ای میل

بابر کا نابینا بیٹا سندھ میں

ابوبکر شیخ

گزرے وقتوں کی کوکھ بھی ہمیشہ بھری ہوئی ملتی ہے اور اس کوکھ کا کمال یہ ہے کہ وہاں بے ترتیب کچھ بھی نہیں ہے۔ ہر پل، دن، ماہ و سال ایک قرینے سے رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سب کتنا حیران کن ہے۔ مگر اَن گنت حقائق ایسے بھی ہیں جو ہم تک نہیں پہنچ سکے۔ بہت سارے حکمرانوں نے کتب خانوں کو آگ لگادی کہ جنگ اور قبضے کو آنکھیں نہیں ہوتی، اس لیے ہر چیز فنا کردی جاتی ہے۔ اتنی بربادیوں کے باوجود بھی ہمارے پاس تھوڑا بہت علم ضرور ہے کہ ہم جان سکیں کہ بِیتے ادوار میں، شہر کم اور جنگ کے میدان زیادہ آباد ہوتے۔ اعتماد کم اور شک کے کانٹیدار درخت زیادہ اُگتے۔ رشتوں سے محبت کی تان تخت و تاج کے سامنے آکر دم توڑ دیتی۔ کیونکہ تخت و تاج سے زیادہ مقدس اور کوئی رشتہ نہیں ہوتا تھا ان کی نظر میں۔

اکتوبر 1504ء بابر کے لیے ایک اچھا وقت تھا۔ اِسی برس وہ کابل اور غزنی کا بادشاہ بن گیا۔اس نے جتنی حکومت کی حاصلات کے لیے تگ و دو کی تھی۔ اُمیدوں اور تمناؤں کے جتنے خیالی لشکر تیار کیے تھے اُن سب کے حصے میں کامیابی کے ہرے بھرے نخلستان آئے۔

بابر ابھی اپنی فتح کے خمار کے ابتدائی دنوں کا لُطف لے رہا تھا کہ اُسے 1505ء میں ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت ملی اور وہ جلال آباد سے، خیبر لک سے پشاور کی طرف بڑھا مگر دریائے سندھ پار نہیں کیا۔ پھر کوہاٹ، بنگش، بنوں سے ہوتا ہوا مُلتان جا پہنچا اور پھر غزنی کے راستے کابل آیا۔ وہ اپنی توزک میں لکھتا ہے کہ ’میں نے اس سے پہلے کوئی گرم ملک نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی ہندوستان کا ملک۔ میں جب وہاں پہنچا تو مجھے وہاں بالکل ایک نئی دُنیا نظر آئی۔ سبزیاں، جھاڑیاں، درخت، جنگلی جانور۔ یہ سب میرے لئے نئے اور حیران کردینے والے تھے۔‘ کہا جاتا ہے کہ بابر کا ہندوستان پر یہ پہلا حملہ تھا۔ 1507ء میں اس نے ’ذوالنون‘ کے بیٹوں کو شکست دے کر قندھار پر قبضہ کیا اور اسے اپنے بھائی نصیر مرزا کو سپرد کرکے کابل کی طرف روانہ ہوا۔ وہ جولائی 1507ء میں کابل پہنچنے پر لکھتے ہیں کہ وہ، ’بڑے مال غنیمت اور نام و شہرت کے ساتھ کابل میں داخل ہوئے۔‘

بابر
بابر

1508ء کابل میں 17 مارچ کو ’نصیرالدین ہمایوں‘ پیدا ہوا۔ اس کی والدہ کا نام ’ماہم بیگم‘ تھا جو بابر کی سب سے چہیتی اہلیہ تھیں۔ ایک برس بعد یعنی 1509ء میں کابل میں ہی ’کامران مرزا‘ پیدا ہوا جن کی والدہ کا نام ’گل رُخ‘ بیگم تھا جس سے بابر بادشاہ کا عقد 1508ء میں ہوا تھا۔

اگر تاریخ کے اوراق دیکھیں تو ہمایوں کی موت 1556ء میں ہوئی اور کامران مرزا نے یہ جہان 1557ء میں چھوڑا۔ ان دونوں بھائیوں نے جنم میں بھی ایک برس کا فاصلہ رکھا اور یہ جہان چھوڑنے میں بھی ایک ہی برس کا فاصلہ تھا۔ بس فرق فقط مٹی کا ہوا۔ ہمایوں کو ہندوستان کی مٹی نے اپنی گود میں لیا اور کامران کو مکہ کی مٹی نصیب ہوئی۔ ان دونوں بھائیوں میں اور بھی بہت ساری مماثلات تھیں، مگر ان کے درمیان ایک جیسی باتیں صرف واقعات کی حد تک نظر آتی ہیں۔ طبیعت کے حوالے سے نہیں۔ گُل رُخ بیگم سے دوسرا بیٹا ’عسکری مرزا‘ بھی تھا۔

