سیف اللہ خاندان، پاکستان کا سب سے بڑا آف شور اثاثوں کا مالک

سیف اللہ خاندان کےعلاوہ ہسپتال کی خاتون مالکن،منشیات کےالزام میں گرفتارپاکستانی سمیت دیگرکی لندن میں جائیدادیں موجودہیں۔
اپ ڈیٹ مارچ 14, 2018 03:51pm

خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت سے تعلق رکھنے والا سیف اللہ خاندان برطانیہ میں سب سے زیادہ آف شور اثاثوں کا مالک ہے، پاکستان میں کوئی دوسرا پاکستانی سیاستدان یا صنعت کار، سیف اللہ خاندان کے مقابلے اتنی مالیت کے اثاثے نہیں رکھتا۔

ڈان نیوز کی تحقیقات کے مطابق سیف اللہ خاندان کا ایک فارم ہاؤس برطانیہ کے شہر ہیمشپائر کے سرسبز و شاداب علاقے برام شیل پارک میں واقع ہے جسے 1996 میں 8 لاکھ 65 ہزار پاؤنڈ (13 کروڑ 32 لاکھ روپے) میں ایکوا نومینیز لمیٹڈ کے ذریعے خریدا گیا۔

فارم ہاؤس میں چھ بیڈ رومز، 7 کمروں پر مشتمل مہمان خانہ، پانچ باتھ رومز اور بہت بڑے رقبے پر پھیلی زرعی زمین شامل ہے۔

فارم ہاؤس کو ’مہینے کی بہترین پراپرٹی‘ قرار دیتے ہوئے برطانیہ کی مصنفہ انشتاشیہ برنہارڈٹ نے لکھا کہ ’فارم ہاؤس میں وسیع سوئمنگ پول، ٹینس کورٹ سمیت ہرن اور جنگلی حیات کے لیے بڑی جگہ مختص ہے‘۔

یہ پڑھیں: ’آف شور‘ اکاؤنٹس کیا ہیں؟

برطانیہ کے لینڈز ریکارٹ کے مطابق فارم ہاؤس ہزار گز پر تعمیر ہے اور ساتھ ہی 334 ایکٹر کا رقبہ زرعی زمین پر مشتمل ہے، 2013 میں مذکورہ فارم ہاؤس کی قیمت 80 لاکھ اسٹرلنگ پاؤنڈ (1 ارب 23 کروڑ روپے) تھی جبکہ اس کی موجودہ مالیت 1 کروڑ اسٹرلنگ پاؤنڈ (1 ارب 54 کروڑ روپے) ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آف شور جائیداد کے مالکان کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ثابت کریں کہ انہوں یہ رقم کس کمپنی، شخص یا ادارے سے قانونی یا غیر قانونی طریقے سے حاصل کی۔

سیف اللہ خاندان کی ملکیت سے منسوب فارم ہاؤس کا رقبہ اور مالیت سابق صدر آصف علی زرداری کے سرے محل کے برابر ہے جو 355 ایکٹر اراضی پر مشتمل ہے۔

فارم ہاؤس کی خریداری کے محض دوسال بعد ہی سیف اللہ خاندان کی جانب سے وسطی لندن میں 1998 میں 5 لاکھ اسٹرلنگ پاؤنڈ (7 کروڑ 70 لاکھ روپے) سے ٹیرس ہاؤس خریدا گیا تھا۔

برطانیہ لینڈ رجسٹری کے ریکارڈ سے واضح ہے کہ ایکوا نومینیز لمیٹڈ نے سینٹرل لندن میں البیانواسٹریٹ پر پراپرٹی خریدی، اس کے علاوہ آف شور کمپنی ’یو کے پراپرٹی انویسمنٹ لمیٹڈ‘ کی جانب سے سیف اللہ خان کے لیے ویسٹ منسٹر برج میں قائم پارک پلازہ کی 13ویں منزل کا فلیٹ خریدا گیا تاہم فلیٹ کی اصل قیمت کے بارے میں علم نہیں لیکن ستمبر 2016 میں اسی منزل پر فروخت ہونے والے دوسرے فلیٹ کی قیمت 4 لاکھ 30 ہزار اسٹرلنگ پاؤنڈ ( 66 کروڑ 23 لاکھ روپے) تھی۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب کا 435 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کی فوری تحقیقات کا حکم

برطانیہ کے محکمہ لینڈ کے مطابق سیف اللہ خان کی آف شور کمپنیوں کے نام پر البیانواسٹریٹ پر 2 گھر ہیں۔

ایکوا ٹرسٹ کمپنی لمیٹڈ کے ذریعے اسی گروپ کی ویسٹ میڈ لینڈ کے علاقے ورایسٹر میں تین جائیدادی ہیں جس میں سے دو سینٹ مارٹین پیلس میں اور ایک سٹی والاز روڈ پر قائم ہے۔

سابق وفاقی وزیر سلیم سیف اللہ خان کی آف شور کمپنی نے سوٹن میں پارکنگ کی جگہ خریدی۔

ریکارڈ میں کہیں ثابت نہیں کہ رہائشی یا کمرشل پراپرٹی آف شور کمپنیوں کی ملکیت ہیں اور آف شور کمپنیاں سیف اللہ خاندان کی ملکیت ہیں تاہم پاناما پیپرز تحقیقات میں آف شور کمپنیوں کا تعلق سیف اللہ سے ثابت ہوتا ہے۔

صرف سیف اللہ خاندان ہی ان پاکستانیوں میں شمار نہیں جس کے ہیمشپائر میں فارم ہاؤس ہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیرترین کے بھی فارم ہاؤس وہاں موجود ہیں۔

پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل اسی علاقے میں ہیڈے ہاؤس کے مالک ہیں، انہوں نے یہ گھر شینی ویو لمیٹڈ نامی آف شور کمپنی کے ذریعے 2005 میں 10 لاکھ 20 ہزار اسٹرلنگ پاؤنڈ (15 کروڑ 71 لاکھ روپے ) میں خریدا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا

پی ٹی آئی کے دوسرے رہنما علیم خان بھی سینٹرل لندن میں 3 جائیدادوں کے مالک ہیں جس میں ایک پارک ویسٹ میں 5 ویں فلور پر ایک کمرے کا فلیٹ، جو جولائی 2007 میں 3 لاکھ پاؤنڈ (4 کروڑ 62 لاکھ روپے) میں خریدا گیا، بعدازاں ویسٹ پارک کے دو فلیٹس جون اور اگست 2017 میں تقریباً 5-5 لاکھ پاؤنڈ میں فروخت کیے گئے۔

علیم خان برطانیہ میں ماربل اریچ اپارٹمنٹ میں ایک اور فلیٹ کے مالک ہیں جو انہوں نے آف شور کمپنی کے ذریعے اگست 2002 میں 2 لاکھ 20 ہزار پاؤنڈ (3 کروڑ 38 لاکھ روپے) میں خریدا جبکہ اسی اپارٹمنٹ میں دو فلیٹس گزشتہ سال 4 لاکھ 95 ہزار پاؤنڈ (7 کروڑ 62 لاکھ روپے) اور دوسرا فلیٹ 4 لاکھ 15 ہزار پاؤنڈ (6 کروڑ 39 لاکھ روپے) میں فروخت کیے۔

علیم خان کی تیسری آف شور پراپرٹی محض چھ ماہ قبل 4 لاکھ 5 ہزار پاؤنڈ (6 کروڑ 23 لاکھ روپے) میں خریدی گئی۔

پی ٹی آئی کے ہمدرد زلفی بخاری بھی سینٹرل لندن میں دو مہنگے ترین آف شور جائیداد کے مالک ہیں، اینیس مور گارڈن میں ان کے فلیٹس کی مالیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک فلیٹ جولائی 2008 میں 9 لاکھ 49 ہزار 950 پاؤنڈ (14 کروڑ 63 لاکھ 70 ہزار روپے) میں فروخت ہوا۔

