

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 20,000

کوئٹہ گلیڈیئٹرز اور کوئٹہ بیئرز کا ہوم گراؤنڈ۔

وادئ کوئٹہ. (تصویر: History PK)
وادئ کوئٹہ. (تصویر: History PK)

• حالانکہ اَس اسٹیڈیم میں صرف دو ایک روزہ میچز کھیلے گئے جبکہ یہاں ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا گیا، مگر پھر بھی 1978 میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سب سے پہلے ایک روزہ میچ کی میزبانی کرنے کی وجہ یہ اسٹیڈیم کافی شہرت رکھتا ہے۔

ایوب نیشنل اسٹیڈیم کا فضائی منظر (بائیں)۔ (تصویر: Pak Passion)
ایوب نیشنل اسٹیڈیم کا فضائی منظر (بائیں)۔ (تصویر: Pak Passion)

کوئٹہ کی پریمیئر لیگ ٹیم، کوئٹہ گلیڈیئٹرز ہے۔ جس کی کل مالیت 1 کروڑ دس لاکھ ڈالر ہے۔ (تصویر: PSL)
کوئٹہ کی پریمیئر لیگ ٹیم، کوئٹہ گلیڈیئٹرز ہے۔ جس کی کل مالیت 1 کروڑ دس لاکھ ڈالر ہے۔ (تصویر: PSL)

باغِ جناح

شہر: لاہور

تعمیر: 1885

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 8,000

پہلا ٹیسٹ: 1954 (پاکستان بمقابلہ ہندوستان)

• باغِ جناح اسٹیڈیم لاہور کے وسیع لارینس گارڈنز کے اندر ہی واقع ہے۔ اِسے برٹش حکومت نے تعمیر کروایا تھا۔

• یہ پاکستان کا سب سے پہلا بین الاقوامی کرکٹ گراؤنڈ تھا۔

• 1959 میں قذافی اسٹیڈیم تعمیر ہونے کے بعد یہاں ٹیسٹ میچ ہونا بند ہو گئے۔

• یہ اسٹیڈیم اب زیادہ تر کلب کرکٹ کے مقابلوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

• اِس اسٹیڈیم میں پاکستان کا واحد کرکٹ میوزیم بھی موجود ہے۔

1954-55: 1954-55: ہندوستانی ٹیم پاکستان میں اپنے سب سے پہلے کرکٹ دورے کے دوران ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے باغ جناح کے میدان میں اُتر رہی ہے۔ (تصویر: Lahore Gymkhana Museum)
1954-55: 1954-55: ہندوستانی ٹیم پاکستان میں اپنے سب سے پہلے کرکٹ دورے کے دوران ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے باغ جناح کے میدان میں اُتر رہی ہے۔ (تصویر: Lahore Gymkhana Museum)

باغِ جناح میں موجود کرکٹ میوزیم۔ (تصویر: Aown Ali)
باغِ جناح میں موجود کرکٹ میوزیم۔ (تصویر: Aown Ali)

انگلینڈ  کی کرکٹ ٹیم 2005 میں دورہ پاکستان کے موقع پر باغِ جناح کے میدان پر پریکٹس میچ کھیل رہی ہے۔ (تصویر: Danyal Rasool)
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم 2005 میں دورہ پاکستان کے موقع پر باغِ جناح کے میدان پر پریکٹس میچ کھیل رہی ہے۔ (تصویر: Danyal Rasool)

ڈی ایچ اے کرکٹ اسٹیڈیم

شہر: کراچی

تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش: 8,000

پہلا اور واحد ٹیسٹ: 1993 (پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ)

ڈی ایچ اے کرکٹ اسٹیڈیم. (تصویر: M. Shoaib)
ڈی ایچ اے کرکٹ اسٹیڈیم. (تصویر: M. Shoaib)

انگلش میں پڑھیں۔


ندیم ایف پراچہ ڈان کے سینیئر کالم نگار ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر [email protected] کے نام سے لکھتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