ہم جو ان برسوں کے ماہ و سال میں سفر کریں گے تو اس سفر کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی نکتے کو ہمیں ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے۔ میں یہ نکتہ ’ہمایوں نامہ‘ سے اُدھار لیتا ہوں۔ ’گُل رُخ کا نام بابر نے اپنی تحریر میں نہیں لیا۔ اس تغافل کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ، وہ کسی نچلے خاندان کی فرد تھیں۔ بہرحال ان تینوں خواتین (بابر نے 4 شادیاں کی تھیں۔ ماہم بیگم تیمور خاندان سے تھیں۔ باقی 3 کے نام: ’معصومہ بیگم‘، ‘گل رخ بیگم‘ اور ’دلدار بیگم‘) کے سلسلے میں بابر اور ان کی بیٹی گلبدن بیگم نے جو تغافل برتا ہے۔ اس سے یہ لازماً ظاہر ہوتا ہے کہ، وہ شہزادیاں نہ تھیں یوں وہ یقیناً اچھے خاندانوں کی بیٹیاں تھیں اور ان کو بیگم کا لقب کبھی نہیں دیا گیا سوائے ماہم بیگم کے۔ بابر بادشاہ نے اپنے خاندان کو کابل سے ہندوستان آنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ وہ اپنی محبت کی بنا پر ایسا کرنے پر مجبور تھا۔اس کے ماسوائے نقل وطن کے کچھ سیاسی مقاصد بھی تھے۔ کیونکہ کابل اس وقت تیموری خاندان کی شہزادیوں سے قریب قریب بھرا ہوا تھا۔ یوں بھی کامران مرزا اور اس کی حکومت سے یہ سب کی سب بہت تنگ تھیں۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ، کامران مرزا جس ماں کا بیٹا تھا وہ ان بڑی خواتین کے ہم پلہ نہ تھیں۔۔۔‘

میرزا کامران
میرزا کامران

’ہمایوں‘ اور ’کامران مرزا‘ کی شخصیت کے حوالے سے ہمیں 2 قسم کی تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ایک مرزا کامران کو بہتر سمجھنے والے اور دوسرے وہ جو ہمایوں کو اس حوالے سے قصوروار نہیں ٹھہراتے۔ بہرحال یہ 40 برس ان بھائیوں پر کیسے گزرے ان کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔ سفر کے اختتام پر آپ ہی بہتر فیصلہ کرسکیں گے۔

بابر یقیناً ایک مستقل مزاج رکھنے والا انسان تھا مگر ہمایوں میں اس خاصیت کی کمی تھی۔البتہ وہ سخی اور خوش طبیعت ضرور تھا اور مطالعے کے ساتھ لگاؤ اُسے وراثت میں ملا تھا۔ ساتھ میں پَل میں تولہ پل میں ماشہ والی طبیعت رکھتا تھا۔ اُس کی سب سے بڑی خوشنصیبی شاید یہ تھی کہ وہ ’ماہم‘ کی کوکھ سے جنما تھا، اس لیے وہ بابر کے دل کے بہت قریب تھا۔ 1530ء میں جب ہمایوں 22 برس کا تھا تو شدید بیمار ہوگیا اور اس کی صحتیابی کے لیے بابر نے اُس کی بیماری خود پر سوار کرلی اور 26 دسمبر 1530ء کو چہار باغ کے محل آگرہ میں یہ جہان چھوڑا۔ جہان چھوڑنے سے پہلے اُس نے اپنے تخت و تاج کا مالک ہمایوں کو بنایا۔ یہ اعلان اور شہزادوں کے لیے تو برداشت کرنے جیسا تھا مگر گلُ رخ کے بیٹوں، کامران مرزا اور عسکری مرزا کے لیے مایوس کردینے والا تھا۔ اس اعلان نے ان کو نفسیاتی طور پر خود کو تنہا سمجھنے پر مجبور کردیا اور اس اکیلے پن کے خیال نے کامران کے ذہن میں ایسی جڑیں پکڑیں کہ یہ خیال بڑھتے بڑھتے ایک دلدل کی شکل اختیار کرگیا، اُس نے جو عمل کیے وہ اُسے اِس مایوسی کی دلدل میں غرق کرتے گئے۔

