وادئ سندھ کی تہذیب سے متعلق خوش خبری

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2019

ای میل

خوشخبری کے ترسے ہوئے تمام لوگوں کو بالآخر گزشتہ ہفتے ایک اچھی خبر موصول ہوئی کہ فرانس وادئ سندھ کی تہذیب سے منسوب 445 نوادرات واپس لوٹائے گا جنہیں پاکستان سے اسمگل کر کے مغرب کے عجائب گھروں، گیلیریوں اور ذاتی کلیکشنز کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔

اسمگلنگ نیٹ ورک کا 2006ء میں اس وقت انکشاف ہوا جب فرانسیسی حکام نے مٹی کے پکّے برتنوں کا پارسل پکڑا تھا جس کے بارے میں یہ دعوٰی کیا جا رہا تھا کہ یہ 100 سال پرانے ہیں۔

بغور جائزہ لینے کے بعد پتہ چلا کہ یہ برتن دراصل ہزارہا سال پرانے دفن ہوئیں چیزیں ہیں جسے ممکنہ طور پر بلوچستان سے چوری گیا تھا۔ تحقیقات سے ایک گیلری کا سراغ ملا جہاں سے 6 ہزار سال تک پرانے نوادرات کو برآمد کیا گیا، جن کا تعلق مہر گڑھ تہذیب سے تھا جو دریائے سندھ کی وسیع و عریض تہذیب سے پہلے وجود میں آئی تھی یا پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسی کا ایک حصہ تھی۔

اب دوسری خوش خبری یہ ہے کہ اس خبر کے بعد مجھے شاندار وادئ سندھ کی تہذیب پر قلم اٹھانے کا موقع مل گیا ہے۔ جب ہم قدیم دنیا کے اس شاندار عجوبے کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں موہن جو دڑو، ہڑپہ اور ممکنہ طور پر مہر گڑھ کے خیالات بھٹکنے لگتے ہیں۔ تحقیق کا دائرہ بھی یہیں تک محدود رکھا گیا تاہم حقیقت میں یہ تہذیب موجودہ پاکستان (یا اس سے بھی تھوڑے زیادہ) محل وقوع پر محیط تھی۔

ہندوستانی ریاست راجستھان کے علاقے کالی بنگن میں واقع آثارِ قدیمہ کو ہی لیجیے کہ جہاں دنیا کے پہلے ریگھاریوں والے کھیت کے آثار ملتے ہیں۔ یا پھر ہریانہ کے راکھی گڑھی کے مقام کو دیکھ لیجیے جہاں چوڑی سڑکوں اور نکاسِ آب کے منظم نظام سمیت ٹھیک ویسی ہی شاندار شہری منصوبہ بندی کے آثار کا نظارہ کیا جاسکتا ہے جو اس کھوئی ہوئی تہذیب کا خاصہ ہے۔

اس کے بعد ہے گجرات میں واقع ڈھولاویرا نامی مقام جہاں کے آبی ذخائر یہ گواہی دیتے ہیں کہ ان کے ہاں آبی نظام کس قدر جدید تقاضوں کے عین مطابق تھا۔ اس کے علاوہ ایک ایسی باؤلی دریافت ہوچکی ہے جو موہن جو دڑو کے گریٹ باتھ سے تین گنا بڑی ہیں۔

لیکن ان میں سے سب سے زیادہ دلسچپ مقام بھارتی ریاست گجرات میں واقع لوتھل کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ موہن جو ڈرو کی ہی طرح 'لوتھل' کے معنی بھی 'مرے ہوؤں کی پہاڑی' کے ہیں اور اب تک کی معلوم تاریخ کے مطابق دنیا کی سب سے پہلی گودی (dock) کا مقام ہے جو لوتھل کو سبرمتی ندی کے ذریعے بحیرہ عرب کے ساتھ جوڑتی تھی۔

جبکہ اس نکتے پر آ کر تہذیب کی تاریخ اور بھی زیادہ دلچسپ بن جاتی ہے، کیونکہ اس تہذیب کا پھیلاؤ اس قدر وسیع تھا کہ اس کے تجارتی راستے مغرب میں واقع قدیم میسوپوٹامیا کو جا پہنچتے تھے، جہاں کے باشندے ان ابتدائی دراوڑوں کو 'ملیوہاؤں' کے طور پر جانتے تھے۔ میلوہا دراوڑی لفظوں 'میل- اکم' سے نکلا ہوا ایک لفظ ہے جس کے معنی ہیں 'بلند پہاڑی علاقے والا ملک'۔

