ای میل

ہخامنشی سلطنت، ہیروڈوٹس اور سندھو گھاٹی۔۔۔

ابوبکر شیخ

اگر ہم یہاں سے, میرا مطلب ہے کہ 2019ء سے دیکھیں تو صدیوں پہلے، ’جئدرتھ‘ اور ’دروپدی‘ کی دوبدو بحث و مباحثہ کب کا ہوچکا۔ کوروؤں اور پانڈوؤں میں لڑی گئی ’مہابھارت‘ کی جنگ ہو بھی چکی۔ مگر ہم اگر ایک ہزار قبل مسیح یعنی مہا بھارت کی جنگ کے مقام سے، فارس کو دیکھیں، جو اُس وقت ایران کے جنوب میں سمندر کنارے واقع تھا، وہاں ایرانی اپنی ابتدائی بستیاں قائم کر رہے تھے۔ یہ برسا برس آشوری شہنشاہیت کے ماتحت رہے اور وہ بھی وقت آیا کہ آشوری شہنشاہیت کا خاتمہ ہوا اور ’ہخامنشی شہنشاہیت‘ کی داغ بیل ڈال دی گئی۔

جس طرح 2 طاقتوں کی آپس میں کبھی دوستی نہیں ہوتی، یہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ یونان اور فارس (یا پارس) کی کبھی نہیں بنی۔ ان دونوں سلطنتوں کی دھکم پیل میں ایتھنز اور اسپارٹا استعمال ہوتے رہے۔ یہ دونوں یونان کے شہر تھے۔ ان دونوں کی دشمنی کیوں ہوئی، وہ بھی ایک زبردست اور دلچسپ کہانی ہے، جو میں آپ کو ایک الگ تحریر میں تفصیلاً سناؤں گا، کہ لوک ادب کے شگوفوں سے ہی، قومیں اپنے اَدب و ثقافت کی وارث بَنتی ہیں، ورنہ وہ قوم ہی کیا ہوئی جس کی جھولی میں لوک کتھاؤں کی کلیاں نہ کھلتی ہوں اور جہاں کی موسیقی میں لوک گیتوں کی شیرینی نہ گھلتی ہو!

’ہخامنشی شہنشاہیت‘
’ہخامنشی شہنشاہیت‘

ہخامنشی شہنشاہیت کا نقشہ
ہخامنشی شہنشاہیت کا نقشہ

یہ ہمارا قدیم ترین زمانے کی طرف پہلا اور کسی حد تک پریشان کن سفر ہوگا کیونکہ 2 ہزار 700 برس قبل ماضی میں لوٹنا، جتنا پُراسرار اور اچھا لگتا ہے اتنا ہی کٹھن بھی۔ ظاہر ہے کہ اتنے برسوں نے ماضی کے منظرناموں کو اُلٹ پُلٹ کر رکھ دی ہے۔ تاریخ کے صفحات پر برسوں کے سن آپس میں ایسے گتھم گتھا ہیں کہ تاریخ میں دھول ہی زیادہ اُڑتی نظر آتی ہے۔ جہاں شور کافی زیادہ ہے جبکہ دکھائی اور سُنائی بہت کم ہی دیتا ہے۔ پانی کے پرانے بہاؤ اپنا راستہ بدل چُکے ہیں۔ وہ محل جو حکومتوں کے تخت گاہ ہوا کرتے تھے اور جہاں شب و روز میں کوئی تمیز نہیں رہتی تھی، ان مقامات پر اب چند خستہ دیواروں اور گہری خاموشی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ ان وقتوں کی شان و شوکت اب فقط تاریخدانوں کی تحریروں تک محدود رہ گئی ہے۔ وہ راستے اور جنگ کے میدان نہ جانے کیا ہوئے کہ اب وہاں خاک کے سوا اور کچھ نہیں ملتا۔

اس سفر کا قصد ہم شاید اس لیے کر رہے ہیں کہ اس سے ہمارا ایک تاریخی رشتہ جڑا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ، اس تاریخی رشتے کا شاہد اور اُس زمانے سے ہمیں آشنا کرنے والا ’ہیروڈوٹس‘ ہے، جنہیں ’بابائے تاریخ‘ کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

ہیروڈوٹس کی پیدائش کے وقت ’ہالی کارناسس‘ کا علاقہ، سلطنت فارس میں شامل تھا۔ اس لیے اپنے تحریر کیے ہوئے کچھ واقعات وہ یقیناً دیکھ پایا ہوگا۔ 40 برس کی عمر میں وہ ایک مشہور سیاح بن چکا تھا۔ انہوں نے ’دنیا کی قدیم ترین تاریخ‘ کا آغاز 443 قبل مسیح میں تھوری (Thurii) کے مقام پر کیا۔ یہ کتاب 20 برس میں مکمل ہوئی اور وہ 420 قبل مسیح کے آس پاسں پیلا (Pella) یا قرین قیاس تھُوری میں وفات پاگئے۔

ہیروڈوٹس—کری ایٹو کامنز
ہیروڈوٹس—کری ایٹو کامنز

وہ ہمیں 490 اور 480 تا 479 قبل مسیح کے دوران یونان پر ہونے والے فارسی حملوں کی تاریخ بیان کرتے ہیں۔ ان کی اس مشہور کتاب ہسٹریز (Histories) کے 9 حصے ہیں۔

’پہلی کتاب‘ میں لیڈیا کے بادشاہ کروئسس کی کہانی ہے، جس نے ایرانی تاجدار ’سائرس‘ سے ٹکر لے کر اپنی تباہی کو دعوت دی اور بتایا گیا ہے کہ سائرس کی سربراہی میں ایرانی کس طرح ایک زبردست طاقت بن کر اُبھرے۔

’دوسری کتاب‘ مصر سے متعلق ایک طویل تحریر پر مشتمل ہے۔

’تیسری کتاب‘ ایرانی شہنشاہوں، کمبوجیہ اور داریوش کی فتوحات کا احوال بیان کرتی ہے۔

’چوتھی کتاب‘ میں سیتھیا اور شمالی افریقہ کا تذکرہ ہے۔

دی ہسٹریز کا سرورق
دی ہسٹریز کا سرورق

’پانچویں کتاب‘ میں ایونیا میں آباد یونانیوں کی بغاوت کی تفصیل شامل ہے، جو ایرانی بادشاہوں کی حکومت سے بیزار ہو چکے تھے۔

’چھٹی کتاب‘ میں میراتھن کی جنگ سے متعلق ذکر ہے۔

’ساتویں کتاب‘ میں ایرانی شہنشاہ، زرکسیز کی یونان پر یلغار کی کہانی شامل ہے۔

’آٹھویں کتاب‘ میں ارتمیسیئم اور سلامس کے جنگوں کا ذکر ملتا ہے۔

’نویں کتاب‘ میں پلیٹا اور مائیکالے کی ان جنگوں کا ذکر ہے، جن میں یونانیوں نے حملہ آور ایرانیوں کو پہلے سے بھی بڑی شکست دی۔

قبل مسیح تاریخ کے حوالے سے ہیروڈوٹس کی یہ کتاب بہت ہی شاندار ہے۔ ماضی کے اس سفر میں ہم دوسری اہم کتابوں سے بھی مدد لیں گے مگر موضوع کے حوالے سے ہمیں ان کی کتاب سے زیادہ مدد کی اُمید ہے۔

وہ ’آرین‘ سے متعلق لکھتے ہیں کہ، ’آریاؤں کے 3 بڑے قبیلے تھے، 1: پاسارگاد، 2: مارفیان، 3: مارسیپان۔ ان میں سب سے ممتاز قبیلہ ’پاسارگاد‘ تھا۔ جس کی ایک شاخ نے اپنے قبیلے کے نام پر ہخامنشی عہد کی بنیاد رکھی اور کمال یہ ہوا، جو اکثر قدیمی باشندوں کے ساتھ ہوتا ہے، کہ فارس کے وہ قدیمی باشندے چونکہ کسان تھے یا پھر خانہ بدوش تھے اس لیے اُن کے لیے دھرتی کی سرحدیں گلے میں پڑی ہوئی رسی بن گئیں۔