جس وقت بابر کے سانس کی ڈور ٹوٹی، کامران مرزا اُن دنوں قندھار میں تھا اور یہ خبر سُن کر اُس نے عسکری کو قندھار میں چھوڑا اور وہاں سے آکر لاہور پر قبضہ کرلیا۔ ہمایوں نے مصلحتاً فرمان جاری کردیا کہ، ’کابل، قندھار اور پنجاب کامران کے حوالے ہیں‘۔ اس اعلان پر شکریہ ادائگی کے لیے کامران، ہمایوں کو تحائف، غزلیات اور قصائد بھی نظر کرتا رہا۔

’دیوان میرزا کامران‘ کا مقدمہ تحریر کرنے والے محترم محمد محفوظ الحق لکھتے ہیں کہ، ’یہ سلسلہ اِرادت و محبت کچھ ہی دنون تک جاری رہ سکا کیونکہ آگے چل کر دونوں بھائیوں میں گشیدگی شروع ہوگئی اور اس کا خاتمہ کامران کی نابینائی پر ہوا۔ یہ جنگ اور اس کا نتیجہ بہت عبرت خیز ہے۔ اکثر مؤرخین کا خیال ہے کہ اس لڑائی میں ہمایوں حق پر اور کامران ناحق پر تھا۔ ’جوہر‘ اور ’بایزید‘ (جنہوں نے دربار کے واقعے لکھے ہیں) ہمایوں کے خوانِ کرم کے پروردہ تھے۔ اُنہوں نے حق نمک ادا کیا۔ گلبدن بیگم بھی ہمایوں کے ساتھ رہی اس لیے اُس نے بھی اُس کا پاس رکھا۔ رہا ’ابوالفضل‘ اور اُس کے معاصرین وہ بھی ہمایوں کے بیٹے (اکبر) کے زلہ خوار تھے، اس لیے وہ بھی کامران مرزا سے بیزار نظر آتے ہیں اور ہر جگہ اُسے باغی، سرکش دشمن دولت ابد قرین کے خطاب سے یاد فرماتے ہیں۔‘

ہمایوں ہندوستان میں
ہمایوں ہندوستان میں

کامران جب کابل اور قندھار سے آگرہ پہنچا اور ’باغ گل فشاں‘ میں ٹھہرا تو گلبدن بیگم ہمیں بتاتی ہے کہ، کامران آگرہ پر قبضہ کرنے کے غرض سے آیا تھا۔ بہرحال کچھ بھی ہو۔کامران نے ہمایون کی کبھی مدد نہیں کی۔ ہمایوں کے جو بھی اچھے دن گزرے تھے اُن پر شام ڈھلتی جا رہی تھی۔

7 جون 1539ء میں چوسہ کے مقام پر جنگ ہوئی جس میں ہمایوں کو زبردست شکست ہوئی کہ سلطنت کی بساط بکھر کر رہ گئی۔ وہ اپنے بھائیوں کی چالوں اور شکست سے زچ ہوکر آگرہ میں خانہ نشین ہوا۔ ان ہی دنوں میں جب ’ہندال‘ جو الور گیا ہوا تھا وہ بھی لوٹ آیا، تینوں بھائی مل کر بیٹھے اور کامران نے ہمایوں کو فوجی مدد کا پکا یقین دلایا۔ مگر جب وقت آیا اور پتہ چلا کہ، شیرشاہ، گنگا پار اُتر چُکا ہے تو کامران نے چند سپاہیوں کے سوا ایک آدمی بھی ہمایوں کی مدد کے لیے آگرہ نہیں بھیجا۔ یہ وعدہ خلافی کے سوا ایک خطرناک قسم کا دھوکہ تھا۔

ہمایوں بھاگتا ہوا جب لاہور پہنچا تو ایک بار پھر چاروں بھائی (ہمایوں، عسکری، ہندال اور کامران) وہیں پر اکٹھے ہوئے اور شیرشاہ کے خلاف جنگ کرنے کا مشورہ کیا۔ مگر یہ سارے صلاح و مشورے، باتیں اور محبتیں فقط چہروں تک ہی محدود تھی کیونکہ دل میں کچھ اور ہی تھا جو نفرتوں کے بیج کو پانی دیتا تھا۔

دیوان میرزا کامران کا ایک ورق جس پر مغل شہنشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے دستخط بھی ثبت ہیں
دیوان میرزا کامران کا ایک ورق جس پر مغل شہنشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے دستخط بھی ثبت ہیں

ہمیں یہ بھی یقین کرنا چاہیے کہ یہ چاروں بھائی جب شوریٰ کے لیے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بالکل بات نہیں کی ہوگی کیونکہ آنکھیں سچ کو چھُپا نہیں پاتیں۔ اتنے میں جب پتہ چلا کہ شیرشاہ لاہور کی طرف بڑھ رہا ہے تو ہمایوں نے ’بدخشاں‘ پر قبضہ کرنے کا سوچا مگر کامران راضی نہ ہوا۔ ہمایوں کے سامنے سندھ کی طرف جانے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔

ہمایوں 'راوی' پار کرکے، بھکر، ملتان سے ہوتا ہوا 'ببرلو' پہنچا اور وہاں باغ میں قیام پذیر رہا۔ لیکن حالات سازگار نہ ہوئے تو 'پاٹ' میں آکر لنگر انداز ہوا۔ انہی دنوں میں 'میرزا ہندال' کے قریبی عزیز ایرانی نژاد 'شیخ علی اکبر جامی' کی بیٹی 'بلقیس مکانی حمیدہ بانو بیگم' سے ستمبر 1541ء میں شادی کی۔ یہ شب و روز ہمایوں کے لیے کچھ اچھے نہیں رہے۔ اس کے بعد ہمایوں 1542ء میں 'جیسلمیر' گیا وہاں سے اس بادشاہ کا قافلہ پیاس سے بے حال 'عمرکوٹ' پہنچا۔ 'گلبدن بیگم' لکھتی ہیں، ’عمرکوٹ خوب جگہ ہے، وہاں کئی تالاب ہیں۔ یہاں ہر چیز بڑی ارزاں ہے۔ ایک روپے میں 4 بکریاں مل جاتی ہیں۔‘ اکبر کے جنم کے حوالے سے تحریر کرتی ہیں کہ،’اتوار کے دن صبح صادق کے وقت اس قلعے میں 1542ء (14 اکتوبر) میں اکبر کی ولادت ہوئی۔۔‘

حمیدہ بانو بیگم
حمیدہ بانو بیگم

’تاریخ معصومی‘ کے مصنف میر محمد معصوم بکھری لکھتے ہیں کہ، ’عمرکوٹ میں لشکر کو زائد دن برداشت کرنے کی سکت نہیں تھی، اس لیے امیروں نے سندھ چلنے کا ارادہ ظاہر کیا، کچھ ہی دنوں میں وہ فتح باغ پہنچے۔ یہ پُرفضا مقام دریائے سندھ کے کنارے پر واقع تھا، باغات اور نہروں کی بہتات تھی، میوہ جات، پھولوں کی لطافت اور تازگی کے سبب پورے سندھ میں اپنی ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔‘

ہمایوں نے کچھ دنوں کہ بعد اپنے اہلِ خانہ جو عمرکوٹ میں تھا اُس کو یہاں بلالیا۔ ’ہمایوں نامہ‘ کی مصنفہ گلبدن بیگم تحریر کرتی ہیں کہ، ’فتح باغ سے ٹھٹہ پہنچنے میں 6 دنوں کا وقت لگتا ہے، یہاں آموں اور دیگر میووں کے اچھے اور خوبصورت باغ ہیں۔ حضرت (ہمایوں) یہاں 6 ماہ رہے اور پھر اس اہل حرم، اُمرا اور باقی لوگوں کو وہاں بُلوالیا۔ اس وقت جلال الدین محمد اکبر کی عمر 6 ماہ تھی۔‘

اکبر نے آنکھیں عمر کوٹ میں کھولیں اور اپنے جیون کے ابتدائی قدم فتح باغ کی زمین پر اُٹھائے اور یہ یادگار لمحے فقط تاریخ کے لیے ہی اہم نہیں ہیں بلکہ ہمایوں اور حمیدہ بانو بیگم کے لیے بھی زندگی کے یادگار لمحے رہے ہوں گے۔ کاش، گلبدن بیگم جو ہمایوں نامہ کی مصنفہ ہیں وہ اس اہم موقعے پر ہمایوں کے ساتھ ہوتیں تو ان لمحوں کو وہ ضرور ہمارے سامنے لے آتیں مگر کامران مرزا نے گلبدن بیگم کو ہمایوں کے ساتھ سندھ کی طرف جانے نہیں دیا اور اپنے ساتھ رکھا۔

ااکبرنامہ میں اکبر کے بچپن کی عکاسی
ااکبرنامہ میں اکبر کے بچپن کی عکاسی

آخر 1543ء میں، بیرم خان گجرات سے بچتا بچاتا بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شاہ حسن ارغون سے صلح کرنے کا خیال پیش کیا۔ ہمایوں خود بھی اس مسلسل پریشان اور مایوس کردینے والی صورتحال سے بیزار ہوگیا تھا جس کی وجہ سے صلح کے لیے راضی ہوا۔

