ٹیکسلا کے اطراف ثقافتی ورثہ مذہبی سیاحت کے طور پر بحال

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2021
ٹیکسلا میں تاریخی ورثے کی ترقی اور بحالی کا کام جاری ہے — فوٹو: ڈان اخبار
ٹیکسلا میں تاریخی ورثے کی ترقی اور بحالی کا کام جاری ہے — فوٹو: ڈان اخبار

لاہور: پنجاب کے محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ نے 15 کروڑ روپے کے منصوبے کے تحت مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ٹیکسلا کے اطراف میں موجود متعدد تاریخی ورثے کے مقامات کی ترقی اور بحالی کا کام مکمل کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری محکمہ آثار قدیمہ و سیاحت مشتاق احمد نے ڈان کو بتایا کہ ٹیکسلا میں عالمی ورثے پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ محکمہ مذہبی سیاحت پر بھی توجہ دے رہا ہے۔

مشتاق احمد نے کہا کہ نمک کے ذخائر ہوں یا بدھا ٹرائل، مذہبی طور پر بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ٹورازم ڈپارٹمنٹ سیاحوں کو سہولیات فراہم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ بآسانی ان جگہوں کا دورہ کر سکیں'۔

مزید پڑھیں: عالمی ثقافتی ورثے میں پاکستان کے 6 شاہکار

انہوں نے کہا کہ دیگر مذہبی مقامات کی طرح 'ناناڈنا فورٹ اور روہتاس فورٹ' کے تحفظ اور بحالی کا کام جاری ہے۔

سیکریٹری مشتاق احمد کا مزید کہنا تھا کہ دستاویزی فلموں کے ذریعے تمام جگہوں کی تشہیر کی جارہی ہے اور کورونا وائرس کے حالات میں بہتری کے بعد محکمہ مختلف سائٹس پر میلے منعقد کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت اور آثار قدیمہ کو تھیٹر، موسیقی اور بصری فنون سے بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔

مذکورہ سائٹس کی تعداد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مشتاق احمد نے کہا کہ کچھ جگہیں زیر تعمیر ہیں اور کچھ رواں سال میں مکمل ہوجائیں گی جبکہ دیگر کی تعمیر سال 2022 تک مکمل ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ ثقافتی ورثے کی بحالی اور ترقی کا منصوبہ سال 13-2012 اور رواں سال 2021 میں شروع کیا گیا تھا، جو آئندہ سال تک مکمل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ماسٹر پلان کی تیاری: ہر شہر کے ثقافتی ورثے کی حفاظت

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک منصوبے پر 14 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں جبکہ 21-2020 میں مزید 7 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے۔

انہوں وضاحت دی کہ اس اسکیم کا اہم مقصد ثقافتی ورثے کو سائنسی اور روایتی طریقوں کے ذریعے ترقی دینا اور محفوظ کرنا تھا۔

یاد رہے کہ ٹیکسلا کی وادی کو دنیا کے اہم ترین تاریخی ورثہ ہونے کی حیثیت حاصل ہے، جہاں بدمت کی انوکھی باقیات موجود ہیں، اس بحالی اور ترقی کے منصوبے سے یہاں موجود تاریخی عمارتوں کو تحفظ حاصل ہوگا ان میں ٹیکسلا میں سرکاپ، موہرا مرادو، دھرمراجیکا، بھیر ٹیلے، کالون، گیری، کنالہ اسٹوپا، بھلر اسٹوپا جبکہ اٹک میں مانکیالہ اسٹوپا، راوت قلعہ، لالہ رخ قبر، حسن آبادل اور ٹیکسلا میوزیم کیمپس شامل ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں