رکاوٹوں کے باوجود لوگ دنیا کے پراسرار ترین مقام پر پہنچنے میں کامیاب

دنیا کے مختلف ممالک کے لوگ امریکی فوج کی دھمکیوں کے باوجود دنیا کے پراسرار و خفیہ ترین فوجی اڈے کی حدود میں داخل ہوئے۔
اپ ڈیٹ ستمبر 23, 2019 05:33pm

دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد متعدد رکاوٹوں کے باوجود دنیا کے پر اسرار، خطرناک اور خفیہ ترین فوجی اڈے کا اعزاز رکھنے والے امریکی علاقے ’ایریا 51‘ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

’ایریا 51‘ سے متعلق کسی کے پاس مستند معلومات نہیں ہے اور خود امریکی فوج نے بھی اسے محض 6 سال قبل ہی اپنے ماتحت علاقہ تسلیم کیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ علاقہ در اصل امریکا اور سابق سوویت یونین (حالیہ روس) کے درمیان جاری سرد جنگ کے دوران فوجی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا۔

اس علاقے کے حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہاں پر 1947 میں ایک غیر ملکی جہاز کے تباہ کیے جانے کے بعد اس کے ملبے اور اس جہاز میں سوار اہلکاروں کی لاشوں کو دفنایا گیا تھا۔

تاہم بعد ازاں اس علاقے کے حوالے سے وقتا بوقتا متضاد اور پراسرار کہانیاں سامنے آتی رہیں اورایسی اطلاعات بھی آئیں کہ امریکی فوج نے ویتنام جنگ میں بھی اس علاقے کو استعمال کیا۔

وہاں پہنچنے والوں میں بڑی عمر کی خواتین بھی شامل تھیں—فوٹو: رائٹرز
وہاں پہنچنے والوں میں بڑی عمر کی خواتین بھی شامل تھیں—فوٹو: رائٹرز

اس علاقے کے حوالے سے یہ کہانیاں بھی بتائی جاتی ہیں کہ یہیں سے ہی امریکا نے خلائی تحقیق کے لیے کام کا آغاز کیا۔

اس علاقے کو ’ان آئڈنٹی فائی فلائنگ آبجیکٹ‘ (یو ایف او) یعنی نامعلوم پروازی اشیاء کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہاں سے امریکا اپنے فوجی مقاصد کے لیے پروازیں کرتا رہتا ہے۔

اس علاقے کو دنیا کا پراسرار اور خفیہ ترین فوجی علاقہ یا فوجی اڈہ بھی مانا جاتا ہے اور امریکی فوج نے 2013 میں اس علاقے کو اپنے ماتحت کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

یہ علاقے ریاست نویڈا کے طویل و عریز صحرا میں قائم ہیں اور اس کے دور دور تک صرف 170 افراد کی آبادی موجود ہے۔

ایریا 51 کی باڑ کے 200 میٹر تک آنا ممنوع ہے اور ایسا کرنے والے پر جرمانہ عائد کرنے سمیت انہیں سزا دی جاسکتی ہے—فوٹو: رائٹرز
ایریا 51 کی باڑ کے 200 میٹر تک آنا ممنوع ہے اور ایسا کرنے والے پر جرمانہ عائد کرنے سمیت انہیں سزا دی جاسکتی ہے—فوٹو: رائٹرز

اس علاقے کے حوالے سے پراسرار اور عجیب کہانیاں سامنے آنے کے بعد رواں برس جون میں ریاست کیلیفورنیا کے کالج کے 21 سالہ طالب علم میٹی روبرٹ نے وہاں جانے کے حوالے سے فیس بک پر ایک ایونٹ کا اعلان کیا۔

انہوں نے فیس بک پر ’اسٹورم ایریا 51، وہ ہم سب کو روک نہیں سکتے‘ کے نام سے ایونٹ کا اعلان کیا اور دنیا بھر کے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ ستمبر کے وسط کے بعد وہاں آئیں اور دنیا کے اس پراسرار ترین و خفیہ فوجی علاقے کو دیکھیں۔

21 سالہ طالب علم کی جانب سے اس دعوت نامے پر دنیا بھر سے تقریبا 20 لاکھ افراد نے دلچسپی کا اظہار کیا اور وہاں آنے کا عندیہ بھی دیا۔

وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف فیشن اپنا رکھا تھا—فوٹو: اے پی
وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف فیشن اپنا رکھا تھا—فوٹو: اے پی

امریکی میگزین ’ٹائم‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اگرچہ وہاں آنے کے لیے 20 لاکھ افراد نے دلچسپی ظاہر کی تھی، تاہم وہاں بہت کم تعداد میں لوگ پہنچے تاہم یہ پہلا موقع تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ ایک ایسی جگہ پہنچے جس کے لیے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی پر اسرار ترین جگہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق وہاں جانے والے لوگوں نے تین مختلف فیسٹیول منعقد کیے اور لوگ ’ایریا 51‘ کی حدود میں آنے والے علاقے کی تین مختلف جگہوں پر پہنچے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز‘ نے بتایا کہ ایریا 51 جانے والے افراد کی تعداد 150 تھی۔

پراسرار ترین مقام پر پہنچنے والے افراد خوش دکھائی دیے—فوٹو: سی نیٹ
پراسرار ترین مقام پر پہنچنے والے افراد خوش دکھائی دیے—فوٹو: سی نیٹ

’سی نیٹ‘ کے مطابق دنیا کے پراسرار ترین اور خفیہ ترین مقام کی حیثیت رکھنے والے علاقے میں پہنچنے والے افراد خلائی مخلوق کے لباس سمیت دیگر اچھوتے لباس پہن کر وہاں گئے۔

وہاں جانے والے افراد نے سوشل میڈیا اور موبائل فون کا خوب استعمال کیا اور دنیا کو دکھایا کہ وہ کس طرح دنیا کے پراسرار ترین مقام پر آئے ہیں۔

وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف نعروں پر مبنی بینر بھی اٹھا رکھے تھے—فوٹو: رائٹرز
وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف نعروں پر مبنی بینر بھی اٹھا رکھے تھے—فوٹو: رائٹرز

نیوزی لینڈ کے نشریاتی ادارے ’اسٹف ڈاٹ کو‘ کے مطابق وہاں جانے والے افراد میں نہ صرف امریکا کی مختلف ریاستوں کے لوگ تھے بلکہ جرمنی، روس، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے لوگ بھی تھے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق دنیا کے پراسرار ترین و خفیہ فوجی علاقے میں لوگوں کے پہنچنے سے قبل امریکی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ٹوئٹ کے ذریعے لوگوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر کسی نے وہاں آنے کی جرأت کی تو اسے بم کا جیکٹ پہن کر کھڑے ہونے والے شخص کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاہم لوگوں کے وہاں پہنچنے کے بعد امریکی فوج کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے اس ٹوئٹ پر معافی مانگی گئی اور کہا گیا کہ وہ امریکی فوجی ادارے کا بیان نہیں تھا اور نہ ہی امریکی فوج ایسا خیال رکھتی ہے۔

امریکی فوج کے ادارے ’ڈیفینس، وژوئل، انفارمیشن ڈسٹری بیوشن سروس (ڈی وی آئی ڈی ایس) کے ٹوئٹر ہینڈل ڈی وی آئی ڈی ایس ہب سے کی جانے والی ٹوئٹ پر لوگوں سے دھمکی والی ٹوئٹ کے حوالے سے معذرت کی گئی۔

لوگ پراسرار مقام پر بھی اچھوتے انداز اپناتے دکھائی دیے—فوٹو: اے ایف پی
لوگ پراسرار مقام پر بھی اچھوتے انداز اپناتے دکھائی دیے—فوٹو: اے ایف پی