ایک لاکھ گینیاں (اُس وقت کا مروجہ سکہ)، سفر کا سامان، تین سو گھوڑے اور 300 اُونٹ دینے پر صلح ہوئی، اور اس سامان کی رسد کے لیے پل تعمیر کروائی۔ بادشاہ نے ’صلح‘ اور ’پُل‘ بنانے پر تاریخ ’صراط المستقیم‘ سے معلوم کی جو 950ھ ہے۔ بادشاہی لشکر جو سندھ میں 2 سے 3 برس تک رہنے کی وجہ سے تنگ ہوچکا تھا، وہ بہت خوش ہوا اور جشن بھی منایا۔ بادشاہ 1543ء میں اس پل سے گزر کر قندھار کی طرف روانہ ہوا۔ اسی برس جب ہمایوں سندھ سے قندھار کی طرف روانہ ہوا تو مرزا کامران نے، میر اللہ دوست اور بابا چوچک کو مرزا شاہ حسن کی طرف، اس کی بیٹی کا رشتہ مانگنے کے لیے بھیجا۔ مرزا شاہ حسن نے کامران مرزا کی یہ مانگ پوری کرلی۔ اور اپنی بیٹی کی شادی اُس سے کرنے کا وعدہ کرلیا۔

کامران کو جب پتہ لگا کہ ہمایوں قندھار کے لیے نکل چکا ہے تو اُس نے ’عسکری‘ کو بھیجا کہ ہمایوں کو قندھار آنے سے روکے۔ اُن کے ذہن میں یہ بات تھی کہ، ہُمایوں یہاں پہنچ کر اپنی فوجی طاقت بڑھاکر ان دونوں کو بے دخل کردے گا۔ ان دونوں بھائیوں نے ہمایوں کو پریشان اور دربدر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہمایوں جب قَزل باشوں کو لے کر ایران سے لوٹا تو عَسکری سے قندھار چھین لیا۔ کامران اُس وقت کابل میں تھا اور یہ خبر سُننے کے بعد فوج لے کر مقابلے کے لیے نکل پڑا۔ مگر اُس کے کچھ اہم ساتھی جن میں مرزا یادگار بھی تھا وہ الگ ہوگئے اور ہمایوں سے جاملے۔ ایسے حالات میں وہ غزنی سے ناکام و نامراد ہو کر سندھ آیا اور کابل پر بھی ہمایوں نے فتح پائی۔ کابل پر قبضے کی تاریخ ’اکبرنامہ‘ (جلد اول) میں موجود ہے: شب چہار شنبہ۔ شہر رمضان 952ھ (بمطابق 1545ء)۔

فتح باغ قلعے کے آثار
فتح باغ قلعے کے آثار

فتح باغ کا قدیم قبرستان
فتح باغ کا قدیم قبرستان

کامران کو سندھ میں جب یہ خبر ملی کہ ہمایوں بدخشاں کی مہم پر نکلا ہے مگر بہت بیمار ہے تو شاہ حسین ارغون کی فوج لے کر چلا اور کابل پر قبضہ کرلیا۔ یہ خبر جب ہمایوں کو ملی تو وہ کابل کی طرف روانہ ہوا کیونکہ ’گُلبدن‘ اور ’اکبر‘ بھی وہیں محصور تھے۔ کامران نے ایک دن قلعے کی فصیل پر اکبر کو کھڑا کردیا اور کہا کہ قلعے پر گولہ باری بند کی جائے مگر جب کامران کو اپنی ناکامی نظر آئی تو قلعے سے چھُپ کر نکل گیا۔

’اکبرنامہ‘ میں بھاگ جانے کی تاریخ اس طرح درج ہے: ’شب پنجشنبہ۔ ہفتم ربیع الثانی 954ھ‘ (بمطابق 1547ء)۔ مسلسل ناکامیوں نے کامران کو مجبور کردیا کہ وہ ہمایوں سے زیادہ معاملات خراب نہ کرے۔ پھر دونوں بھائی ملے روئے اور ایک دوسرے کو گلے لگایا۔اس ملاقات سے ’عسکری‘ آزاد ہوا جو ہمایوں کی قید میں تھا۔ ہمایوں دینے پر آیا تو ’کولاب‘ کا علاقہ بھی اُسے جاگیر کے طور پر دے دیا اور کامران سے وعدہ لیا کہ آئندہ جنگوں میں وہ اُس کی مدد کرے گا مگر وعدے پر قائم رہنا شاید اس کے بس میں نہیں تھا۔ شاید اس لیے کہ وہ خود کو اندر سے اس قابل نہیں سمجھتا تھا، اُسے اپنی کوتاہیوں کا بخوبی یقین تھا اس لیے خود اعتمادی کی چھاؤں اس بدقسمت شہزادے کے نصیب میں نہیں تھی۔ 1549ء میں ہمایوں جب بلخ پر حملہ کرنے کے لیے نکلا تو کامران مرزا نے اپنے کیے ہوئے وعدے کو پانی نہیں دیا اور ہمایوں کو ناکام لوٹنا پڑا۔

اسی زمانے میں مرزا صاحب ’حرم بیگم‘ نامی عورت سے عشق لڑا بیٹھے جو جوان بیٹوں (مرزا سلیمان اور مرزا ابراہیم) کی والدہ تھی۔ اُس عورت کو کامران کی یہ حرکت اچھی نہیں لگی تو اپنے بیٹوں سے شکایت کی اور وہ اس کے دشمن بن گئے۔ مرزا یہاں سے ’رستاق‘ پہنچا جہاں ازبکوں نے اسے لوٹ لیا۔ ایسی خستہ حالی میں اُسے پھر ہمایوں یاد آیا اور اُسے ملازمت کی عرضی دی جو ہمایوں نے قبُول کی اور خود ’غوربند‘ کی طرف روانہ ہوا۔ اس اثنا میں ’قراچہ بیگ‘ اور دوسرے امراء نے مرزا کو بہکایا کہ ہمایوں پر حملہ کردیا جائے اور یہ صاحب حملے کے لیے تیار بھی ہوگئے اور ’دشت قیچاق‘ میں ہمایوں پر اچانک حملہ کردیا۔ اس جنگ میں ہمایوں کو شکست ہوگئی۔ وہ زخمی بھی ہوا۔ اُس کا ساز و سامان کامران کو ہاتھ لگا۔ اس مال غنیمت میں ہمایون کا کُتب خانہ بھی کامران کے ہاتھ لگا مگر کچھ ہی عرصے بعد ’چار کاران‘ (ہمایوں نامہ میں یہ نام ہے جبکہ اکبرنامہ میں جنگ کا مقام ’اشتر گرام‘ تحریر ہے) میں مرزا کامران کو ناکامی ہوئی اور لوٹا ہوا مال غنیمت ہمایوں کو واپس ملا۔

اس شکست کے بعد مرزا کے لیے زمین کچھ زیادہ ہی تنگ ہوگئی۔ تاریخ کے صفحات کا مطالعہ کرتے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کامران کی آنکھوں سے سمجھ و دانائی کے سارے راستے اوجھل ہوگئے تھے۔ اُس کا وجود ریگستان میں اُس سوکھی ہوئی جھاڑی کی طرح ہوگیا کہ، وقت کی ہوا جہاں لے جاتی وہ دوڑتا جاتا۔ اس شکست کے بعد یہ شہزادہ افغانوں سے جا ملا اور ایک لڑاکو جتھا بنالیا اور جب بھی موقع ملتا ہمایوں کی فوج پر چھاپے مارتا اور پھر پہاڑیوں میں روپوش ہوجاتا، اسی طرح ایک رات شاہی لشکر پر اس نے شب خون مارا جس میں ’مرزا ہندال‘ مارا گیا۔ یہ قتل کامران کے بے نام راستے کے سفر کی آخری سرحد تھی۔

ہندال اور گلبدن بیگم، ’دلدار بیگم‘ سے تھے مگر اُن کو پالا پوسا، ماہم بیگم نے تھا۔ اس قتل کے بعد شاہی خاندان نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اب کامران مرزا کی زندگی کی زمین کو لپیٹ دیا جائے اور اُسے قتل کرکے اُس کی وحشتوں کو قبر کی گہرائیوں میں دفن کردیا جائے۔

اس خبر کے بعد کامران زمین کی خاک چھانتا ’سلیم شاہ‘ (شیر شاہ کا بیٹا) تک پہنچا مگر اُس کا رویہ دیکھ کر اُسے بڑی مایوسی ہوئی۔ ’منتخب التواریخ‘ کے مصنف بدایونی لکھتے ہیں کہ، ’کامران کو جتنا ذلیل کرنا تھا سلیم کی دربار میں کیا گیا۔۔۔‘ بدایونی، یادگار اور دوسرے وقائع نگار اس پر متفق ہیں کہ ’سلیم نے مرزا کے ساتھ بے اعتنائی و بدسلوکی کا کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا۔ جب کامران کو محسوس ہونے لگا کہ سلیم اسے گرفتار کرنا چاہتا ہے تو موقع پا کر، عورت کا بھیس بدل کر وہاں سے نکل بھاگا اور چھپتا چھپاتا ’مانکوٹ‘ آیا۔ وہاں بھی دام تیار تھا، وہاں سے بھی بھاگ نکلا۔ کابل جاتے ہوئے راستے میں ’سلطان آدم گھکڑ ‘ نے اسے پکڑلیا اور یہ خوشخبری اور ملازمت کی درخواست فوراً ہمایوں کو بھیجی۔ مرزا صاحب بھی پیچھے نہیں رہے اور اپنے خاص آدمی ’جوگی خان‘ کے معرفت عرضداشت ہمایوں کی خدمت میں بھیجی مگر قبولیت کا شرف حاصل نہ کرسکی۔ بقول علامہ ابوالفضل: ’مشتمل بر چرب زبانی ها بود۔‘

خاندان اور اہل دربار میں مرزا کے لیے فیصلہ یہ ہوا کہ ’جس آدمی کی گردن پر اتنے خون ہیں اُس کی گردن مار دی جائے۔‘ مگر ہمایوں نے حکم دیا کہ کامران کی آنکھوں میں سلائی پھیردی جائے۔ یہ واقعہ 1553ء میں پیش آیا۔ اس کے کچھ دنوں کے بعد ہمایوں کابل جا رہا تھا، جب دریائے سندھ کے قریب پڑاؤ ڈالا تو کامران نے وہاں ہمایوں سے حج کی اجازت مانگی۔ اُسے اجازت دے دی گئی اور ’چلمہ کوکہ‘ (جو کامران کا دودھ شریک بھائی تھا) کو ساتھ جانے کی اجازت بھی دی گئی۔

ہمایوں نے 1553ء میں بالآخر اپنے بھائی کامران کو کابل میں شکست دے دی
ہمایوں نے 1553ء میں بالآخر اپنے بھائی کامران کو کابل میں شکست دے دی

دونوں بھائیوں کی یہ آخری ملاقات تھی کیونکہ ان دونوں کی چَھٹی حَس نے ضرور آگاہ کردیا ہوگا کہ، ان لمحوں کے بعد وہ کبھی نہیں مل سکیں گے۔ نہ ایک دوسرے کی آواز سُن سکیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ جب آخری پلوں میں یہ بھائی آپس میں مل کر بیٹھے ہوں گے تو گزرے ہوئے وقت کو یاد بھی کیا ہو۔ مگر گزرا وقت نصیب کے کشکول میں پچھتاوے کے کھوٹے سکوں کے سوا اور ڈال بھی کیا سکتا ہے۔

یہ دونوں بھائی الگ الگ ماؤں کی اولادیں تھے۔ مگر ان دونوں میں بہت ساری باتوں میں یکسانیت دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے جنم لینے میں ایک برس کا فرق تھا جبکہ ان کی موت میں بھی ایک برس کا فرق۔ ہمایوں نے 1541ء میں حمیدہ بانو بیگم سے شادی سندھ میں ’پاٹ‘ کے مقام پر کی تھی اور اتفاق دیکھیے کہ، کامران نے بھی 3 برس بعد اسی مقام پر شاہ حسن ارغون کی بیٹی ’چوچک بیگم‘ سے شادی کی۔ شادی کے بعد ہمایوں پاٹ میں 3 دن رہا البتہ کامران مرزا یہاں 3 ماہ رہا۔ مگر جب 9 برس کے بعد اسی راستے سے وہ اپنے سسر کے پاس جا رہا تھا تو اُس نے وہ مانوس آوازیں ضرور سُنی ہوں گی مگر بڑی کوشش کے بعد بھی وہ کُچھ دیکھ نہیں سکا ہوگا کیونکہ نور جانے کے ساتھ اپنی کوتاہیوں، بیوقوفیوں اور بے جا نفرتوں کی گٹھڑی کا بوجھ بھی اس کے سر پر تھا کیونکہ کاٹتا وہی ہے جو بوتا ہے۔ کامران نے جو بویا تھا اب وہی کاٹ رہا تھا۔

