ای میل

’اپنا سوہنا پنجاب آ گیا جی‘

عبیداللہ کیہر

ڈان بلاگز موسمِ سرما کی چھٹیوں میں سیر و تفریح کے حوالے سے اپنے قارئین کے لیے مکمل ٹؤر گائیڈ پیش کررہا ہے۔ یہ سیریز کا تیسرا بلاگ ہے، گزشتہ بلاگ یہاں پڑھیں۔ اس سیریز میں قارئین تک مکمل معلومات پہنچانے کی کوشش کی جائے گی کہ سردیوں میں پاکستان کے کن کن علاقوں میں جانا زیادہ بہتر رہے گا۔


سندھ سے پنجاب جانے والی نیشنل ہائی وے، روہڑی بائی پاس بننے سے پہلے روہڑی شہر کے اندر ریلوے اسٹیشن کے برابر سے گزرتی تھی اور اس کی وجہ سے اس مختصر سے شہر میں ٹریفک کا شور ہر وقت جاری رہتا تھا۔

لیکن جب سے روہڑی کا بائی پاس بنا ہے تب سے اس اندر والی سڑک پر ٹریفک برائے نام رہ گیا ہے۔ ریلوے اسٹیشن کا چوک کہ جہاں ہر وقت بڑی رونق رہا کرتی تھی، اب یہاں صرف کسی ٹرین کی آمد کے وقت ہی کچھ گہما گہمی نظر آتی ہے۔ لینس ڈاؤن برج دیکھنے کے بعد ہم روہڑی شہر کے اندر سے گزرتے ہوئے قدیم نیشنل ہائی وے کے راستے نیشنل ہائی وے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اب ہم صوبہ پنجاب کے قریب آچکے ہیں۔ چلیں سندھ سے باہر نکل کر جنوبی پنجاب میں قدم رکھتے ہیں جہاں سُہانا شہر صادق آباد ہمارا منتظر ہے۔

روہڑی سے صادق آباد جاتے ہوئے راستے میں پنو عاقل، گھوٹکی، میر پور ماتھیلو اور ڈہرکی کے قصبے آتے ہیں۔ بالائی سندھ کا یہ علاقہ چند اہم خصوصیات کا حامل ہے۔ ایک تو یہ کہ یہاں قدرتی گیس کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ جبکہ یہاں دو بڑے فرٹیلائزر پلانٹ بھی موجود ہیں جو پاکستان جیسے زرعی ملک کیلئے بڑے پیمانے پر کیمیائی کھاد کی پیداوار کے باعث پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ڈہرکی اور میرپور ماتھیلو میں ان کارخانوں کے بلند و بالا ہنی ٹاورز اور مشینری دورہی سے نظر آنا شروع ہوجاتی ہے اور اگر آپ اس راستے سے رات کے وقت گزر رہے ہوں تو ان فیکٹریوں کی برقی روشنیوں نے پورے علاقے کو جگمگایا ہوا ہوتا ہے۔

بلکہ رات کے وقت سفر کرتے ہوئے تو یہاں ایک اور عجیب منظر بھی دیکھنے کو ملتاہے۔ گھوٹکی سے تقریباً آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر بائیں ہاتھ پر قادرپور گیس فیلڈ ہے، جس کی چمنی سے بھڑکتا ہوا سرخ رنگ کا ایک ایسا زبردست شعلہ اٹھ رہا ہوتا ہے کہ جس کی وجہ سے آسمان دور دور تک نارنجی روشنی سے دمک رہا ہوتا ہے۔

روہڑی سے سندھ کے آخری قصبے اوباڑو تک تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے۔ کوٹ سبزل کے مقام پر ہم صوبہ سندھ سے نکل کر پنجاب میں داخل ہوجاتے ہیں، اور یہ ضلع صادق آباد ہے۔ پنجاب کی حدود میں میں داخل ہو کر مزید آگے بڑھیں تو چند کلومیٹر پر صادق آباد کا صاف ستھرا اور با رونق شہر آجاتا ہے۔

