پبلشنگ پارٹنر

‘بھارت کا بدترین خوف سیمی فائنل میں سچ بن گیا’

ٹویٹر پر مبصرین اور سابق کرکٹرز نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ٹیموں کو داد دی۔
اپ ڈیٹ جولائ 12, 2019 07:24pm

ورلڈ کپ 2019 کے پہلے سیمی فائنل میں فیورٹ ٹیم بھارت جیسے ہی شکست کھا کر فائنل کی دوڑ سے باہر ہوئی تو سابق کرکٹرز اور تجزیہ نگاروں نے ٹویٹر پر اس شکست کو کہیں اپ سیٹ سے تعبیر کیا تو کہیں اس کو بھارت کا خوف قرار دیا گیا۔

بھارت کے سابق کرکٹرسنجے منجریکر اور سریش رائنا کے علاوہ پاکستانی ٹیم کے فاسٹ باؤلر وہاب ریاض، شاہد آفریدی اور مداحوں نے سوشل میڈیا میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

صحافی احمر نقوی نے ٹویٹر پر کہا کہ ‘کیا اپ سیٹ تھا، یہ ورلڈ کپ سیمی فائنل میں ہونے والی اپ سیٹ شکستوں میں سے ایک شکست تھی’۔

وہاب ریاض نے نیوزی لینڈ کو مبارک باد دی اور میچ سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا کہ ‘ کیا زبردست میچ تھا جس کو آپ ورلڈ کپ کا سیمی فائنل کہیں گے، نیوزی لینڈ کی ٹیم کو بہترین کھیل پر مبارک ہو’۔

سنجے منجریکر نے روہت شرما اور ویرات کوہلی کے جلد آؤٹ ہونے کو شکست کا لمحہ قرار دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ٹورنامنٹ سے قبل اور ٹورنامنٹ کے دوران بھارت کا بدترین خوف سیمی فائنل میں سچ بن گیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘روہت اور ویرات جلد آؤٹ ہوگئے’۔

کرکٹ کے مبصر ریحان الحق نے بھارت کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ہونے والی شکست پر اپنی ماہرانہ رائے دیتے ہوئے نیوزی لینڈ کی ٹیم کی جانب گزشتہ دونوں ورلڈ کپ میں اعصاب شکن مقابلوں میں بہترین کھیل کے مظاہرے کے اعداد وشمار بھی جاری کیے۔

بھارتی ٹیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ورلڈ کپ 2015 سے اب تک بھارت کی ٹیم صرف مرتبہ 240 سے کم ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہوئی تھی جو ویسٹ انڈیز کے خلاف انٹیگا میں 190 رنز تھا اور اس میچ میں دھونی نے 114 گیندوں پر 54 رنز بنائے تھے’۔

میچ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اس میچ میں سرفہرست تینوں بلےباز ناکام ہوئے تھے لیکن دھونی ان کی ناکامیوں کا ازالہ کرنے میں ناکام ہوئے تھے’۔

سجاد صادق نے نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کی تعریف کی جو بجا طور اس کے مستحق بھی ہیں کیونکہ سیمی فائنل میں جس انداز میں انہوں نے اپنی ٹیم کو بھارت کے خلاف لڑایا اور فتح بھی حاصل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کین ولیمسن نہ صرف ایک عظیم بلے باز ہیں بلکہ ایک ذہین کپتان بھی ہیں، بھارت کے خلاف میچ میں جس طرح انہوں نے باؤلنگ میں شان دار انداز میں تبدیلیاں کیں، فیلڈنگ اور بہتر انداز میں حربے آزمائے’۔

بھارتی ٹیم کے ایک مداح نے دھونی کے رن آؤٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ کی دل دہلا دینے والی تصویر ہے’۔

دھونی کے رن آؤٹ پر ایک اور بھارتی مداح نے کہا کہ 'اگر نیوزی لینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ جیت جاتی ہے تو مارٹن گپٹل کا یہ تھرو کرکٹ میچ کا سب سے بہترین تھر ہوگا'۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'مایوس کن نتیجہ تھا لیکن یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ آخری لمحے تک بھارتی ٹیم کے فائٹنگ اسپرٹ کا مظاہرہ کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بھارت پورے ٹورنامنٹ میں اچھی بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ کی جس پر ہمیں فخر ہے'۔

مودی نے کہا کہ 'ہار جیت زندگی کا حصہ ہے اور ٹیم کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات ہیں'۔

سریش رائنا نے ٹیم کی تعریف کی اور کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ نے اچھا کھیلا اور پورے ٹورنامنٹ میں اپنی کارکردگی سے دلوں کو جیت چکے ہیں’۔

انہوں نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو مبارک باد بھی دی۔

صحافی ریحان الحق نے اس موقع پر مزاح کا پہلو نکالتے ہوئے کہا کہ ‘اب میں چاہتا ہوں کہ فائنل میں انگلینڈ ہو تاکہ میں کہہ سکوں کہ فائنل کی دونوں ٹیموں نے پاکستان سے شکست کھائی تھی’۔