پارساگاد میں ایستادہ ستون
پارساگاد میں ایستادہ ستون

ایک زمانے تک اس بات کو پیش کیا جاتا رہا کہ ہخامنشی عہد کی تاسیس ’کوروش اعظم‘ نے کی۔ مگر پھر کوروش کے زمانے کے کچھ ستون برآمد ہوئے، جن پر ’خط میخی‘ میں کچھ تحریریں حاصل ہوئیں جن کی وجہ سے بتائے گئے منظرنامے میں کچھ تبلدیلیاں نظر آئیں۔ تاہم ’پرسی سائیکس‘ (Sir Percy Sykes) کی تحریر کے مطابق ہخامنشی عہد کی تاسیس ’فارس‘ میں ’ہخامنش‘ نے کی تھی، جو ’پاسارگاد‘ قبیلے کا ایک امیرزادہ تھا۔ اس کا دارالحکومت شہر ’پاسارگاد‘ تھا جو اس قبیلے کے نام سے بسایا گیا تھا۔ اس کے آثار اب بھی موجود ہیں۔

ہخامنش کے کارناموں کا احوال تو نہیں مل سکا لیکن لوگ اُسے بڑے احترام سے یاد کرتے تھے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ، ہخامنش نے بکھرے ہوے وحشی قبائل کو منظم کرکے انہیں ایک مہذب قوم بنادیا جس نے بعدازاں تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔ اس کے بعد ہخامنش کے خاندان کے جن افراد نے فارس پر حکومت کی، اُن میں ’چیش پیش‘، ’کمبوجیہ اول‘،‘ کوروش اول‘، اور چیش پیش دوم‘ نمایاں تھے۔

ہم اِس وقت ’کوروش اعظم‘ کے دور میں کھڑے ہیں جس کا زمانہ 550 سے 529 قبل مسیح ہے۔ ’کوروش اعظم‘ کا شمار دنیا کے اُن بادشاہوں میں ہوتا ہے جن کی ذہانت اور جُستجو ایک زمانے کو تابناک بنادیتی ہے۔ اس نے اپنی 21 برس کی بادشاہی میں، ہخامنشیوں کی حکومت کو اتنا مستحکم کیا کہ یہ حکومت 220 سال تک، جاہ و جلال کے ساتھ قائم رہی۔

کوروش کی ولادت کے حوالے سے متعلق ’ہیروڈوٹس‘ نے ایک لمبی چوڑی کتھا تحریر کی ہے، اُس کو چھوڑ کر ہم یہاں مختصراً کوروش اعظم کے بیٹے ’کمبوجیہ‘ کا ذکر کریں گے جسے کوروش کے بعد بابل کی حکومت سونپ دی گئی تھی۔اس کا دوسرا بیٹا ’بردیا‘ (Bardia) تھا، جس کے سپرد مشرقی علاقے یعنی بلخ، خوارزم (خیوہ) اور پارت (خراسان) کی حکومت تھی۔

کوروش
کوروش

کمبوجیہ ایک شدید نفسیاتی مریض تھا۔ اس کے اسباب کچھ بھی رہے ہوں لیکن اسے مرگی کا شدید مرض لاحق تھا۔ چونکہ ’بردیا‘ کی حکومت دور دراز کے علاقوں میں قائم تھی اور لوگ اُسے ایک اچھا حاکم مانتے تھے، اس صورتحال نے کمبوجیہ کو اکیلے پن کے احساس میں مبتلا کردیا اور اس شک کی تلوار اُس کے ذہن پر ہر وقت لٹکتی رہتی تھی کہ، ’جب بھی بردیا کو موقع ملا تو وہ ضرور بغاوت کرے گا، اِسے عوام کی حمایت حاصل ہوجائے گی اور مجھ سے سب کچھ چِھن جائے گا۔‘

اِس منفی خیال کی منفی قوت نے اس سے خُفیہ پلان بنوایا اور اپنے حریف کو قتل کروادیا، یوں وہ اس خدشے سے آزاد ہوگیا کہ اب اس کا کوئی مدمقابل وجود رکھتا ہے۔ اِس حوالے سے قدیم تذکرہ نویسوں نے کئی روایات بیان کی ہیں۔ اسباب کچھ بھی ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ کمبوجیہ کے ہاتھ بردیا کے خون سے سُرخ تھے۔

’بردیا‘ کی بے وقت موت نے کمبوجیہ کو وقتی طور پر ایک طاقت تو ضرور بَخشی جس کے بل بوتے پر اُس نے مصر سے جنگ کی اور جیتی لیکن یہ جِیت اُس کو اس نہج پر لے گئی جہاں حقیقت کم اور خوش فہمیوں کے ریگستان زیادہ نظر آتے ہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ مصر کی مہم کے بعد وہ ’قرطاجنہ، عمان اور حبشہ‘ کی مہم کے لیے روانہ ہوا مگر ناکام مہم کی وجہ سے اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا اور خودکشی کرلی۔ ستم یہ بھی تھا کہ، اُسے کوئی اولاد بھی نہ تھی۔ یہ مکافاتِ عمل کی فصل تھی جو اُس کو ہر حال میں کاٹنی تھی۔ آپ زندگی کی گود میں کانٹیدار ٹہنیاں ڈالیں گے تو زندگی کی جھولی آپ کو بدلے میں خوشبودار پھولوں کے گجرے دینے سے تو رہی!

اب ہم 521 قبل مسیح میں آ پہنچے ہیں، اور دارا اول تخت و تاج پر بیٹھ چکا ہے۔ داریوش وہ نام ہے، جس نے اپنی سیاسی فراست، انتظامی قابلیت اور دلیری کی وجہ سے ایران کو عظیم ایران بناکر جاودانی شہرت حاصل کی۔ اب ہم اُس ہخامنشی سلطنت بننے کے اُن ماہ و سال میں ہیں جب اس کی وسعت 55 لاکھ مربع کلومیٹر تک پھیلنے والی تھی۔

یہ سلطنت کئی ساتراپیوں (ساتراپی (satrapy) سے ایک وسیع صوبے کا تصور لینا چاہیے) اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر مشتمل تھی جن کے حکمرانوں کو ’شاہ‘ کہا جاتا تھا۔ چونکہ بادشاہ ان کا حاکم اعلیٰ تھا اس لیے اُس نے اپنے لیے ’شہنشاہ‘ کا لقب اختیار کیا۔ یہ لقب دارا اول کے کتبے میں نمایاں ملتا ہے۔ دارا اول کے کتبے میں 28 ساتراپیوں کا ذکر ملتا ہے۔ ہر ساتراپی میں فوجیں بھی رہتی تھیں، جن کا تعلق ساتراپ (Satrap) سے ہوتا تھا جو بوقتِ ضرورت بادشاہ ہر صوبے سے طلب کرسکتا تھا۔

سندھو گھاٹی کے تین صوبوں (استراپیز) کی شرکت،(Sattagydia)، (Indos)، (Gandara)
سندھو گھاٹی کے تین صوبوں (استراپیز) کی شرکت،(Sattagydia)، (Indos)، (Gandara)

دارا نے دارالحکومت پرساگریاپسر کے جنوب مغرب میں اندازاً 25 میل کے فاصلے پر ایک نیا شہر آباد کیا اور وہاں ایک محل تعمیر کرایا جو ’ظخر‘ کے نام سے مشہور تھا جو آگے چل کر ’اصظخر‘ ہوگیا۔ یونانی زبان میں اسے ’پرسی پولس‘ (Persepolis) جبکہ پارسی میں ’تخت جمشید‘ پکارا جاتا ہے۔ دارا نے اسی شہر کو اپنا دارالحکومت بنایا اور ہر لحاظ سے ترقی دینے کی کوشش کی۔ یہ شہر 3 مضبوط فصیلوں کے اندر قائم تھا جن میں سے ایک فصیل میناروں اور ستونوں کی قطار پر مشتمل تھی اور پہاڑیوں کی چوٹیوں پر سے گزرتی تھی۔

