ای میل

کراچی کا مضافاتی قلعہ رتوکوٹ، جو ڈوبنے کے قریب ہے

ابوبکر شیخ

جب آپ کراچی کے سمندری کنارے سے کشتی میں بیٹھ کر کسی بھی جزیرے پر چلے جائیں تو جولائی کے گرم ترین شب روز بھی کسی افسانوی دنیا جیسے لگنے لگتے ہیں۔ آپ ابراہیم حیدری کے نزدیک واقع ’ڈنگی‘ اور ’بھنڈاڑ‘ جزیروں پر بھی جا سکتے ہیں۔

یہ دونوں جزائر فطرت کی ایک عنایت ہیں۔ وہاں بھنڈاڑ پر آپ کو ایک قدیم درگاہ بھی مل جائے گی جہاں جزیروں پر رہنے والے ماہی گیر ہر سال میلے کا انعقاد کرتے ہیں۔ ان جزیروں کے کناروں تک کثافت نہیں پہنچی اس لیے وہاں کے کنارے ابھی تک صاف سُتھرے ہیں اور ابھی تک تیز دھوپ میں وہاں دودھ جیسی سفید ریت دھوپ میں چاندی کی طرح چمکتی ہے۔

وہاں آپ کو چھوٹی چھوٹی جُھگیاں بھی دیکھنے کو مل جائیں گی جن میں ماہی گیر رہتے ہیں۔ ابراہیم حیدری یا کراچی اتنا دُور نہیں ہے کہ وہ یہاں سے جا نہ سکیں مگر ان کے چہارسو بسی فطرت ان کے آنکھوں، ذہن اور خون میں کچھ ایسی رچ بس گئی ہے کہ اگر فاقے کی صورتحال ہو تو بھی گزارہ ہو جائے۔ مگر سمندر کے صاف کنارے، باد صبا، صاف سُتھرے آسمان پر صبح کی لالی، پرندوں کی آواز کانوں کو بھلی لگنے والی خاموشی سے وہ آخری سانس تک جُدا نہیں ہونا چاہتے۔ یہ ان کے نصیب ٹھہرے۔

ڈنگی اور بھنڈاڑ جیزیرے پر سالانہ میلے کا سماں— تصویر ابوبکر شیخ
ڈنگی اور بھنڈاڑ جیزیرے پر سالانہ میلے کا سماں— تصویر ابوبکر شیخ

ڈنگی اور بھنڈاڑ جیزیرے پر سالانہ میلے کا سماں— تصویر ابوبکر شیخ
ڈنگی اور بھنڈاڑ جیزیرے پر سالانہ میلے کا سماں— تصویر ابوبکر شیخ

ڈنگی اور بھنڈاڑ جیزیرے پر سالانہ میلے کا سماں— تصویر ابوبکر شیخ
ڈنگی اور بھنڈاڑ جیزیرے پر سالانہ میلے کا سماں— تصویر ابوبکر شیخ

مگر یہاں ایسے جزیرے بھی ہیں جن پر کبھی بستیاں آباد تھیں، قلعے اور بندرگاہیں تھیں۔ میں نے جب رتوکوٹ کے مُتعلق پڑھا تو یہ ان جزیروں پر واحد ایسا خستہ حال قلعہ تھا جس کی اینٹ اینٹ میں پُراسراریت کسی آکاس بیل کی طرح اُگتی تھی۔

جہاں بھی اس کا تاریخ کے صفحات میں ذکر آتا وہاں اس قلعے میں رہنے والوں کا ذکر کم اور یہاں بہے خُون کا ذکر زیادہ آتا۔ مجھے نہیں پتہ کہ جس وقت اس قلعے کی پہلی اینٹ رکھی گئی ہوگی تب ستاروں کی چال کیا تھی؟ مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو پہلی اینٹ تھی اُس اینٹ میں ہی کسی بے گناہ کے خُون کے قطروں کو گوندھ دیا گیا ہو۔ بہرحال یہ کوئی اچھے نصیب کا حامل قلعہ نہیں تھا۔