صادق آباد، بھونگ مسجد اور ہیڈ پنجند

صادق آباد میں کئی عمدہ ہوٹل ہیں جہاں قیام کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ یہاں خوردونوش کے بھی کئی عمدہ مراکز ہیں جہاں آپ ہر طرح کے لذیذ روایتی کھانے بھی کھا سکتے ہیں اور طرح طرح کی مٹھائیوں سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر صادق آباد کی مٹھائی "دودھ میسو" کا ذائقہ آپ کو ہمیشہ یاد رہے گا جو کہ سندھ کی مشہور مٹھائی ’’ماوا‘‘ ہی کی ایک شکل ہے۔

صادق آباد جو بھی آتا ہے وہ بھونگ مسجد ضرور جاتا ہے۔ اگر ہم نیشنل ہائی وے پر صادق آباد بائی پاس سے گزریں تو ایک چوراہا آتا ہے۔ صادق آباد شہر میں جانا ہو تو ہم اس چوراہے سے دائیں طرف مشرقی سمت مڑجاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس چوراہے سے بائیں طرف والی سڑک پر چل پڑیں تو تقریباً پندرہ کلو میٹر سفر کے بعد ایک مختصر سے قصبے ’’بھونگ‘‘ پہنچ جائیں گے۔ بھونگ اپنی عالیشان اور خوبصورت مسجد کی وجہ سے عالمگیر شہرت رکھتا ہے۔

بھونگ مسجد کو اس کے بہترین طرزِ تعمیر کے باعث 1986ء میں دنیا کی 213 عمارات کے مقابلے میں چھے بہترین عمارات میں شامل کیا گیا اور اس سال کا آغا خان ایوارڈ دیا گیا۔ اس مسجد کی تعمیر 1932 سے 1982 تک پچاس سال کے عرصے میں مکمل ہوئی جو کہ خود ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ بھونگ کی یہ خوبصورت مسجد رئیس غازی محمد کے اعلیٰ ذوقِ تعمیر کا شاہکار ہے۔

کہتے ہیں کہ آج جس جگہ یہ مسجد موجود ہے یہاں اس سے پہلے بھی ایک خوبصورت مسجد ہوا کرتی تھی جس کے ساتھ رئیس غازی محمد نے ایک محل تعمیر کروایا تھا۔ ایک دن انہیں محسوس ہوا کہ وہ محل اپنی شان میں اُس مسجد سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ خیال آتے ہی انہوں نے خدا سے معافی مانگی اور اُس چھوٹی مسجد کی جگہ ایک نئی اور عظیم الشان مسجد کی تعمیر کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ 1930ء میں محل سے تقریباً دوگنا رقبے پرنئی مسجد کی تعمیرکا آغاز ہوگیا۔

1975ء میں رئیس غازی محمد کا انتقال ہوگیا، لیکن ان کے بیٹے رئیس شبیر محمد نے تعمیراتی کام جاری رکھا۔1986ء میں بھونگ مسجد کے لیے آغا خان ایوارڈ انہوں نے ہی وصول کیا تھا۔ بھونگ مسجد میں بیک وقت دو ہزار سے زائد افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس کی تعمیر میں سونا، چاندی اور دنیا بھر سے منگایا گیا قیمتی پتھر استعمال کیا گیا ہے۔ چھت پر صندل کی لکڑی کا جال ہے جسے سونے کے پتروں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ دیواروں پر اس کثرت سے نقش و نگار ہیں کہ لگتا ہے ہر طرف پھولوں کی بارش ہو رہی ہے۔ شہروں سے دور ایک خالصتاً دیہاتی ماحول میں ایسی عالیشان مسجد دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے۔

بھونگ مسجد، صادق آباد. — فوٹو تنزیل الزمان بابر
بھونگ مسجد، صادق آباد. — فوٹو تنزیل الزمان بابر

دریائے سندھ پر چاچڑاں کے مقام پر بنایا گیا پل. — فوٹو عبیداللہ کیہر
دریائے سندھ پر چاچڑاں کے مقام پر بنایا گیا پل. — فوٹو عبیداللہ کیہر

دریائے سندھ پر چاچڑاں کے مقام پر بنایا گیا پل. — فوٹو عبیداللہ کیہر
دریائے سندھ پر چاچڑاں کے مقام پر بنایا گیا پل. — فوٹو عبیداللہ کیہر

صادق آباد سے آگے چلیں تو 70 کلومیٹر کے فاصلے پر چوک ظاہر پیر آتا ہے۔ چوک ظاہر پیر سےآپ بائیں طرف جانے والی سڑک پر مڑ جائیں تو یہ راستہ آپ کو دریائے سندھ کے کنارے آباد ایک چھوٹی سی بستی "چاچڑاں" تک لے جائے گا۔چاچڑاں کا یہ ننھا منا قصبہ صوفی شاعر خواجہ غلام فریدؒ کی نسبت سے مشہور ہے۔ خواجہ غلام فرید یہاں 1845ء میں چاچڑاں میں پیدا ہوئے جبکہ ان کا مقبرہ دریا کے مغربی کنارے پر مٹھن کوٹ میں واقع ہے۔

دریائے سندھ کے آرپار یہ دونوں قصبے خواجہ غلام فرید کی وجہ سے شہرت پا گئے اور "چاچڑاں شریف" اور "مٹھن کوٹ شریف" کہلائے۔ چاچڑاں اورمٹھن کوٹ کے درمیان دریائے سندھ کا پاٹ تقریباً 18 کلو میٹر چوڑا ہے۔ اس وسیع پاٹ کے درمیان میں تین جزیرے ابھرے ہوئے ہیں۔ سرد یوں میں جب دریا میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے تو ان تینوں جزیروں کے درمیان لاتعداد کشتی نما آہنی بجروں کو آپس میں جوڑ کرچار پل بنا دیے جاتے ہیں۔

کشتیوں کے یہ جھولتے جھومتے پل دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سال کا نصف حصہ لوگ ان تیرتے پلوں کے ذریعے دریاکو عبور کرتے ہیں۔ البتہ گرمیوں میں جب دریا میں پانی عروج پر ہوتا ہے تو یہ تینوں جزیرے پانی میں گم ہو جاتے ہیں۔ یہاں دریا میں تیرتی کشتیاں، دریا کنارے لہلہاتے سرسبز کھیت، باغات اور کھجور کے درختوں کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اب اس جگہ پر ایک پل کی تعمیر کا کام بھی زور و شور سے جاری ہے۔

نیشنل ہائی وے پر چوک ظاہر پیر سے مزید 60 کلومیٹرآگے چلیں تو ہم "ترنڈہ محمد پناہ" پہنچ جاتے ہیں۔ "ترنڈہ" سرائیکی میں سہ راہے کو کہتے ہیں۔ ترنڈہ محمد پناہ سے تین راستے نکلتے ہیں۔

مغربی سمت مڑجانے والی نیشنل ہائی وے چنی گوٹھ، احمد پور شرقیہ اور بہاولپور سے ہوتی ہوئی ملتان اور لاہور کی طرف چلی جاتی ہے، جبکہ شمال کی طرف جانے والی سڑک ہیڈ پنجند کی طرف جاتی ہے اور ہیڈ پنجند پل کو عبور کر کے علی پور اور مظفر گڑھ سے ہوتی ہوئی میانوالی کی طرف جاتی ہے۔

تیسرا راستہ سندھ کی طرف سے آکر یہاں ملتا ہے جس پہ چلتے ہوئے ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔ ہیڈ پنجند کی طرف جانے والے مسافر ترنڈہ محمد پناہ پر آکر نیشنل ہائی وے کوچھوڑ دیتے ہیں اور ہیڈ پنجند کی طرف جانے والی سنگل روڈ پر چڑھ جاتے ہیں۔ہیڈ پنجند ترنڈہ محمد پناہ سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہاں تک آپ تقریباً نصف گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں۔

ہیڈ پنجند پاکستان کی ایک اہم اور خوبصورت دریائی گزرگاہ ہے۔ یہاں پنجاب کے پانچوں دریاؤں کا پانی آپس میں مل کر ایک دریا کا روپ اختیار کرتا ہے۔دریاؤں کا یہ ملاپ ایک خوبصورت اور انوکھا منظر تخلیق کرتا ہے اور اس نظارےکی کی کشش میں لوگ دور دور سے آتے ہیں اور یہاں پکنک مناتے ہیں۔

