ای میل

’ان کی طرف مت دیکھیں، یہ انسان نہیں، یہ کوئی اور ہی مخلوق ہیں‘

تحریر و تصاویر: عبیداللہ کیہر


پہلی قسط یہاں پڑھیے


میں اس رات اسلام آباد سیکٹر جی 13 کے اس ویران پُل سے گزرتے ہوئے خوفزدہ ہوگیا۔ اس پل پر کوئی مسئلہ تھا، کوئی آسیب تھا کہ جس کے باعث یہاں سے رات میں گزرنے والے کو ریت سرخ نظر آنے لگتی تھی۔ میں نے سوچا کہ آئندہ اس پُل سے رات کے وقت نہیں گزروں گا۔

کچھ دن بعد میری ملاقات اس سیکٹر میں رہنے والے دوست عتیق سے ہوئی۔ میں نے اس پُل کے حوالے سے اپنا واقعہ سنایا اور خیال ظاہر کیا کہ اس جگہ پر ضرور کچھ آسیبی اثرات ہیں، تو وہ ہنسنے لگا۔

’ارے کچھ نہیں بھائی۔ وہم ہے تمہارا۔ ہم تو پتا نہیں کتنی بار اس پُل پر سے گزرے ہیں، دن میں بھی اور رات میں بھی، اور کبھی کبھی تو آدھی آدھی رات کو بھی۔ ہمارے ساتھ تو کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔‘

’بھائی فرض کیا کہ اس دن واقعی گاڑی کی ہیڈ لائٹس میں کوئی ایسی خرابی تھی جس کی وجہ سے روشنی کچھ دیر کے لیے سرخ ہوگئی، لیکن بالکل یہی مسئلہ موٹرسائیکل کی لائٹ کے ساتھ کیوں پیش آیا؟‘، میں بولا۔

عتیق کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر بولا، ’یار ویسے یہاں چند سال پہلے ہمارے سامنے ایک دردناک واقعہ ضرور پیش آیا تھا‘۔

میں چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے بات کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ’جس زمانے میں ہم نے یہاں اپنا گھر بنانا شروع کیا تو تعمیر کے دوران اسی سیکٹر میں ایک گھر کرائے پر لے لیا تھا۔ وہ گھر اس پُل کے قریب ہی تھا۔ یہ پُل تھا تو کمزور سا، لیکن علاقے میں جاری تعمیراتی کاموں کی وجہ سے اس پر سے ریت، بجری اور اینٹوں کے بھاری بھاری ڈمپر گزرتے تھے۔ حتیٰ کہ یہ خدشہ ہونے لگا کہ کہیں یہ پل ٹوٹ کر ریلوے لائن پر گر ہی نہ جائے۔ چنانچہ سیکٹر کی انتظامیہ نے پُل کے دونوں طرف لوہے کے گارڈر لگا دیے تاکہ یہاں سے بڑی گاڑیاں نہ گزر سکیں۔ اس اقدام کے بعد ڈمپر دوسرے راستوں سے آنے جانے لگے اور یہ پُل ویران سا ہوگیا‘۔

’اچھا‘، میں غور سے سُن رہا تھا۔

’وہ سردیوں کی ایک رات تھی۔ ویران پُل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ بدقسمتی سے ایک چھوٹا ٹرک اس طرف آیا اور پُل کی طرف بڑھنے لگا۔ ٹرک کے پچھلے حصے میں کئی مزدور سوار تھے اور وہ کھڑے ہوئے تھے۔ ٹرک تیز رفتاری سے آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ ڈرائیور اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ یہاں سڑک پر ایک رکاوٹی آہنی شہتیر لگا ہوا ہے۔ اس نے اپنی رفتار میں کوئی کمی نہیں کی اور ٹرک اس گارڈر کے نیچے سے تیزی سے گزر گیا۔ ٹرک تو گزر گیا، لیکن اس کے پیچھے جو لوگ کھڑے تھے، وہ نہ گزر سکے۔۔۔‘، عتیق خاموش ہوگیا۔

’کیا مطلب؟‘ میری آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔

’ٹرک پر سوار مزدوروں کے سر اس آہنی گارڈر سے ٹکرائے اور نتیجتاً کئی لوگ لہولہان ہوکر ٹرک سے باہر گِر پڑے۔ مزدوروں کی چیخ و پُکار سُن کر ڈرائیور نے بریک تو لگالیا، لیکن اس وقت تک حادثہ ہوچکا تھا۔ کئی افراد کے سر پھٹ گئے، وہ خونم خون ہوگئے، بلکہ وہ تو جان سے ہی گزر گئے۔ پُل پر ہر طرف خون ہی خون پھیل گیا۔‘

عتیق یہاں تک بتا کر کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگیا۔ پھر بولا، ’لیکن اس واقعے کے بعد آج تک یہاں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی جو اس واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہو۔ یہ تم پہلے آدمی ہو جسے پل کی زمین سرخ نظر آئی ہے‘، وہ خاموش ہوگیا۔

عتیق کی گفتگو سُن کر میں تو سناٹے میں ہی آگیا۔ میں کئی دن تک سوچتا رہا کہ اس طرح کی چیزیں کیا کسی خاص فریکوینسی پر ہی انسانوں کو نظر آتی ہیں؟ مجھے اس رات جو اس پُل کی مٹی سرخ نظر آئی، کیا وہ میرا وہم تھا یا اس کا کوئی تعلق اس حادثے میں بہنے والے خون سے بھی تھا؟

آدھی رات کی آوازیں

میرا بچپن کراچی کے علاقے ملیر میں گزرا ہے، سعودآباد سے آگے ملیر توسیعی کالونی میں، جسے عرفِ عام میں کھوکھراپار بھی کہا جاتا ہے۔ کھوکھراپار اِی ایریا کی ایک گلی جس کے اندر بلدیہ کے تعمیر کردہ 12 کوارٹرز کی آمنے سامنے دو قطاریں تھیں، اس گلی کے بالکل درمیان میں ہمارا گھر تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں سیکنڈری کلاسز میں تھا۔ میٹرک میں امتحانات چونکہ بورڈ کے تحت ہوتے تھے اس لیے ہم پڑھائی کی طرف سے خاصے فکرمند رہتے تھے۔ ہر وقت امتحانات کا خوف طاری رہتا تھا۔ جیسے جیسے امتحانات قریب آتے، ہماری نیندیں اُڑ جاتیں۔ دن تو دن، راتیں بھی جاگ جاگ کر پڑھائی میں مصروف گزرنے لگتیں۔

کراچی کے علاقے کھوکھراپار ای ایریا میں ہماری گلی کا منظر
کراچی کے علاقے کھوکھراپار ای ایریا میں ہماری گلی کا منظر

رات پڑھتے پڑھتے گزر جاتی اور اکثر فجر کی اذانیں بُلند ہوجاتیں۔ (ویسے ان رت جگوں کا فائدہ بھی بہت ہوا۔ میٹرک میں میرے اتنے اچھے نمبر آئے کہ کراچی کے سب سے بہترین ادارے ڈی جے کالج میں میرٹ پر میرا داخلہ ہوگیا)۔ جن دنوں کا میں ذکر کر رہا ہوں اس وقت ہم تو یوں پوری پوری رات ضرور جاگتے تھے، لیکن ان دنوں کراچی کے باسی رات گئے تک جاگنے کے عادی ابھی نہیں ہوئے تھے۔ رات کو شہر بالکل خاموش اور پُرسکون ہوجایا کرتا تھا۔ بلکہ برنس روڈ کے رہائشی میرے دوست احمد انصاری بتاتے ہیں کہ 70ء کی دہائی میں رات کو اس قدر خاموشی ہوجایا کرتی تھی کہ میلوں دُور گاندھی گارڈن کے چڑیا گھر میں جب شیر دھاڑتا تھا تو اس کی خوفناک گرج کی آوازیں ہمارے گھروں تک آتی تھیں اور عورتیں بچے سہم جایا کرتے تھے۔ میں بھی تقریباً اسی دور کی بات کر رہا ہوں۔

میں اپنے گھر کے جس کمرے میں بیٹھ کر پڑھتا تھا وہ گلی کی سمت تھا۔ اس کمرے میں ایک ہی کھڑکی تھی جو گلی میں کھلتی تھی۔ اس کمرے کی چھت، بلکہ گھر کے سارے کمروں کی چھتیں ایسبیسٹاس Asbestos کی نالی دار شیٹوں سے بنائی گئی تھیں، بلکہ اس دور میں تقریباً ہر مکان کی چھت اسی طرح کی سیمنٹ اور جست کی شیٹوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ لوہے اور کنکریٹ سے تیار کردہ آر سی سی کی چھتیں تو عام طور سے امیر آبادیوں میں ہی نظر آتی تھیں۔ تو اس کمرے کے ان رت جگوں میں دو تین مرتبہ کچھ عجیب واقعات پیش آئے۔