پرسی پولس
پرسی پولس

پرسی پولس
پرسی پولس

خاص عمارتیں ایک مستطیل قطہ پر واقع تھیں۔ ان کے مرکز میں وہ شاہی قیصر تھا جو ’طخر‘ کے نام سے مشہور تھا۔اس محل کے درمیان 50 فٹ مربع کا ایک وسیع کمرہ تھا، جس کی دیواروں پر کئی ساری تصویریں نقش ہیں اور تواتر کے ساتھ یہ الفاظ تحریر ہیں ’میں دارا بڑا بادشاہ، بادشاہوں کا بادشاہ، مُلکوں کا بادشاہ، ہستاپس کا بیٹا جس نے یہ محل تعمیر کرایا ہے۔‘ اس کے علاوہ ایک دوسرا کافی کشادہ کمرہ تھا جس میں متعدد دروازے تھے۔ اس قیصر سے متصل ایک دوسری عمارت بنی ہوئی ہے جس کو آج کل ’ٹرپی لون‘ کہتے ہیں۔ شاید یہ ہی شاہی ایوان تھا۔ وہاں زینہ دار راستوں پر امراء کی شکلیں تراشیدہ ہیں۔ اس عمارت میں، تصاویر کے نمونوں میں 28 شکلیں ملتی ہیں جو 28 ’ساتراپیوں‘ کی نمائندگی کرتی ہیں۔

اس عمارت کے علاہ ’اپادان‘ (Apadan) یا ’تالار خشیارشا‘ (Hall of xerxs) کے نام سے مشہور ایک اور ایسی عمارت بھی موجود ہے جس کے زینوں کے ردیف پر بھی متعدد شکلیں کُھدی ہوئی ہیں۔ ان میں 30 محکوم قوموں کے سفیر ہیں جو بادشاہ کو نوروز کا تحفہ پیش کرنے آئے ہیں۔ یہ ماضی کا یقیناً ایک وسیع اور خوبصورت دارالحکومت رہا ہے۔

اپادان محل میں تراشیدہ Gandharans کی شکیلں
اپادان محل میں تراشیدہ Gandharans کی شکیلں

اپادن محل میں تراشیدہ Indians کی شکلیں
اپادن محل میں تراشیدہ Indians کی شکلیں

اب ہم اس شہر سے نکل کر مشرق جنوب کی طرف بڑھتے ہیں، جہاں اس وسیع حکومت کی 3 اہم ساتراپیاں سندھو گھاٹی سے لے کر بحیرہ عرب تک پھیلی ہوئی تھیں، انہی ساتراپیوں سے سب سے زیادہ رقم شاہی خزانے میں جمع ہوتی تھی۔ یہ سفر کچھ کٹھن اس لیے ہے کہ، ہمیں ہمارے اچھے دوست ’ہیروڈوٹس‘ نے تھوڑی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔

اُن کا اپنے زمانے میں بنایا ہوا نقشہ اگرچہ ہم دیکھیں تو وہ اس میں اپنی جگہ پر تو ٹھیک ہی ہیں، البتہ ’ہ‘ اور ’س‘ کے آپس میں تبادلے نے کئی سارے پڑھنے والوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے، اس لیے ہمیں اس سفر کی کتھا پڑھتے وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جہاں بھی ’ہند‘ استعمال‘ ہو وہ ہمیں ’سندھ‘ سمجھنا چاہیے۔ ہیروڈوٹس کی تحریر میں ان وسیع ریاستوں کہ نام اس طرح تحریر ہیں: Sattagydia, Gandara, Hidus Indos..Indus

ہخامنشی سلطنت کی مشرقی ساتراپیاں
ہخامنشی سلطنت کی مشرقی ساتراپیاں

اس گُتھی کو سلجھانے کے لیے کہ کون سا علاقہ کہاں ہو سکتا تھا یا ہے؟ ہم نامور محقق محترم ایچ ٹی لئمبرک (Hugh Trevor Lambrick) سے مدد لینے کی کوشش کریں گے۔ وہ اس حوالے سے تحریر کرتے ہیں، ’دارا اول کی حکمرانی کا دور سندھ کا ایران کی شہنشاہیت کے دائرے میں آنے کا زمانہ ہے، اس بادشاہ کی فتوحات میں یہ پہلی فتح تھی جو اُسے 519 یا 518 قبل مسیح میں حاصل ہوئی۔ اس سے پہلے کے حکمرانوں کو ’گندھارا‘ میں قدم رکھنے کا موقع پہلے ہی مِل چکا تھا۔ جس کا ذکر ’بیستون‘ کے کتبے میں موجود ہے، جو دارا نے 520 قبل مسیح میں 9 بغاوتوں کو ایک ہی برس میں ختم کردینے والے واقعے کو یاد رکھنے کے لیے ایستادہ کیا تھا۔