پنجند (پنج ند) پنجابی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی" پانچ ندیاں" ہیں، یعنی راوی، جہلم، چناب،بیاس اور ستلج۔ اس مقام پر چونکہ ان پانچوں دریاؤں کا پانی یکجا ہورہا ہے اس لیے اسے پنجند کا نام دیا گیا ہے۔ کشمیر سے نکلنے والا دریائے جہلم،جھنگ میں آکر جموں سے آنے والے دریائے چناب میں شامل ہوتا ہے،جبکہ دریائے راوی بھی شور کوٹ کے قریب دریائے چناب میں شامل ہوتا ہے۔

یہاں سے تینوں دریاؤں کا پانی دریائے چناب کی صورت آگے پنجند کی طرف اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ دوسری طرف دریائے ستلج اور دریائے بیاس کا مشترکہ پانی بھی پنجند کی طرف آتا ہے۔ یہاں یہ پانچوں دریا آپس میں مل جاتے ہیں اور یہ جگہ"پنجند" یعنی" پانچ ندیوں" کا نام پاتی ہے۔ پانچ دریاؤں کا یہ مشترکہ پانی اس مقام سے آگے پینتالیس کلومیٹر کا مزید سفر کر کے دریائے سندھ میں جا شامل ہوتا ہے اور پھر دریائے سندھ ان سارے پانیوں کا امین بن کر صوبہ سندھ سے گزرتا ہوا بحیرۂ عرب میں شامل ہوجاتا ہے۔

پنجند پر ایک بیراج بھی بنا ہوا ہے جس کے ذریعے یہاں سے نکالی گئی نہروں کے پانی کو کنڑول کیا جاتا ہے۔ علی پور اور مظفر گڑھ جانے والی گاڑیاں اسی بیراج کے پل سے دریا کو عبور کرتی ہیں۔ یہاں سڑک کے ا طراف میں جگہ جگہ دریا کی تازہ مچھلی تلی جا رہی ہوتی ہے اور ہر طرف اس کی اشتہأ انگیز خوشبو پھیلی رہتی ہے۔سیرو تفریح اور پکنک کیلئے آنے والے لوگ یہاں دریا کے پانی میں نہا تے ہیں، کشتیوں میں بیٹھ کر دریا کی سیر کرتے ہیں یا پھر چھپر نما دوکانوں میں بیٹھ کر پنجند سے شکار کی گئی سوندھی سوندھی خوشبو والی تلی ہوئی خستہ مچھلی کھاتے ہیں اور کھاتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں اسی طرح کی مزیدار سرگرمیوں میں ایک یادگار دن گزارا جاسکتا ہے۔

ڈیرہ نواب صاحب، قلعہ دراوڑ اور صحرائے چولستان

ہیڈ پنجند سے آگے چلتے ہیں تو ہمارے ذہن میں احمد پور شرقیہ یا ڈیرہ نواب صاحب، نواب بہاولپور کا صادق گڑھ پیلس اورصحرائے چولستان کے قلعہ دراوڑ کے نام آنے لگتے ہیں۔ اگر آپ ریل گاڑی سے سفر کر رہے ہیں تو سندھ سے نکل کر پنجاب میں داخل ہوتے ہی پہلے پہل صادق آباد آجاتا ہے اور پھر پنجاب کے ہرے بھرے کھیتوں کھلیانوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

تاحد نظر سبزرنگ کا ایک سمندر ہلکورے لے رہا ہوتا ہے، لیکن سبزے کے اس سمندر میں آپ کو جابہ جا ایک عجیب سی چیز بھی نظر آئے گی۔ یہ سفید مٹی کے گول گول جزیرے ہیں جو باقیات ہیں اس صحرائے چولستان کی کہ جسے آج نہری نظام اور جفاکش دہقان نے گل و گلزار بنا دیا ہے۔ یہ سارا علاقہ ماضی میں صحرائے چولستان کا حصہ تھا اور صحرائی ٹیلوں کی علامات اب صرف یہی سفید ریت کے چند ڈھیر رہ گئے ہیں۔