یہ تاریخی لیکن خستہ حال قلعہ کراچی مرکز سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور ’ریڑھی میاں‘ سے تین کلومیٹر دور جنوب مشرق میں ہے۔ وہ تین کلومیٹر ہم نے کشتی میں سوار ہو کر عبور کیے۔ ہم تمروں کے جنگلات سے ہوتے ہوئے جب رتوکوٹ کے مشرق میں پہنچے تو ہائی ٹائیڈ اپنے عروج پر تھی۔

رتو کوٹ—تصویر ابوبکر شیخ
رتو کوٹ—تصویر ابوبکر شیخ

رتو کوٹ —تصویر ابوبکر شیخ
رتو کوٹ —تصویر ابوبکر شیخ

رتو کوٹ —تصویر ابوبکر شیخ
رتو کوٹ —تصویر ابوبکر شیخ

کشتی چلانے والے نے لنگر پانی میں پھینکا کہ کشتی ٹھہر جائے اور کشتی ٹھہر گئی۔ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رتوکوٹ تھا، اس دوری سے گہری سُرخ اینٹوں کا سلسلہ اُونٹوں کی ایک جاتی ہوئی قطار سا محسوس ہوتا ہے۔ میں یہاں تقریباً ہر موسم میں یہاں آیا ہوں۔ کیوں آیا ہوں، اس کا مجھے بھی علم نہیں شاید یہاں بار بار آنے کو جی چاہتا ہے کہ یہاں کی پُراسراریت اور خاموشی آپ کے دماغ میں بہہ کر ایک عجیب قسم کی کیفیت پیدا کرتی ہے اور شاید اس کیفیت کو محسوس کرنے کے لیے یہاں بار بار آتا ہوں۔

جزیرے پر قدم رکھنے سے قبل جزیرے کے بارے میں تاریخ کے اوراق پلٹے، ان میں جو کچھ تحریر ہے وہ آپ کو بھی بتا دیتا ہوں تاکہ اس قلعے کی تاریخ کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو۔

محترم گُل حسن کلمتی صاحب اپنی تحقیقی کتاب ’کراچی سندھ جی مارئی‘ میں رقم طراز ہیں، "دریائے سندھ کا ایک بہاؤ گھارو کریک سے بہہ کر ابراہیم حیدری کے قریب سمندر میں گرتا تھا، اس بہاؤ پر گزری، واگُھوڈر، ریڑھی میان، ابراہیم حیدری اور رتوکوٹ خوشحال بندر تھے، دریائے سندھ کے بہاؤ کا راستہ تبدیل ہونے سے اور سمندر کے آگے بڑھنے سے ’پھٹی کریک‘، ’کورنگی کریک‘ اور ’گھارو کریک‘ جو ایک زمانے میں دریائے سندھ کے بہاؤ تھے وہ سمندر کے پانی سے بھر گئے اور کئی مقامات سمندر نے ڈبو دیے۔

رتوکوٹ جو ’مُچق‘ جزیرے پر واقع ہے جو اپنے زمانے میں ایک مشہور اور خوبصورت بستی ہوا کرتی تھی۔ یہ 1640 میں ’بڑچھ‘ قبیلے کی ریاست تھی جو وقت کے ساتھ اپنے رُوپ تبدیل کرتی رہی۔ پھر کبھی ریاست سے بستی بنی، کبھی بندرگاہ تو کبھی سرداروں کے رہنے کا کوٹ۔"

ہمارے سامنے ایک بڑی اراضی پر سُرخ رنگ کی اینٹیں بکھری پڑی تھیں۔ قلعے کے مغرب میں کسی بُزرگ کی قبر کے نشانات تھے۔ قبر کے سرے پر ایک لکڑی گڑی ہوئی تھی اور جھنڈوں کے طور پر لگے ہوئے کپڑوں سے تیز دھوپ اور نمکین ہوا نے رنگ چھین لیے تھے۔ مگر ہوا میں اُڑ کر ہلکے آواز سے وہ اپنے وجود کا احساس دلا رہے تھے۔

رتو کوٹ —تصویر ابوبکر شیخ
رتو کوٹ —تصویر ابوبکر شیخ

رتو کوٹ—تصویر ابوبکر شیخ
رتو کوٹ—تصویر ابوبکر شیخ

رتو کوٹ میں واقع کسی بزرگ کی قبر— تصویر ابوبکر شیخ
رتو کوٹ میں واقع کسی بزرگ کی قبر— تصویر ابوبکر شیخ

تاریخ کی کتابوں کے مطابق یہاں ایک قدیم قبرستان بھی تھا جس میں چوکُنڈی طرز کی قبریں تھیں۔ یقیناً ہوں گی مگر سمندر کا پیٹ نہیں بھرتا اس لیے اُس نے اس قبرستان کو بھی نگل لیا۔ بس کسی آخری آرامگاہ کا ایک پیلا پتھر بچا تھا جس پر بھی سمندر نے اپنی آنکھیں گاڑ رکھی تھیں۔ اب اگر آپ وہاں جائیں گے تو وہ لائم اسٹون کا پیلا پتھر شاید سمندر نگل چُکا ہوگا۔ میرے پاس اُس آخری پتھر کی بس ایک دھندلی سی تصویر رہ گئی ہے اور اتفاق دیکھیے کہ اُس پتھر کی تصویر بھی دھندلی ہی آئی۔

رتو کوٹ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس کی قدامت کئی سو برسوں پر مُحیط ہے۔ آثار قدیمہ کے ایک فرینچ ماہر تحریر کرتے ہیں، "میں نے 1989 میں رتو کوٹ دیکھا تھا جہاں بڑی تعداد میں کلے پورسلین پھیلا ہوا تھا۔ جو مجھے لگ بھگ آٹھویں صدی پرانا نظر آیا جبکہ وہاں موجود ٹوٹے ہوئے برتنوں اور دوسرے پکے ہوئی چیزوں کا ملبہ نظر آیا وہ تیرہویں اور چودہویں صدی کا تھا۔ جس سے اندازہ لگانا مُشکل نہیں کہ یہ بستی آٹھویں صدی یا اس سے پہلے بھی آباد تھی۔"

قدیم قبرستان میں بچا آخری زرد پتھر— تصویر ابوبکر شیخ
قدیم قبرستان میں بچا آخری زرد پتھر— تصویر ابوبکر شیخ

اشتیاق انصاری لکھتے ہیں، "رتوکوٹ ایک زمانے میں ’بڑچھ‘ قبیلے کی ریاست تھی، مرزا صالح (1640) جو مرزا عیسیٰ خان کے بیٹے تھے اور ٹھٹھہ کے نواب تھے تب ’بڑچھوں‘ اور بلوچوں کی آپس میں جنگ ہوئی، روایت ہے کہ جس رات کلمتی بلوچوں نے یہاں اچانک حملہ کیا اُس رات قلعے میں ایک سو بیس جوڑوں کی شادیوں کی تقریب تھی، کہتے ہیں اُس رات یہاں بہت خون بہا یہاں تک کے پالنے میں سوئے ہوئے معصوم بچوں کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ سارے قلعے کو لُوٹ لیا گیا اور جو برباد ہوسکتا تھا اسے برباد کیا گیا۔ جو ’بڑچھ‘ قبیلے کے کچھ خاندان بچ گئے تھے وہ جوکھیوں کے پاس آ کر رہنے لگے۔"

اس خونریزی کے بعد قلعے میں پھر کبھی کسی نومولود بچے کے رونے کی آواز نہیں گونجی اور نہ ہی کسی بچے کی ہنسی کھنکھتی ہوئی سنائی دی۔ کہتے ہیں کہ بے گناہ بہے ٹھنڈے خون کی بیچارگی میں بہت دُکھ اور بے بسی ہوتی ہے اور یہ دونوں کیفیات جب اپنی آخری حد کو چُھو جائیں تو ان میں سے پراسراریت جنم لیتی ہے جس کی پگڈنڈیاں تاریخ کے اوراقوں میں صدیوں تک پھیل جاتی ہیں۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔

مگر اس قلعے کے نصیب میں ایک بار پھر خون بہنا لکھا تھا۔ غلام شاہ کلہوڑو کے دور حکومت (1756-1772) میں ’رانو ارجن‘ دھاراجا (جو موجودہ میرپور ساکرو اور بُہارا سے مغرب میں واقع ہے) اپنی ریاست پر راج کرتا تھا۔ غلام شاہ نے اپنے ٹھٹھہ کے نواب ’شُکراللہ‘ کو حکم دیا کہ، رانو ارجن کو مار دیا جائے تاکہ اس کے علاقے پر قبضہ کیا جا سکے۔ اس حکم کی تعمیل کے لیے، نواب نے ’بجار جوکھیو‘ کو بلایا اور یہ حکم سُنایا۔ بجار جوکھیو نے یہ کام کرنے کی حامی بھری۔