ایک مرتبہ سردیوں کی ایک رات کے کسی لمحے جب میں پڑھائی میں منہمک تھا تو اچانک ایک عجیب سی آواز سنائی دی۔ مجھے یوں لگا جیسے ہمارے گھر کے مغربی کونے سے کوئی بھاری بھرکم شخص چھت پر چڑھا ہے اور یہ اس کے وزنی قدم رکھنے کی آواز ہے۔ میں ابھی پوری طرح چونکا بھی نہیں تھا کہ اس شخص نے اپنا دوسرا قدم بھی چھت پر رکھ دیا۔

لیکن یہ کیا؟ اس کا دوسرا قدم سیدھا میرے کمرے کے اوپر آکر پڑا تھا اور یہ ایک خاصی لرزہ خیز بات تھی، کیونکہ ان دو قدموں کے درمیان کوئی 30 فٹ کا فاصلہ تھا۔ پچھلے کمرے اور میرے کمرے کے درمیان کم از کم 30 فٹ کا فاصلہ تو تھا۔ میری تو سٹی گم ہوگئی۔ یہ کیسی دیو قامت بلا تھی کہ جس کا ایک ہی قدم 30 فٹ کا تھا؟ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ میں نے کچھ دیر انتظار کیا کہ اب کیا ہوتا ہے، لیکن اس کے بعد کچھ نہ ہوا، بالکل خاموشی طاری ہوگئی۔ میں نے آیۃ الکرسی پڑھ کر اپنے کمرے کے چاروں کونوں میں پھونکا اور ڈرتے ڈرتے اپنی پڑھائی کی طرف متوجہ ہوگیا۔

ایک اور رات میں اسی طرح کمرے میں بیٹھا پڑھ رہا تھا۔ کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ گلی میں ہمارا گھر بالکل درمیان میں تھا۔ ہمارے دونوں طرف 6، 6 گھر تھے اور گلی تقریباً 300 فٹ لمبی تھی۔ آدھی رات کا وقت ہوگا کہ اچانک گلی کے جنوبی سرے سے مجھے ایسی آواز آئی جیسے کوئی کسی کو بلند آواز سے پکار رہا ہو۔ ‘اوووو۔۔۔‘ میں حیران ہوا کہ رات کے اس پہر سناٹے میں کوئی کیوں آواز لگا رہا ہے؟ لیکن ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ وہی پکار پھر سنائی دی۔ پہلی آواز نے تو مجھ پر کوئی اثر نہ ڈالا، لیکن اس دوسری آواز پر میں لرز کر رہ گیا۔ کیونکہ یہ آواز اب گلی کے دوسرے کونے سے سنائی دے رہی تھی۔ یعنی وہی پکارنے والا ایک ہی لمحے میں 300 فٹ دُور پہنچ کر پھر آواز دے رہا تھا! یااللہ، میری ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ میں نے جلدی سے کھڑکی بند کی، لائٹ آف کی اور اوڑھ لپٹ کر سو گیا۔

اسی طرح ایک اور رات کا ذکر ہے۔ کمرے کی لائٹ جل رہی تھی اور میں حسبِ معمول پڑھ رہا تھا۔ آدھی رات کا وقت ہوگا۔ گلی کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ کھڑکی میرے سر سے کچھ اوپر تھی۔ اچانک مجھے یوں لگا کہ کھڑکی کے بالکل برابر میں باہر گلی میں کوئی بطخ کھڑی چیخ رہی ہے۔ اس نے ’قیں‘ کرکے ایک زوردار آواز نکالی اور پھر خاموشی چھاگئی۔

میں بڑا حیران ہوا کیونکہ ہمارے محلے میں تو کسی نے مرغی تک نہیں پالی تھی، یہ بھاری آواز والی بطخ آدھی رات کو یہاں کہاں سے آگئی۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ بطخ پھر بلند آہنگ سے چلائی۔ ’قیں ایں ایں۔‘ میں فوراً اپنی جگہ سے اُٹھا اور کھڑکی سے گلی میں جھانکا۔ گلی میں تو کچھ بھی نہیں تھا۔ بس سناٹا تھا۔ میں کچھ نہ سمجھ پایا اور واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔ لیکن ابھی چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ پھر وہی خوفناک غیر انسانی آواز آئی کہ جسے میں بطخ کی آواز سمجھ رہا تھا۔ میں ڈر گیا۔ جلدی سے کھڑکی بند کی، لائٹ آف کی اور پڑھائی مؤقوف کرکے سو گیا۔

آج کئی عشرے گزر جانے کے بعد بھی جب میں ان راتوں میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں سوچتا ہوں تو اب بھی خوفزدہ ہوجاتا ہوں۔ اللہ جانے وہ سب کیا تھا؟

مری روڈ کے بھوت

آصف بھائی ہمارے ایک دیرینہ دوست ہیں۔ اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ہماری طرح سیر و سیاحت کے شوقین بھی ہیں۔ جب بھی موقع ملتا ہے تو ہمارے ساتھ یا اپنے اہل خانہ کے ساتھ پہاڑی وادیوں میں گھومنے نکل جاتے ہیں۔

چند سال پہلے کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ مری گئے۔ سردیاں شروع ہوچکی تھیں لیکن ابھی برفباری کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ وہ صبح کے وقت اپنی گاڑی میں گھر سے نکلے اور ارادہ یہی تھا کہ گلیات میں دن گزار کر اور رات کو مال روڈ کی چاکلیٹ کافی پی کر اسلام آباد واپس آجائیں گے۔ گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا اور وہ چونکہ مری کا ہی رہنے والا تھا اس لیے یہاں کی سڑکوں کے ہر موڑ اور پہاڑوں کے سارے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف تھا۔ گاڑی فراٹے بھرتی بلندیوں کی طرف رواں تھی اور موسم بھی اچھا تھا اس لیے سب اس سفر سے لُطف لے رہے تھے۔

گلیات کا ایک منظر
گلیات کا ایک منظر

پروگرام کے مطابق دن بھر تو وہ مری اور گلیات میں مختلف مقامات پر گھومتے رہے اور پھر شام کے وقت مال روڈ پر پہنچ گئے۔ اسی وقت ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوگئی اور خنکی بڑھ گئی، مگر مال روڈ کی رونق، روشنی اور رنگا رنگی نے اس بھیگے موسم کو بھی پُرلطف اور یادگار بنا دیا۔ چھوٹی موٹی خریداری، کھانا کھانے اور پھر کافی پینے میں خاصی رات ہوگئی۔

جب یہ لوگ مری سے اسلام آباد واپسی کے لیے نکلے تو رات کے 12 بج چکے تھے۔ مال روڈ سے باہر نکل کر سنی بنک موڑ سے ہوتے ہوئے یہ جھیکا گلی پہنچے اور وہاں سے لوئر ٹوپہ اور مسیاڑی تک سنگل روڈ سے گزر کر مری ایکسپریس وے کی نئی ڈبل روڈ پر آئے تو پُرسکون ہوگئے۔ اس وقت تک بارش خاصی تیز ہوگئی تھی لیکن چونکہ اب اسلام آباد تک سفر اس شاندار ہائی وے پر تھا اس لیے کوئی پریشانی نہیں تھی۔

مری اور گلیات
مری اور گلیات

مری اور گلیات
مری اور گلیات

بارش کی بوچھاڑ ونڈ اسکرین کو دھندلا رہی تھی مگر گاڑی کے وائپر ان آبی حملوں کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے۔ باہر ٹھنڈ کی وجہ سے گاڑی کے شیشے اندر سے دھند آلود ہونے لگے تو ڈرائیور نے کار ہیٹر آن کردیا۔ تھوڑی ہی دیر میں گاڑی میں گرم ہوا سرسرانے لگی جس نے نہ صرف جسموں کو آسودگی بخشی بلکہ ونڈ اسکرین پر سے بخارات بھی غائب کردیے۔ اب ہیڈ لائٹس کی تیز روشنی میں سڑک دُور تک نظر آ رہی تھی۔