ریگزاروں پر قابض ان سبزہ زاروں میں چلتے چلتے ریل گاڑی اچانک ایک پر جلال اور شاہانہ عمارت میں داخل ہوجائے گی۔ یہ ڈیرہ نواب صاحب کا ریلوے اسٹیشن ہے۔ اونچے اونچے سفید گنبدوں والی پر شکوہ عمارت۔آپ ریل سے اتر کر باہر نکلیں تو خود کو پنجاب کے ایک مہمان نواز شہر احمد پور شرقیہ میں پائیں گے۔ بہاولپور کے نواب صادق محمد خان چہارم نے جب 1896ء میں احمد پور شرقیہ میں صادق گڑھ پیلس تعمیر کروایا تو اس شہر کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا اور اس نسبت سے اس کے ریلوے اسٹیشن کو "ڈیرہ نواب صاحب" کا نام دیا گیا۔

صادق گڑھ پیلس کا مرکزی دروازہ۔—فوٹو عبیداللہ کیہر
صادق گڑھ پیلس کا مرکزی دروازہ۔—فوٹو عبیداللہ کیہر

چولستان کی جیپ ریلی۔—فوٹو عبیداللہ کیہر
چولستان کی جیپ ریلی۔—فوٹو عبیداللہ کیہر

صادق گڑھ پیلس ننانوے رہائشی کمروں کے علاوہ شاہی دربار، حرم، ایوانِ ضیافت، ترکی ہال،اسلحہ خانہ،بجلی گھر، سنیما، ڈیری فارم،اصطبل،موٹر ورکشاپ، صراف خانہ اور شاہی مسجد پر مشتمل ہے۔ پینسٹھ ایکڑ پر پھیلے اس عظیم الشان محل میں استعمال کیا گیا شیشہ اور فانوس ملکہ وکٹوریہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ کئی انگریز وائسرائے، پاکستانی سربراہان مملکت اور شاہ ایران سمیت مختلف اہم شخصیات اس محل میں قیام کر چکی ہیں۔

ایوانِ ضیافت میں مہمانوں کو سونے کے برتنوں میں کھانا دیا جاتا تھا۔ محل کے مرکزی دروازے پر ابھارے گئے نقش ونگاراسلامی آرٹ کا بہترین نمونہ ہیں۔نواب بہاولپور نے صادق گڑھ پیلس کو ریاست کا درالخلافہ بنایا تھا اور یہاں نصف صدی تک دربار لگایا جاتا رہا۔قدیم دور کا یہ محل آج بھی سیاحوں کو اپنے دورِ عروج اور شان و شوکت کی داستان سناتا ہے۔

احمد پور شرقیہ سے نکل کر صحرائے چولستان کی طرف بڑھیں تو شہر سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر عالمی شہرت یافتہ "قلعہ دراوڑ" موجودہے۔سینکڑوں سال قدیم اس قلعے نے مختلف حکمرانوں کے ادوار دیکھے ہیں۔انیسویں صدی میں یہ ریاست بہاولپور کی ملکیت رہا ہے۔

قلعہ دراوڑ کی 100 فٹ بلند بارعب دیواروں میں 40 برج بنے ہوئے ہیں جو اسے ایک عجیب و غریب منفرد ساخت دیتے ہیں۔ قلعے سے ملحق شاہی قبرستان اور سنگ مرمر کی ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔مسجد کے ساتھ ہی ایک قدرتی تالاب ہے جس میں آپ قلعے اور مسجد کا خوبصورت عکس دیکھ سکتے ہیں۔

ڈیرہ نواب صاحب ریلوے اسٹیشن۔— فوٹو عبیداللہ کیہر
ڈیرہ نواب صاحب ریلوے اسٹیشن۔— فوٹو عبیداللہ کیہر

شاہی مسجد قلعہ دراوڑ چولستان۔ —فوٹو عبیداللہ کیہر
شاہی مسجد قلعہ دراوڑ چولستان۔ —فوٹو عبیداللہ کیہر