رتو کوٹ—تصویر ابوبکر شیخ
رتو کوٹ—تصویر ابوبکر شیخ

رتو کوٹ—تصویر ابوبکر شیخ
رتو کوٹ—تصویر ابوبکر شیخ

رتو کوٹ —تصویر ابوبکر شیخ
رتو کوٹ —تصویر ابوبکر شیخ

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ، اس حکم کے کچھ عرصہ بعد جاڑوں کے ابتدائی دنوں میں رانو ارجن اپنے ساتھیوں کے ساتھ شکار کرتا ہوا دوسرے دن اس خستہ قلعے پر آ پہنچا۔ رات کے کھانے اور کچہری کے بعد ہر کوئی اپنے خیمہ میں جاکر سویا۔

رانو کے خیمے میں دیپک جلتا تھا اور اس کی مدھم روشنی میں تھکان کی وجہ سے رانو ارجن گہری نیند سو گئے۔ حملہ کے لیے آئے ہوئے بجار جوکھیو کے 80 لوگ اسی انتظار میں تھے، ان لوگوں نے سوئے ہوئے چند لوگوں پر حملہ کر دیا۔ کسی کو سنبھلے کا موقعہ تک نہیں ملا اور رات کی سیاہی میں ایک بار پھر اس قلعے کی زمین فرش اور دیواریں خون آلود ہوئیں۔

کہتے ہیں اس کامیاب حملے اور خون بہانے کے بدلے میں بجار جوکھیو کو ’جام‘ کا لقب دیا گیا اور جوکھیوں کا سردار مقرر کیا گیا۔

میں نے پورا آدھا دن اس قلعے کی گرتی دیواروں اور اندر بنے برآمدے اور کمروں کو دیکھ کر گُزار دیا۔ جب میرے دوسرے ساتھی کسی اور طرف نکل جاتے تو ان خستہ دیواروں اور فرش کو دیکھ کر ایک عجیب سی کیفیت میرے اندر پیدا ہوتی کہ اس قلعے میں ہزاروں راتیں ایسی بھی آئی ہوں گی جب یہاں شادیانے بجے ہوں گے۔ یہاں مقیم عورتوں نے گیت گائے ہوں گے۔ فانوسوں کی روشنی میں بچوں نے دوڑٰیں لگائی ہوں گی۔

مگر ایک تلوار کی ایک دھار ان ہزاروں راتوں پر بھاری رہی، زندگی کے سارے رنگ اس تلوار کی ضرب میں بسی ہوئی لالچ اور حوس نے چاٹ لیے اور پھر اُسی لالچ کی ضرب نے ایک بار پھر سوئے ہوئے بے گناہ لوگوں کا گلا کاٹ دیا کہ وحشت کی کوئی ذات ہوتی ہے نہ کوئی ایمان، نہ کوئی رشتہ اور نہ کوئی مذہب۔

مغرب کے ماتھے پر جیسے کسی نے سورج ڈوبنے کی سُرخی اُنڈیل دی تھی۔ سمندر میں جوار بھاٹا کا وقت ختم ہو گیا تھا۔ پانی نے پھر کناروں کی طرف لوٹنے کا سفر شروع کیا۔ ہم نے واپسی کے لیے پر تولے۔

جب کشتی گھُوم کر شمال کی طرف چلنے لگی تو میں نے رتو کوٹ کو دیکھا، سورج کی ہلکی سُرخی ابھی تک تھی اور رتو کوٹ پر ویرانی اور خاموشی کی اوس پڑنے لگی تھی۔ میں نے ایک اُداس نظر سے رتو کوٹ کو دیکھا اور دل ہی دل میں ان دیواروں سے مخاطب ہوا اور واعدہ کیا کہ آنے والے جاڑوں میں، میں ضرور لوٹ آؤں گا۔


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔

ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