محققین کے مطابق ’تھتاگُش‘ نامی صوبہ جو، بیستون کتبے کی فہرست میں شامل ہے، وہ پنجاب کے شمال مغرب میں تھا مگر کچھ محقق اس کو ’غلِزئی‘ یا ’ہزارہ‘ کا علاقہ کہتے ہیں۔ یہ کیسے بھی ہو مگر ایرانیوں کی طرف سے سندھو گھاٹی کے ڈیلٹائی علاقے کے طرف پیش قدمی کے لیے ’گندھارا‘ کو مرکز کے طور پر استعمال کیا گیا اور یہ نیا علاقہ 518 قبل مسیح میں ہخامنشی سلطنت کے دائرے میں آیا۔‘

ہیروڈوٹس کی تحریر کے مطابق، ’ہندوستانیوں کو ’اسکائی لیکس‘ کے مشہور دریائی سفر کے بعد تسلط میں لایا گیا، یہ سفر اُس نے دریائے سندھ کے راستے سمندر تک کیا تھا اور پھر بحیرہ عرب سے، ایران اور عربستان کے کناروں سے ہوتا ہوا مصر جا پہنچا تھا‘۔

ہخامنشی سلطنت کی فوج میں شامل مخلتف خطوں کے سپاہی کی شبیہات
ہخامنشی سلطنت کی فوج میں شامل مخلتف خطوں کے سپاہی کی شبیہات

’دارا‘ نے اس مہم کے احکامات اس لیے دیے تھے کہ دریائے سندھ اور ایران کے درمیاں کشتی رانی کے امکانات پر کام کیا جاسکے۔ اُنہوں نے ’اسکائی لیکس‘ کو اس مہم کا مہتمم مقرر کیا تھا۔ وہ ’گندھارا‘ نامی ریاست کے ’کاسیپا پیروس‘ نامی ایک جگہ سے اس مہم کیلئے کشتیوں پر سوار ہوا۔ یہ جگہ ممکن ہے کہ، دریائے کابل کے ذیلی بہاؤ پر کہیں ہو۔ ہیروڈوٹس کے مطابق ’وہ اپنی کشتیاں مشرق کی طرف بہاؤ میں لے گیا تھا اور ڈھائی برس کے بعد اسکائی لیکس مصر پہنچا تھا۔‘

’لئمبرک‘ کے مطابق، ’اس سفر کے نتیجے میں اور کچھ حاصل ہوا ہو یا نہ ہوا مگر اتنا ضرور ہوا کہ ’ہندو‘ یعنی ’دریائے سندھ‘ کی ڈیلٹا ویلی، ہخامنشی حکومت کے ماتحت آگئی، اس کا ذکر ایک ایسے کتبے میں موجود ہے، جس کی تحریر کا زمانہ 515 قبل مسیح سے کچھ وقت پہلے کا ہے۔‘

500 قبل مسیح میں ملیٹس کے ’ہیکاٹیس‘ (پہلا یونانی جغرافیہ دان) نے جغرافیے پر اپنی کتاب ’پیریوڈوس جیس‘ اسی برس تحریر کی۔ اس نے یہ معلومات اسکائی لیکس سے حاصل کی تھی، وہ کہتا ہے کہ ’اوپیائی نامی ایک قبیلہ دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر رہتا تھا، ان کے پاس ایک مضبوط قلعہ تھا، جہاں دارا اول نے اپنے لشکر کو ٹھہرایا تھا۔ (ہوسکتا ہے کہ یہ ’برہمن آباد‘ یا ’سیہون‘ کا قلعہ ہو) اس خطے کے مشرق میں نزدیک وسیع ریگستان پھیلا ہوا ہے۔‘

’ہیروڈوٹس‘ کہتے ہیں کہ،’ہندوستان کے مشرق میں ریگستان ہے۔‘ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں گنگا گھاٹی کی معلومات نہیں تھی۔ سندھ میں ہخامنشی سلطنت کی حدود ریگستان کے کنارے تک تو ضرور تھیں اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ دریائے سندھ کے مشرق میں واقع پنجاب کا بڑا علاقہ بھی اسی سلطنت کو خراج دیتا تھا، اور یہ کہنے کا سبب یہ ہے کہ ہندوستان کی آمدنی اور آبادی، دیگر ماتحت علاقوں سے زیادہ تھی۔ ’ڈوٹس‘ کے مطابق، ہندوستان سونے کی صورت میں 360 ’ٹئلینٹ‘ خراج کے طور پر دیتے تھے جو تقریباً دس لاکھ پاؤنڈ یعنی اُس زمانے کے ایک سے 2 کروڑ کے برابر ہوتے تھے۔ یہ رقم، شہنشاہیت کے ایشیائی صوبوں پر لگائے گئے خراج کی مجموعی رقم کا تیسرا حصہ تھی، اس رقم سے اس ہندو علاقے میں پھیلی وسیع زراعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہیروڈوٹس لکھتے ہیں کہ،’ان علاقوں کی آدم شماری، دیگر ممالک، جن کا مجھے علم ہے، سے زیادہ ہے۔‘