زمین پر کوڑے کی طرح برسنے والی بارش کی موٹی موٹی بوندیں سڑک پر ایک سیلاب تخلیق کر رہی تھیں۔ پچھلی سیٹ پر بچے تو غنودگی میں تھے البتہ آصف بھائی اور ڈرائیور الرٹ تھے۔ بارش تیز ہوتی جا رہی تھی اور اس کی بوندیں جو کچھ دیر پہلے گاڑی کی چھت پر جلترنگ بجا رہی تھیں، اب ایک گرجدار آواز میں تبدیل ہوچکی تھیں۔ سڑک کے اطراف میں نظر آنے والے پہاڑ اندھیرے میں آسمان ہی کا حصہ محسوس ہوتے تھے۔ بس ان کے نشیب و فراز پر موجود گھروں کی ٹمٹماتی روشنیوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ پہاڑ ہیں۔ البتہ بار بار کوندتی بجلی کی چمک سے اچانک ان پہاڑوں کے خدوخال واضح ہوجاتے اور منظر کچھ خوفناک سا ہوجاتا۔

مری کے پہاڑ
مری کے پہاڑ

مری اور گلیات
مری اور گلیات

گاڑی پتریاٹہ والے موڑ سے کچھ آگے آئی ہوگی کہ بجلی زور سے کڑکی اور اس کی روشنی میں دُور سڑک کے کنارے کچھ انسانی ہیولے کھڑے نظر آئے۔ آصف کا کہنا تھا کہ وہ رات کے اس پہر اس موسلا دھار بارش میں کھڑے ان لوگوں کو دیکھ کر کچھ حیران ہوئے کہ ان پر ایسی کیا افتاد پڑی ہے جو وہ اس خراب موسم میں سڑک پر آکر کھڑے ہوگئے ہیں؟

گاڑی رفتہ رفتہ ان کے قریب ہوئی تو اندازہ ہوا کہ وہ مرد نہیں بلکہ سفید چادروں میں ملبوس 3 بھاری بھرکم عورتیں ہیں، جو اپنے چہرے چادروں میں چھپائے ہماری گاڑی کو قریب آتا دیکھ رہی ہیں۔ ابھی گاڑی ان سے کچھ فاصلے پر ہی تھی کہ ان میں سے ایک نے ہمیں ہاتھ کا اشارہ دیا۔ آصف بھائی کہتے ہیں کہ مجھے یوں لگا جیسے وہ ہم سے لفٹ لینا چاہ رہی ہیں، لیکن گاڑی میں تو جگہ ہی نہیں تھی۔ میں نے ڈرائیور کی طرف دیکھا تو وہ اچانک پُراسرار سی آواز میں بولا، ’سر چھوڑ دیں ان کو چھوڑ دیں، ان کی طرف مت دیکھیں، یہ انسان نہیں، یہ کوئی اور ہی مخلوق ہیں‘۔

’کیا مطلب؟‘، میں چونکا۔

’جی سر۔ بس جلدی سے نکلتے ہیں اور آپ پیچھے مُڑ کر بھی مت دیکھیں‘، وہ سرگوشی میں بولا۔

آصف بھائی کہتے ہیں، ’ہماری اس گفتگو کے دوران گاڑی ان سفید پوشوں کے قریب پہنچی اور رُکے بغیر ان کے برابر سے گزرنے لگی۔ مجھے ڈرائیور پیچھے دیکھنے سے منع کرچکا تھا لیکن میں نے پھر بھی تجسس سے مجبور ہوکر سر گھمایا اور ان کو دیکھنے لگا۔ لیکن یہ کیا؟ وہاں تو کوئی بھی نہیں تھا۔ گاڑی تو ان سفید ہیولوں سے ابھی چند ہی فٹ آگے آئی ہوگی لیکن وہ وہاں سے یوں غائب ہوچکے تھے کہ جیسے کبھی وہاں کوئی کھڑا ہی نہیں تھا۔

سڑک کے ساتھ ایسی کوئی جگہ بھی نہیں تھی کہ جہاں وہ چشم زدن میں چھپ سکتے ہوں، تو کیا وہ لوگ فضا میں تحلیل ہوگئے؟ میں سناٹے میں آگیا۔ بچے پچھلی سیٹ پر بدستور سو رہے تھے۔ میں نے ڈرائیور کی طرف دیکھا، وہ زیرِ لب کچھ پڑھ رہا تھا اور نظریں سڑک پر رکھے ہوئے گاڑی پوری رفتار سے دوڑائے چلا جا رہا تھا۔


عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں۔ آپ کی اب تک 7 کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہے۔ عمر کا غالب حصہ کراچی میں گزارا اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں.