کیا نجی شعبہ سرکاری شعبے کے مقابلے میں کم خرچ میں زیادہ معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے؟ اور اگر ایسا درست ہے تو اِس کے سرکاری تعلیمی پالیسی پر کیا نتائج ہوسکتے ہیں؟

نجی شعبے کے مؤثر اور اعلیٰ معیار کے ہونے کے بارے میں ایک بیانیہ تشکیل پا رہا ہے، اور یہ تصور بھی کہ عوام کا جو پیسہ ہم بچوں کو تعلیم دلوانے پر لگاتے ہیں، اسی پیسے سے کہیں زیادہ بچوں کو تعلیم دلوائی جا سکتی ہے۔

اسکولنگ کا معیار، خاص طور پر سرکاری شعبے میں عموماً خراب ہے۔ مختلف ٹیسٹس اور امتحانات نے یہ بات واضح کی ہے کہ بچے سیکھنے کے اہداف حاصل نہیں کر پاتے۔ اس کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہمیں تعلیمی شعبے میں اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔ مگر ہمیں اس دوران یہ غور کرنا چاہیے کہ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے اور کیا نہیں۔

خراب معیارِ تعلیم صرف سرکاری شعبے تک محدود نہیں۔ انتہائی زیادہ فیس والے چند نجی اسکولوں کو چھوڑ کر زیادہ تر نجی اسکولوں کا معیار بھی بہت برا ہے۔ امتحانات اور ٹیسٹ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اوسطاً نجی اسکولوں کے بچے سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، مگر بات اتنی سادہ نہیں ہے۔

پہلی بات، کم فیس والے نجی اسکولوں کے نتائج بھی بہت خراب ہیں۔ چنانچہ دونوں ہی نظام ہائے تعلیم ہمارے بچوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مگر یہ کہ سرکاری شعبہ یہ کام زیادہ وسیع پیمانے پر کر رہا ہے۔ دوسری بات، یہ ڈیٹا زیادہ تر پرائمری تعلیم کے متعلق ہے۔ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ جب بچے آٹھویں یا نوویں جماعت میں آتے ہیں تو نجی سے سرکاری اسکولوں میں چلے جاتے ہیں، چنانچہ معیار کے اشاریوں کے متعلق بحث اونچی سطح پر زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ تیسری بات، اگر والدین کی آمدنی، سماجی حیثیت اور ان کے رہائشی علاقوں کا بھی جائزہ لیا جائے، تو نتائج میں فرق زیادہ نہیں ہے۔

چنانچہ ہمیں دونوں ہی طرح کے اسکولوں کا تعلیمی معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ چوں کہ ہمارے پاس نجی اسکولوں پر مؤثر کنٹرول کے لیے کوئی ریگولیٹری نظام موجود نہیں ہے، اس لیے ہمیں انہیں بالواسطہ طور پر سرکاری اسکولوں میں تبدیلی لا کر تبدیل کرنا ہوگا۔ اگر سرکاری اسکول ملک میں تعلیم کے بنیادی معیار کا تعین کر کے اس کی پابندی کر سکیں، اور کم فیس والے نجی اسکول خود کو اس معیار سے تھوڑا اوپر لا سکیں، اور پھر اگر ہم سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار بہتر بنانا شروع کر دیں تو نجی شعبہ بھی اپنے معیار بہتر بنانے پر مجبور ہو جائے گا۔ اب تک کے لیے تو یہ دیکھنا بہت مشکل ہے کہ ہم نجی شعبے میں تعلیمی معیار کے مسائل کو بلاواسطہ کس طرح حل کر سکتے ہیں۔

نجی شعبے میں تعلیمی اخراجات اور تعلیم کے معیار کا سرکاری شعبے سے تقابل کا مسئلہ بھی توجہ طلب ہے۔ سرکاری اسکول ہر بچے پر ماہانہ ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار روپے خرچ کرتے ہیں۔ اچھے معیار کے زیادہ تر اسکول اس سے کہیں زیادہ فیس وصول کرتے ہیں۔ مگر کئی ایسے کم فیس والے نجی اسکول بھی ہیں جو سرکاری شعبے کے فی بچہ اخراجات سے بھی کم فیس وصول کرتے ہیں۔

کسی بھی تعلیمی ادارے یا نظام میں اساتذہ کی تنخواہیں سب سے بڑا خرچہ ہوتی ہیں؛ دوسرا بنیادی خرچہ انفراسٹرکچر کا ہے۔ ایک جانب نجی شعبہ انفراسٹرکچر کے پورے اخراجات ادا کرتا ہے تو دوسری جانب سرکاری شعبہ سرکاری زمین پر اسکول بنا سکتا ہے۔

مگر دوسری طرف نجی شعبہ اپنے اساتذہ کو بہت ہی کم مگر مارکیٹ کے مطابق تنخواہیں ادا کرتا ہے۔ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں کم فیس والے نجی شعبے کے اساتذہ سے تین سے چار گنا زیادہ ہوتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں اساتذہ کی کم سے کم تنخواہ بھی قانونی طور پر متعین نہیں ہے۔ پنجاب کا کم سے کم اجرت کا قانون تمام اساتذہ کا احاطہ کرتا ہے مگر صوبائی حکومت اس کا نفاذ نہیں کرتی۔ خیبر پختونخواہ نے نجی اسکولوں کو کم سے کم اجرت کے قانون کے دائرے سے نکال ہی دیا ہے۔ نتیجتاً جہاں سرکاری شعبہ اساتذہ کو کم سے کم اجرت سے کہیں زیادہ دیتا ہے، وہاں کم فیس والے نجی اسکول ایسا نہیں کرتے۔ یہیں پر اخراجات کے حوالے سے نجی اسکولوں کو حاصل حقیقی فائدہ سامنے آتا ہے۔ مگر کیا اسے 'مؤثر' ہونے کا اشارہ سمجھنا چاہیے؟

کیا یہ قابلِ قبول ہے کہ اساتذہ کو غیر ہنرمند مزدوروں سے بھی کم تنخواہ دی جائے؟ کسی بھی شعبے میں لوگ اس سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد کو دیکھ کر آتے ہیں۔ اگر استاد کو ماہانہ 6000 روپے یا اس کے لگ بھگ دیے جائیں گے، تو وہ کس طرح اپنے خاندان کو پروان چڑھائے گا؟ ایسے حالات میں تدریس کے شعبے میں کون آئے گا۔ اور اگر اس شعبے میں صرف وہ لوگ آئیں گے جو اور کہیں نہیں جا سکتے، تو معیارِ تعلیم کیسے بڑھے گا؟

اس وقت ہم ایسی صورتحال میں ہیں جہاں کم فیس والے نجی اسکولوں کے پاس تعلیم یافتہ خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو معاشرتی یا دیگر وجوہات کی بناء پر صرف تدریس ہی کرنا چاہتی ہیں۔ خود کو دستیاب کم آپشنز کی وجہ سے وہ اسکولوں سے زیادہ تنخواہیں نہیں طلب کر سکتیں۔ تو کیا ہمیں اپنے اسکولنگ نظام کو ان پریشان کن حقائق کا استحصال کرنے دینا چاہیے؟

کچھ حلقوں میں مقبولیت پاتا بیانیہ یہ ہے کہ نجی شعبے کے مؤثر ہونے کی وجہ سے ریاست کو یا تو ایسی ہی 'استعداد' اپنے اسکولوں میں بھی پیدا کرنی چاہیے، یا پھر سرکاری اسکول نجی شعبے کے حوالے کر دینے چاہیئں۔

اگر تو کارکردگی و استعداد میں اضافے کا مطلب معیار میں بہتری، فالتو چیزوں میں کٹوتی اور نظام سے بدعنوانی کا خاتمہ ہے تو یہ بات قابلِ فہم بھی ہے، اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ پر اگر اس کا مطلب سرکاری اساتذہ کی تنخواہوں میں کمی، یا ان نجی اسکولوں کے حوالے کرنا ہے جو اساتذہ کو کم سے کم اجرت بھی نہیں دیتے، تو اس کا مزید باریکی اور احتیاط سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔

تقریباً دو کروڑ دس لاکھ بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں۔ 1 لاکھ سرکاری اسکولوں اور تقریباً اتنے ہی نجی اسکولوں کی موجودگی کے باوجود ہمارے پاس اب بھی دس سال تک ہر بچے کو پڑھانے کے لیے اسکولز ناکافی ہیں۔

مثال کے طور پر، پنجاب میں 37 ہزار پرائمری اسکول ہیں مگر صرف 10 ہزار مڈل اور 6000 ہائی اسکول ہیں۔ اگر ہم مڈل اور ہائی اسکولوں کو پرائمری اسکولوں سے بڑا کرنے کی اجازت دے بھی دیں، تو کیا 37 ہزار اسکولوں میں آنے والے تمام بچے ان تھوڑے سے اسکولوں میں آ سکتے ہیں؟ جبکہ اس سے گھر اور اسکول کے درمیان فاصلہ بھی بڑھے گا؟

یہ واضح ہے کہ 'مؤثر تعلیم' کی تلاش کا یہ راستہ ہمیں صرف یہاں تک لے کر جائے گا۔ ہمیں پھر بھی سب بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے سرکاری اسکولوں میں اضافی سرمایہ کاری کرنی پڑے گی۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 17 نومبر 2017 کو شائع ہوا۔