کورونا وائرس کی وبا و لاک ڈاؤن سے لاکھوں بچوں کی صحت داؤ پر لگ گئی

پاکستان میں ہر تین میں سےایک بچہ اپنی پہلی سالگرہ منانےتک کسی بھی طرح کی بیماری سےبچاؤ کی ویکسین لگوانےسے محروم رہتا ہے۔

اپ ڈیٹ اپريل 07, 2020 12:51am

پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند بڑے ممالک میں ہوتا ہے جہاں بہت بڑی تعداد میں بچوں کو متعدد بیماریوں اور وباؤں سے محفوظ رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر انہیں حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں، جسے امیونائیزیشن بھی کہتے ہیں۔

پاکستان میں سالانہ تقریباً 78 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے ہر تین میں سے ایک بچہ اپنی پہلی سالگرہ منانے تک کسی بھی طرح کی بیماری سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے سے محروم رہتا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا اور اس سے بچاؤ کے لیے نافذ کیا گیا لاک ڈاؤن اسی صورتحال میں مزید مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے اور ماہرین اس صورتحال کو مستقبل میں بچوں کی صحت اور بیماریوں کے حوالے سے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس سے مستقبل میں بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بچوں کی صحت، نشوونما اور ان میں امیونائیزیشن کے حوالے سے کام کرنے والی سماجی تنظیم 'ہیلپ' کے سربراہ اور ماہر امراض اطفال ڈاکٹر ڈی ایس اکرم کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کراچی میں خسرہ بڑھ رہا ہے جب کہ پولیو کیسز بھی تیزی سے سامنے آئے ہیں اور ساتھ ہی کورونا وائرس سے مزید لوگ مر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران بڑھنے والی مذکورہ بیماریاں قابل علاج ہیں اور ان سے بچاؤ کے لیے ملک بھر میں ویکسین کا عمل رہتا ہے مگر اس وقت ان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

نیشنل امیونائیزیشن پروگرام کے کورآڈینیٹر ڈاکٹر رانا محمد صفدر کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث خسرہ اور پولیو جیسی پھیلنے والی بیماریوں کے دوبارہ ملک میں حملہ آور ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور ان بیماریوں سے شرح اموات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جو کہ یقیناً ہمارے صحت کے نظام کے لیے اضافی بوجھ ہوگا۔

پاکستان میں پیدائش سے لے کر 15 ماہ کی عمر تک تمام بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین دی جاتی ہے جب کہ 23 ماہ کی عمر سے قبل تمام بچوں کو 10 مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین دی جاتی ہیں۔

ان بیماریوں میں تپ و دق، پولیو، ڈائریا، کھانسی، تشنج، اسہال، نمونیہ، ہیپاٹائٹس بی اور سی سمیت انفلوئنزا جیسی بیماریاں شامل ہیں۔

ویکسی نیشن کا یہ عمل حکومت پاکستان کی جانب سے مختلف اداروں جن میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ یونیسف اور چلڈرن پاکستان جیسے ادارے شامل ہیں، ان کی مدد سے مفت کیا جاتا ہے۔

پاکستان کو عالمی ادارہ صحت نے بچوں کی ویکسی نیشن کے حوالے سے پہلے ہی 10 بدترین ممالک میں شمار کر رکھا ہے جہاں پر دو تہائی بچے لازمی ویکسین سے محروم رہتے ہیں۔

پاکستان ڈیموگرافک ہیلتھ سروے 2017 اور 2018 کے مطابق مجموعی طور پر ملک بھر میں 66 فیصد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں جب کہ صوبوں میں یہ تعداد مزید کم ہوجاتی ہے۔

سروے کے مطابق حفاظتی ٹیکوں کی سب سے زیادہ شرح 80 فیصد پنجاب میں ہے، دوسرے نمبر پر 55 فیصد کے ساتھ خیبر پختونخوا، 49 فیصد کے ساتھ سندھ تیسرے اور 29 فیصد کے ساتھ بلوچستان آخری نمبر پر ہے۔

لاک ڈاؤن سے ویکسین کے عمل پر کیا اثرات پڑیں گے

اس وقت دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے، جس وجہ سے ویکسین کے عمل میں خلل پڑنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، کیوں کہ دنیا بھر میں لاک ڈاؤن سے ویکسین کی فراہمی سمیت دیگر چیزوں کی فراہمی میں تاخیر کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے جہاں فضائی آپریشن بند ہے، وہیں زمینی ٹرانسپورٹ کو بھی بند کردیا گیا ہے اور لوگوں کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی مشکل بن گئی ہے، اس وجہ سے بھی ویکسین متاثر ہے۔

عالمی سطح پر لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے جہاں ویکسین کی فراہمی میں تاخیر کا معاملہ شدت اختیار کرنے لگا ہے، وہیں ویکسین کی تیاری میں بھی خلل پڑا ہے، جس وجہ سے امیونائیزیشن کے عمل کو نقصان ہو سکتا ہے۔

سرنجوں کی عدم دستیابی

لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے جہاں ویکسین کی دستیابی میں تاخیر ہونے کا امکان ہے، وہیں سرنجوں کی عدم دستیابی بھی ایک مسئلہ ہے۔

ویکسین کے لیے ڈس ایبل سرنج زیادہ تر چین سے آتی ہیں جو کہ کورونا وائرس کا مرکز تھا اور چین نے پہلے ہی اس کا اشارہ دے دیا تھا کہ وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے سرنجوں کی فراہمی میں تاخیر ہو سکتی ہے، کیوں کہ سرنجیں تیار کرنے والی کمپنیاں عارضی طور پر فیس ماسک سمیت دیگر چیزیں تیار کرنے میں مصروف ہوگئی ہیں۔

لاک ڈاؤن میں ویکسین کو روکنے پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حالیہ دنوں میں مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے ویکسین کے عمل کو نہیں روکنا چاہیے بلکہ اسے مزید متحرک انداز میں جاری رکھا جائے۔

ڈاکٹر ڈی ایس اکرم کہتے ہیں کہ کورونا کے پھیلاؤ کے وقت بھی ویکسین کا عمل نہیں رکنا چاہیے، کیوں کہ اگر کسی دوسری بیماری میں مبتلا بچے کو کورونا لاحق ہوگیا تو وہ اس کے لیے شدید خطرناک ہوگا۔

پولیو اور خسرہ بڑھنے لگا

پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے سے قبل ہی ملک بھر سے پولیو اور خسرہ کے کئی کیسز سامنے آ رہے تھے اور پاکستان میں صرف گزشتہ سال ہی خسرہ سے 9 ہزار بچے متاثر ہوئے تھے۔

یونیسیف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2020 کی پہلی سہ ماہی میں ہی خسرہ سے 5 ہزار بچے متاثر ہوچکے ہیں اور کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں ان بچوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس وقت ملک کورونا وائرس جیسی وبا سے نبرد آزما ہے مگر کسی بھی طرح بچوں کی ویکسین کا عمل نہیں رکنا چاہیے مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے امیونائیزیشن کے عمل کو جاری رکھنا اتنا آسان بھی نہیں۔

ایک کروڑ 35 لاکھ افراد ویکسین سے محروم

پاکستان کے چاروں صوبوں میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے باعث جہاں لاکھوں بچے حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہوگئے ہیں، وہیں دنیا بھر میں بھی لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

امیونائیزیشن اور ویکسینیشن پر کام کرنے والی تنظیم 'گاوی' کے مطابق کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے دنیا بھر میں ویکسین کروانے والے افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے۔

تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں ایک کروڑ 35 لاکھ افراد کورونا وائرس و لاک ڈاؤن کی وجہ سے ویکسینیشن سے محروم ہوئے ہیں جو کہ ایک بہت افسوس کی بات ہے۔