مرزا شاہ حسن نے کچھ ماہ کامران کے لیے ’سادھ بیلو‘ (یہ چھوٹا سا جزیرہ ہے جو بکھر سے مغرب میں دریائے سندھ میں ہے) میں رہائش کا انتظام کیا۔ اُس کے بعد جنوبی سندھ میں فتح باغ کے مشہور قلعے میں رہائش دی اور دونوں میاں بیوی کے باورچی خانہ کو چلانے کے لیے میرپوربٹھورو (یہ ایک چھوٹے سے شہر کی حیثیت سے اب بھی موجود ہے) پرگنہ ان کے حوالے کردیا گیا۔ یہ وہی قلعہ تھا جہاں 2 برس تک، ہمایوں اپنے خاندان سمیت رہا تھا اور اکبر بادشاہ نے چلنے کیلئے ابتدائی قدم اسی قلعے کے دالانوں میں اُٹھائے تھے۔

یقیناً یہ خبر مرزا کو ضرور ہوگی۔ کہتے ہیں کہ بینائی چلے جانے کے بعد سُننے اور محسوس کرنے کے حواس تیز ہوجاتے ہیں اور اُسے اپنی بیوقوفیوں اور ہمایوں کی نرم دلی کی بہت یاد آئی ہوگی۔ اُسے اپنے اُس خاندان کی چھاؤں بھی بہت یاد آئی ہوگی جو اس نے اپنے ہاتھ سے گنوادی تھی۔ 2 برس بعد جب کامران مرزا نے حج پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو مرزا حسین بیگ نے اپنی بیٹی ’چوچک بیگم‘ کو اُس کے ساتھ حج پر جانے سے سختی سے روک دیا۔ مگر چوچک بیگم نے اپنے باپ کی بات نہیں مانی اور اپنے باپ کی اجازت کے بغیر قلعے سے نکل کر کشتی میں جا کر بیٹھی۔ اُسے دوسروں نے بہت سمجھایا مگر وہ نہیں مانی۔ آخرکار مرزا شاہ حسن خود کشتی پر آیا اور رو کر اُسے، کامران کے ساتھ جانے سے روکا۔ مگر چوچک بیگم نے بات نہیں سُنی اور اپنے والد کو کہا، ’بادشاہ جب آنکھوں والا تھا تب آپ نے میری اُس سے شادی کروادی تھی۔ اب دُنیا کیا کہے گی؟ کہ شاہ حسن کی بیٹی نے شوہر کی فرمانبرداری سے انکار کیا اور اس سے ہماری عزت نہیں رہے گی۔‘

یہ بات شاہ حسن کو مناسب لگی اور سامان و اسباب کے ساتھ بیٹی اور مرزا کو رخصت کیا۔وہ دونوں میاں بیوی 2 برس تک مکہ میں رہے۔ میر معصوم بکھری لکھتے ہیں کہ، ’مرزا کامران کی زندگی کا سورج، حج کے دن عرفات میں غروب آفتاب سے پہلے ڈوب گیا۔ چوچک بیگم، مرزا کے وفات کے بعد 7ویں مہینے میں انتقال کرگئیں۔ یہ 964ھ ۔ بمطابق 5 اکتوبر 1557ء کا واقعہ ہے۔‘

ہمایوں کو اگر اس واقعے کی خبر ملتی تو وہ یقیناً بڑا دُکھی ہوتا مگر ہمایوں اس سے پہلے یہ جہان چھوڑ چُکا تھا۔ مجھے نہیں پتہ کہ کامران کو ہمایوں کے گزر جانے کی خبر ملی بھی یا نہیں۔ اگر ملی ہوگی تو وہ یقیناً رویا ہوگا کہ ڈھلتی عمر اور موت کا ڈر، انسان سے بہت ساری جبلتیں چھین لیتا ہے۔

یہ ایک خونریز تاریخی حقیقت تھی، جس میں سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی اتنی بڑی عمر نہیں ہوتی کہ دشمنیوں اور نفرتون کے بیج بوتے رہیں کیونکہ آخری وقت میں جب یہ فصلیں بڑی ہوجاتی ہیں تو اُسے کاٹنا بھی ہمیں ہی پڑتا ہے اور اُس عُمر میں یہ سب بڑا دُکھ دینے والا کام ہوتا ہے۔۔۔!

حوالہ جات:

۔ ’ہمایوں نامہ‘۔ گلبدن بیگم۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

۔ ’تاریخ معصومی‘۔ میر محمد معصوم بکھری۔ سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد

۔ ’شہنشاہ اکبراعظم‘۔ کرنل میلن۔ سندھیکا اکیڈمی، کراچی

۔ ’نگری نگری پھرا مُسافر‘۔ ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

۔ ’دیوان میرزا کامران‘۔ محمد محفوظ الحق۔ معارف پریس، اعظم گڑھ


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