ٹی20 ورلڈکپ: وہ کھلاڑی جن کی فارم اپنی ٹیموں کیلئے پریشانی کا باعث ہے

اس فارمیٹ میں کسی کھلاڑی کی کارکردگی ٹیم کی فتح کا باعث بن جاتی ہے تو کسی کھلاڑی کی کارکردگی ٹیم کو شکست سے بھی دوچار کرسکتی ہے۔
اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2021 10:38am

ٹی20 کرکٹ کو اس کھیل کا غیر متوقع فارمیٹ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ اس فارمیٹ میں کسی بھی لمحے بازی پلٹ سکتی ہے۔ یعنی ایک اچھا یا بُرا اوور پورے میچ کا نتیجہ تبدیل کروا سکتا ہے۔

اس فارمیٹ میں جہاں کسی کھلاڑی کی کارکردگی ٹیم کی فتح کا سبب بن جاتی ہے تو کسی ایک کھلاڑی ہی کی کارکردگی ٹیم کو شکست سے بھی دوچار کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار ورلڈ کپ میں کچھ ایسے آؤٹ آف فارم کھلاڑی بھی شامل ہیں جن کی کارکردگی ٹیموں کے لیے پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔

وہ کھلاڑی کون ہیں؟ آئیے جانتے ہیں۔

شاداب خان (پاکستان)

شاداب خان— تصویر: اے ایف پی
شاداب خان— تصویر: اے ایف پی

پاکستانی آل راؤنڈر اور ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان کی کارکردگی طویل عرصے سے متاثر کن نہیں رہی اور انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف حالیہ کھیلی جانے والی سیریز میں ان کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس کے علاوہ ٹیم منیجمنٹ بھی انہیں اوپری نمبروں پر کھلانے سے گریز کررہی ہے جو ان پر اعتماد کی کمی کا مظہر ہے۔ شاداب نے اب تک 53 بین الاقوامی ٹی20 میچ کھیلے ہیں جن میں 58 وکٹیں حاصل کی ہیں تاہم اسی عرصے میں انہوں نے 22 اننگز میں 226 رنز اسکور کیے۔

اگر حالیہ قومی ٹی20 کپ کی بات کریں تو اس میں شاداب نے کل 10 میچ کھیلے ہیں جن میں 8.24 کی اکانومی ریٹ سے 15 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ 237 رنز بنائے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی وکٹیں اسپنرز کے لیے بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ شاداب جلد فارم میں واپس آئیں اور قومی ٹیم کو فتوحات سے ہمکنار کروائیں۔

ڈیوڈ وارنر (آسٹریلیا)

ڈیوڈ وارنر— تصویر: اے ایف پی
ڈیوڈ وارنر— تصویر: اے ایف پی

آسٹریلین کھلاڑی ڈیوڈ وارنر کی حالیہ فارم یقینی طور پر آسٹریلوی ٹیم کے لیے پریشانی کا سبب ہوگی۔ انہوں نے انڈین پریمئر لیگ کے امارات لیگ میں 8 میچ کھیلے اور صرف 195 رنز ہی بناسکے، جبکہ ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی 110 سے نیچے رہا جو کہ ان کے کیریئر اسٹرائیک ریٹ 139.96 سے بہت کم ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے تقریباً ایک سال سے کوئی بین الاقوامی ٹی20 میچ بھی نہیں کھیلا۔ تاہم اس کے باوجود بھی آسٹریلوی کپتان ایرن فنچ ان سے پُرامید ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ میں ان کے ساتھ وارنر ہی اوپننگ کریں گے۔

ہاردیک پانڈیا (انڈیا)

ہاردیک پانڈیا— تصویر: رائٹرز
ہاردیک پانڈیا— تصویر: رائٹرز

متحدہ عرب امارات میں انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے لیگ کے دوران بھارتی آل راؤنڈر ہاردیک پانڈیا نے ایک اوور بھی نہیں کروایا۔ اس کی وجہ ممبئی انڈین کے کوچ مہیلا جے وردنے نے یہ بتائی کہ ایسا اس لیے نہیں کیا گیا کہ کہیں اس سے پانڈیا کی بیٹنگ متاثر نہ ہو۔ لیکن اس احتیاط کے باوجود پانڈیا بیٹنگ میں بھی ناکام نظر آتے ہیں اور پورے ایونٹ میں انہوں نے سب سے بڑی 40 رنز کی اننگ کھیلی ہے۔

بھارتی کپتان ویرات کوہلی کئی انٹریوز میں پانڈیا کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ وہ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں اچھا کھیل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن باؤلنگ میں ان کی فارم کیسی ہے، یہ جاننا اب تھوڑا مشکل ہوگیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ بھارتی سیلیکٹرز نے پانڈیا کا انتخاب آل راؤنڈر کے طور پر کیا ہے تاہم اب یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ آل راؤنڈر کی طرح ہی کھیلتے ہیں یا پھر صرف بیٹنگ پر ہی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔

این مورگن (انگلینڈ)

این مورگن— تصویر: اے ایف پی
این مورگن— تصویر: اے ایف پی

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انگلینڈ میں وائٹ بال کرکٹ فارمیٹ کا منظرنامہ تبدیل کرنے میں این مورگن کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس کے علاوہ انہی کی کپتانی میں انگلینڈ نے 2019ء میں پہلی مرتبہ ورلڈ کپ جیتا تھا اور انگلیڈ کو یہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے 44 سال انتظار کرنا پڑا تھا۔

تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے مورگن کی کارکردگی تنزلی کا شکار ہے۔ فرنچائز کرکٹ میں بھی ان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی کم ہوتا جارہا ہے۔ رنز بنانے میں ان کی ناکامی انگلینڈ کی ٹیم منیجمنٹ کو پریشان کرسکتی ہے کیونکہ وہ مڈل آرڈر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

ڈیوڈ ملر (جنوبی افریقہ)

ڈیوڈ ملر— تصویر: رائٹرز
ڈیوڈ ملر— تصویر: رائٹرز

ٹی20 ورلڈکپ کے حوالے سے ڈیوڈ ملر کا شمار جنوبی افریقہ کے سب سے تجربہ کار کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ تاہم اس وقت ان کی کارکردگی بھی خاطر خواہ نہیں ہے۔

آئرلینڈ اور سری لنکا کے ساتھ کھیلے گئے میچوں میں انہوں نے اپنی قابلیت کے کچھ جوہر تو دکھائے لیکن ان کی کارکردگی میں تسلسل نظر نہیں آیا۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم میں ویسے بھی لوئر آرڈر میں تیز رنز بنانے والوں کی کمی ہے جس وجہ سے ملر کے رنز مزید اہم ہوجاتے ہیں۔ ڈیوڈ ملر کی قابلیت میں کوئی شک نہیں ہے لیکن ٹیم منیجمنٹ اس قابلیت کے تسلسل کی خواہاں ہوگی۔