قلعہ دراوڑ۔— فوٹو عبیداللہ کیہر
قلعہ دراوڑ۔— فوٹو عبیداللہ کیہر

قلعہ دراوڑ۔— فوٹو عبیداللہ کیہر
قلعہ دراوڑ۔— فوٹو عبیداللہ کیہر

قلعہ دراوڑ صحرائے چولستان کے اندر واقع ہے اس لئے یہاں آنے والوں کو خوبصورت صحرائی مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ صحرا کی گرمی سے بچنے کیلئے اس قلعے کی سیاحت کیلئے موسمِ سرما ہی کو بہتر خیال کیا جاتا ہے۔ قلعہ دراوڑ پر ہر سال موسم سرما میں ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب کے زیر اہتمام دھوم دھام سے ڈیزرٹ جیپ ریلی بھی منعقد کی جاتی ہے۔اس ایڈونچر میں ملک بھر سے سینکڑوں گاڑیاں شریک ہوتی ہیں اور لوگ اپنی اولوالعزمی کا انعام پاتے ہیں۔

تین دن تک صحرا میں ایک بھرپور رونق برپا رہتی ہے۔ رنگا رنگ میلوں ٹھیلوں اور عارضی بازاروں کی گہما گہمی، لوک موسیقی کی گونج اور لوک رقص کا شور، آتشبازیوں کی چکا چونداوررنگ برنگی روشنیوں کا چراغاں برپا رہتا ہے۔ صحرا کی اڑتی دھول سے بے پروا سیاحوں کا ایک ہجوم یہاں موجود رہتا ہے اور ایک منفرد وپرمسرت ماحول کا لطف اٹھاتا ہے۔

بہاولپور کے محلات اور لال سوہانرا نیشنل پارک

صحرائے چولستان بیابانوں اور ویرانیوں کا نام ہے، لیکن اسی لق و دق صحرا کے شمالی کنارے پر دریائے ستلج کے سرسبز حاشیے سے ملحق شہر بہاول پور ایک ایسا حسین گلزار ہے کہ جس کی خوبصورتی اور شان و شوکت دیکھنے والوں کو پہلی ہی نظر میں گرفتار کر لیتی ہے۔بہاولپور احمد پور شرقیہ سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے ستلج کے عین کنارے پر آباد ہے۔

بہاول پور کے دو ریلوے اسٹیشن دو الگ الگ لائنوں پر واقع ہیں۔ ایک تو مین لائن پر کراچی سے لاہور کو ملانے والے راستے پر آتا ہے اور بہاول پور ریلوے اسٹیشن کہلاتا ہے، جبکہ دوسرا ریلوے اسٹیشن سمہ سٹہ بہاولنگر برانچ لائن پر "بغداد الجدید" ریلوے اسٹیشن کے نام سے ہے۔ عباسی امراء نے بہاولپور کو خلافت عباسیہ کے قدیم مرکز بغداد سے منسوب کرتے ہوئے اسے بغداد الجدید کا نام دیا تھا اور یہی اس ریلوے اسٹیشن کا نام رکھا گیا تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے یہی اسٹیشن اور یہی لائن زیادہ اہم تھی کیونکہ یہ مرکز حکومت دہلی کی طرف جاتی تھی۔

مسجد الصادق بہاولپور۔— فوٹو عبیداللہ کیہر
مسجد الصادق بہاولپور۔— فوٹو عبیداللہ کیہر

صادق ایجرٹن کالج بہاولپور۔— فوٹو عبیداللہ کیہر
صادق ایجرٹن کالج بہاولپور۔— فوٹو عبیداللہ کیہر

بہاول پور قدیم و جدید طرز ہائے تعمیر کا شاہکار ہے۔ خصوصاً شاہی عمارات و محلات اسلامی، اطالوی اور انگریزی طرز تعمیر کے شاہکار ہیں۔ ریاستی دور کی عظیم الشان عمارات میں گلزار محل، نور محل، دولت خانہ، وکٹوریہ ہسپتال، سینٹرل لائبریری، عید گاہ، مسجد الصادق اور جامعہ اسلامیہ کی بارعب و پر جلال عمارات قابل دید ہیں۔

