کلین چِٹ یا سزا؟ پاناما فیصلے پر تجزیئے

فیصلے کی گھڑی بس آنے ہی والی ہے، ممکنہ نتائج پر تجزیہ کار بھی مختلف آراء رکھتے ہیں۔
اپ ڈیٹ اپريل 19, 2017 09:57pm

قوم کو پاناما گیٹ کیس کے فیصلے کا بے صبری سے انتظار ہے، وقت قریب آتا جارہا ہے اور تمام نگاہیں سپریم کورٹ پر مرکوز ہیں۔ جمعرات کو دوپہر دو بجے سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فیصلہ سنائے گا۔ گزشتہ برس اپریل میں پاناما پیپرز منظر عام پر آنے کے بعد سے ہر طرح کے مفروضات، خدشات اور امیدیں اس مقدمے سے جڑ گئی ہیں۔

اس سلسلے میں ڈان نے بعض ماہرین سے اس تاریخی فیصلے کے حوالے سے ان کی رائے اور پیش گوئی معلوم کی۔


وزیراعظم مکمل طور پر محفوظ نہیں رہیں گے

زاہد حسین


عین ممکن نتیجہ :

یہ انتہائی پیچیدہ فیصلہ ہوگا لیکن میرا خیال ہے کہ ایک چیز بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ وزیراعظم اس فیصلے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہیں گے چاہے فیصلہ جو بھی ہو۔ وزیراعظم کی فیملی پر اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کو غلط ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لہٰذا مجھے نہیں معلوم اور میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ سپریم کورٹ وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کی حد تک جائے گی۔

بہترین اور بدترین صورتحال

ملک کے لیے بہترین صورتحال یہ ہوگی کہ فیصلہ انصاف کے اصولوں کے عین مطابق آنا چاہیے، چاہے اس کے لیے انتہائی سخت فیصلہ ہی کیوں نہ دینا پڑے، اس سے جمہوری عمل کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگا۔

میرا خیال ہے کہ بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ آنے والا فیصلہ نامکمل اور غیر معین ہو یا قانونِ ضروریات کی طرح کا ہو۔ ہم ماضی میں ایسا دیکھ چکے ہیں کہ فیصلے نظریہ ضروریات کی بنیاد پر دیے گئے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اقتدار کے ساتھ جاتے تھے۔

زاہد حسین ایک مصنف اور صحافی ہیں اور وہ [email protected] کے نام سے ٹوئیٹ کرتے ہیں۔


نواز شریف کی نااہلی کا امکان نہیں

خرم حسین


یہاں معاملہ یہ ہے کہ کیا نواز شریف کو گھر بھیجا جائے گا یا نہیں، نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے علاوہ کوئی بھی فیصلہ بہت زیادہ معنی خیز نہیں ہوگا اور اگر عدالت نے ایسا کیا تو یہ حیران کن ہوگا اور یہ پہلی بار ہوگا کہ کورٹ آرٹیکل 184 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرے گی جس کے تحت تحقیقات شروع کی جائیں گی۔ لہٰذا میرے نزدیک اس بات کا امکان کم ہے کہ نواز شریف کو گھر بھیجا جائے گا البتہ اگر سپریم کورٹ نے ایسا کیا تو ایک بڑی مثال قائم ہوگی۔

ایک اور چیز جو سپریم کورٹ کرسکتی ہے وہ یہ کہ شائد اعلیٰ عدلیہ مزید تحقیقات کا حکم دے دے، معاملے کو جوڈیشل کمیشن کو بھیج دے، کیس واپس قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیج دے اور کہے کہ 'ان کیسز کو آگے بڑھانا چاہیے اور منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے'۔ یہ وہ فیصلہ ہوگا جس میں وزیراعظم کو گھر نہیں بھیجا جائے گا۔

میرے نزدیک عین ممکن ہے کہ وزیراعظم عہدے پر برقرار رہیں گے، یہ بہت ہی ضمنی ہوگا لیکن کھل کر کہوں تو مجھے وزیراعظم کی نااہلی کی توقع نہیں ہے۔ اس کے بعد ہر کوئی آئندہ انتخابات کے لیے مہم شروع کردے گا اور یہ اہم ترین خبر ہوگی جو سامنے آئے گی۔

خرم حسین ڈان کے ایڈیٹوریل اسٹاف ممبر ہیں اور وہ [email protected] کے نام سے ٹوئیٹ کرتے ہیں۔


کوئی سنگین تضاد نہیں ملے گا

صلاح الدین احمد


درخواست گزاروں کے لیے بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ پٹیشن کو یہ کہہ کر مسترد کردیا جائے کہ اس میں حقائق سے متعلق پیچیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کی تحقیقات متعلقہ ایجنسیوں سے ہونی چاہیے اور اسے مناسب فورمز/عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے۔

میرے خیال میں لندن میں فلیٹ کی خریداری اور پاکستان سے پیسہ کس طرح باہر گیا، اس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کی جانب سے دی جانے والی وضاحت میں بہت زیادہ تضاد نہیں ملے گا۔ عدالت یہ ہدایت بھی دے سکتی ہے کہ متعلقہ ادارے جیسے ایف آئی اے (منی لانڈرنگ) اور ایف بی آر (ٹیکس چوری) تحقیقات کریں اور رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کریں، یا پھر حقائق کا جائزہ لینے کے لیے کمشین قائم کردے اور اسے ہدایت کرے کہ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے۔

صلاح الدین احمد پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور وہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں


وزیراعظم کے خلاف ناموافق ریمارکس نئی بحث چھیڑ دیں گے

فرقان علی


میرا خیال ہے کہ بہترین منظرنامہ یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ متعلقہ حکام کو معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایات جاری کرے اور اگر ضرورت پڑے تو مقررہ وقت کے اندر فوجداری کارروائی شروع کردے۔ یہ بھی اچھی بات ہوگی کہ سپریم کورٹ تمام منتخب نمائندوں کی اسکروٹنی کا حکم دے دے، مثال کے طور پر مستقبل میں وفاقی کابینہ میں شامل وزراء کے تمام ٹیکس گوشوارے اور اثاثوں کی تفصیلات کی اسکروٹنی ہر تھوڑے عرصے بعد ایک آزاد باڈی کرے اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

پاناما کیس میں بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ سپریم کورٹ اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے حکومت کا بوریا بستر گول کردے، حالانکہ بہت سے لوگ ایسا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ یہ بہت حد تک ناممکن ہے۔

عین ممکن فیصلہ

سپریم کورٹ منی ٹریل کی تحقیقات کرنے کے لیے کمیشن قائم کردے اور کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ممکن ہے کہ وزیراعظم کے خلاف سخت ریمارکس بھی سامنے آئیں جس کے بعد بحث مزید تند و تیز ہوجائے گی۔

فرقان علی کراچی میں مقیم بیرسٹر ایٹ لاء ہیں اور ایل ایم اے ابراہیم حسین میں شراکت دار ہیں۔