مسلم لیگ (ن) کے نو منتخب صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ساس ثمینہ درانی بھی سیںٹرل لندن میں آف شور جائیداد کی مالکن ہیں۔

انہوں نے ستمبر 2002 میں 4 لاکھ 80 ہزار پاؤنڈ (7 کروڑ 39 لاکھ روپے) میں پراپرٹی خریدی جس کی موجودہ مالیت 10 لاکھ پاؤنڈ سے زائد بتائی جاتی ہے۔


یہ خبر 14 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

لندن: راولپنڈی کے آریا محلے میں نجی ہسپتال چلانے والی خاتون ڈاکٹر سمیت لندن میں منشیات کے الزام میں گرفتار پاکستانی بھی برطانیہ میں آف شور اثاثہ جات کے مالک ہیں۔

ڈان کی تحقیقات کے مطابق راولپنڈی میں آریا محلے کی تنگ گلیوں میں قائم اجمل ہسپتال کی ڈاکٹر رضیہ اجمل بھی آف شور کمپنی میل کراس لیمٹڈ کی مالکن ہیں اور مذکورہ کمپنی کے ذریعے ستمبر 2002 میں لندن کے علاقے وی ویلی میں چھ کمروں کا ٹیرسڈ ہاؤس 4 لاکھ 75 ہزار پاؤنڈ (7 کروڑ 30 لاکھ 93 ہزار روپے) میں خریدا گیا تھا جس کی موجودہ مالیت 9 لاکھ 65 ہزار پاؤنڈ (15 کروڑ روپے سے زائد) ہے۔

متحدہ عرب امارت میں مقیم پاکستانی صنعت کار آصف حفیظ بھی برطانیہ میں دو فارم ہاؤسز کے مالک ہیں، انہیں اگست 2017 کو لندن میں منشیاب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اپنے دفاع کے لیے مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’اس کا شکار نواز شریف نہیں بلکہ انصاف خود ہوگیا‘

سروارنی ایس اے نامی آف شور کمپنی کے ذریعے انہوں نے 50 لاکھ پاونڈ سے زائد ملکیت کے دو فارم ہاوسز، میڈین ہیڈ اور بیرک شائر میں خریدے۔

آصف حفیظ کروان کورٹ میں مہنگے فلیٹ کے بھی مالک ہیں جو سینٹرل لندن میں واقع ریجنٹ پارک مسجد کے پاس قائم ہے لیکن یہ مذکورہ فلیٹ آف شور کمپنی کے ذریعے نہیں خریدے گئے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے صنعت کار اور داؤد ہرکیولیز کارپوریشن کے چیئرمین حسین داؤد بھی بریسٹل گارڈن میں 10 لاکھ پاؤنڈ سے زائد ملکیت کے آف شور اثاثوں کے مالک ہیں۔

کراچی کی صنعت کار خاتون نوشین ریاض خان بھی آف شور کمپنی توحید انٹرنیشنل لمیٹڈ کے ذریعے برطانوی علاقے سرے میں شیڈویچ پیلس سے متصل چھ رومز پر مشتمل ہاؤس کی مالکن ہیں جسے انہوں نے دستمبر 2010 میں 11 لاکھ 75 ہزار پاؤنڈ (18 کروڑ 80 لاکھ روپے) میں خریدا۔

منہاس سیکیورٹیز لمیٹڈ نامی آف شور کمپنی کے ذریعے کراچی کے نوید ملک نے ڈیوک اسٹریٹ میں فلیٹ حاصل کیا تھا، جس کی 2011 میں 8 لاکھ پاؤنڈ (12 کروڑ 31 ہزار روپے) کی مالیت تھی۔