کسی زمانے میں شہر کے گرد ایک فصیل بھی ہوا کرتی تھی۔ اب وہ سارے دروازے تو باقی نہیں، مگر یہ راستے آج بھی انہی دروازوں سے منسوب ہیں۔ یہ دروازے ملتان گیٹ، دراوڑ گیٹ، بوہڑ گیٹ، شکار پوری گیٹ، احمد پوری گیٹ، موری گیٹ اور بیکانیری گیٹ کے ناموں سے قائم تھے۔ان میں سے کچھ دروازے اب بھی سلامت ہیں۔

بہاولپور کا حسین اور عالیشان نورمحل خاص طور سے قابل دید ہے۔یہ محل 1875ء میں نواب بہاولپور صادق محمد خان چہارم نے تعمیر کروایا تھا۔ نور محل اسلامی اوراطالوی طرز تعمیر کا خوبصورت مرقع ہے۔یہ ایک تین منزلہ مستطیل عمارت ہے جس کئی وسیع کمرے ہیں اور عمارت کے اوپر پانچ خوبصورت برج ہیں۔

محلات کے علاوہ بہاول پور کی جامع مسجد الصادق بھی قابل دید ہے۔سفید سنگ مر مر سے بنی یہ خوب صورت مسجدقدیم شہر کے عین مرکز میں ہے۔ اس کے اونچے اونچے سفید مینار شہر میں دور دورسے نظر آتے ہیں۔جامع مسجد کے نیچے صادق بازار بھی دیکھنے سے تعلق رکھتاہے۔

لال سوہانرا نیشنل پارک میں کالے ہرن۔— فوٹو عبیداللہ کیہر
لال سوہانرا نیشنل پارک میں کالے ہرن۔— فوٹو عبیداللہ کیہر

لال سوہانرا نیشنل پارک میں تھل نہر۔— فوٹو عبیداللہ کیہر
لال سوہانرا نیشنل پارک میں تھل نہر۔— فوٹو عبیداللہ کیہر

لال سوہانرا نیشنل پارک کے گینڈے۔— فوٹو عبیداللہ کیہر
لال سوہانرا نیشنل پارک کے گینڈے۔— فوٹو عبیداللہ کیہر

بہاول پور کی 100 سال قدیم سینٹرل لائبریری ایک قابل فخر کتب خانہ ہے جو اپنی لاکھوں نادر ونایاب کتب اور عالی شان عمارت کی وجہ سے ملک بھر کے لئے ایک سرمایہ افتخار ہے۔اطالوی طرز تعمیر کا شاہکار، سفید گنبدوں والی یہ پرشکوہ عمارت آج بھی بڑی شان سے بہاولپور کی فضا میں سر اٹھائے کھڑی ہے۔بہاول پور میں ایک عجائب گھر بھی ہے۔

بہاول پور شہر سے 35 کلو میٹر دور لال سوہانرا نیشنل پارک ملک کے وسیع ترین قومی پارکوں میں شامل ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا نیشنل پارک ہے جسے 1972 ء میں قائم کیا گیا تھا۔ خوبصورت تھل نہر لال سوہانرا پارک کے درمیان میں سے گذرتی ہے۔یہ پاکستان کا واحد نیشنل پارک ہے کہ جہاں ریگستان کے ساتھ ساتھ جھیلیں اور سرسبز و شاداب علاقے بھی ہیں۔

یہ کئی قسم کے جنگلی جانوروں اور پرندوں سے بھر پور ہے۔ ہرن، خرگوش،لومڑی، جنگلی بلی،سانپ،تلور،عقاب،شاہین اور الو یہاں بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ تالابوں اورجھیلوں میں مچھلیاں اورکچھوے بھی ہیں جبکہ دنیا بھر سے ہزاروں پرندوں کی آمدورفت بھی جاری رہتی ہے۔یہاں گینڈوں اور ہرنوں کی افزائش نسل بھی کی جاتی ہے۔ آپ یہاں ہرنوں کے درمیان میں چل پھر سکتے ہیں اور انہیں اپنے ہاتھ سے گھاس کھلا سکتے ہیں۔


عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں۔ آپ کی اب تک 7 کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہیں۔ عمر کا غالب حصہ کراچی میں گزارا اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں.


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