انڈیا سے خراج لانے والا شخص
انڈیا سے خراج لانے والا شخص

انڈیا سے خراج لانے والا ایک شخص
انڈیا سے خراج لانے والا ایک شخص

دارا نے یہ جہان 486 قبل مسیح میں چھوڑا۔ لئمبرک صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ’نقش رستم‘ میں اس کی قبر پر لگے پتھر پر، 3 ہندوستانی قوموں کے نمائندے نظر آتے ہیں۔ دارا کے وارث ’خسرو‘ نے اپنے زمانے میں یونان پر حملے کے لیے ایک زبردست جنگی لشکر اکٹھا کر رہا تھا تب اسے اس نئے صوبے ’ہندو‘ یعنی ’سندھو‘ سے، پیادوں اور گھڑسواروں پر مشتمل ایک فوجی دستہ فراہم کیا گیا تھا۔

ہیروڈوٹس کے مطابق، ’اس دستے میں موجود سپاہیوں کو جو کپڑے پہنے ہوئے تھے وہ سوتی تھے، ان کے پاس بید کی کمانیں اور بید کے ہی تیر تھے، جن کی انیاں لوہے کی تھیں۔ یہ تھے ہندوستان کے اوزار اور یہ دستہ’ارتابیتس‘ کے بیٹے ’فارنازاتھریس‘ کی زیر قیادت تھا۔ گھڑسوار فوج کے علاوہ ان کے پاس رتھ بھی تھے، جن کو گھوڑے اور جنگلی گدھے کھینچ رہے تھے۔‘ یہ ساری تیاریاں Plataea جنگ کے لیے تھیں جو 479 قبل مسیح میں لڑی گئی تھی۔

اب ہم تاریخ کے اُن برسوں میں آ پہنچے ہیں جہاں اس وسیع سلطنت کے زوال کی ابتدا ہو چکی ہے۔ پرسیپولس سے پتھر پر لکھی ہوئی ایک تحریر ملی ہے، جس پر لکھا ہے، ’خسرو نے ’اہر مزد‘ کی رضا سے، کچھ ہندوستانی دیوتاؤں کے مندروں کو برباد کردیا تھا، جس کا ہندوؤں نے شدید رد عمل دکھایا۔‘

دارا کے وارث ’خسرو‘
دارا کے وارث ’خسرو‘

لئمبرک کے مطابق،’جب ہخامنشی سلطنت کے آخری برس تھے، تب بھی ہندوستان ان سے وفادار رہا۔ ’دارا کودومنیس‘ نے جب سکندرِ اعظم سے مقابلہ کرنے کے لیے آخری مورچہ سنبھالا تب اُس نے سندھو گھاٹی سے اپنی مدد کے لیے فوجون کو بلوایا اور اُس کا حکم مانتے ہوئے، یہاں سے لوگ اور ہاتھی بروقت جنگ کے میدان میں پہنچ گئے تھے اور تباہ کن ’اربیلا‘ جنگ میں بھرپور کردار ادا کیا تھا۔