مزید پڑھیں: پاناما کیس کے فیصلے کو عالمی میڈیا نے کیسے رپورٹ کیا؟

کراچی کے عبدالرحمٰن نے آف شور کمپنی پلاآئیزر لمیٹڈ کے ذریعے یورک روڈ لندن میں اکتوبر 2003 میں 5 لاکھ 69 لاکھ 800 پاؤنڈ (8 کروڑ 76 لاکھ 81 ہزار روپے) میں خریدی اور 2017 میں پیلس روڈ پر 5 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ (8 کروڑ 77لاکھ 11 ہزار روپے) میں جائیداد خریدی گئی۔

کراچی کی مہا عابدی دادا بھائی نے بھی جولائی 2009 میں 3 لاکھ 80 ہزار پاؤنڈ (5کروڑ 84لاکھ روپے) میں آف شور جائیداد ساوتھ ویک اسٹریٹ پر فلیٹ کی صورت میں خریدی تھی۔

لاہور سے روبینہ حیدر اور ریاض حیدر علی نے دو آف شور اثاثے بنائے جس میں پہلی جائیداد جون 2005 میں 1 لاکھ 28 ہزار پاؤنڈ (1 کروڑ 96 لاکھ 66 ہزار روپے) میں برٹیش ورجین آئی لینڈ میں خریدی گئی جبکہ دوسری لیورپول روڈ پر حاصل کی گئی۔


یہ خبر 14 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

لندن: برطانیہ کے سرکاری ادارے لینڈ رجسٹری ریکارڈ کے مطابق پاناما لیکس میں سامنے آنے والی دو آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کا تعلق سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے ہے اور شریف خاندان ہی ایون فیلڈ ہاؤس میں چار پُرتعش فلیٹس 16، 16 اے، 17 اور 17 اے کا مالک ہیں۔

چاروں فلیٹس ایک ہی منزل پر ہیں جن کی اندورنی دیواریں گرا کر ایک بڑے گھر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

شریف خاندان نے آف شور کمپنی نیلسن لمیٹڈ کے ذریعے جون 1993 میں فلیٹ نمبر 17 خریدا جس کے بعد فلیٹ 16 اور 16 اے کو 31 جولائی 1995 کو خریدا گیا۔

یہ پڑھیں: لندن فلیٹس 90 کی دہائی سے شریف خاندان کی ملکیت ہیں،بی بی سی

اس ضمن میں بتایا گیا کہ نواز شریف خاندان نے 23 جولائی 1996 میں فلیٹ نمبر 17 اے بھی خرید لیا تھا۔

دستاویزات کے مطابق نواز شریف خاندان نے ایون فیلڈ ہاؤس میں فلیٹ 12 اے خریدا لیکن یہ فلیٹ آف شور کمپنی کے ذریعے نہیں بلکہ برطانوی کمپنی ’فلیگ شپ انویسٹمنٹ لمیٹڈ‘ کے ذریعے خریدا گیا۔

مذکورہ انویسٹمنٹ کمپنی کے ڈائریکٹر نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز ہیں۔

حق ملکیت کے کاغذات میں واضح ہے کہ فلیٹ 3 لاکھ 65 ہزار پاؤنڈ (5 کروڑ63 لاکھ روپے) میں 29 جون 2004 میں خریدا گیا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کے سیاسی عروج و زوال کی تصویری کہانی

دستاویزات میں کہا گیا کہ آف شور کمپنی کے ایون فیلڈ ہاوس کے دیگر فلیٹ نمبر 20 اور 21 جبکہ فلیٹ نمبر 9 اور10 کو علیحدہ کمپنی کے ذریعے خریدا گیا۔

آف شور کمپنی کے ذریعے ہی ایون فیلڈ ہاوس کا فلیٹ 18 خریدا گیا۔

ایون فیلڈ ہاوس میں متعدد فلیٹس آف شور کمپنی کے ذریعے خریدے گئے لیکن ایڈگ ویئر روڈ پر 150 پراپرٹیز کو ٹیکس ہیون میں شامل کیا گیا۔