ماہر آثارِ قدیمہ جین میک اِن ٹوش لکھتی ہیں کہ 'میلوہا سے آنے والے بیڑے میسوپوٹامیا کی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوا کرتے تھے، چند میلوہاؤں تو سومر (Sumer) میں بس گئے تھے۔ میسوپوٹامایا تہذیب سے ایک مُہر دریافت ہوئی تھی جو ایک ایسے شخص کی تھی جس کا کام میلوہائی زبان کا ترجمہ کرنا ہوتا تھا۔ دوسری طرف ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہو کہ میسوپوٹامایا سے تعلق رکھنے والے لوگ دریائے سندھ کی تہذیب پہنچے تھے، اس لیے یہ واضح ہے کہ ہڑپہ کے باشندوں نے دو تہذیبوں کے درمیان تجارت کا کام انجام دیا تھا۔'

دریائے سندھ کی تہذیب سے مغرب کی طرف برآمد ہونے والی سب سے اہم چیز تِل کا تیل تھا، جسے سمیری زبان میں 'اِلو' (Ilu) اور اکدی زبان میں کی 'ایلو' (Ellu) کے نام سے جانا جاتا تھا، اور بہت ممکن ہے کہ یہ لفظ بھی دراوڑی زبان کے ایسے ہی لفظ 'ایل' (El) یا 'ایلو' (Ellu) سے نکلا ہے، الفاظ کے اس تعلق کی صورت میں قدیم دنیا کے باہمی رابطوں کا ہمیں ایک اور اشارہ ملتا ہے۔

ہڑپہ (جو موجودہ شہر ساہیوال کے قریب واقع ہے) سے بھی تجارتی جال کی وسعت کے ثبوت ملتے ہیں۔ اس قدیم مقام سے ایسے سیپیوں کے بنے موتی دریافت ہوئے ہیں جو اس وقت مقامی طور پر دستیاب نہیں تھے۔

تاہم موجودہ افغانستان کی شمالی سرحد کے قریب آلوس ندی کے پاس موجود شورتوگئی کے مقام کو سب سے شاندار دریافت کہا جاسکتا ہے! اس مقام سے سنگ لاجورد کی کان کنی کی جاتی تھی اور وادئ سندھ برآمد کردیا جاتا تھا، یہی نہیں بلکہ بحری بیڑوں کی مدد سے سمیریہ جیسے دُور دراز علاقے تک بھی پہنچایا جاتا تھا۔ پھلتے پھولتے کاروبار کے لیے ناپ تول کا یکساں نظام مطلوب ہوتا ہے اور بلاشبہ اس دور میں بھی ناپ تول کا معیاری نظام وجود رکھتا تھا اور پیمانہ پٹی ہوا کرتی تھی جس پر جدید دور کے انچ جیسے پیمائشی یونٹس درج ہوا کرتے تھے۔

ہم اس تہذیب کی اُس شہری منصوبہ بندی بشمول وسیع سڑکوں، منظم رہائشی اور نکاسِ آب کے نظام کی روشن مثال سے آشنا ہیں جسے 18ویں صدی میں یورپ میں ہو بہو نقل کیا تھا۔ اگر ہڑپہ کے رہائشی پاکستان کے کئی علاقوں میں نکاسِ آب کے ابتر نظام کو دیکھتے تو ان کے سر پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا اور بہت ہی مایوس ہوتے۔

مگر ایک قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ دیگر قدیم تہذیبوں کے برعکس اس تہذیب میں ہمیں منظم فوج کی موجودگی کا خاطر خواہ ثبوت حاصل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی عالیشان محلات اور عسکری نقوش سے سجی دیواروں کے آثار ابھی تک دریافت ہوئے ہیں جو آشوری اور بابلی تہذیب کا خاصہ ہیں۔

آج تک جس بات کا افسوس رہا ہے وہ یہ ہے کہ ان کی زبان ناقابلِ فہم ہی رہی، اور اس بات کا زیادہ امکان نہیں کہ ہمیں کہیں سے ایک روزیٹا پتھر حاصل ہوجائے گا جو ساری گتھی کھول دے گا۔

ایک اور پہیلی بھی ہے اور وہ یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ اس تہذیب کا خاتمہ کیسے ہوا۔ حملے کے ثبوت تو ملتے ہیں لیکن یہ امکان بہت کم ہے کہ تہذیب کے خاتمے کی یہی سب سے اہم وجہ تھی۔

بلاشبہ ماضی کی جانب سے ملنے والی ایک سخت وارننگ میں ہمیں ایسا پیغام موصول ہوتا ہوا نظر آتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہی وہ سب سے بڑی مجرم رہی ہے جو خشک سالی اور لوگوں کی ہجرت کا باعث بنی اور یوں نظام ٹوٹا پھر خود تہذیب ہی ڈھے گئی۔

بے شک اس میں فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔


یہ مضمون 8 جولائی 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