یہ بھی ممکن نظر آتا ہے کہ، اِسی زمانے میں ہندوستانی علاقے کی شمالی سرحد کم ہوکر دریائے سندھ کے کنارے تک آ پہنچی تھی کیونکہ اس موقعے پر جنگ میں شہنشاہ کو جو ہاتھی بھیجے گئے تھے وہ دریائے سندھ کے دائیں طرف سے تعلق رکھنے والے ہندوستانیوں نے بھیجے تھے۔ یہاں یہ بھی ممکنات کے دائرے میں آتا ہے کہ سارا انتظام مقامی شہزادوں اور سرداروں کے ہاتھ میں آگیا ہو کیونکہ جب سکندرِ اعظم یہاں پہنچا تھا تب اُس کا کسی بھی ایرانی حاکم یا کارندے سے نہ آمنا سامنا ہوا تھا اور نہ کوئی ملاقات ہوئی تھی۔ تاہم اتنا ضرور تھا کہ ٹیکسیلا سے بحیرہ عرب تک سکندر کو ہر جگہ مقامی لوگوں سے سامنا کرنا پڑا تھا اور سکندر کے لیے یہ انتہائی سخت اور تھکادینے والا سفر تھا۔

ہندوستانی سپاہی
ہندوستانی سپاہی

تاریخ کا کمال یہ ہوتا ہے کہ تسلسل میں دراڑ نہیں پڑتی۔ ایک دن دوسرے دن سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ جب سکندر پیدل فوج کے ساتھ بلوچستان کی طرف روانہ ہوا اور یونانی بحری جہازوں کے جتھے کی رہنمائی کرنے والا ’نیرکوس‘ پٹیالا (جنوبی سندھ) میں تھا اور اُس کو سمندری سفر میں نکلنے کے لیے ابھی کچھ وقت تھا۔ مگر تاریخ کے صفحات بتاتے ہیں کہ وہاں سکندراعظم کے خلاف بغاوت پھوٹ پڑی اور نیرکوس کا وہاں رہنا ممکن نہیں رہا اس لیے وہ وقت سے پہلے دریائے سندھ کے راستے بحیرہ عرب کی طرف نکل پڑا۔

یہاں اس جگہ پر ایک انتہائی اہم سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ہم لئمبرک صاحب کی بات کو مان لیں کہ اس زمانے میں ہخامنشی سلطنت کا دائرہ انتہائی محدود ہوگیا اور سندھو گھاٹی کی وسیع ایراضی سرداروں اور شہزادوں کے ہاتھ میں آ چکی تھی تو ہخامنشی سلطنت کے دشمن سکندراعظم کو یہاں کی آبادی نے اپنا دشمن کیوں سمجھا؟

ایسا کیا ہوگیا تھا یا حالات اتنے کشیدہ کیوں اور کس وجہ سے ہوگئے تھے کہ نیرکوس جس کے پاس زبردست فوجی طاقت تھی، وہ بھی یونانیوں کی، لیکن پھر بھی وہ پٹیالا سے وقت سے پہلے بھاگ نکلا؟ ہم آنے والے وقت میں اس پر ضرور بات کریں گے۔ یہ ایک طویل اور پراسرار سفر تھا جس میں، یقین کی چاندنی کم اور شک و شبہات سے بھری اماوس کی راتیں زیادہ تھیں۔ تاہم ہمیں ہمارے دوست ’ہیروڈوٹس‘ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ ہمارے ہم سفر بنے اور قدیم مناظر سے روشناس کروایا۔ ساتھ ہی ساتھ لئمبرک صاحب کا بھی شکریہ کہ وقت بہ وقت وہ ہماری رہنمائی کرتے رہے۔


حوالہ جات:

۔ ’دی ہسٹریز آف ہیروڈوٹس‘۔ ترجمہ:یاسر جواد۔ نگارشات پبلشرز، لاہور

۔ ’سندھ: بفور دی مسلم کانکؤسٹ‘۔ ایچ ٹی لئمرک۔ سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد

۔ ’تاریخ یونان‘۔ پروفیسر بیوری ۔ترجمہ: سید ہاشمی فرید آبادی۔ کتاب میلہ

۔ ’ہسٹری آف پرشیا‘۔ سر پرسی اسکائیز۔ جلد اول۔ لندن 1951ء

۔ ’سندھ جی پیرائتی کتھا‘۔ایم ایچ پنہور۔ سندھیکا پبلشر، کراچی

۔ ’نگری نگری پھرا مُسافر‘۔ ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

۔ ’تاریخ ایران‘ جلد اول۔ پروفیسر مقبول بیگ بدخشانی۔ مجلس ترقی ادب، لاہور

۔ ’مہا بھارت‘۔ آر کے نارائن۔ ترجمہ:نعیم احسن۔ نگارشات پبلشرز، لاہور


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